اقوامِ متحدہ نے 2006ء صحراؤں کے پھیلاؤ کے نام کیا ہے۔ اس حوالے سے 'جریدہ' کی سرورق کی کہانی پڑھ کر جو معلومات حاصل ہوئیں، سچ پوچھیے تو موضوع کی مناسبت سے ملک کے کسی اخبار یا رسالے نے اس بھرپور انداز میں معاملے کی نزاکت اور اس کے تمام متعلقہ پہلوؤں پر روشنی نہیں ڈالی۔ یہ 'جریدہ' کا ہی اعجاز ہے جو ہمیشہ کسی نہ کسی حساس ماحولیاتی مسئلے کو قارئین کے سامنے اس طرح پیش کرتا ہے کہ پڑھ کر گماں گزرتا ہے کہ جیسے ہم خود اس مسئلے کے ماہر بن گئے ہوں۔
پروفیسرنزاکت حسین زیدی،لاہور
٭٭٭
'جریدہ'فکر انگیز اور دلچسپ معلوماتی رسالہ ہے۔ اس کا مطالعہ ہمیں نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی پس منظر میں بھی ماحولیات کے حوالے سے آگہی فراہم کرتاہے۔
ناصرہ جبیں، گوجرانوالہ
٭٭٭
صحافت کبھی نصب العین کا درجہ رکھتی تھی، لیکن تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں جب ہر چیز تجارت کی بنیاد پر تیار اور فراہم کی جارہی ہو، ایسے میں 'جریدہ' کی ماحول کے حوالے سے رضاکارانہ خدمات قابلِ تعریف ہے۔ عمیق تحقیق پر مشتمل مضامین نہ صرف تنوع رکھتے ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس کا ہر شمارہ خاص شمارہ ہے۔ صحراؤں کے پھیلاؤ کے حوالے سے سرورق کی کہانی اور موئن جو دڑو کی عکسی کہانی نے تو ذہن و فِکر کو بہت متاثر کیا ۔ دلکش انداز میں صحرائی پھیلاؤ کے بارے میں جوآگہی حاصل ہوئی، اب تک کسی بھی نشری یا طباعتی ادارے کی ایسی کوئی کوشش نظر سے نہیں گزری۔
لیکچرارگل زمان،پشاور
٭٭٭
مجھے اردو سے خاصا شغف ہے، لیکن سچ پوچھیے تو اس وقت جو زبان اخبارات اور ٹی وی چینل میں استعمال ہورہی ہے، اسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے اردو کا 'جھٹکا' کیا جارہا ہو۔ 'جریدہ' میں جو زبان استعمال کی جاتی ہے اور جواندازِ تحریر اختیار کیا جاتا ہے، وہ ماحول کے ساتھ ساتھ اردو کی بھی بہت بڑی خدمت ہے۔ اردو کا یہ لہجہ اور معیار تشنہ لبوں کی پیاس کوبجھا ڈالتا ہے۔
سید ثقلین ، راولپنڈی
٭٭٭
'جریدہ' پہلی بار مقتدرہ قومی زبان کی مطالعہ گاہ میں نظر سے گزرا۔ منتظم سے گزشتہ شمارے نکلوا کر بھی ان کا مطالعہ کیا۔ افسوس یہ ہوا کہ اتنا معیاری اور مفت فراہم ہونے والا پرچہ پہلے کیوں نہ پڑھ سکا۔ اب تو پتا چل گیا۔ ہر سہ ماہی میں مطالعہ گاہ میں 'جریدہ ' سے ملاقات کیا کروں گا۔
منیرعزیز،اسلام آباد
٭٭٭
'جریدہ' کے معیار اور خدمت کا کوئی ہمسر نہیں۔ ملک میں ماحولیاتی آگہی کے فروغ اور بقائے ماحول کے لیے شاید آئی یو سی این کا یہ ایسا کارنامہ ہے، جس کے برائہ راست ثمرات عام آدمی تک چودہ برسوں سے مسلسل پہنچ رہے ہیں۔
ماریہ نورین،ایبٹ آباد
٭٭٭
ملک کی ترقی اور ماحول کی بقا میں 'جریدہ'کی رہنمائی نئی نسل کے لیے حصولِ علم کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کا ہر مضمون نہایت گہرائی سے صورتِ حال کا جائزہ بیان کرتا ہے۔
محمد علی ہاشمؔ، ہارون آباد
٭٭٭
