ان سطور میں ہم آپ کے لیے آئ یو سی اين کے قومی اور عالمی سطح پر زیرِعمل مختلف منصوبوں اور ماحول سے متعلق معلومات اور خبریں فراہم کرتے ہیں

 

 

 

متبادل ذرائع کی فراہمی قدرتی وسائل اور ماحول کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے

پاکستان میں ماحولیاتی انحطاط کے سبب ملکی معیشت کو سالانہ2.2 ارب امریکی ڈالر کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ملک میں نظر انداز کیے گئے ماحول میں ہونے والے نقصانات کی بحالی کے لیے ایک اندازے کے مطابق کم ازکم 1.76 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ یہ بات وفاقی وزارتِ ماحولیات کی مرتب کردہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔'اسٹیٹ آف دی انوائرنمنٹ رپورٹ 2005ئ'اس سال جون میں جاری کی گئی۔

اسی ماہ ماحولیات کے حوالے سے معیشت کی سالانہ جائزہ رپورٹ'اکنامک سروے آف پاکستان2005-06 ئ' میں بھی ماحولیاتی مسائل زیرِ بحث آئے ہیں۔

اکنامک سروے رپورٹ کے مطابق' پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ہوا نہایت آلودہ ہوچکی ہے۔ کثیر آبادی والے ملک کے تمام بڑے بڑے شہروں میں ہوا کی آلودگی کی شرح دنیا میں بد ترین شہری فضائی آلودگی کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے سبب انسانی صحت کو لاحق خطرات کی سنگینی میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔'سروے رپورٹ کا کہنا ہے کہ متعدد جائزوں کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بڑے بڑے شہروں میں ہوا کی آلودگی انسانی صحت کے لیے 'محفوظ ' قرار دی گئی مقدار سے بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ ہوا کے معیار میں انحطاط کا سب سے بڑا سبب گاڑیوں، صنعتوں، ٹھوس فضلے کو جلانے، ماحول میں موجود گرد و غباراور اینٹوں کے بھٹوں سے دھویں کے ساتھ ساتھ نکلنے والے وہ نہایت ہی چھوٹے اور خوردبینی ذرات ہیں جو سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر مہلک امراض کا سبب بن رہے ہیں۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ہواکی بڑھتی ہوئی کثافت کے اسباب میں توانائی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب، صنعتوں میں اضافہ، رہائشی ضروریات اور تیزی سے پھیلتا ہوا ٹرانسپورٹ کا شعبہ ہے۔ علاوہ ازیں شہروں میں چلنے والی ٹرانسپورٹ میں کمتر معیار اور قیمت میں سستا ایندھن استعمال کرنے کے سبب بھی فضائی آلودگی کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔

فضائی آلودگی میں ٹرانسپورٹ کے کردار کی وضاحت کے لیے رپورٹ میں اعداد و شمار بھی دیے گئے ہیں، جن کے مطابق بیس سال پہلے ملک بھر میں گاڑیوں کی تعداد0.8ملین تھی جو آج بڑھ کر4.0 ملین ہوچکی ہے۔ اس طرح اس شعبے میں دو عشروں کے دوران چار سو فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔1980ء سے اب تک گاڑیوں میں اضافے کی سب سے بڑی شرح دو اسٹروک انجن والی گاڑیوں میں دیکھنے میں آئی۔ ان کی پیداواری شرح1,751 فیصد بڑھی۔ اس کے بعد موٹر سائیکلیں جن کی شرح نمو میں 541 فیصد کا اضافہ ہوا۔ ڈیزل سے چلنے والی بسوں اور ٹرکوں کی تعدادبھی خطرناک حد تک بڑھی،اضافے کی یہ شرح200 سے300فیصد کے درمیان ہے۔

