|
|
ماحول، معاش اور حیات کا گہرا ربط ہے، اسے نظرانداز کرکے زلزلہ زدہ علاقوں کی تعمیرِنو اور بحالی کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے ہیں- تحريروتصاوير: مختار آزاد |
||||||||||
|
محمد گل بٹگرام کے باشندے ہیں۔ پشاور میں ایم ایس سی کرنے کے بعد اب ایبٹ آباد میں ملازمت کرتے ہیں۔ اپنے عزیز و ا قارب کو زلزلے میں بری طرح متاثر ہوتا دیکھ چکے ہیں، اس لیے بحالی ا ور تعمیرِ نو کے مراحل پر ناقدانہ نظریں رکھتے ہیں۔کہتے ہیں''گھر کب آباد ہوں گے، زندگی پھر کیسے رواں دواں ہوگی،بقائے قدرتی وسائل اور تحفظِ قدرتی ماحول کے امتزاج سے جنم لینے والی خوشحالی کس طرح ان لوگوں کے دروازوں پر دستک دے گی، زلزلے کی تباہ کاریوں میں انحطاط پذیر ماحول کی اہمیت کو تو اب ہم مان رہے ہیں لیکن ماضی کی غفلتوں کا ازالہ کیسے ہو گا ، ناگہانی قدرتی آفات کی تباہ کاریوں کو تیز تر کرنے والے انسانی عوامل پر قابو پانے میں مددگار منصوبہ بندی کس شکل میں ہوگی ؟ پالیسی سازہوں یا عوام یا پھر غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندے یا سرکاری اہلکار۔۔۔ سب کے سامنے سوال در سوال ہیں اور جوابوں پر بھی سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں ۔''
8اکتوبر2005ء
سے31مارچ 2006ء کا دورانیہ زلزلے سے بری طرح متاثرہ صوبہ سرحد اور کشمیر
کے لگ بھگ نو اضلاع کے باسیوں کی اکثریت کی زندگیوں کا وہ وقت ہے جو خیموں
میں گذرا ۔ خیال تھا کہ اس مہلت کے دوران انتظامی سطح پرابتدائی منصوبہ
بندی مکمل کرلی جائے گی اور اپریل سے ستمبر تک جاری رہنے والے موسم گرما
کے مہینوںمیں تعمیرِ نو و بحالی کا سلسلہ بھرپور قوت سے شروع ہوجائے گا،
لیکن محمد گل کی طرح ہرمتاثرہ فرد تعمیرِ نو اور بحالی کے کاموں میں تاخیر
پر تشویش کا اظہار کرتاہے۔ ''موسمِ گرما کی مہلت کے نصف ایام گزرچکے ،
مگر تعمیرِ نو میں تاخیر ہورہی ہے۔ ''بحالی اور تعمیرِنو کے اعلیٰ ترین
سرکاری ادارے ری ہیبلی ٹیشن اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی ( جسے مختصراً 'ایرا'
کہا جاتا ہے) کے چئیرمین الطاف سلیم سے سوال کیا، جواب تھا:
ڈاکٹر آصف حسین شاہ کا شمار حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کے تجربہ کار افسران میں ہوتا ہے۔ تعمیرِ نو اور بحالی کے مرحلے میں وہ سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات ہیں۔ تاخیر کی وجوہات تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں!
''آزاد کشمیر اور صوبہ سرحد میں بھی لوگوں کو25ہزار اور اس کے بعد75ہزار روپے کی دوسری قسط بھی 'ایرا 'نے ادا کرنا شروع کردی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ زلزلے کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ تعمیرات ایسی ہوں، جس میںقدرتی آفات و خطرات کاتدارک کیا گیا ہو۔ اس ضمن میں آزاد کشمیر کے بُری طرح متاثرہ اضلاع مظفرآباد، باغ اور راولا کوٹ کا ٹاؤن شپ ماسٹر پلان تیار کیا جارہا ہے۔ یہ تینوں ماسٹر پلان جون سے اگست تک کے درمیان تیار ہوجائیں گے، جس کے بعد تعمیرات کا مرحلہ آئے گا ۔ نجی شعبے کے لیے بلڈنگ کوڈ تیار کیے جارہے ہیں، جنہیں ٹاؤن شپ ماسٹر پلان میں شامل کیا جائے گا۔ اس منصوبہ بندی کے دو حصے ہیں۔ ایک میں زمین اور اس کا استعمال ، جبکہ دوسرے میں عمارت کا نقشہ اور تعمیراتی ڈھانچہ شامل کیا گیا ہے، تاکہ ان دونوں کی شمولیت سے زلزلے کے مقابلے میں مدافعتی قوت رکھنے والی موثر تعمیرات کو فروغ دیا جاسکے۔ '' |
|||||||||
|
||||||||||
|
|
||||||||||
|
||||||||||