پاکستان میں دوہزار سے زائد ادویاتی پودے پاۓ جاتے ہیں، لیکن عدم توجہی نے لامحدود فوائد کے حامل ان نباتات کا مستقبل خطرات سے دوچار کردیا ہے

 

تحرير: محمد ذیشان حیدر تصوير: جمشيد مسعود
 

قدرت نے زمین پر جن نباتات کو پیدا کیا ہے، ان کے فوائد لامحدود اور استعمال بے پناہ ہے ۔ یہ فوائد صرف انسانوں کے لیے ہی مخصوص نہیںبلکہ جانور بھی ان ادویاتی خصوصیت رکھنے والے نباتات کے ذریعے اپنے امراض سے چھٹکارا پانے کا راز جانتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میںغیر نامیاتی مرکبات سے تیار شدہ مغرب کی جدید ادویات کے استعمال کا چلن اتنا زور پکڑ چکا ہے کہ قدرتی نباتات بے توقیری کا شکار ہونے لگے ہیں۔اس کے برعکس مغرب کے جدید معاشرے میں ایک بار پھر قدرتی نباتات سے علاج اور ان کے اجزا سے تیار کردہ آرائشی مصنوعات وغیرہ کا تجارتی استعمال بڑھتا جارہاہے۔

جڑی بوٹیاں لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار بھی مہیا کرتی ہیں

پاکستان کی اکثریت ملک کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے ۔ علاج و معالجہ کی سہولتوں تک بہ آسانی رسائی میں حائل مشکلات اور کمزور معاشی حالات کے سبب ان باشندوںکی اکثریت اب بھی امراض سے شفا یابی کے لیے قدیم یونانی طریقئہ علاج کے معالجین سے رجوع کرتی ہے اور قدرتی نباتات کے استعمال سے شفا پاتی ہے، لیکن ملک کی بڑی آبادی اسے دقیانوسی خیال کرتی ہے، جو کہ سراسر غلط ہے۔ پیلو، نیم، پھوگ، رتن جوگ، بریان، بکائن، کہو، جنگلی پودینہ، ملیٹھی، سمبلو، گلاب، جنگلی پیاز، چونگا، اسپغول، ایفیڈرا، موہری، نیر، اجوائنِ خراسانی، چورہ، گلِ بنفشہ، گاؤ زبان، ریٹھا، نیلا دھاری، پنجا، زخم حیات وغیرہ وہ چندجڑی بوٹیاں اور ادویاتی پودے ہیںجو صدیوں سے مشرق میں نہ صرف شفا یابی کا ذریعہ ہیں بلکہ ان کے خواص کو مغرب کی جدید طب نے بھی تسلیم کیا ہے اور تجارتی بنیادوں پر ان کے اجزا کا ادویات میںاستعمال عام ہے۔

پاکستان کے مقامی ادویاتی پودوں کے حوالے سے حال ہی میں ایک تازہ ترین تحقیق سامنے آئی ہے، جسے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے سربراہ اور ایچ ای جے ریسرچ انسٹیٹیوٹ برائے کیمیا، کراچی کے ڈائریکٹر و ممتاز سائنسدان ڈاکٹر عطا الرحمان کی سربراہی میں مکمل کیا گیا ہے۔ تحقیق میں شامل دیگر ارکان میں قائم مقام سربراہ عالمی مرکز برائے کیمیائی سائنس، جامعہ کراچی ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری اورعبدالقیوم شامل تھے۔ تحقیق کا موضوع ملک میں پائے جانے والے ادویاتی پودوں کی تجارت، برآمد اور روایتی طریقئہ علاج میں ان کی اہمیت تھا۔

تحقیق کا کہنا ہے : ''ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملک کے دیہی علاقوں کی اسّی فیصد کے لگ بھگ آبادی صحت کے بنیادی مسائل سے نمٹنے کے لیے روایتی طریقئہ علاج پر انحصار کرتی ہے، جس میں شفا یابی کے لیے ادویاتی پودوں اور جڑی بوٹیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق پاکستان میںادویاتی پودوں کی دو ہزار سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں سے سے چار سو کے لگ بھگ وہ ادویاتی پودے ہیں کہ جن کا روایتی طب میں استعمال نہایت عام ہے۔ تجارتی بنیادوں پر استعمال کیے جانے والے ان ادویاتی پودوں میں سے زیادہ تر پاکستان کے شمال میں واقع بُلند و بالاالپائن پہاڑی سلسلوں کے دامن،گھنے جنگلات ، نیم مرطوب ڈھلوان دار پہاڑی جنگلوں کے علاوہ نیم خشک میدانی علاقوں کی جھاڑی دار زمین پر پائے جاتے ہیں، لیکن ان کی باقاعدہ اور محفوظ افزائش و پیداوار کے نظام کی عدم موجودگی، استعمال کے لیے زمین سے علیحدہ کرنے کے غیر دانشمندانہ طریقے، چراگاہوں کے طور پر زمین کے بے دریغ استعمال اور قدرتی ماحول میںبڑھتی ہوئی انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ان کا تیزی سے خاتمہ ہورہا ہے۔''