سروے رپورٹ نے ملک کی آبی صورتِ حال کو بھی اپنا موضوع بنایا اور خبردار کیا ہے کہ صنعتو ں کے غیرصاف شدہ گنداب کاصاف پانی کے ذخائر میں نکاس ہو رہاہے جس کے باعث آبی آلودگی کی شرح بڑھ رہی ہے۔ یہی نہیں، ملک میں کم ہوتی بارشیں اور برف باری، نیز بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب آبی ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں، جس کے پیشِ نظر تیز رفتاری سے ملک میں آبی انتظام کے مسائل کی جانب توجہ دیے جانا ضروری ہوچکا ہے، تاکہ آئندہ برسوں میں مسئلے کی شدت اور سنگینی سے بچا جاسکے۔

دوسری جانب وزارتِ ماحولیات کی مرتب کردہ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ملک میں ماحولیاتی انحطاط کی روک تھام اور متاثرہ شعبوں کی بحالی کے لیے درکار سرمایہ کاری کی ضرورت ملکی شرح نمو (GDP) کے حساب سے کچھ اس طرح ہے:

پانی53.97فیصد؛ فضائی آلودگی119.4فیصد؛ زمین بُردگی 522.59 فیصد؛ ٹھوس فضلہ ٹھکانے لگانے کے لیے انتظامات187.21فیصد؛ جنگلات 157.40 فیصد اور ماحولیاتی نظاموں کے انتظام کے لیے ملکی شرح نمو کا 36.09 فیصد حصہ درکار ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ'' ملک میں ماحولیاتی تنزلی کے ذمہ دار عناصر میںحکومت کے زیرِ انتظام چلنے والے صرف بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے ہی نہیں ہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے قصبوں، دیہاتوں اور شہروں میں قدرتی وسائل سے استفادہ اور ناپائیدارانسانی سرگرمیوں کے مجموعی اثرات بھی ماحولیاتی انحطاط کے ذمہ دار ہیں۔''

رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ ملک میں بحالیِ ماحول اور تحفظِ ماحول کی کوششوں کو معاشی استحکام اور غربت میں کمی کے اقدامات سے پیوستہ کرکے عملی اور موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

حال ہی میں پاکستان میں سرکاری سطح پر شروع کیا گیا ترقیاتی منصوبہ 'وسط مدتی ترقیاتی خاکہ 2005-2010 ء ' میں بھی پائیدار ماحول کو ملک میں مستحکم معیشت اور معاشی شرح نمو میں اضافے کے لیے ناگزیر قرار دیا جاچکا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے1992ء میں آئی یو سی این کے اشتراک سے بقائے ماحول اور پائیدار ترقی کی قومی حکمت عملی National Conservation Strategy تیار کی تھی، جس کے بعد سے ملک میں بقائے ماحول کے حوالے سے سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم یہ ضرورت اپنی جگہ بدستور موجود ہے کہ ماحول اور قدرتی وسائل کو جو نقصانات پہنچ چکے ہیں، ان کی بحالی کی جانب توجہ دی جاتی رہے۔


 

 

 

 
وفاقی وزیر ماحولیات گول میز کانفرنس کے شرکاء سے اظہارِ خیال کررہے ہیں

پاکستان میں بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، پاکستان کے رکن اداروں اور تنظیموں پر مشتمل پاکستان نیشنل کمیٹی نے 5جون کویومِ ماحول کے موقع پر اسلام آباد میں ایک روزہ قومی گول میز کانفرنس کا اہتمام کیا، جس کا مقصد ماہرین، سرکاری و غیرسرکاری اداروں، جامعات، تحقیقی اداروں اور ذرائع ابلاغ پر پاکستان میں صحرا زدگی کے حوالے سے درپیش مسائل اور ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے حل تجویز کرنا تھا۔ اقوامِ متحدہ نے 2006ء کو صحرازدگی کا سال قرار دیاہے اوریومِ ماحول کا مرکزی موضوع بھی یہی تھا۔ کانفرنس میںمختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے علاوہ ملک کے صحرائی خطّے تھر، چولستان اور نیم بنجر صوبے بلوچستان کے نمائندوں اور ماہرین نے بھی پر شرکت کی۔

