|
|
|
||||
کراچی میں ٹریفک کے دھویں اور صوتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے عدالتِ عالیہ، سندھ نے صوبائ حکومت کو تین ماہ کی مہلت دی ہے |
||||
تحرير: ایم کمال تصوير: جمشيد مسعود |
||||
اقبال کراچی ٹریفک پولیس میں کانسٹیبل ہے اور شہر کی مصروف ترین شاہراؤں آئی آئی چندریگر روڈ، ایم اے جناح روڈ، صدر، شاہرائہ فیصل اور طارق روڈ وغیرہ کے چوراہوں پر عموماً اس کی ڈیوٹی رہتی ہے۔ اقبال کا کہنا ہے : ''گزشتہ دس برسوں کی ملازمت کے بعد اب میںاپنے جسم میں بعض نفسیاتی تبدیلیاں محسوس کررہا ہوں۔ چند روز کی چھٹی لے کر گھر پر آرام کرنا چاہوں تو ایک دو دن میں ہی بے چینی ہونے لگتی ہے، د ل کرتا ہے فوراً ڈیوٹی پر چلا جاؤں۔ سگریٹ نہیں پیتا ہوں، لیکن رات کو کھانسی کے ٹھسکے اٹھتے ہیں۔ تھوڑا پیدل چلنے سے پھیپڑوں پر دباؤ پڑنے لگتا ہے، سانس اکھڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ ڈیوٹی کے دوران ماسک لگانے کی کوشش کی مگر اس سے بے چینی اور بڑھ جاتی ہے۔برسوں پورادن دھوئیں میں گزارنے سے مجھے اس کی عادت ہوگئی ہے اور لگتا ہے جیسے میں اس نشے کا عادی ہوچکا ہوں۔'' ہوسکتا ہے کہ اپنی کیفیات کی وجوہات کے بارے میں اقبال کو شاید وضاحت سے علم نہ ہو، لیکن امراضِ حلق، کان و ناک اور قلب کے ماہر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ رکازی ایندھن سے خارج ہونے والا دھواں انسانی صحت کے لیے نہایت مضر ہے۔ منہ اور ناک کے ذریعے اس کے ذرّات انسانی جسم میں داخل ہو کر پھیپڑوں، دل کی شریانوں، جِگر اور دیگر اعضا پر سست رفتاری سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ پیٹرو کیمیکلز کی مہک یا اس کے دھویں سے پیدا شدہ ماحول میں بہت زیادہ وقت گزرنے لگے تو یہ خاموشی سے اعصاب پر بھی حملہ آور ہوتا ہے اور دیگر بیماریوں کے ساتھ ساتھ جسم رفتہ رفتہ اس نشے کا عادی ہونے لگتا ہے'' شاید اقبال کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔
پاکستان کے تمام بڑے بڑے شہر اس وقت بے ہنگم ٹریفک اور دھویں سے آلودہ فضا کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ کراچی میں تیزی سے بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد، پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نہایت پرانی بسوں کا استعمال اور ان سے بڑی مقدار میں دھویں کا اخراج اور رکشاؤں سے ہونے والی صوتی آلودگی ؛ یہ سب وہ عوامل ہیں جوشہر کی فضا کو مزید کثافت زدہ بنائے چلے جارہے ہیں، جس کے سبب شہریوں کی جسمانی، نفسیاتی اور اعصابی صحت خاموش بیماریوں کا شکار ہورہی ہے۔ کراچی میں دھویں اور ٹریفک کے شور کی بڑھتی ہوئی آلودگی اور صحت پر اس کے مضر اثرات کے پیشِ نظر 26اپریل2006ء کو عدالتِ عالیہ، سندھ نے صوبائی حکومت کو تین ماہ کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ دھویں اورصوتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ نیز اس مہلت کے خاتمے پر عدالت کے سامنے کارکردگی کی رپورٹ پیش کی جائے۔جناب جسٹس سردار جلال عثمانی اور جناب جسٹس گلزار احمد پر مشتمل عدالت عالیہ کے بنچ نے یہ حکم درخواست گذار اور عامل وکیل اسلام حسین کی ایک درخواست دیا،جس میںگاڑیوں کے دھویں اور صوتی آلودگی کے خاتمے سے متعلق عدالت سے مداخلت کی درخواست کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ23مئی، 2003ء کو عدالتِ عظمیٰ، پاکستان نے تمام صوبوں کوحکم دیا تھاکہ آلود گی کی ذمہ دار گاڑیوں کے خلاف باضابطہ کارروائی کی جائے تاکہ شہری صاف ستھری فضا میں سانس لے سکیں۔ فیصلے پر سرحد اور پنجاب میںعمل بھی ہوا۔ غیر سرکاری سطح پر لگائے گئے تخمینوں کے مطابق اس وقت کراچی کی آبادی سوا کروڑ کے لگ بھگ نفوس پر مشتمل ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں آبادی کی اندرونِ شہر نقل و حمل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اندازہ ہے کہ نجی شعبے میں25 ہزار کے لگ بھگ بسیں، کوچیں اور ویگنیں جبکہ50ہزار کے قریب دو اسٹروک انجن والے رکشہ سڑکو ں پر رواں دواںہیں۔ ٹریفک پولیس اور محکمئہ رجسٹریشن کے ذرائع کہتے ہیں کہ شہر میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ میں شامل 58فیصد بسوں اور ویگنوں کی عمر25سال سے بھی زائد ہے اور ان کی رجسٹریشن80ء کی دہائی میں کروائی گئی تھی۔1992ء کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ میں استعمال ہونے والے گاڑیوں میں سے صرف دو فیصد کی رجسٹریشن ہوئی۔ ان میں سے بھی زیادہ تر وہ مسافر کوچیں ہیں، جنہیں تیز رفتار اندرونِ شہر سفری سہولتوں کی فراہمی کے لیے اُس وقت متعارف کروایا گیا تھا۔ جہاں تک دھویں کی آلودگی کی بات ہے تو ٹریفک پولیس کے ذرائع اتفاق کرتے ہیں کہ کم از کم ستر فیصد شرح کی ذمہ دار نجی شعبے میں چلنے والے پرانی گاڑیاں ہیں، جو قوانین اور گاڑی کی مشینی حالت کے مطابق اپنی طبعی عمر برسوں پہلے پوری کرچکی ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی یہ سڑکوں پر ہیں۔ پرانی بسوں کے علاوہ دھویں اورصوتی آلودگی کے ضمن میں سب سے زیادہ ذمہ دار رکشاؤں کو ٹہرایا جاتاہے۔ عدالتِ عالیہ کے فیصلے کی روشنی میں حکومتِ سندھ نے24جون،2006 ء کو ایک حکمنامے کے ذریعے دو اسٹروک رکشاؤں کی نئی رجسٹریشن پر پابندی عائد کردی اور30جون،2006ء سے نافذالعمل اس فیصلے کے تحت رکشہ مالکان کو حکم دیا ہے کہ وہ رکشہ انجنوں کو جون،2007ء تک چار اسٹروک میںتبدیل کروالیں، ورنہ بعد از مہلت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کراچی میں ٹریفک کے مسائل اور آلودگی سے نمٹنے کے لیے اگرچہ صوبائی حکومت نے عدالتی احکامات کے فوراًبعد مہم بھی چلائی اور اس کے پہلے دو دنوں میں40رکشہ اور35کے لگ بھگ پرانی بسیں او کوچیں ضبط کی گئیں، جس کے خلاف انہیں ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بعد ازاں کراچی ٹریفک منیجمنٹ بورڈ، جس کے چئیرمین کراچی شہری حکومت کے سربراہ مصطفیٰ کمال ہیں، نے4مئی،2006ء کو منعقدہ اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے تحت 1976ء سے قبل تیار ہونے والی تمام پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔ناظمِ کراچی کا کہنا ہے کہ ''فضائی آلودگی پر قابو پانے اور شہر میں ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کے ضمن میں اگلے چار برسوں میں شہر میں آٹھ ہزار نئی سی این جی بسیں درآمد کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں بسوں کی پہلی کھیپ اس سال دسمبر میں کراچی پہنچے گی۔ سی این جی کی بہ آسانی فراہمی کے لیے شہری حکومت مزید سی این جی اسٹیشنوں کے قیام کے لیے زمین بھی فراہم کرے گی۔'' ماہرینِ ماحولیات کا خیال ہے کہ عدالت کے حکم پر اندھا دھند کاروائی کرنے اور نئے قضیوں کو جنم دینے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے حکمتِ عملی سے کام لیا۔ اس ضمن میں دو اسٹروک انجن والے رکشاؤں کی رجسٹریشن اور شہر میں نئی سی این جی بسوں کی درآمد کو وہ مستحسن فیصلہ قراردیتے ہیںاور شہر میںدھویں اور صوتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات اور خود شہری حکومت کے فیصلوں کو نہایت اہم بتاتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ چند تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹر وہیکلز رولز1969ء کی شق57بی میں 'پبلک سروسز وہیکلز 'میں 'پبلک ٹرانسپورٹ' کو دو درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ 'اے' اور 'بی' درجات ہیں۔ درجہ' اے'میں آنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی عمر چار جبکہ درجہ 'بی' کی عمر چھ سال رکھی گئی ہے۔ لگ بھگ انہی خطوط پر چند سال پہلے لاہور اور پشاور میںپبلک ٹرانسپورٹ کو دو حصوں'اے' اور 'بی' میں تقسیم کیا گیا۔ جس کے تحت بالترتیب چھ اور نو برس سے زائد پرانی گاڑیوں کو شہر میں چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ اگرچہ کراچی جیسے مصروف شہر میں فوری طور پر پبلک ٹرانسپورٹ کو موٹر وہیکلز رولز کا پابند بنانے سے بحرانی صورتِ حال پیدا ہوسکتی ہے، لیکن جیسا کہ ناظمِ شہر کا اگلے چار برسوں میں8ہزار سی این جی بسوں کو شہر کی سڑکوں پر لانے کا اعلان ہے، تو جیسے جیسے یہ بسیں شامل ہوتی جائیں، موٹر وہیلکلز رولز پر عمل کرتے ہوئے پرانی بسوں کو سڑکوں سے ہٹایا جاتا رہے۔ شہری گروپوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں ٹریفک کے مسائل اور ان سے پیدا شدہ آلودگی سنجیدہ مسئلہ ہے، جس پر جامع حکمتِ عملی کے ذریعے قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ سٹیزن پولیس لائژن (سی پی ایل سی) کی طرز پرفٹ گاڑیوں کے لیے فٹنس تصدیق نامہ جاری کرنے کے سرکاری عمل کو شفاف بنانے کے لیے اس میں آزاد شہری گروپوں اور غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ عدالت عالیہ کا فیصلہ اب اس بات کا متقاضی ہے کہ زائد دھویں کے اخراج کی روک تھام کے لیے سب سے پہلے ناکارہ گاڑیوں کو سڑکوں پر آنے سے روکنے کے اقدامات کیے جائیں اور یہ مقام وہی ہے جہاں سے ناکارہ گاڑیاں 'فٹنس' کا تصدیق نامہ حاصل کرکے سڑکوں پر زہریلا دھواںاُگلتی پھرتی ہیں۔ اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ کو کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) پر بتدریج منتقل کیا جائے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایسی گاڑیوں کی رجسٹریشن پر پابندی لگادی جائے جو کہ سی این جی کے بجائے رکازی ایندھن استعمال کرتی ہوں۔ ساتھ ہی ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی میں دھویں اور صوتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے تحفظِ ماحول کے ادارے 'سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی' کو بھی فعال بنایا جائے، تاکہ دھواں دینے والی گاڑیوں کے خلاف وہ ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کے اشتراک سے سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ کے تحت حاصل قانونی اختیارات کے تحت کاروائی کرسکے۔ کراچی میں بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک طرف تودستیاب پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت ناکافی ہے، جس کے سبب ان میں سفر کرنا بھی 'مجبوری کا نام شکریہ' کی مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موزوںپبلک ٹرانسپورٹ کے فقدان نے کار فنانسنگ کے لیے بینکوںاور سرمایہ کار کمپنیوں کی آسان اسکیموں کے ذریعے کم تنخواہ دار طبقے کی بڑی تعداد کوذاتی گاڑیوں کی خریداری پر اُکسایاہے۔ روز بہ روز مہنگا ہوتا ہوا ایندھن اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود کم آمدنی والے طبقے کے لیے گاڑی رکھنے کا سب سے بڑا جواز نا مناسب پبلک ٹرانسپورٹ ہی ہے۔ شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کے مسائل اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے جہاں ایک طرف پرانی اور ناکارہ بسوں، ویگنوں اور کوچوں کی جگہ سی این جی گاڑیوں کی ضرورت ہے، وہیں آرام دہ پبلک ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے ذریعے بھی روز بہ روز بڑھتی ہوئی چھوٹی ذاتی گاڑیوں کی تعداد میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ اس طرح شہریوں کو روز مرہ معمولات کی انجام دہی کے لیے صاف ستھری متبادل پبلک ٹرانسپورٹ کا نعم البدل فراہم کرکے ٹریفک کے مسائل پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔
|
||||
|
||||
ایم کمال فری لانس صحافی ہیں |
||||
|
|
||||