یہ تو بات ہے آزاد کشمیر کے شہری علاقوں کی لیکن دیہی علاقوں میں بکھری ہوئی آبادی کیسے گھروں کو تعمیرکرے گی؟ ڈاکٹر آصف جواب دیتے ہیں '' ایرا نے آزاد کشمیر میں بھی تباہ شدہ مکانات کی دوبارہ تعمیر کے لیے رہنما خطوط guidelines جاری کردی ہیں، جن پر تیار عمارتیں زلزلے سے بڑی حد تک مدافعتی قوت رکھتی ہیں۔ یقینااب تعمیرات انہی خطوط پر ہوں گی۔''

راولا کوٹ کے رہائشی محمد اکرام ڈاکٹر آصف کے دلائل سے اتفاق کرتے ہیں، لیکن رہنما خطوط پر تعمیرات اور اب تک25اور75ہزار روپے کی اقساط اور مزید ملنے والی 75ہزار روپے کی رقم کو ایرا کے نقشے کے مطابق گھر کی دوبارہ تعمیر کے لیے ناکافی قرار دیتے ہیں۔ اُن کے نزدیک اس کی وجہ زلزلے کے بعد تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں سو گنا سے بھی زائد ہونے والا اضافہ ہے۔وہ مثال دیتے ہیں:

''زلزلے سے قبل ایک جستی چادر کی قیمت سات سو روپے تھی، جو کہ اب سولہ سو روپے میں فروخت ہورہی ہے۔ یہی نہیں، سیمنٹ بھی مہنگا ہوچکا ہے ۔ اب ایک تو رقم ناکافی اوپر سے مہنگائی، دوسرے رہنما خطوط پر تعمیرات کی شرط، تیسرے تعمیر کے لیے اجازت میںتاخیر اور اس پر اُفتاد یہ کہ سردیوں میں صرف چند ماہ باقی ہیں، اگر ہم از خود گھر بنالیں تو اس کا مستقبل کیا ہوگا۔ ایرا نے تو ایسی تعمیرات کوغیرقانونی قرار دے دیاہے۔ اب اگر بنا بنایا گیاگھر ڈھایا گیا تو یہ مرے پر سو دُرّے والی بات ہوگی۔ ہمیں کچھ نہیں پتا کل کیا ہوگا۔ بس رہ رہے ہیں ٹوٹے آشیانوں میں۔''

لیکن کیا اکرام کو درپیش مسئلہ ہی وہ واحد مسئلہ ہے جو متاثرین کو تعمیرات کے ضمن میںدرپیش ہے۔ یہ سوال جب صوبہ سرحد میں زلزلے سے شدید متاثر ہ ضلع مانسہرہ میں سرگرم غیر سرکاری تنظیم 'حاشر' کے سربراہ صدیق اکبر سے کیا تو بات امدادی رقم، تعمیرات ، بحالی اور قدرتی ماحول تک طول پکڑ گئی۔ وہ کہتے ہیں!

