Jareeda_banner



جولائ، اگست، ستمبر 2007

Archive


ماضی کی نشانیوں سےدنیا بھری پڑی ہےلیکن ایسی چیزیں غالباً بہت ہی کم ہیں جو انسان کی ہزاروں برس کی تاریخ کا زندہ و جاوید حصہ ہیں اور آج بھی ’تب و تاب جاودانہ‘ کی مصداق ہمارےساتھ، ہمارےپاس ہیں۔ اسی بنا پر انہیں ’زندہ رکاز‘ یعنی living fossils کہا جاتا ہے۔ ’زندہ رکازات‘ کےمعیار پر پورا اترنےوالا قدرتی حیاتیاتی نظام کاایک عنصر صنوبر juniper کا درخت بھی ہے۔

صنوبر کو دنیا بھر میں نباتات کی طویل العمر اور سست رو قسم مانا جاتا ہے۔ تاجکستان کےبعد، دنیا بھر میں صنوبر کا دوسرا بڑا اور گھنا جنگل پاکستان میں واقع ہے۔ یوں تو صنوبر ،بلوچستان کےاضلاع سبی، کوئٹہ، لورالائی، پشین اور قلات میں بھی پایا جاتا ہے، تاہم اس کا سب سےبڑا اور گھنا جنگل ضلع زیارت میں واقع ہےجو پاکستان میں دنیا کا ’دوسرا سب سےبڑا صنوبری جنگل‘ ہونےکی وجہ بھی ہے۔


 

Contents


سرورق کی کہانی

صنوبر۔۔۔زیارت کی پہچان

ماحول اور ترقی

ایک درخت، فوائد بے شمار

ماحولیاتی سیاحت

چلتے ہو تو زیارت کو چلیے

عکسی کہانی

زندہ صنوبر مت کیجیے شہید

اسلام اور ماحول

تعلیماتِ قرآن، نباتات اور بقاۓ ماحول

مشاہدات و تاثرات

بس ایک ہم اور جمالِ فطرت

خصوصی رپورٹ
نباتات
مراسلات