کانفرنس کے افتتاحی خطاب میںوفاقی وزیر برائے ماحولیات فیصل صالح حیات نے کہا''ملک میں بارشوں کی کمی کے باعث پانی کی قلت ہورہی ہے ، جس کی وجہ سے خشک علاقے صحرا زدگی کے خطرات کے بہت قریب کھڑے ہوئے ہیں۔صحیح منصوبہ بندی، درست معلومات اور جدید طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے پانی کی قلت کے سبب پیدا شدہ مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال سے ملک کو صحرا زدگی کے خطرے سے بھی بچایا جاسکتا ہے۔'' انہوں نے کہا ''درپیش ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے جنگلات کے تحفظ اور نئے جنگلات اُگانے، نیز شجرکاری کو موثر بنانے کی ضرورت ہے۔''

آئی یو سی این کے مرکزی نائب صدر جاوید جبّار نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا '' دنیا بھر میں ماحولیات کے تحفظ اور اس کے معاشی و سماجی زندگی پر پڑنے والے مثبت اثرات کے سبب یہ شعبہ اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے۔ دنیا میں بقائے ماحول کے حوالے سے جو کوششیں کی گئی ہیں، وہ قابلِ فخر ہیں۔ آج پاکستان سمیت پوری دنیا صحرا زدگی کے خطرے کا سامنا کررہی ہے۔ فطری نظام میں انسانی مداخلت بھی صحراؤں کے پھیلاؤ کی ایک وجہ ہیں ، اس سلسلے میںابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ''

اس موقع پر آئی یو سی این شعبئہ آب کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمجید نے اپنا کلیدی مقالہ پیش کرتے ہوئے صحرا زدگی کے اسباب پر روشنی ڈالی۔

گول میز کانفرنس سے رکنِ قومی اسمبلی مخدوم انور عالم، آئی یو سی این کے محمود اختر چیمہ ، گل نجم جامی اور ناصر پنہور، شوکت راہموں(عمر کوٹ )،فیض محمدجونیجو( ننگر پارکر ) ،عزیز کاچھیلو( دادو )، سعداﷲ دوتانی(زیارت )، مریم بی بی اور دیگر نے بھی اظہارِ خیال کیا۔


 
 
 
   

ٹھٹہ سے بدین جانے والی شاہراہ پر مرکزِ شہر سے دس کلومیٹر پہلے دائیں ہاتھ پر ایک پکی سڑک کھیتوں کے درمیان سے سیدھی آگے بڑھتی چلی جاتی ہے، جس پر سات کلومیٹر آگے چل کرگوٹھ اﷲ آباد پڑھیار آتا ہے۔ بدین زیریں سندھ کا ایک خوشحال ضلع تھا ، لیکن ماحولیاتی انحطاط، قدرتی آفات اور سمندر کے آگے بڑھ آنے کے سبب زیرِ زمین نمکیات کی سطح بھی بڑھی، جس نے بتدریج زرعی زمینوں اور زیرِ زمین آبی ذخائرکوناکارہ بنادیا۔گزشتہ ایک عشرے کے دوران وقوع پذیر ماحولیاتی تباہی سے مقامی معیشت تباہ ہوئی اوربڑی تعداد میں غریب کاشتکار وماہی گیر بھی کسمپرسی کا شکار ہوئے۔ گوٹھ اﷲ آباد بھی اسی بربادی کا شکار لوگوں کا گاؤں ہے۔

