|
|
8اکتوبر2005ء کی صبح چمکتے سورج نے زخموں کی جو کہانیاں بنتے دیکھیں، موت کا جو بے تابانہ رقص دیکھا، پہاڑوں کو بکھرتا دیکھ کر یومِ حساب کی جس ہلکی سی جھلک کو محسوس کیا۔۔۔آج نو ماہ بعد بھی اس کی نشانیاں باقی ہیں۔ مرنے والے تو آسودئہ خاک ہوئے، زندہ بچ جانے والوں کی اکثریت مجسمِ سوال ہے۔ یہ سوال بوجھ بن کر حکومت کے کاندھوں پر دھرا ہے کہ بحالی کی کوششیں اس کا فرضِ عین ہے ، رہیں ملکی اور بدیسی غیر سرکاری تنظیمیں تو سب اپنے اپنے طور پر 'بحالی، آباد کاری اور تعمیرِ نو 'کی تکون پر کچھ نہ کچھ چراغ روشن کررہی ہیں۔ کسی کو شکوہ ہے کہ یہ چراغ گھر کو جلا سکتا ہے، کوئی مشکور ہے کہ ان چراغوں نے روشنی دی ہے اور جہاں روشن دیوں کی روشنی نہیں پہنچ پائی وہاں فطرت کے لگائے زخموں پر مرہم بن کر مداوا کرنے کے لیے خود بیمار فطرت کا ہی ماحول موجود ہے۔۔۔بد ترین زخموں سے چور فطرت۔۔۔جس کے کاندھے ناتواں ہیں، لیکن اپنی وادیوں میں بسے دکھوں سے چورہزاروںباشندوں کے لیے اس کی بانہیں اب بھی وا ہیں، مشفق ماں اور مہربان دوست کی طرح، لیکن بیمارفطرت کی بانہیں کب تک وا رہیں گی۔ اس کے مضمحل ہاتھ کب تک زخم خوردہ اور شکستہ انسانوں کوسہار سکیں گے؟ زلزلے کی گرد چھٹی، بے قراروں کو کچھ قرار آیا، جانے والوں کی یاد میں بھیگی آنکھوں کے سوتے کچھ تھمے تو انفرادی اور اجتماعی سطح پر جو سب سے بڑامرحلہ درپیش آیا وہ ہے 'بحالی اور تعمیرِ نو'کا۔ حادثہ اتنا بڑا تھا کہ اس کے لگائے گئے زخموں کے لیے بھی وقت کی مہلت چاہیے تھی اور وقت نے یہ بھی لا کر دے دی، لیکن خدشات، وسوسے اور امیدیں سب ایک دوسرے سے تصادم ہیں۔ سر چھپانے کے لیے چھت، پیٹ کے لیے روٹی اور ضروریاتِ زندگی کے
لیے چند روپوں کا حصول سہارے کے متلاشیوں کو کچھ سوچنے نہیں دیتا اور جو
سوچنے والے ہیں، انہیں اُن لوگوں کے آگے سوچنے کا شاید موقع نہیں مل رہا
اور جو کچھ کرسکنے کی پوزیشن میں ہیں، ان کے آگے دوسرے متعلقہ اداروں کے
ماضی کے رویے آڑ بنے ہوئے ہیں۔ غرضیکہ سوالوں، ابہام، دعوؤں، اعلانات، شکایتوں
اور اندیشوں کا ایک ایسا اژدہام ہے کہ کچھ اندازہ نہیں ہوتا کہ کیا غلط
ہے اور صحیح کیا ہے۔ کیوں، کیسے، کب تک۔۔۔ بس لگتا ہے کہ زندگی اسی سوال
میں الجھی ہوئی ہے۔ رہی بحالی اور تعمیرِ نو۔۔۔ سب اپنی اپنی جگہ اپنی اپنی
کارکردگی بیان کرتے ہیں۔ سب کے نزدیک ان کا موقف درست ہے، دوسرا شاید درست
نہیں۔ رہا اقبال کی خودی کا معاملہ تو شاید جس طرح حمیت تیمور کے گھر سے
رخصت ہوئی تھے، خودی بھی کسی پہاڑی تودے کی زد میں آکر کہیں اور چل دی۔
ہوسکتا ہے کہ یہی وجہ ہو کہ گھر کا مکین ٹوٹی چھت کی اس لیے مرمت نہیں کرتا
کہ جو رقم اس کا حق ہے کہیں' بحقِ سرکار 'ہی نہ ہوکر رہ جائے۔ مختار آزاد |
||||
|
||||
|
|
||||