|
|
|
|||||||
|
مظفرآباد سے جب وادیِ نیلم کی جانب سفر کریں تو کم و بیش پندرہ کلومیٹر کے بعد ایک مقام پٹہکہ آتا ہے۔ اس مقام کو وادیِ نیلم کا 'بابِ داخل' بھی کہتے ہیں۔ یہیں سے بل کھاتے راستوں پر چڑھائی چڑھتے رہیں تومزید بیس کلومیٹر آگے جا کر 'مچھیارہ' کی حد شروع ہوجاتی ہے۔ لگ بھگ ایک صدی پہلے کی بات ہوگی جب وادیِ جموں و کشمیر سکھ حکمرانوں کے زیرِ نگیں تھی اور انہوںنے ہزاروں ایکڑ پر مشتمل اس علاقے کو قدرتی حسن کی بدولت 'رکھ' یعنی 'محفوظ' کا درجہ دے کر اپنی شکارگاہ کے لیے مخصوص کررکھا تھا،لیکن وادی کے اس حصے میں بسے باشندوں کا یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق جنگلات سے تعمیرات اور ایندھن کے لیے لکڑی لے سکتے ہیں اورچراگاہوں میں اپنے پالتو مویشیوں کو چراسکتے ہیں۔ 1948 ء میں جب آزاد جموں و کشمیرحکومت قائم ہوئی تو یہ حصہ بھی اس میں شامل ہوا اور مچھیارہ کا انتظام محکمئہ جنگلات نے سنبھال لیا۔ اب اس کی 'محفوظ' حیثیت کو زوال پہنچنا شروع ہوا ۔ تجارتی بنیادوں پر عمارتی لکڑی کی فروخت کے لیے درخت کٹ کٹ کر گرنے لگے۔ جنگل کٹنے لگے تو جنگلی حیات کے مسکن بھی تباہ ہوئے۔صورتِ حال کے سبب آزاد کشمیر حکومت نے مچھیارہ کو1982ء میں 'گیم ریزرو' کا درجہ دیا ۔ 1984ء میں مقامی جنگلی انواع کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسے 'وائلڈ لائف سنکچوری' قرار دے دیا۔ مچھیارہ گیم سنکچوری میں تجارتی سرگرمیوں کے سبب تیزی سے بقا کو لاحق خطرات کی جانب بڑھتی ہوئی جنگلی حیات اور تباہ ہوتے قدرتی ماحول کی تشویش ناک اطلاعات پر1992ء میں وفاقی وزارتِ ماحولیات، پاکستان نے یہاں کا تفصیلی جائزہ مرتب کروایا۔ بعد کے برسوں میں ڈبلیو ڈبلیو ایف، پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے اشتراک سے جائزوں اور ورکشاپ کے نتیجے میں مچھیارہ کی اہمیت کے پیشِ نظر اسے نیشنل پارک قرار دینے کی سفارش کی گئی اور پھر1996ء میں حکومت آزاد جموں و کشمیر نے اسے نیشنل پارک قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، جس کے ساتھ ہی یہاں جاری تمام تجارتی سرگرمیاں ممنوع قرار پاگئیں۔ مچھیارہ نیشنل پارک کا ارضی رقبہ 13ہزار،5سو،32ہیکٹر (33ہزار،437 ایکڑ) پر محیط ہے۔ اسے نیشنل پارک قرار دینے کی بڑی وجوہات میں مشک نافہ کے حصول اور تفریحی شکار کے سبب مشک ہرن اور دانگیر کی نسل کا تیزی سے معدومی کی جانب بڑھنا بھی تھا۔ یہاں برفانی چیتا، کیل، رونس، لنگور، ریچھ، تیندوا، مرغ زریں، رام چکور، چکور، بن ککڑ، بھیگر بھی واضح تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ کائل، دیودار، فر، شاہ بلوط اخروٹ اور برمی کے خوبصورت کے گھنے جنگل حیاتی تنوع کے مسکن ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے شعبےGEF اور ورلڈ بنک کی مالی معاونت سے پاکستان میں محفوظ علاقوں کے بہتر انتظام کے لیے ایک منصوبہ2000ء میںProtected Areas Management Project (PAMP) منظور ہوا۔ جس میں ہنگول (بلوچستان)، چترال گول (سرحد) اور مچھیارہ نیشنل پارک شامل ہیں۔ منصوبے کا مقصد پارک کی حدود میں واقع مقامی آبادیوں کی جائز ضرورتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شراکتی عمل کے ذریعے قدرتی وسائل کے تحفظ اور دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ منصوبے کے تحت2003ء میں مچھیارہ نیشنل پارک کے بہتر انتظام کے لیے سرگرمیاں شروع ہوئیں لیکن8اکتوبر2005ء کے زلزلے سے یہ پارک بھی انسانی المیوں اور ماحولیاتی تباہی کا شکار ہوا، جس نے یہاں جاری سرگرمیوں میں غیر تحریر شدہ ایک نئے باب کا بھی اضافہ کردیا ہے۔ مچھیارہ نیشنل پارک کے لیےPAMP کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نعیم افتخار زلزلہ اور اس کے بعد پارک پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں کہتے ہیں! ''زلزلے کے نتیجے میں پارک پر دو قسم کے ماحولیاتی اثرات مرتب ہوئے۔ اول یہ کہ ارضی ساخت تباہی کا شکار ہوئی۔ چشموں کے بہتے پانیوں میں خلل پڑا۔ کہیں چشموں میں بہاؤ تیز ہوا تو کہیں خشک ہونے کے قریب پہنچ گیا۔ زلزلے کے بعد مٹی کے تودوں کا گرنا اور پہاڑوں پر جمی مٹی کا بدستور کھسکتے رہنا مسلسل جاری عمل ہے۔ زیرِ زمین گردشیں ارضیاتی ساخت پر منفی اثرات کا اشارہ دیتی ہیں،جنہیں حیاتیاتی تنوع کے مسکنوں میں خلل کی صورت میں محسوس بھی کیا گیا ہے۔ زلزلے کے بعد چوبسر کے مقام پرہیلی کاپٹر سے ایک بھورے ریچھ کو مردہ حالت میں دیکھا، جو پہاڑی تودے کی زد میں آکر ہلاک ہوا تھا۔ دوسرا اثر یہاں رہنے والے انسانوں کے تباہی سے ہمکنار ہونے کے باعث ماحول پر ممکنہ طویل المیعادخطرات کی صورت میںواقع ہوا ہے۔ موخر الذکر خطرے سے تو نمٹنے کی ہم کوششیں کررہے ہیں تاکہ ماحول پر مزید منفی اثرات کو روکا جاسکے لیکن جنگلی حیاتیاتی تنوع، نباتات اور ارضیات کے حوالے سے تجزیوں کے لیے وقت اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ '' خورشید احمد خان PAMPسے بطور ماہرِ ابلاغیات و فروغِ آگہی وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں ''مسکنوں کی تباہی سے یقیناً جانوروں پر منفی اثرات تو مرتب ہوئے لیکن پرندوں نے بھی اپنے آشیانے بدل لیے۔ زلزلے کے بعد کے دو ماہ کے دوران ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر محسوس کیا کہ بعد از زلزلہ آنے والے جھٹکوں کے دوران یہاں موجود پرندوں نے بڑی تعداد میں ہجرت کی ہے اور جانور بھی در بدر ہوئے ۔''
تعمیرِنو اوربحالی کے حوالے سے پارک کے ماحول پر انسانی سرگرمیوں کے ممکنہ اثرات اور ان سے نمٹنے کے حوالے سے خورشید بتاتے ہیں''ہزاروں ایکڑ پر مشتمل پارک میں تین یونین کونسلیں مچھیارہ،بھیڑی، سرلی سچہ موجود ہیں اور35 گاؤںآباد ہیں، جن کی آبادی 50ہزار نفوس یاکم از کچھ پانچ ہزار خاندانوں پر مشتمل ہے۔ مقامی قدرتی ماحول اور وسائل پر ان کی زندگیوں کا بڑی حد تک انحصار ہے۔ PAMPکا منصوبہ شروع ہونے کے بعد طویل مراحل سے گذر کر ہم نے یہاں ولیج کنزرویشن کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔ خود لوگوں میں بھی ماحول کے تحفظ کے حوالے سے شعور و فِکر میںاضافہ ہوا ہے۔ زلزلے کے فوراً بعد ایندھن کے لیے جنگلات پردباؤ بڑھنے کا خدشہ تھا، مگر لوگوں نے ایک طرف تو منہدم عمارتوں کی ناکارہ لکڑیوں کو استعمال کیا تو دوسری جانب ہم نے متبادل ایندھن کی فراہمی کے لیے کوششیں کیں۔ امدای اداروں کے تعاون اور اپنے وسائل سے تین ہزار گھروں کو کفایتی چولہے فراہم کیے ،پندرہ سو گھروں میں سے بارہ سو کوPAMP نے جبکہ تین سو کو مختلف امدادی اداروں نے لیکوئیڈ پیٹرولیم گیس کی سہولت فراہم کی۔ یوں جنگلات پر پڑنے والے فوری دباؤ کو روکا گیا ہے، لیکن تعمیرِ نو اور بحالی کے طویل المعیاد مراحل میںماحول کو درپیش خطرات بدستور موجود ہے۔'' میر سیف اور میر اورنگزیب بھیڑی کے رہائشی ہیں، وہ کہتے ہیں ''اگرچہ نقشے فراہم کیے گئے ہیں ، مگر تعمیرات کے لیے عملی رہنمائی کی ضرورت بھی ہے۔ درکار سامان کا بہ آسانی حصول بھی ایک مسئلہ ہے۔ ماحول کا تحفظ ہمارے اپنے مفاد میں ہے، لیکن تعمیرِ نو کے لیے متبادل سامان نہ ملا تو پھر یہی جنگل ہوگا اور ہم ہوں گے۔'' خورشید احمدخان کا کہنا ہے کہ'' متبادل ذرائع معاش کی فراہمی اور آگہی کے لیے ہم نے مختلف سطح پر مہم جاری ہے۔ ولیج کنزرویشن کمیٹی کی سطح پر چھوٹے کاروباری قرضوں کی فراہمی اور چھوٹے کاروبار کی بھی تربیت دی جارہی ہے۔ یہ کوششیں پارک کے ماحول پر پڑنے والے دباؤ کو روکنے اور پائیدارطور طریقوں کے فروغ کے لیے ہیں، لیکن قدرتی ماحول کو جو نقصان زلزلے نے پہنچایا، اس کی جانب بھرپور توجہ شاید ذمہ دار اداروں نے ویسی نہیں دی ، جس کی ضرورت وقت کا تقاضاہے۔'' مچھیارہ نیشنل پارک کا قدرتی ماحول زلزلے سے تباہ ہوا، لیکن اس کی شدت کیا ہے، خورشیداس جانب اشارہ کرچکے۔PAMP کے منصوبے میں زلزلے کے بعد کے حالات سے نمٹنے کی کوئی شق شامل نہیں تھی، اس لیے اب بعد از زلزلہ حالات سے نمٹنے کے لیے نہ صرف حکومتِ آزاد جموں و کشمیر بلکہ خود وفاقی وزارتِ ماحولیات، پاکستان بھی ذمہ دار نظر آتی ہے، لیکن یہ سب کیسے ہو؟نعیم افتخار ڈار بتاتے ہیں: ''گزشتہ دو تین برس کے دوران پارک کی کم و بیش چار بیس لائن اسٹڈی تیار کی گئی ہیں،جو پرندوں،جنگلی جانوروں،ارضیات اور ماحولیاتی نظام سے متعلق ہیں۔ اب ادارے سامنے آئیں اور پارک میں ماحولیاتی تباہی کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ 8اکتوبر2005ء سے پہلے کے تجزیے کیا کہتے ہیں اور اس کے بعد حالات کیا ہیں ۔ یوں دونوں کا موازانہ کرکے حالات کا درست تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔'' تجویز قابلِ عمل ہے ، جس سے بحالی و تعمیر نواتھارٹی کے سربراہ الطاف سلیم بھی اتفاق کرتے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ عمل کب ہوتا ہے؟ مختارآزاد
|
||||||
|
|
|||||||