صحراؤں کا پھیلاؤ، آلودہ فضا کے انسانی صحت پر مہلک اثرات اور معدوم مینڈکوں کی بازیافت تک -- تازہ ترین عالمی حقائق

 

انتخاب: ناصر علی پنہور

 

سرسبز زمین کیا صحرا بن جاۓ گی؟  
روایتی طریقوں کے استعمال کو منظم خطوط پر استوار کرکے وسائل کا بہتر استعمال کیا جاسکتا ہے

عالمی موسمیاتی تبدیلیاں، پانی کی بڑھتی ہوئی طلب ، سیاحت اور نظامِ آب پاشی سے سیراب ہونے والی زرعی زمینوں میںنمکیات کی بڑھتی ہوئی مقدار وہ عناصر ہیں جو سرسبز دنیا کو تیزی سے صحرا میں بدلنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہ حقائق اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام UNEP کی ایک تازہ ترین رپورٹ میں پیش کیے گئے ہیں۔ The Global Deserts Outlook نامی رپورٹ 5جون کو عالمی یومِ ماحول کے موقع پرالجیریا کے دارالحکومت الجائیرز میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ یومِ ماحول کی مرکزی تقریب میں جاری کیا گیا۔ اقوامِ متحدہ نے2006ء کو' صحرا اور صحرا زدگی کا سال' قرار دیتے ہوئے نعرہ دیا ہے ''زمین کو صحرا میں تبدیل نہ ہونے دیں۔'' یہی فقرہ اس سال یومِ ماحول کا عالمی موضوع بنا۔

رپورٹ میں ماہرین نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ اگر آبادی میں اضافے کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو2050ء تک دنیا کے بڑے بڑے دریاؤں میں پانی کی روانی ختم ہوسکتی ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے جن دریاؤں کے خشک ہوجانے کا خطرہ ہے، ان میںشمالی امریکا کے ریو گرانڈ اور کولوریڈا، جنوبی افریقہ کا گیریپ، جنوب مغربی ایشیا کے تگریس اور یوفراٹس (Euphrates) اور وسط ایشیا کے آمو اور سندھ دریا شامل ہیں۔رپورٹ کا کہناہے کہ کرئہ خاکی کا لگ بھگ ایک تہائی حصہ صحرا پر مشتمل ہے، جس کا رقبہ33.7ملین ہیکٹرز کے قریب ہے اوراس صحرائی رقبے پر لگ بھگ 500ملین باشندے بستے ہیں۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ صحرا اپنا مکمل ماحولیاتی نظام رکھتے ہیں اور ان میں پائے جانے والے بعض نباتات و پودے ایسے ہیں جو دنیا کے دوسرے خطوں میں نہیں پائے جاتے۔ صحرائی خطّوں کے ادویاتی پودوں اور نباتات کاادویات کی تیاری میں بھی خاصا کردار ہے۔ علاوہ ازیں سائنسدان صحرائی نباتات کے اجزا پر بھی تحقیق جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے بعض نباتات میں ایسے اجزا دریافت کرلیے ہیں جس میں سرطان اور ملیریا سے مدافعت کی طبّی خاصیت پائی جاتی ہے۔ چین اور بھارت جیسے وسیع و عریض صحرا رکھنے والے ممالک اپنے صحرائی ادویاتی پودوں کو بڑی تعداد میں جرمنی اوردیگر مغربی ممالک کو برآمد کرکے بھاری زرِ مبادلہ حاصل کررہے ہیں اور یہ تجارت بڑھتی جارہی ہے، لیکن وسائل کی اہمیت کے باوجود صحراؤں کا وجود خطرے میں ہے۔ ان وسائل کو جن عناصر سے خطرات لاحق ہیں ان میں صحرائی خطّوںکی آبادی میں اضافہ اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے لیے صحرائی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤہے۔ مزید برآں پانی کی قلت بھی سرسبز زمینوں کے بتدریج صحراؤں میں تبدیل ہوجانے کا محرک بن رہی ہے۔

یو این ای پی کی اس چشم کشا رپورٹ میں کہا گیا ہے '' صحرا شمسی توانائی کے حصول کا بھی ایک اہم ذریعہ ہیں۔ اگر صحراؤں پر چمکتے تیز روشن سورج کی شعاؤں سے استفادہ کیا جائے تو توانائی کے بحران سے دوچار دنیا کو بڑی مقدار میں کفایتی اور ماحول دوست توانائی حاصل ہوسکتی ہے اور یوں مہنگے رکازی ایندھن کے جلنے سے فضا میں ہونے والی آلودگی پر بھی قابو پایاجاسکتا ہے۔''

رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ سرسبز زمینوں کو صحراؤں میں تبدیل ہونے سے روکنے اور صحرائی ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے سنجیدہ، منظّم اور پائیدار اقدامات نہ صرف ممالک کی ذمہ داری ہے بلکہ یہ وقت کی عالمی ضرورت بھی ہے۔