صورتِ حال کے پیشِ نظر آئی یو سی این نے پاکستان انوائرنمنٹل پروگرام کے تحت اپنی مقامی شراکت دار تنظیم 'رورل اَپ لِفٹ ایسوسی ایشن' کے ہمراہ ناکارہ زمینوں کو دوبارہ قابلِ کاشت بنانے اور کھارے پانی کے تالابوں میںماہی پروری کے ذریعے ماہی گیروںکومعاش فراہم کرنے کے لیے 2005ء کے اوائل میںآزمائشی بنیادوں Bio-saline Agriculture & Aquaculture منصوبے کا آغاز کیا۔ مقامی نباتاتی تنوع کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شورزدہ زمینوں پر زیادہ پتوں والاجھاڑی دار پوداArtiplex کو اگانے کا کامیاب تجربہ کیا۔ بعد ازاںمقامی کمیونٹی کو فراہم کرنے کے لیے اس پودے کی گاؤں میں نرسری قائم کی گئی۔ مقامی لوگ اب اس طرف راغب ہیں کہ وہ اپنی شور زدہ زمینوں کو دوبارہ قابلِ پیداوار بنانے کے لیے اس پودے کو اگائیں۔اس جھاڑی دار پودے کی کاشت سے دو فائدے بالکل سامنے نظر آتے ہیں۔ اول تو زمین میں موجود نمکیات کی سطح بتدریج کم ہونے لگتی ہے، دوئم یہ مویشیوں کے لیے چارہ بھی فراہم کرتا ہے۔علاوہ ازیںشور زدہ پانی کے تالاب میں ماہی پروری کا آزمائشی منصوبہ بھی شروع کیا جاچکا ہے ، جس سے مقامی ماہی گیروں کو جو سمندر کے آگے بڑھ آنے کے سبب جھیلوں اور دریا میں ماہی گیری ختم ہونے کے سبب بیروزگار ہوئے، فائدہ حاصل ہوگا۔

مذکورہ گاؤں میں ماحولیاتی شعور کے فروغ اوران کی رائے جاننے کے لیے بدین کے ماحولیاتی مسائل پر آئی یو سی این،سندھ پروگرام کی سندھی زبان میںتیار کردہ دستاویزی فلم کونجیں لوٹیں گی'کافلم شو منعقد کیا گیا، جس میںگوٹھ اﷲ آباد پڑھیار کے علاوہ گرد و نواح کے لوگوں نے بھی بڑی تعداد مین شرکت کی۔ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ شور زدہ زمینوں سے پیداوار کے حصول کے کامیاب تجربے کو اپنی ناقابلِ کاشت زمینوں پر دُہرا نے کے خواہشمند ہیں۔ ترقی، مدد اور ابلاغ کے مابین موجود رشتہ اس خواہش کی بنیاد ہے۔

رفیع الحق

 
   

ریڈیو پاکستان، کوئٹہ اور آئی یو سی این بلوچستان پروگرام، کوئٹہ کے اشتراک سے 2000ء میں تکمیل پذیرپائیدار ترقی کی حکمتِ عملی پر عملدرآمد اور درپیش شہری ماحولیاتی مسائل پرمجلس مذاکرہ کا انعقاد ہوا،جس کا مقصد حکومتی نمائندوں اور سماج کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والی شخصیات کے درمیان اُس مکالمے کا آغاز کرنا تھا، جس کی روشنی میں ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے میں حائل رکاوٹوںکا جائزہ لیا جاسکے۔ مجلس مذاکرہ میں صوبائی وزیرِ برائے ماحولیات، انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی، ٹریفک پولیس، ادارہ برائے نکاسی و فراہمی آب، مقامی حکومتوں کے ناظمین، امورِ صحت کے ماہرین، سینئرصحافیوں،اساتذہ، ماہرین برائے پائیدار ترقی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