''صوبہ سرحد ہو یا آزاد کشمیر، سب سے پہلے تو یہ سمجھیں کہ مشترکہ خاندانی نظام یہاں نہایت مضبوط ہے۔ اسی لیے چولہے چاہے علیحدہ علیحدہ ہوں، رہائش کے لیے ایک دو کمروں پر مشتمل رہائشی یونٹ الگ ہوں، مگر چاردیواری ایک ہی ہوتی ہے۔ اب جب ایرا نے معاوضے کی ادائیگی شروع کی تو سروے میں' ایک چار دیواری، ایک رہائشی یونٹ' کا اصول رکھا۔ یہی سب سے پہلا مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پرایک گھر میں چار بھائی رہتے ہیں۔ چاروں اپنے اپنے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ سب نے چار دیواری میں اپنے اپنے رہائشی یونٹ خود تعمیر کیے تھے، لیکن اب معاوضہ ملے گا تو ایک بھائی کو۔ بقایا کیا کریں گے؟ اب رقم کم اور کمرے زیادہ۔ کیا کُل ایک لاکھ75ہزار میں ایک قطعہ اراضی پر اور ایک چار دیواری میں مقیم چار بھائی اپنے اپنے رہائشی یونٹ تعمیر کرلیں گے؟ بحالی کی جانب دیکھیں تو صوبہ سرحد میں مالک مزارع تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ایک کاشتکار جو گزشتہ تیس چالیس سالوں سے کسی کی زمین پر مزارع تھا اور اس کا پورا خاندان نہ صرف یہاں کام کرتا تھا بلکہ اس کا گھر بھی یہیں پر تھا۔ گھر گرا تو شرط عائد کی گئی کہ مزارع زمیندار کا این او سی پیش کرے تومعاوضہ ملے گا، مگر زمیندار اس لیے یہ تصدیق نامہ نہیں دے رہا کہ وہ رقم کا چیک بھی خود لینا چاہتا ہے اور کاشتکار کو بیدخل کرنے کا بھی خواہشمند ہے، کیونکہ مزارع پہلے زمین کو چھوڑنے کے لیے اس لیے تیار نہ ہوتا تھا کہ وہ کئی دہائیوں سے اس زمین پر اناج اگارہا ہے، مگر زلزلے نے زمیندار کو یہ سنہرا موقع دے دیا کہ وہ مزارع سے بھی جان چھڑائے اور رقم بھی حاصل کرلے۔ اب غریب مزارع کے پاس نہ تو زمین کے کاغذات ہیں اور نہ ہی گھر کے انہدام کا تصدیق نامہ تو وہ کس چیز پر دعویٰ کرے، اس لیے روزگار سے بھی ہاتھ دھوئے اور مکان سے بھی۔ اب در بدری اس کا مقدر ہے۔ اس مسئلے کی شدت دیکھنا ہو تو کاغان،وادیِ سرن،کونش یا پھر بٹگرام چلے جائیں،سیکڑوں مثالیں مل جائیں گی۔ تعمیرِ نو کے لیے منہدم مکانات کی لکڑیاں استعمال کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے تجزیے کے مطابق لگ بھگ40فیصد لکڑی گلی ہوئی اور ناقابلِ استعمال ہے۔ پچاس فیصد کے قریب لوگوں نے سردیوں میں جلا ڈالی یا عارضی ٹھکانوں میں کام آگئیں۔ اب دس فیصد کے قریب ایسی عمارتی لکڑی ہے جسے لوگ دوبارہ استعمال کرسکتے ہیں۔تعمیرِ نو میں مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری ڈپو سے عمارتی لکڑی کا حصول بہت مشکل ہے،اوپر سے مہنگائی۔ اس لیے خطرہ ہے کہ اگر حکومت نے متبادل تعمیراتی سامان کی بہ آسانی فراہمی کا بندوبست نہ کیا تو مقامی جنگلات پر بہت ہی بُرا اثر پڑے گا۔ اگرچہ ہم نے اور دوسرے اداروں نے سردیوں میں متاثرہ لوگوں کو بڑی تعداد میںکفایتی چولہے فراہم کرکے جنگلات پر دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن تعمیرات کے دوران اگر انہیں بے آسراچھوڑدیا تو پھر جنگلات ہی کٹیں گے۔''صدیق اکبر کا خیال ہے ''مقامی جنگلا ت کو بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ حکومت عمارتی لکڑی درآمد کرکے متاثرین کو قیمتاً فراہم کرے۔ عالمی منڈی میں عمارتی لکڑی پاکستان کے مقابلے میں سستی ہے اور اس کی درآمد پاکستانی لکڑی کے مقابلے میںسستی پڑے گی اور اس طرح ہمارے جنگل بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔''

ماریہ ایبٹ آباد کی رہائشی ہیں اور صوبہ سرحد میں زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے سرگرم ایک غیرملکی ادارے سے وابستہ ہیں۔ بحالی کے منصوبوں میں وہ خواتین کے حوالے سے تحفظات رکھتی ہیں۔ کہتی ہیں''سرحد کے سخت روایت پسند معاشرے میں دیہی خواتین نہ توزیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور نہ ہی ان میں ایسی ہنر مندانہ استعداد موجود ہے جو ان کی معاشی کفالت میں مددگار ہو۔ دیہی علاقوں میں ایسی ہزاروں خواتین ہیں، جن کے شوہر، بھائی ، باپ وغیرہ زلزلے میںچل بسے اور اب یہ خواتین باقیماندہ لوگوں کی کفیل ہیں۔ روایت پسند معاشرے ،تعلیم کے نہ ہونے اور پھر محرم اور نا محرم کے مسئلے میں رہتے ہوئے انہیں کس طرح اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے۔ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے، جس میں صرف ایرا نہیں بلکہ خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے قائم وفاقی وزارت اور خواتین کے لیے سرگرم این جی اوز کو مل کر مقامی لوگوں کے لیے قابلِ قبول منصوبہ تیار کرکے عمل کرنا ہوگا۔ اس کام کے لیے بھی بہت وقت باقی نہیں بچا۔ جو کرنا ہے، وہ بہت جلد کرنا ہے۔''