 
   
معدوم مینڈکوں کی بازیافت  

ماہرینِ حیاتیاتی تنوع نے جنوبی امریکا کے ملک کولمبیا میں دو علیحدہ علیحدہ واقعات کے نتیجے میں مینڈکوں کی ایسی تین اقسام کو دوبارہ دریافت کرلیا ہے جن کے بارے میں طویل عرصے سے خیال کیا جارہا تھا کہ وہ معدوم ہوچکی ہیں۔ واشنگٹن میں قائم کنزرویشن انٹرنیشنل نامی ادارے کے سینئر نائب صدر کلاؤڈ گیسکون نے ان اقسام کی دریافتِ نو کی اطلاع دیتے ہوئے امید ظاہر کی''جل تھلیوں کی ان دو اقسام کی بازیافت سے توقع ہے کہ اس سے ماہرین کی بقائے حیات کے لیے کی جانے والی کوششوں میں مزید تیزی آئے گی۔ ''

دریافت کی تفصیلات بتائے ہوئے سائنسدانوںنے کہا کہSanta Marta Harlequin اور San Lorenzo Harlequin نامی مینڈکوں کی یہ دو اقسام کولمبیا میںکیریبئن کے ساحلی علاقے سئیررا نیواڈا ڈی سانتا مارتا کے مقام پر پائی گئی ہیں۔ یہ دونوں اقسام گزشتہ 14برس سے غائب تھیں ،جس کی بنا پر خیال کیا جارہا تھا کہ یہ معدوم ہوچکی ہیں۔ ان اقسام کا تعلق بقا کو لاحق شدید خطرات والے جل تھلیوںمیں کیا جاتا ہے۔'جل تھلیے' خشکی اور پانی، دونوں مقامات پر پائے جانے والے جانداروں کو کہا جاتا ہے۔ بعض سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جل تھلیوں کو بھی معدومی کے ایسے ہی سنگین خطرات کا سامنا ہے کہ جن کے نتیجے میںلاکھوںسال پہلے ڈائنو سارکرئہ ارض سے ناپید ہوگئے تھے۔ خطرے کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے یہ مثال ہی کافی ہے۔

اس سے لگ بھگ ایک ماہ قبل سائنسدانوں نے کولمبیا سے ہی مینڈک کی ایک اور قسم Painted Frog کی دریافتِ نو کا اعلان کیا تھا، جسے آخری بار 1995ء میں دیکھا گیا ۔خیال تھا کہ یہ قسم فنگس کی بیماری کے باعث ختم ہوگئی ہے۔

کائٹرائیڈیومائےکوسس chytridiomycosis نامی اس بیماری کو جل تھلیوں کی متعدد اقسام کے خاتمے کا ذمہ دار تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جل تھلیے بہ آسانی اس بیماری کاشکار ہوجاتے ہیں، کیونکہ ان کی جِلد بیماریوںاور جراثیم کو نہیں روک سکتی، تاہم 'رنگدار مینڈک 'Painted Frog کو دوبارہ دیکھنے کے بعد ماہرین کی رائے ہے کہ اس میں بیماری سے بچاؤ کی مدافعت پیدا ہورہی ہے۔ یاد رہے کہ متعدد اسباب کی بنا پر جنوبی امریکا کے جل تھلیوں کی113میں سے40اقسام معدوم ہوچکی ہیں۔

سائنسدان بحری حیاتیاتی ماحول میںمنفی ا نسانی سرگرمیوںسے پریشان ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جل تھلیوں کی معدومی میں آبی آلودگی، موسمیاتی تبدیلیاں، سمندری جنگلات کا خاتمہ اور شہری پھیلاؤ شامل ہیں۔

 
   
بھارت: سانس لینا بھی محال ہے  

بھارت میں کیے گئے ایک سروے کے نتائج میںدعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کے لاکھوں لوگ نہایت آلودہ فضا میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔ خطرناک گیسوں سے اٹی ہوئی اس فضا میںآلودگی کی مقدار ترقی یافتہ ممالک کے محفوظ معیار سے 35 ہزار گُنا زائد ہے۔ Smoke Screenنامی رپورٹ کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ فضائی کثافت تامل ناڈو میں پائی گئی، جس کی سڑکیں سب سے زیادہ فضائی آلودگی کا شکار ہیں ۔ یہ سروے ریاست چنائے کی غیر سرکاری تنظیم 'کمیونٹی انوائرنمنٹل مانیٹرنگ' نے ماہرین کی شراکت سے کیا اور نتائج پر مشتمل رپورٹ حال ہی میںجاری کی گئی ہے۔

