|
|
|
||||
کبوتر اور چکور پر لگے پھندوں کی تصویر کوئ نہیں لیتا، لیکن قریب المرگ باز کو آزاد کرتے ہوۓ جنابِ شیخ کی تصویر اخبارات کی زینت بن جاتی ہے |
||||
تحرير : ڈاکٹر عنایت اﷲ فیضی |
||||
'' یہ کتنے اچھے ا ور نیک لوگ ہیں! بازوں کو قدرتی مسکن میں آزاد کرنے کے لیے سمندر پار کے ریگستان سے ان پہاڑوں تک پہنچے ہیں۔بڑی بڑی گاڑیوں کے یہ سوارپنجروں میں بند بازوں کو ان کے قدرتی مسکن میں آزاد کرکے تصویر یں کھنچواتے ہیں، فلمیں بنواتے ہیں۔انہوں نے اپنے مصروف وقت میں سے اس کام کے لیے دس دن نکالے ہیں''۔ شامل نے بازوں کو جنگلوں میں آزاد کرنے کے لیے اس پہاڑی مقام کا سالانہ دورہ کرنے والے عرب شیوخ کی تعریف کرتے ہوئے ایک ہی سانس میں کئی باتیں کہہ ڈالیں ۔وہ عرب شیوخ کی 'باز پروری' اور 'باز دوستی' سے بہت متاثر ہوا تھا،مگر حاجب پر ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ حاجب کا اسکول کاغلشٹ کے دامن میں واقع ہے، جس کے طلبہ و اساتذہ ہرسال گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہوجانے کے بعد جب اسکول واپس آتے ہیں تو کاغلشٹ کا وسیع وعریض میدان باز پکڑنے والے تاجروں اور بازوں کے بے رحم بیوپاریوں کے کیمپوں میں گھرا ہوا ہوتا ہے ۔یہ لوگ اگست سے اکتوبر تک اس میدان میں کیمپ لگاتے ہیں اور باز پکڑتے ہیں۔ اُڑتے ہوئے باز کے پروں کی لمبائی ایک سرے سے دوسرے سرے تک جتنی زیادہ ہو، اتنی ہی باز کی قیمت بڑھتی ہے۔جس روز باون انچ والا باز ہاتھ لگے، اُس روزکیمپ میں خوشی منائی جاتی ہے، کیونکہ اس کی قیمت پاکستانی کرنسی میں کروڑوں روپے وصول ہوسکتی ہے۔حاجب ایسے بے شمار واقعات کا عینی شاہد ہے، اس لیے وہ شامل کی باتوں سے متاثر نہیں ہوتا۔شامل کا اصرار ہے کہ بازوں کو قدرتی مسکن میں چھوڑنے کے لیے سمندر پار سے چترال آنے والے یہ لوگ اچھے اور نیک ہیں۔ اگر ساری دنیا کے لوگ ایسے ہی ہوتے تو حیاتیاتی تنوع کی بقا کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے میں زیادہ وقت نہ لگتا۔ شامل سماجی کارکن اور مقامی ماحولیاتی تنظیم کا صدر ہے،اُس کو لاہور،نئی دہلی اور کٹھمنڈو میں ماحولیاتی تعلیم کے کئی پروگراموں میں شمولیت کاموقع ملاہے، جس سے اُس نے بہت کچھ سیکھا ۔اس لیے وہ حیاتیاتی تنوع کومعدومیت سے بچانے اور ان کے قدرتی مسکنوں کے تحفظ کی ہر کوشش کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے۔دوماہ پہلے بھی چترال میں ابوظہبی سے ایک دولت مند شخص آیا تھا اور بازوں کو آزاد کرکے گیا تھا۔شامل اس کی'نیکی' سے بھی بہت متاثر ہوا تھا۔شامل کے دل سے اُس شیخ کے لیے دعا نکلتی ہے، مگر حاجب پر ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اُس روز بھی شامل جب حسبِ معمول حاجب سے ملا تو باتوں باتوں میںکہنے لگا ''تم کتنے سنگدل ہو ایک شخص لاکھوں روپے اور وقت برباد کرکے بازوں کو اُن کے قدرتی مسکن میں آزاد کرنے کے لیے آتا ہے، لیکن تم اس کو 'نیکی'ہی نہیں مانتے۔ آخر سنگدلی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔'' خاموشی سے شامل کی بات سننے والے حاجب سے اب رہا نہ گیا اُس نے سوال پوچھا '' یہ بتاؤ کیا تم نے کبوتر یا چکور کی گیندکہیں دیکھی ہے؟ ''شامل نے نفی میں سرہلایا اور تعجب سے حاجب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا'' یہ کبوتر اور چکور کی گیند کیا ہوتی ہے؟'' حاجب نے کہا، '' یہی تو بات ہے۔کٹھمنڈو تک ہو آئے، لیکن کبوتر اور چکور کی گیند تم نے دیکھی تک نہیں۔'' پھر حاجب گویا ہوا '' گذشتہ پیر کو جب میں اسکول آیا تو بچوں نے کبوتر کی گیند پکڑی ہوئی تھی،یہ باز پکڑنے والوں کا کبوتر تھا جسے گیند بنایا گیا تھا۔کبوتر کی چونچ آزاد تھی، دو آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ اگرچہ وہ زندہ تھا،لیکن قریب المرگ بھی تھا۔ سفید دھاگے سے کبوتر کو اس طرح باندھا گیا تھا کہ اس کے بدن کے اردگرد ساٹھ سے اسّی تک پھندے بن گئے تھے۔دور سے توکبوتر نظر آتا تھا، لیکن نزدیک سے بالکل گیند کی طرح لگتا تھا۔ بازوں کے شکاری چکور کو بھی اسی طرح چار سوت موٹے سفید دھاگے سے باندھ کر گیند بنادیتے ہیں،پھر اس گیند کو پھندوں کے ساتھ بیتھوک( ایک طرح کاچوہے دان ، جس پر بندھے کبوتر پر جھپٹنے والا باز خود گرفت میں آجاتا ہے۔ اسے چترال کی صدیوں پرانی مقامی ایجاد کہا جاتا ہے)پر باندھ دیتے ہیں، جسے دیکھ کر باز بلندی سے اس پر جھپٹتا ہے تو کبوترکے بدن کے ساتھ لگے ہوئے پھندوں میں باز کے پنجے پھنس جاتے ہیں ۔ یوںشکاری باز خود شکار بن جاتا ہے اور شاطر شکاری کی قسمت جاگ اٹھتی ہے۔ نوسے دس سال تک شیخ اس باز کی مدد سے تلورکا شکار کھیلتا ہے، یہاں تک کہ باز کی عمر اور بازؤں کی طاقت جواب دے جاتی ہے، لہٰذا حضرتِ شیخ شمالی پاکستان کی آزاد اور دلکش فضا سے جس باز کو نو، دس سال پہلے پکڑ کرلے گئے تھے،اُسی باز کو بیمار حالت میں لاکر اُس کے قدرتی مسکن میں آزاد کرڈالتے ہیں ۔ افسوس کہ یہ بیمارباز ایک دو ماہ میں ہی مرجاتے ہیں۔شیخ کی خوش قسمتی کہ کبوتر اور چکور پر لگے پھندوں کی تصویر کوئی نہیں لیتا،لیکن قریب االمرگ باز کو آزاد کرتے وقت لی گئی جنابِ شیخ کی تصویر اخبارات کی زینت بنتی ہے۔ گویایہ بھی شکاری کے پھندے ہیں۔'' شامل نے یہ سننے کے بعد دونوں کانوں کو ہاتھ لگاکر توبہ کی ۔'کبوتر اور چکور کی گیند' نے اُس کے دل کو دہلا کر رکھ دیاتھا۔اُس نے کہا '' یہ بھی پھندے ہیں، کبوتر اور چکور کے گیند میں لگے پھندوں کی طرح'' بات اب شامل کی سمجھ میں آچکی تھی۔ |
||||
|
||||
ڈاکٹر عنایت اﷲ فیضی گورنمنٹ ڈگری کالج چترال میں بطور استاد خدمات انجام دے رہے ہیں |
||||
|
|
||||