'احباب برائے پائیدار ترقی، بلوچستان اور شہری مسائل' کے عنوان سے ہونے والی مجلسِ مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے ماحولیات کرنل (ریٹائرڈ) محمد یونس چنگیزی نے کوئٹہ کو درپیش ماحولیاتی مسائل کی جانب روشنی ڈالی اور ان پر قابو پانے کے لیے آگہی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ماحولیاتی مسائل شدت کے ساتھ موجود ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے نمائندے جناب جمالی نے کہا کہ مسائل پر قابو پانے کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے، لیکن ایسا ہوتا نہیں۔جس کے سبب موجود قوانین اور حکمتِ عملیاں بے اثر ہونے لگتی ہیں۔ پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کی تیاری میں شامل کنسلٹنٹ تاج فیض کا کہنا تھا کہ ''کوئٹہ کو تین ماحولیاتی مسائل درپیش ہیں۔ جن میں ٹریفک کا دھواں، آبی آلودگی و گنداب کا نکاس اور ہسپتالوں کے کچرے سمیٹ ٹھوس فضلے کو ٹھکانے لگایا جانا، شامل ہیں۔'' اس کے جواب میں ادارہ برائے نکاسی و فراہمی آب کے نمائندے حامد رانا نے کہاکہ'' شہر میں پانی کی لائنیں کئی عشرے پرانی ہیں، جنہیں تبدیل کیا جارہا ہے، جبکہ گنداب کے ضمن میں تین ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی بہت جلد لگائے جائیں گے۔'' اس موقع پر سینئر ماہر برائے امراض ناک، کان و حلق ڈاکٹر محمود رضا نے خبردار کیا کہ' 'کوئٹہ میں ہسپتالوں کا فضلہ درست طریقے سے ٹھکانے نہ لگائے جانے اور آبی آلودگی کے سبب شہر میں بہت جلد بڑے پیمانے پر ہیپاٹائٹس کا مرض پھیل سکتا ہے۔ '' ماہرِ نشری ابلاغ سید عابد رضوی نے کہا کہ'' پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی ایک ایسا ترقیاتی ایجنڈا ہے، جس پر عملدرآمدسے ماحول پر نہایت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔''

مجلسِ مذاکرہ کے اختتام پر آئی یو سی این بلوچستان پروگرام کے سربراہ سلیم چشتی نے حکمتِ عملی کا پس منظر اور مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ'' ترقی کا عمل مکالمے سے جڑا ہوا ہے۔ اب جبکہ ہمار ے پاس حکمتِ عملی بھی موجود ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان عوامل کو تلاش کریں جن کے سبب اب تک ماحولیاتی مسائل کا تدارک نہیں کیا جاسکا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مکالموں کا یہ سلسلہ جاری رہے۔''

مجلس مذاکرہ سے رکنِ صوبائی اسمبلی شفیق احمد خان ، عبداللطیف راؤ، غلام قادر لہڑی، لالہ صدیق بلوچ، سلیم شاہد، عظیم کاکڑ، اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

   
 

عوام مشترکہ اقدار اور مفادات کی بنا پر ایک کمیونٹی کا حصہ ہوتے ہیں اور باہمی رابطے اس قربت کو برقرار رکھنے کے لیے لازمی ہیں۔ سماج کے درمیان رابطوں کے لیے ذرائع ابلاغ کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں تاہم نشری ذرائع ابلاغ میں ریڈیو اس ضمن میں موثر ثابت ہواہے۔ دنیا بھر میں ریڈیو کی افادیت کو تسلیم کیا جاتا ہے اور اب جبکہ نِت نئے ابلاغ کے ذرائع موجود ہیں توایسے میں بھی 'ایف ایم ریڈیو' اور 'کمیونٹی ریڈیو' نے اپنے افادیت تسلیم کروالی ہے۔ پاکستان میں ایف ایم ریڈیو کو گزشتہ برسوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے، لیکن بدقسمتی سے کمیونٹی ریڈیو کی بنیاد نہیں پڑ سکی ہے، ہوسکتاہے کہ اگلے چند برسوں میں شاید ایسا ہوجائے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس، تعلیم و ثقافت ( یونیسکو) نے گزشتہ چند برسوں میں کمیونٹی ریڈیو کے حوالے سے کئی تحقیقی مطبوعات شائع کی ہیں۔ زیرِ نظر کتاب 'کمیونٹی ریڈیو ہینڈ بُک' بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انگریزی زبان میں شائع اس کتاب کا اردو ترجمہ پاکستان پریس فاؤنڈیشن نے یونیسکو کے تعاون سے شائع کیا ہے۔ موضوع کے حوالے سے نہایت معلوماتی اور جامع کتاب ہے۔

ناشر:معظم علی ریسرچ اینڈ پبلی کیشنز سینٹر، پاکستان پریس فاؤنڈیشن، پریس سینٹر، شاہرئہ کمال اتاترک، کراچی