سروے کے لیے2004ء سے2006کے دوران بھارت کے مختلف شہروں سے فضا میں موجود ذرات اور گیسوں کے21نمونے حاصل کیے گئے تھے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ان نمونوں کے تجزیوں سے فضا میں45 مہلک گیسوں کی موجودگی کا پتا چلا،جن میں سے28گیسوں کی فضائی مقدار انسانی صحت کے لیے تحفظِ ماحول کے امریکی ادارے کے مقرر کردہ' محفوظ شرح' سے کہیں زیادہ تھی۔

مذکورہ رپورٹ میں مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے :

'' رہائشی بستیوں کے قریب واقع ایک صنعتی یونٹ کے علاقے سے لیے گئے ہوا کے نمونے میں Dichloroethane نامی زہریلی گیس بھی پائی گئی، جس کی مقدار تحفظِ ماحول کے مقرر کردہ محفوظ پیمانے سے32ہزار گُنا زائد تھی۔ اس گیس کے زیرِ اثر آنے سے جسم کا مدافعتی نظام تباہ ہو کر رہ جاتا ہے، جبکہ اعصاب، گردوں، جگر اور پھیپڑوں پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں لیے گئے دیگر 21 نمونوں میں بھی ایسی گیسوں اور کیمیائی عناصر کی بہتات ہے جو آنکھوں، جِلد، نظامِ تنفس، خون، قلب کی شریانوں اور تولیدی صحت پر مضر اثرات ڈالتی ہیں۔''

کمیونٹی انوائرنمنٹل مانیٹرنگ سے وابستہ ماحولیاتی رضا کار شیوتا نارائن کا کہنا ہے ''بھارت میں گزشتہ ایک صدی سے صنعتی پھیلاؤ جاری ہے۔ امکان ہے کہ اگلے چند برسوں میں صنتی پھیلاؤ اور کئی گنا بڑھ جائے گا، لیکن اس کا سب سے منفی پہلو یہ ہے کہ صنعتی ترقی میں ماحولیاتی تحفظ کا خیال نہیں رکھا جارہا ہے اور اس ترقی کی قیمت عام انسانوں کی صحت کو درپیش سنگین مسائل کی صورت میں ادا کی جارہی ہے۔''

 
   
121 ملین سال قدیم مکڑی دریافت  

کرئہ ارض پرڈائنوسارز کے قدیم زمانے سے ہی مکڑیاں جال بن کر اس میں حشرات الارض کو پھانس کر اپنی خوراک کے لیے استعمال کررہی ہیں۔ ماہرین نے اسپین میں 115سے121 ملین سال پہلے بنایا گیا ایک ایسا جالا دریافت کیا ہے، جس میں مکڑی بھی موجود ہے۔ یہ مکڑی اپنے جالے سمیت 'ایمبر' میں پھنسی ہوئی پائی گئی ہے، جس کی وجہ سے مکڑی اورجالا لاکھوں سال کے بعدبھی محفوظ رہے۔

ایمبردرختوں سے نکلنے والا ایسا مادہ ہے جواربوں سال تک اپنی اصل حالات میں جما رہتا ہے اور اس کی لپیٹ میںآئی ہوئی ہر چیز محفوظ ہوجاتی ہے۔ اس دریافت کی بنا کہا جاسکتا ہے کہ جال بُن کر شکار پکڑنے کا مکڑی کا یہ طریقہ دنیا کا قدیم ترین طریقئہ شکار ہے۔

برطانیہ کے ایک سائنسی جریدے میں شامل رپورٹ کے مطابق ''زمانہ قدیم کی جنگلی حیات کے مطالعہ کے لیے ایمبر سائنسدانوں کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا ہے،کیونکہ اس مادے کی لپیٹ میں آکر محفوظ ہوجانے والے کئی حشرات الارض لاکھوں سال بعد آج کے سائنسدان تک پہنچے ہیں۔''

مانچسٹر یونیورسٹی میں ماہرِ حیاتیاتی تنوع ڈیوڈ پینی کا کہنا ہے کہ''دریافت ہونے والی مکڑی ایک ایسی نسل سے تعلق رکھتی ہے، جسے آج کی دنیا میں نہیں جانا جاتا تھا۔ یہ مکڑی دو اقسام کے ریشوں کی مدد سے ایسا جالا بنتی تھی جو تیزی سے اڑنے والے بڑے اور مضبوط کیڑوں کو پھانسنے کے لیے کار گر ہوتا تھا۔''

زمین پر مکڑیوں کی دو ہزار سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں اور وہ مختلف کیڑوں کو پھنسانے کے لیے مختلف طرح کے جالے بنتی ہیں۔ قبل ازیں سائنسدان محفوظ شدہ ایسی بھی مکڑیاں دریافت کرچکے ہیں جو350سے420ملین سال پہلے کی ہیں۔ یہ زمانہ ڈائنو سارز سے بھی بہت پہلے کا ہے۔

 

 

 

ناصر علی پنہور آئی یو سی این، سندھ پروگرام آفس سے بطورِ کوآرڈینیٹر وابستہ ہیں۔