ملک میں ادویاتی پودوں کی پیداوار اور معاشی نکتئہ نظر سے ان پر انحصار کیے جانے کے حوالے سے بھی دلچسپ انکشافات تحقیق میں شامل ہیں۔ تحقیق کا کہنا ہے ''ادویاتی پودوں کی پیداوارکے حوالے سے ملک میں سب سے اہم مقام ہزارہ اور مالاکنڈ کو حاصل ہے، جہاں سے جڑی بوٹیوں کی سالانہ500ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ اس کے بعد آزاد جموں و کشمیر ہے ، جہاں سے حاصل ہونے والی جڑی بوٹیوںکی کُل سالانہ مقدار38ٹن ہے۔ شمالی علاقہ جات سے24اور مری کے پہاڑی سلسلے سے لگ بھگ16 ٹن جڑی بوٹیاں اور نباتات حاصل ہوتے ہیں۔''

نباتاتی ادویات کی پیداواراور ان کے حصول کے حوالے سے ملک کے جن علاقوںکا ذکر کیا گیا ہے، وہاں کے مقامی لوگوں کی معیشت زیادہ ترقدرتی وسائل پر ہی انحصار کرتی ہے، اس لیے جڑی بوٹیوں کا اکھٹا کرنا ان کے لیے معاشی طور بھی مددگار ہے، تاہم ایک حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ بالعموم سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والے روایتی علم کے ذریعے ہی جڑی بوٹیوں میں امتیاز کرپاتے ہیں، لیکن ان ادویاتی پودوں کو ان لوگوں سے بھی خطرہ رہتا ہے جو بطورِ چارہ استعمال ہونے والے عام پودوں اور ادویاتی نباتات میں امتیاز نہیں کر پاتے، نتیجے میں یہ قیمتی پودے مویشیوں کی خوراک بن جاتے ہیں یا پھر پاؤں تلے آکر کچلے جاتے ہیں۔ اس صورتِ حال سے ایک طرف تو اُن لوگوں کا معاشی استحصال ہوتا ہے، جن کا ذریعہ معاش ہی یہ ہے تو دوسری جانب ملک کے قیمتی قدرتی وسیلے کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ'' اس وقت ملک کے نیم خشک خطوں سمیت صوبہ سرحد اور ملک کے شمالی علاقوں میں لگ بھگ پانچ ہزار سے زائد غریب خاندان جڑی بوٹیاں اکھٹا کرنے کے کام سے وابستہ ہیں، تاہم ان کی اکثریت صوبہ سرحد، شمالی علاقہ جات اور آزاد جموں و کشمیر کی وادیوں سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کا یہ کام موسمِ گرماکے مہینوں میں شروع ہوتا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس وقت متعدد ادویاتی پودوں اور نباتات کو اپنے مسکنوں کی تباہی اور ان میں بڑھتی ہوئی غیردانشمندانہ انسانی سرگرمیوں کے سبب بقا کے خطرات لاحق ہیں۔''

پاکستان کے شہری علاقوں میں اگرچہ ایلو پیتھک ادویات کا استعمال نہایت بے دریغ اور عام ہے، لیکن غربت زدہ دیہی علاقوں کے باشندوں کی اکثریت کا شفا کے لیے روایتی دیسی طب پر انحصار کے سبب اس وقت پاکستان میں27 بڑی دوا ساز کمپنیاں کام کررہی ہیںجو ادویاتی پودوں اور جڑی بوٹیوں کے اجزا سے صدیوں پرانے دیسی نسخوں پر مشتمل دوائیںتجارتی بنیادوں پر تیار کررہی ہیں۔ علاوہ ازیںچار سو کے لگ بھگ کمپنیاں غیر منظم شعبے میں دیسی ادویات سازی سے وابستہ ہیں۔ تحقیق نے دوا سازی کے شعبے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملکی اور کثیرالقومی دوا ساز کمپنیوں میں جڑی بوٹیوں اور نباتاتی پودوں کا استعمال کیا جارہا ہے اور ان کے یہاںمقامی ادویاتی پودوں اور جڑی بوٹیوںکی سالانہ طلب 20 ہزار ٹن سے زائد ہے۔ تحقیق میں اس حوالے سے نہایت حیران کن اعدا و شمار بھی دیے گئے ہیں، جن کے مطابق1989ء سے1990ء کے درمیانی عرصے میں14ہزار ٹن نباتاتی ادویاتی اجزا پاکستان میںکام کرنے والی اِن دواساز کمپنیوں نے درآمد کیے جبکہ اسی مدت کے دوران ملک سے106ٹن نباتاتی ادویاتی اجزا مختلف ملکوں کو بررآمد کیے گئے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں پائے جانے والے ادویاتی اور ایسے پودے جن کا استعمال خوشبو اور آرائشی اشیا کی تیاری میں بھی کیا جاتا ہے ،ملک اور بیرونِ ملک بڑی تجارتی منڈی رکھتے ہیں۔ایک تخمینے کے مطابق2001ء کے دوران ملک میںادویاتی اہمیت کے حامل قدرتی نباتات کی سالانہ تجارت کا حجم90ملین امریکی ڈالر تھا اور اب یہ حجم بڑھ 130ملین امریکی ڈالر سے زائد ہوچکا ہے۔ طلب کے اس رجحان میں گزشتہ ایک عشرے کے دوران قابلِ توجہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔پاکستان نہ صرف بیرونِ ملک قدرتی ادویاتی اجزا کو درآمد کرتا ہے بلکہ چین، بھارت، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ایران اور افغانستان سے ان کی درآمد بھی کی جاتی ہے۔

