|
|
|
||||
پاکستان میں مختلف تہذیبی و تاریخی ادوار کا شاندار تعمیراتی ورثہ موجود ہے، لیکن کیا ان کے تحفظ کا کام درست طریقے پر ہورہا ہے؟ |
||||
تحريروتصاوير: قدرت اﷲ قدرت |
||||
پشاور سے کلکتہ یا یوں کہہ لیں کہ کلکتہ سے لے کر پشاور تک وہ عظیم شاہراہ واقع ہے جسے حاکمِ ہند شیر شاہ سوری نے تعمیر کروایا تھا۔ یوںیہ اس خطے کی غالباً پہلی باضابطہ اور اہم شاہراہ بنی جس پر سفر کرتے ہوئے وسط ایشیا سے لے کر دلّی اور پھر کلکتہ تک شہنشاہوں، لشکرِ جرّار اور سوداگروں کے قافلے جوق درجوق اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر آنے جانے لگے۔ اس شاہراہ نے کتنے ہی فاتحین کو اپنے اوپر سے گزرتے دیکھا، کتنوں کوتھک ہار کر کر اپنے گرد زمین بوس ہوتے دیکھا اور کتنے ہی بے یارومددگار مگر حکمرانی اور سطوتِ شاہی کے خواب آنکھوں میں سجائے اسے سُبک رفتار گھوڑوں کی ٹاپ سے روندتے ہوئے گزرے اور کئی اس کے کنارے دم لینے کے لیے ٹکے اور اپنے ذوقِ تعمیر کی بدولت مختصر سے پڑاؤ کو آنے والی صدیوں تک کے لیے یادگار بنا کر چل دیے ۔ اگر اس شاہراہ کو زبان مل جائے تو خود پر بیتی وہی زیادہ بہتر بتاسکتی ہے، کیونکہ مورخ کا قلم توجگ بیتی بیان کرنا جانتا ہے،اظہارِ آپ بیتی کا سلیقہ اس سے کوسوں دور رہتا ہے۔ کئی صدیاں گزرگئیں، شاہوں کی تعمیر کردہ یہ سڑک آج بھی زندہ ہے، جسے کہیںکسی نے 'جرنیلی سڑک' کہا تو کسی نے' گرینڈ ٹرنک روڈ۔' آخری نام کے الفاظ میں حروف زیادہ تھے،ادائیگی میں زبان کے پلٹے تھے، اسی لیے شاہوں کی یادگار کو عوام نے مختصر کرڈالا۔یوں اب یہ جی ٹی روڈ ہے۔ پشاور سے راولپنڈی یا پھرلاہور جانا ہو یا معاملہ اس کے برعکس ہو، یہی راہ منزل پر پہنچنے کا ذریعہ رہی ہے۔
مغل فرمانروا جلال الدین محمد اکبر جب برصغیر پر حکمران تھے تو ان کو بھی ہمیشہ وسط ایشیا اور افغانستان سے آنے والے ان لشکروںکاخطرہ گھیرے رکھتاتھا کہ جن کی آنکھیں ہندوستان کے تخت پر ہوتی تھیں۔ اسی لیے انہوں نے1581 ء میںاپنے ایک قابلِ بھروسہ امیر اور چہیتی ملکہ رانی جودھا بائی کے بھائی راجہ مان سنگھ کو ذمہ داری سونپی کہ وہ پشاور کے قریب دریائے کابل کے اوپر اس مقام کی نگہبانی کے فرائض سنبھال لیں کہ جہاں سے خطرہ ہے کہ دشمن دریا پار کرکے آگرہ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو دشمن کی سپاہ کا راستہ روک کرانہیں اٹک کے مقام پر ہی اٹکادیں۔حکمِ شہنشاہی کی تعمیل میں راجہ مان سنگھ چل پڑے اور جرنیلی سڑک کے راستے چلتے چلتے اٹک سے دو چار روز کی دوری پر ایک ایسے مقام پرآ پہنچے، جہاں زمین سے پھوٹنے والے ٹھنڈے، میٹھے پانی کے چشمے رواںتھے۔ انہوں نے یہاں قیام کیا ۔ چہار اطراف سے پیالہ نما سرسبز پہاڑی سلسلے میں موجود یہ جگہ اور اس کاپُر لطف خوشگوار قدرتی ماحول راجہ مان سنگھ کو بہت پسند آیا۔ مغل ٹہرے باغات کے شوقین اور خود راجستھان میں پروان چڑھے مان سنگھ پر بھی مغلوں کا چڑھا ہوا رنگ گہرا ہوچکا تھا، اسی لیے انہوں نے یہاں پر بہتے چشموں کو منظم کرنے کے لیے ایک حوض اور اس کے کنارے پُر لطف شامیں، ساحرانہ راتوں اور دلکش صبح خیزی کی لذت لینے کے لیے بارہ دری بھی لگے ہاتھوں بنوا ڈالی۔ راجہ مان سنگھ1586ء تک اٹک کے نگران رہے۔ ان کے جانے کے برسوں بعد ہندوستان کے منظر نامے میں شہنشاہ اکبر کی جگہ پر شہنشاجہانگیر کی تصویر لگ گئی۔ شہنشاہ جہانگیر ٹہرے راجہ مان سنگھ کے بھانجے۔ جب وہ اس مقام سے گزرے تو یہ دیکھنے چلے آئے کہ ماموں یہاں کیا گُل کھلا کر گئے ہیں، پہنچے تو پہلے ہی منظر پر نگاہ پڑتے ہوئے زور دار آواز میں 'واہ' کی داد دی۔ اگر یوں کہیں کہ داد نہ دی بلکہ نام رکھا تو شاید یہ غلط نہ ہوگا، کیونکہ بعد میں یہ علاقہ 'واہ' کہلایا اور صدیاں گزرجانے کے باوجود آج بھی 'واہ' ہی ہے۔ 29اپریل،1607ء کی خنک اور موسمِ بہار کی دلفریب شام میںحوض کے کنارے بارہ دری کے دریچوں پر پڑے پردوں اور نیلگوں پانی میںہوا کی سرسراہٹ سے بننے والی موجوں کو دیکھتے ہوئے شہنشاہِ ہند نے اپنی خود نوشت (تُزکِ جہانگیری) میں لکھا! ''بارہویں محرّم1016ہجری بابا حسن ابدال میں قیام کیا۔ اس مقام کی مشرقی سمت میں ایک کوس کے فاصلے پر ایک آبشار ہے، جس کا پانی نہایت تیزی سے گرتا ہے۔ اس تالاب کے وسط میں جو آبشار کا منبع ہے، راجہ مان سنگھ نے ایک مختصر سی عمارت بنوائی ہے۔ تالاب میں چوتھائی گز لمبی مچھلیاں بکثرت ہیں۔ اس دلکش مقام پر تین دن قیام رہا۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے جال ڈال کر دس، بارہ مچھلیاں پکڑیں اور ان کی ناک میں موتی پرو کر پھر انہیں پانی میں چھوڑ دیا۔'' تخت نشینی کے بعد شہنشاہ ہند شاہجہاں نے 1639ء میں کابل جاتے ہوئے یہاں پہلی بار مختصر قیام کیا۔ شاہجہاں کو یہ 'پڑاؤ' اس قدربھایا کہ اس نے اپنے مرکزی محکمئہ تعمیرات کے ماہرین کو یہاں بلوایا اور انہیں عمارتوں کی ازسرِ نو تعمیر کا حکم دیا۔ اُس دور کے ممتاز ماہرِ تعمیرات احمد معمار لاہوری نے یہاں کے باغوں، بارہ دری، محلات اور سرائے کے نقشے تیار کیے اور اپنی نگرانی میں دوسال کے اندر اس کی تعمیرِ نو کرڈالی، جس میں لاہور کے شالامار باغ کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔ مغلیہ فنِ تعمیر کے اس نمونے میں خوبصورت بارہ دری بنائی گئیں، چھوٹی نہریں نکالی گئیں، فوارے لگائے گئے، آبشاریں گرائی گئیں اور بڑی بارہ دری کے پہلو میں شاہی خاندان کے لیے گرم و سرد پانی کا امتزاج لیے ہوئے شاہی حمام تعمیر کیا گیا۔ بارہ دری کے اندرونی حصے میں مصالحے سے استر کاری کی گئی اور محراب دار جھروکوں والے ان چھوٹے کمروں کی دیواروں کو پھول پتیوں اور پچی کاری کے دلکش نمونوں سے سجایا گیا۔ بعد ازاں شاہجہاں اپنے عہدِ حکومت میں چار مرتبہ کابل گیا اور ہر مرتبہ آتے جاتے ہوئے یہیں ٹہرا۔ بعد کے ادوار میں اورنگزیب عالمگیر آخری مغل فرمانروا تھا جو حسن ابدال میں ڈیڑھ سالہ قیام کے دوران یہاں فروکش ہوا۔ شاہی پڑاؤ کی نسبت سے اسے' منزل گاہ'بھی کہا گیا، مگر عالمگیر کے بعد اس مقام کی رونقوں کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی۔ درّانی اور پھر پنجاب پر سکھ دورِ حکومت میں اس باغ کو کافی نقصانات پہنچے اور اس کے فنِ تعمیر کا حسن خاصا دھندلاگیا۔ مغلیہ دور رخصت ہوا تو شاہی کی کنجی سات سمندر پار ملکہ برطانیہ کے ہاتھ لگی اور شاہی تخت کی طرح مغل شاہی کی عکاس عمارتوں کی کنجی بھی تاجدارِ برطانیہ کے وفاداروں نے سنبھال لی، لیکن اپنی دیگر مصروفیات کی بنا پر سمندر پار کے ان حاکموں نے اس باغ کو1865ء میں واہ کے نواب حیات خان کی تحویل میں دے دیا۔ مدتیں اسی طرح گزریں اور پھر تاریخی و تعمیراتی اہمیت کے نام پر یہ باغ حکومتِ پاکستان نے اپنی تحویل میں لے لیا اور اس کی دیکھ بھال، آرائش اور انتظامات کے لیے اسے محکمئہ آثارِ قدیمہ کے سپرد کردیا۔ یوں لگ بھگ ایک ڈیڑھ عشرے پہلے اس کی آرائش کے منصوبے بنے اور ان پر عمل بھی ہوا، لیکن اگر درّانی اور سکھوں نے اس عمارت کو مغل دشمنی کے باعث نقصان پہنچایا تو (معذرت کے ساتھ) محکمے کی منصوبہ بندی شاید نادان دوست کی دوستی ثابت ہوئی۔جوش و خروش سے شروع ہونے والی اس آرائش اور تزئین کی مہم کی داستان بھی کچھ کم دکھ بھری نہیں۔
آرائش و تزئین کے لیے سب سے پہلے تو ٹھیکیداروں نے منصوبہ بندی کے ماہرین کی رائے پر مرکزی وسیع و عریض حوض کی کچی تہ کے پتھروں کو نکال باہر کیا اور فرش کو پختہ کرڈالا، پرانے اور گھنے درختوں کو کٹوایا گیا کہ مغلوں کو سرو کے درخت پسند تھے، اسی لیے سرو کے پودے یہاں لا کھڑے کیے گئے۔ اب ہوا یہ کہ پہلے حوض کی کچی تہ میںموجود پتھروں اور ریت کے سبب اس میں جمع ہونے والا پانی صاف اور شفاف رہتا تھا اور جب یہ پانی بارہ دری اور باغ کے گرد تعمیر کردہ چھوٹی چھوٹی سی نہروں سے بہتا ہوا گزرتا تھا تو ان کا چمک دار شفاف پانی دل کو خود بہ خود اس میں ہاتھ ڈال کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے پر مجبور کردیتا تھا۔ گرمیوں میں تفریح کے لیے یہاں آنے والے بچے اس شفاف پانی میں نہایا کرتے تھے، لیکن آج صورتِ حال بالکل الٹ ہے۔ اب بھی حوض پانی سے بھرا رہتا ہے، لیکن اس کی شکل دیکھ کر اس میںہاتھ ڈالنے کو بھی جی نہیں کرتا۔ بچے چوٹھی چھوٹی سی نالیوں میں نہاتے ہیں، لیکن آلودہ پانی اور جِلدی امراض کے درمیان قائم رشتہ وہ نہیں جانتے، اس لیے بے دھڑک نہاتے ہیں۔ ان سب کے برعکس باغ کے اندر چشمے کے شفاف پانی سے بن جانے والی چھوٹی چھوٹی چند فٹ گہری جھیلوں کا پانی اتنا شفاف ہے کہ اس میں اپنا عکس دیکھ لو۔ اسی لیے بڑوں کی تفریح کا مقام یہی جھیلیں ہوتی ہیں۔ سرو کے درخت تو ہیں مگر سائے سے بے نیاز،لیکن جو چند بڑے اور پرانے درخت باقی بچے ہیں وہ سایہ دیتے ہیں، اس لیے باغ کے سبزہ زار کے بجائے انہی درختوں کے نیچے لوگ بیٹھتے ہیں، جنہیں کسی پُرمغز افسر نے کبھی بدصورت جانا تھا۔رہا بارہ دری اور محلّات کے کمروں کی آرائش تو ان کی حالت جوں کی توں ہی رہی، جسے ہم اپنے فنِ تعمیر کے ورثے سے یقیناً خوش آئند بات نہیں کہہ سکتے۔ پاکستان مختلف تہذیبی ادوار کے حوالے سے شاندار تعمیراتی ورثہ رکھتا ہے اور اس ورثے کو اگلی نسلوں تک نہایت خوش اسلوبی سے منتقل کرنا ہماری ذمہ داری ہے، لیکن کیا ہم یہ کام درست طور پر کررہے ہیں؟ اس سوال کے جواب کی تلاش ہو تو ایک پتا لکھ لیں۔ جرنیلی سڑک پر راولپنڈی سے پشاور کی طرف جائیںیا پشاور سے راولپنڈی کی طرف عازمِ سفر ہوں، ، بس ذرا حسن ابدال کے قریب رک کر چند سو گز اندر بنے 'واہ باغ' کا نظارہ کرلیں۔ شاندار ماضی پر تو آپ کے منہ سے ' واہ' کا لفظ ہی ادا ہوگالیکن حال پر۔۔۔؟ |
||||
|
||||
|
قدرت اﷲ قدرت، صاحِب ندرت قلمکار اور عکاس ہیں- جریدہ کے لیے یہ تحریر ان کی پہلی سوغات ہے |
||||