![]() |
|
||||
ڈیرہ اسماعیل خان میں دریائےسندھ اور جھیلوں کےوسائلِ ماہی سےپائیدار استفادےکی کہانی، جو اب عمل کی مستحکم بنیادوں پر استوار ہے۔ |
||||
|
تحریر و تصاویر: مختار آزاد |
||||
|
||||
|
دلدار کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان میں دریائےسندھ کےکنارےآباد خانہ بدوش قبیلی’ کیہل‘ سےہی، جنہیںمقامی لوگ ’دریا کی اولاد‘ لقب سےبھی پکارتےہیں۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ رہی ہےکہ ان کا اوڑنا بچھونا دریائےسندھ اور اس کا کنارہ ہی ہے، لیکن آج دلدار کو شکوہ ہےکہ’ دریا بھی ہے، مچھلی بھی ہےلیکن صدیوں سے اس قدرتی وسیلےپر جو ہمارا روایتی حق تھا، وہ اب گزشتہ کئی عشروں سےنہیں رہا۔‘ ڈیرہ اسماعیل خان میں دلدار کیہل تنہا نہیں، سیکڑوں ایسےلوگ ہیں جن کےلیےدریا اور جھیلیں روزی روٹی کا صدیوں سےروایتی ذریعہ معاش رہی ہیں، لیکن نادانستگی یا دانستگی میں ان سے قدرتی وسائل سےاستفادےکاحق لے لیا گیا یا محدود کردیا گیااور دوسری جانب ان وسائل کو تجارتی بنیادوں پر حقِ مقاطع کےتحت غیر متعلقہ لوگوں کو دےدیا گیا۔ غیر دانشمندانہ استعمال نے قدرتی وسائلِ ماہی کو جوشدید نقصان پہنچایا اس کےبارےمیں مقامی افسر شفیع مروت کہتےہیں : ’ دریاا ور جھیلوں کےقدرتی وسائل کو مقاطع یا ٹھیکیداری نظام میں دیےجانےسے ان پر انحصار کرنےوالےروایتی ماہی گیروں کا معاش ختم ہوا اور وہ تنگدستی سےلڑتےلڑتےآخر کار بھیک مانگنےپر اتر آئے۔ ان میں کیہل سمیت متعدد چھوٹی چھوٹی ماہی گیر کمیونٹیز شامل ہیں، جن کی معاشی و سماجی پسماندگی کا بنیادی سبب یہی ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ کسی طرح انہیں دوبارہ دریا اور جھیلوں سےاستفادےکا حق مل جائےاور ان کی ایسی تربیت ہو کہ وہ پائیدار طرز معاش کےتحت قدرتی وسائل سےاستفادہ بھی کریں اور ان کا تحفظ بھی ۔ پی ایس این پروگرام کےتحت کیےجانےوالےاقدامات سےپسماندہ ماہی گیر کمیونٹی میں تبدیلی کی امید ہےاور یقین ہےکہ اس سےقدرتی وسائل کا تحفظ بھی ممکن ہوسکےگا اور غربت میں کمی بھی آئےگی۔‘ ڈیرہ اسماعیل خان دریائےسندھ کےکنارےواقع صوبہ سرحد کا اختتامی سرحدی ضلع ہے۔ یہاں دریائےسندھ کےعلاوہ متعدد چھوٹی بڑی جھیلیں واقع ہیں، تاہم محکمہ ماہی پروری، ڈیرہ اسماعیل خان کےکےایک افسر کےمطابق ’ان وسائل سےاستفادےکا حق بالعموم ٹھیکیداری نظام سےمشروط ہےاوربولی کےذریعےرقم کی ادائیگی کےبعد تجارتی بنیادوں پر ٹھیکیدار ماہی گیری کا مجاز ہوتاہےاور اس کےلیےماہی گیری کا کام ملازم ماہی گیر سرانجام دیتےہیں۔‘ مقامی باشندےگل کےمطابق ’ماہی گیر بھی پائیدار طور طریقوں سےواقف نہیں۔ اس لیےضرورت تھی کہ اس قدرتی وسیلےکو پائیدار استفادےسےمربوط کیا جائے۔ اس ضمن میں پی ایس این پی نےجو اہم کوششیں کی ہیں ، ان سےامید کی کرن جگمگائی ہے۔ آخرکو یہ دریا، یہ جھیلیں سب ہمارےاپنےلیےہی تو ہیں۔ پھر کیوں نہ ہم ان کی حفاظت کریں۔ ان کی حفاظت میں ہی ہماری اپنی بھی بھلائی پوشیدہ ہے۔ بات ہےذرا احساس جگانےکی۔‘
شمالی پاکستان کےلیے’پاکستان سپورٹ پروگرام فار ناردرن پاکستان‘ (پی ایس این پی) شروع ہوا تو اس کےتحت ’ دریائی وسائلِ ماہی کےپائیدار انتظام سےغربت میں کمی‘ کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ پی ایس این پی نےاس مقصد کےتحت غیر سرکاری مقامی تنظیمSERVE اور ضلعی حکومت ڈیرہ اسماعیل خان کی شراکت سےیہاں چھوٹےپیمانےپر اختراعی نوعیت کا نمائشی منصوبہ model project شروع کیا۔ اس منصوبےکا اہم مقصد ماہی گیری کےپائیدار انتظام کےذریعےدریا اور اس کےوسائلِ ماہی سےپسماندہ کمیونٹیز کی غربت اور معاشی پسماندگی میں کمی لاکر نہ صرف سماجی بہتری لانا بلکہ وسائل ماہی کےپائیدار انتظام کو مضبوط بنیادوں پر بھی استوار کرنا بھی ہے۔ یہ منصوبہ اگرچہ نمائشی نوعیت کا ہےلیکن اس کا بنیادی ڈھانچہ اس طرز پر استوار ہےکہ اسےکسی اور مقام پر بھی دُہرایا جاسکتا ہے۔ قدرتی وسیلہِ ماہی سےپائیدار استفادےکےذریعےمقامی باشندوں کی پسماندگی دور کرنےکےضمن میں شراکتی طریقئہ کار کےتحت جو لائحہ عمل اپنایا گیا، اس کےاہداف و مقاصد یہ تھے: - دریائی وسائل پر انحصار کرنےوالوں کی استعدادمیں اضافہ کیا جائےتاکہ پائیدار طریقوں پر ان کا معاش استوار ہوسکے۔
کہتےہیں کہ آ گاہی اقدامات کی جانب لےجاتی ہے۔ یہا ںبھی ایسا ہی ہوا۔ ضلعی حکومت ڈیرہ اسماعیل خان نے’ڈسٹرکٹ فش پروٹیکشن کمیٹی‘ قائم کی جس کا مقصد ماہی گیری کےشعبےکا جائزہ لےکر ایسی قابلِ عمل سفارشات تیار کرنا تھا جس کےتحت دریائی وسائل سےاستفادہ کو ماحول دوست بنایا جاسکے۔ مختلف مشاورتی اور فنی مراحل سےگذر کر کمیٹی نے اپنی سفاشات تیار کیں جن میں ایک تجویز یہ بھی شامل تھی کہ فشریز ایکٹ میں ترامیم لائی جائیں تاکہ مقامی باشندوں کو حقِ استفادہ مل سکےاور اس کےتحت وسائل کا تحفظ بھی ممکن ہوپائے۔ واضح رہےکہ سفارشات کو عملی شکل دینےکےلیےاس کا مسودہ بعد ازاں ضلع ناظم نےصوبہ سرحد کےوزیرِ اعلیٰ کو ارسال کیا ہے۔ پی ایس این پی کےتحت آگاہی کےساتھ سوچ کےعمل کو بھی تحریک دی گئی تاکہ وسائل کےپائیدار استفادےکےذریعےکمیونٹیز کی غربت اور پسماندگی میں کمی لائی جاسکے۔ اس سلسلےمیں کیہل، تھت تھل اور سندھی کمیونٹی پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ انہیں وسائلِ ماہی سےاستفادےکا حق دےکر ان کی آمدنی میں اضافےکےمواقع پیدا کیےجاسکیں اور اس طرح ان کی معاشی زندگی میں بہتری لائی جاسکے۔ یاد رہےکہ سندھ سےتعلق رکھنےوالےماہی گیروں کی بڑی تعداد ڈیرہ اسماعیل خان میں ماہی گیری کرتی ہے، جن کی اکثریت محدود اُجرت پر ٹھیکیدار کےلیےکام کرتی ہے۔اس طرح محدود آمدنی کےعلاوہ انہیں مزید کچھ نہیں حاصل ہوتا۔ اس ضمن میں آزمائشی بنیادوں پر نہایت محدود طورپرمقامی فیصلہ سازوں نےان کمیونٹیز کو دریا سےماہی گیری اور پکڑی گئی مچھلیوں کو تجارتی بنیاد پر فروخت کرنےکی اجازت دی ہے۔ نیز کیہل ماہی گیروں کےحقِ زمین کےتحفظ کےلیےناظم تھت تھل یونین کونسل نےکیس تیار کرکےضلع کےمتعلقہ آفس میں جمع کروادیا ہے۔ علاوہ ازیں پی ایس این پی کےتحت کمیونٹی کےمردوں بالخصوص خواتین کی متنوع انداز میں استعداد سازی بھی کی گئی ، تاکہ ان کےلیےآمدنی کےمزید مواقع پیدا ہوں۔ اس ضمن میں انہیں پائیدار طریقےسےمچھلی پکڑنے اور اس کی فروخت ، پولٹری فارمنگ، نرسری لگانی، کشیدہ کاری اور گلّہ بانی کی تربیت دی گئی تاکہ وہ اضافی آمدنی حاصل کر کےمعاشی بہتری کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔ غیر دانشمندانہ طریقوں سےکی جانےوالی ماہی گیری کی روک تھام اور مچھلیوں کی پرورش کےلیےموزوں ماحول کی فراہمی کےلیےڈیرہ اسماعیل خان میں واقع تھت تھل جھیل کےحوالےسےمقامی باشندوں پر مشتمل ”فش منیجمنٹ کمیٹی‘ بھی تشکیل دی گئی، جس میں متعلقہ کمیونٹیز کےنمائندےشامل ہیں۔ پی ایس این پی کےمنصوبےکا ہی یہ اعجاز ہےکہ صوبہ سرحد کےاس پسماندہ ضلع میں غربت میں کمی کےلیےقدرتی وسائل سےپائیدار استفادےکی سوچ اب مستحکم عمل کی بنیاد بن چکی ہے، نیز ماحول اور غربت میں کمی کےباہمی ربط نےمقامی باشندوں اور حکام کو قوانین میں ترامیم اور پالیسی سازی کےذریعےاس عمل کو تحفظ فراہم کرنےکی راہ پر گامزن کردیا ہے۔
|
||||
|
|
||||
| مختار آزاد ’جریدہ‘ کےمدیر ہیں۔ | ||||