تحقیق میں ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں برآمد کیے جانے والے ادویاتی پودں اور نباتات کے اجزا کی اقسام میں لگ بھگ 60فیصد ایسی اقسام شامل ہیںجو ملک کے شمالی علاقوں میں پائی جاتی ہیں ، لیکن بدقسمتی سے ہم ان کی درآمد پر ہر سال لاکھوں ڈالر کا قیمتی زرِ مبادلہ خرچ کرڈالتے ہیں۔ اس کے برعکس اس اہم ملکی قدرتی وسیلے سے پائیدار استفادے کے لیے منظم کوششوں کو مستقل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اگر ملک میں پائے جانے والے اس اہم قدرتی وسیلے سے منظم انداز میں تجارتی فوائد کے استعمال کی منصوبہ بندی کرکے عمل کیا جائے تو نہ صرف قیمتی زرِ مبادلہ بچ سکتا ہے ، بلکہ شمالی پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد باشندوں کو بھی اس سے معاشی فوائد حاصل ہوں گے، ساتھ ہی غربت کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی، نیزاُن علاقوں میں معاشی وسائل کی فراہمی کے ذریعے یہاں سے اندرونِ ملک گنجان آباد شہروں کی جانب بڑھتے ہوئے نقل مکانی کے رجحانات پر بھی قابوپانے میں مدد مل سکتی ہے۔

آخر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق نہ صرف اس جانب نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کے قیمتی قدرتی وسیلے کو تیزی سے ضائع کیا جارہا ہے بلکہ وقت کی اس اہم ترین ضرورت کی جانب بھی ہماری توجہ مبذول کرواتی ہے کہ وہ ادویاتی پودے جن کے بارے میں ہمارا روایتی علم اور جدید سائنسی معلومات موجود ہیں ، ان کی بقا کے لیے جدید خطوط پر استوار منظم اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی اس بات کی بھی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ جڑی بوٹیوں اور نباتاتی ادویات کے میدان میں تحقیق کے جدید مراکز قائم کیے جائیں، ان کی باقاعدہ کاشت کو فروغ دیا جائے تاکہ قدرت کے عطا کردہ اس اہم وسیلے سے بھرپور و پائیدار اٹھایا جاسکے۔ نیزان کے دانشمندانہ استعمال کے ذریعے وہ فوائد حاصل کیے جاسکیں جن کے ذریعے اگرایک طرف مقامی لوگوں کو معاشی فوائد حاصل ہوں تو دوسری جانب ہزاروں میل دور بیٹھے لوگ ان کے استعمال سے امراض سے شفا حاصل کرسکیں ۔

روایتی طریقئہ علاج میں جڑی بوٹیوں اور نباتات کے استعمال کا چلن صدیوں سے موجودہے، لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ دنیا نے اس سے منہ موڑنا شروع کردیا، مگر ایک بار پھر جدید دنیا کو اس قدیم طریقئہ علاج کو تسلیم کرنا ہی پڑاہے۔ادویاتی پودے اپنی اثر پذیری کے سبب مختلف امراض میں شفایابی کا زبردست سرچشمہ سمجھے جاتے ہیں۔ سرطان، یرقان، فالج اور دیگر مہلک بیماریوں کے لیے ان کے اجزا آج سائنسدانوں کی تحقیق کا موضوع ہیں ، جبکہ آرائشی اشیا کی تیاری میں بھی ان کا استعمال تیز تر ہوگیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی مانگ میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ تیز رفتار دنیا میں اگرآج ہم نے اپنے اس قدرتی وسیلے کا تحفظ نہ کیا تو پھر مستقبل میں کفِ افسوس ملنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

 

 

 

محمد ذیشان حیدر شعبۂ طب سے وابستہ ہیں