|
|
|
||||||
بقا کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر 2006ء کو سمندری کچھوں کا سال قرار دیا گیا ہے- اس حوالے سے عمان میں منعقدہ عالمی اجتماع کا احوال |
||||||
تحرير وتصوير: عبدالمناف قائم خانی |
||||||
بچپن سے ہی ہم 'کچھوے اور خرگوش' کی کہانی سنتے آئے ہیں، جس میں کچھوا اپنی فطری سست روی کے باوجود محض مستقل مزاجی اور جہدِ مسلسل کے سہارے خرگوش جیسے سُبک رفتار جانور کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ ان سنگ پشت یعنی کچھوؤں کی متعدد اقسام خشکی، جھیلوں، دریاؤں اور سمندروں میں پائی جاتی ہیں۔ان کا شمار دنیا کے قدیم ترین اور طویل العمر جانداروں میں ہوتا ہے اورمادہ کم و بیش ستّربرس کی عمر تک انڈے دینے کے قابل رہتی ہے۔ دنیا بھر میں سمندری کچھوؤں کی سات مختلف انواع پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ بحری حیاتیاتی تنوع کا دامن ناقابلِ قیاس حد تک وسیع ہے، تاہم سمندری کچھوؤں کی تمام اقسام کا شمار آفت رسیدہ جانوروں میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت حیاتیاتی تنوع کی بقا کے حوالے سے مختلف عالمی اور قومی اداروں کی بھرپور توجہ ان پر مرکوز ہے۔
بحرِ ہند اور جنوب مشرقی ایشیا میں سمندری کچھوؤں کی بقا و سلامتی سے متعلق یادداشت پر دستخط کرنے والے رُکن ممالک کا چوتھا اجلاس عمّان کے دارالحکومت مسقط میں اس سال11تا14مارچ منعقد ہوا، جس میں چوبیس ممالک کے ساٹھ سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ پاکستان کی نمائندگی راقم اور محکمئہ جنگلی حیات سندھ کی ماہرِ کچھوا ڈاکٹر فہمیدہ فردوس نے کی۔ کانفرنس کا انعقاد انڈین اوشن اینڈ ساؤتھ ویسٹ ایشیا(IOSEA)سیکریٹریٹ، بنکاک نے میزبان ملک کی وزارت برائے علاقائی بلدیات، ماحول اور آبی وسائل کے تعاون سے کیا تھا۔ اس چار روزہ اجلاس کے ابتدائی ڈھائی دن رُکن مالک کی کوششوں، کارکردگی، مستقبل کے لائحہ عمل اور سال برائے کچھوے سے متعلق غور و فکر، سیر حاصل جائزوں اور مستقبل کے لیے رہنمائی و تیاری سے متعلق مصروفیت میں گذرا۔ تیسرے روز سہ پہر مندوبین کو مسقط سے لگ بھگ چار سو کلومیٹر دور واقع راس الحد کے ساحل پر سمندری کچھوؤں کی سرگرمیوں کے مشاہدے کے لیے لے جایا گیا۔ پانچ گھنٹے کا یہ سفر دو کوسٹروں کی مدد سے الشرقیہ ہائی وے نمبر23کے ذریعے طے ہوا۔ اس دوران مسقط کے جدید طرزِ تعمیر سے قطع نظر عمّان کے مضافاتی اور دور دراز کے علاقوں پر بھی طائرانہ نظر ڈالنے کا موقع ملا۔ مارچ کا خوشگوار موسم اور شاندار شاہراہ پر سفر کے دوران تھکاوٹ کا بالکل احساس نہیں ہوا اور ہمارا قافلہ صور قصبے کے درمیان سے گزرتاہوا غروبِ آفتاب تک راس الحد کے ساحل پر پہنچ گیا، جہاں راس الجِنز کے وائلڈ لائف سینٹر پر عشائیہ کا اہتمام تھا۔ طعام سے فراغت کے بعد مہمانوں کو سمندری کچھوؤںکے انڈے دینے کے عمل کے مشاہدے کے لیے قریبی ریتیلے ساحل پر لے جایا گیا۔ یاد رہے کہ خلیجِ عمّان میں سبز کچھوؤں کی بہتات ہے ۔ راس الحد نامی 50کلومیٹر طویل شمال مشرقی ساحل کے اس حصے کو1996ء میں کچھوؤں کی جائے امان کے طور پر 'محفوظ علاقہ' قرار دیا گیا تھا۔ اس ریتیلے ساحل کو سمندری کچھوے بالخصوص سبز کچھوے انڈے دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسی ساحل کے ایک حصے 'راس الجِنز' کو سیاحتی سرگرمیوں کے لیے وقف کیا گیا ہے۔ یہاں لوگ اکثر چاندنی راتوں میں کچھوؤں کے نظارے کے لیے رُخ کرتے ہیں، تاہم اس کے لیے متعلقہ وزارت کا اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہے۔ ہمیں ساحلی پٹی پر اپنے چار گھنٹوں کے قیام کے دوران دو مادہ سبز کچھوؤں کو انڈے دیتے ہوئے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ نظارہ دلچسپ تھا۔ سب سے پہلے مادہ ساحلی لہروں کے دوش پر نمودار ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے اس نے ریتیلے ساحل پر مناسب جگہ کا انتخاب کیا۔ بعد ازاں کچھ توقف کے بعد اپنے چپّو نما بازؤں سے ریت کو ہٹاتے ہوئے گڑھا کھودنا شروع کیا اور پھر اس بڑے گھڑے میں ایک چھوٹا گڑھا کھودا۔ اس گڑھے کی مکمل گہرائی کم و بیش ایک میٹر تک تھی۔اس سارے عمل کا مشاہدہ مندوبین نہایت خاموشی سے کرتے رہے۔، تاہم جب انڈے دینے کا عمل شروع ہوا تو منتظمین نے ہمیں مادہ کچھوے کے قریب اکھٹا کرکے تفصیلات سے آگاہ کرنا شروع کیا۔ اس دوران ہم انڈوں کے چھوٹے گڑھے میں گرتے رہنے کا مشاہدہ کرتے رہے۔ اس دوران مادہ کے بازو پر ٹیگ لگایا گیا اور اس کے انڈوں کی گنتی اور پیمائش بھی کی گئی۔ اس مادہ نے اسّی انڈے دیے تھے۔ یاد رہے کہ انڈے دینے کے دوران وہ دنیا و مافیہا سے بالکل بے خبر ہوجاتی ہے اور اسے ارد گرد کا کوئی ہوش نہیں رہتا۔ یہ پورا عمل لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے پر مشتمل تھا۔ ابھی ہم انہماک سے یہ عمل دیکھ رہے تھے کہ مقامی عملے کے ایک رُکن نے بلند عربی آواز میں ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ ہم سب تیز قدموں سے اس کی جانب چل دیے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ ریت سے ننھے ننھے کچھوے نمودار ہورہے ہیں اور جانبِ ساحل بڑھنے کے لیے بے تاب ہیں، مگر وہاں سیگلSeagul ( شکاری پرندوں کی ایک قسم) کی موجودگی کے سبب شرکا نے ان بچوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر مقامی محافظوں کے حوالے کردیا، تاکہ انہیں شکاری پرندوں کی خوراک بننے سے محفوظ بنایا جاسکے۔ تھوڑی ہی دیر بعد آنکھوں کے سامنے ایک اور منظر تھا۔ کچھ دیر پہلے انڈوں سے فراغت پا کر لوٹنے والی مادہ کچھوا کے گڑھے پر لومڑیوں کے ایک غول نے دھاوا بول دیا اوراپنے تیز پنجوں سے کھدائی شروع کردی، تاکہ انڈوںکو اپنی خوراک بناسکیں، تاہم بہت سارے لوگوں کے آجانے کے سبب انہیں اپنی کوشش میں ناکامی کا منہ دیکھتے ہوئے واپس دوڑنا پڑا۔ ایک وقت میں سو کے لگ بھگ انڈے دینے کے سبب عمومی تاثر ہے کہ سمندری کچھوؤں کی افزائشِ نسل کا سلسلہ بڑا وسیع ہے، لیکن حقیقت یہ نہیں۔ تمام تر سازگار ماحول کے باوجود ایک برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے بہت کم کچھوے زندہ رہ پاتے ہیں، کیونکہ اکثر خشکی سے پانی تک کے مختصر سفر میں انہیں کیکڑے، لومڑیاں، آوارہ کتے اور شکاری پرندے اپنی خوراک بناڈالتے ہیں اور سمندر میں پہنچ بھی جائیں تو بڑی مچھلیاں انہیں کھالیتی ہیں۔ صرف یہی نہیں، بحری آلودگی، جہاز رانی، ساحلوں پر غیر معمولی انسانی رخنہ اندازیاں، ماہی گیری کے نِت نئے انداز، سمندر میں تیل و گیس کی تلاش اور بہت سے ممالک میں بطور خوراک سمندری کچھوؤں کے استعمال نے ان بے چاروں کی بقا کی راہ میں مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کی بقا کو لاحق خطرات سے دوچار حیاتیاتی تنوع کی 'سرخ فہرست' کے مطابق سمندری کچھوؤں کی سات میں سے چھ اقسام کا شمار خطرات میں گھری ہوئی انواع میں ہوتا ہے۔ اسی بنا پران ساتوں اقسام کو مصیبت زدہ قرار دیتے ہوئے انہیں اُن ممنوعہ جانوروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن کا مخدوش حیاتیاتی تنوع و نباتات کی بین الاقوامی تجارت سے متعلق میثاقCITIES کے تحت تجارتی مقاصد کے لیے استعمال پر پابندی عائد ہے۔ اندازہ ہے کہ نو زائیدہ کچھوؤں میں سے صرف ایک فیصد ہی زندہ رہ کر بلوغت کی عمر تک پہنچ پاتے ہیں۔ دوسری جانب مادہ تیس سے چالیس برس کی عمر تک پہنچنے کے بعد انڈے دینے کے قابل ہوتی ہے، لہٰذا بہ آسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کہ ڈائنو سار عہد سے جڑی اس حیاتیاتی نوع کو بقا کے لیے کس قدر مشکلات کا سامنا ہے۔مسائل میں گھرے سمندری کچھوؤں کے مستقبل کے وسوسوں میں گھرا ہمارا قافلہ دوسرے روز راس الحد سے کوچ کر کے شام ڈھلے واپس مسقط پہنچا، جہاں ایک بار پھر یاد دہانی کرائی گئی کہ سمندری کچھوؤں کی بقا کے لیے درست منصوبہ بندی اور مشترکہ جدو جہد کے ساتھ ہمیں فطری نظام میں برھتی ہوئی انسانی مداخلت کو روک کرآفاقی نظام میں بندھے کائنات کے تار و پود کو بکھرنے سے بچانا ہوگا۔ اگلی صبح مسقط کے صیب انٹرنیشنل ائرپورٹ سے واپسی کا سفر شروع ہوا اور ہم سمندری کچھوؤں سے دوڑ میں پیچھے رہتے ہوئے واپس پاکستان لوٹ آئے۔ ہوسکتا ہے کہ کبھی وہ مادہ کچھوا بہ حفاظت زندہ رہ کر کراچی کے ساحل پر مل جائے جسے ہم نے بازو پر شناختی نشان کا ٹیگ لگایا تھا۔ امید انسان کو زندہ رکھتی ہے اوراس پر دنیا قائم ہے۔
|
||||||
|
||||||
عبدالمناف قائم خانی وفاقی وزارتِ ماحولیات، اسلام آباد میں بطور ڈپٹی ِانسپکٹر جنرل فاریسٹ، خدمات انجام دے رہے ہیں - زیرِ نظر تحرير دورہ عمان کے حوالے سے ان کے مشاہدات و تاثرات پر مبنی ہے |
||||||
|
|
||||||