جب بھی ملک میں ماحولیاتی کے حوالے سے فِکر و شعور کے فروغ کا ذکر ہوگا، 'جریدہ' سب سے نمایاں نظر آئے گا۔ آپ اکثرکہتے ہیں کہ تنقیدو تجاویز ارسال کریں، لیکن چاہنے کے باوجود تنقید کا پہلو ڈھونڈنے سے نہیں ملتا اور تجویز سے پہلے ہی آپ تحقیق پیش کردیتے ہیں۔ چاہا تھا اس بار صحرائی پھیلاؤ کے حوالے سے مضمون کی شمولیت کی تجویز دوں گا، مگر شمارہ ہاتھ میں آیا تو لگا کہ جیسے آپ تک میرے دل کی بات پہلے ہی پہنچ گئی ہے۔سرورق کی کہانی تعریف سے آگے کی چیز تھی۔
فیض جروار،لاڑکانہ
٭٭٭
راقم پہاڑی وادیوں میں رہنے والا طالب علم ہے، لیکن 'جریدہ' کا مطالعہ جس طرح مجھے ملک بھر کے حوالے سے جامع معلوماتی مضامین سے مفت میں استفادے کا موقع دیتا ہے۔ اس سے میں ملک کے ماحولیاتی مسائل کے بارے میں خاصا جان چکا ہوں۔
گل فراز ، چترال
٭٭٭
'جریدہ' پہلی بار مقامی کالج کی لائبریری میں دیکھا۔ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طالب علم ہوں۔ اس لیے 'جریدہ' الٹ پلٹ کر ویب سائٹ کا پتا ڈھونڈا اور آج کل میں انٹرنیٹ پر اس کے گزشتہ شمارے پڑھ رہی ہوں۔
سدرہ ظہیرؔ،کوئٹہ
٭٭٭
زلزلے کے بعدپاکستان کا قدرتی ماحول اور اس کے تحفظ کا سوال ہمارے سامنے آکھڑا ہوا ہے۔ شمالی پاکستان کا قدرتی حسن اور دلکش ماحول ہمارے لیے قدرت کا عظیم عطیہ ہے۔ اگر ہم نے اس وسیلے کے تحفط کا یہ موقع کھودیا تو پھر وہ وقت کب آئے گا؟ میری گزارش ہے کہ اس جانب سنجیدگی سے سوچا اور نیک نیتی سے عمل کیا جائے۔
علی زمان، مالا کنڈ
٭٭٭
بلوچستان کا قدرتی ماحول نہایت متنوع ہے۔ سرسبز پہاڑ، لق و دق دشت، خشک میدان اپنے اندر مکمل ماحولیاتی نظام کی خاصیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے 'جریدہ' میں بلوچستان کے حوالے سے باقاعدگی کے ساتھ مضامین کی اشاعت یقیناً لوگوں میںاس خطّے کے حوالے سے معلومات کی فراہمی کا ذریعہ بن رہی ہے۔
ابراہیم کاکڑ،کچلاک، بلوچستان
٭٭٭
'جریدہ' بہت دلکش ہے۔ پاکستان کی لوک روایات، میلوں، ثقافت اور روایتی کھیل تماشوں کے حوالے سے تفصیلی مضمون شاملِ اشاعت کریں۔
سعید احمد قاضی،ملتان
تجویز اچھی ہے۔ ایسا کرنے کی کوشش کریں گے۔ مدیر
٭٭٭
'جریدہ' کی افادیت دیکھتے ہوئے خواہش ہے کہ اس کی اشاعت ماہانہ ہو۔ اگر ایسا کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ رقم کے عیوض بھی اس کی خریداری بہت ہی سستا سودا ثابت ہوگی۔ ملک میں عمومی معلوماتی رسائل جتنی زیادہ قیمت میں ملتے ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ'جریدہ'کے ذریعے ہمیں حقیقتاً فوائد مفت مل رہے ہیں۔
گلزار احمد، وزیرآباد
٭٭٭
'جریدہ' کی چودھویں سالگرہ مبارک ہو۔ گزشتہ شمارے میں چترال میں شیشی کے مقام پر چلغوزے کے بارے میں شائع شدہ مضمون بہت اچھا تھا۔ یہاں آئی یو سی این کے اشتراک سے چلغوزے کی حفاظت کے آزمائشی منصوبے کے کامیاب اثرات توقع سے زیادہ سامنے آئے ہیں۔ لوگوں میں اس حوالے سے آگہی بڑھ رہی ہے۔ یہی منصوبے کی کامیابی کا ثبوت ہے۔
فدا الرحمن فداؔ،چترال