Jareeda Banner

 

 

اگرچہ2001ءمیں مقامی حکومتوں کےقیام کےلیےجاری کیےگئےآرڈیننس میں اس بات کو قانونی شکل دےدی گئی ہےکہ ہر ضلع اپنےلیےمشاورتی عمل کےتحت پائیدار ترقی کا خاکہ تشکیل دےگا، تاہم دلچسپ بات یہ ہےکہ اس سےکہیں پہلی، چترال پاکستان کا وہ پہلا ضلع ہےجو آئی یو سی این کےتکنیکی تعاون اورترقی و تعاون کےسوئس اداریSDCکی مالی اعانت سےاپنےلیےپائیدار ترقی کا خاکہ تشکیل دےچکا تھا۔

پاکستان میں مشاورتی عمل کےذریعےضلعی سطح پر ترقیاتی خاکےکی تشکیل کا یہ منفرد نوعیت کا تجربہ تھا۔ مشاورتی عمل میں جہاں سیاسی، تکنیکی، عوامی اور روز مرہ جیسےمسائل زیرِ بحث لا کر نئی راہیں تلاش کرنےکی کوشش کی گئی، وہیں سینہ بہ سینہ منتقل ہونےوالےعلم، قدرتی وسائل کی بقا میں عام لوگوں کی دلچسپی اور آنےوالی نسلوں تک قدرتی ورثےکی منتقلی جیسےمعاملات بھی زیرِ بحث آئی۔
ضلعی ترقیاتی خاکوں کی تیاری کا بنیادی مرحلہ عوامی مشاور ت کےلیےاجلاس کا انعقاد ہوتا ہی۔ ذیل میںاس حوالےسےچترال میں منعقدہ متعدد مشاورتی عمل کےدوران سامنےآنےوالی دو کہانیاں قارئین کی دلچسپی کےلیےپیش کی جارہی ہیں۔ جن سےوہ اس مشاورتی عمل میں عام لوگوں کی دلچسپی، ترجیحات اور نکتئہ نظر کا اندازہ لگاسکتےہیں۔

پہلی کہانی: چترال میں ضلعی سطح پر پائیدار ترقی کی حکمتِ مرتب کرنےکےلیےعوامی مشاورت کا اجلاس دور دراز وادی کےایک گائوں میں منعقد ہورہا تھا ۔ رات کا وقت تھا۔ مقامی حکام سےساتھ بات چیت جاری تھی۔ علاقےکی پائیدار ترقی کےحوالےسے حکام کہتےتھےکہ سڑک پہلی تر جیح ہے۔ بجلی دوسری تر جیح ہےاور بےروز گاری کا خاتمہ تیسرےنمبر پر آتا ہی۔

دوسرےدن صبح دس بجےکےقریب گاؤں کےلوگ مقامی سکول میں جمع ہوئی۔ ان میں ہر عمر کےلوگ شامل تھے۔ مشاورت کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ سوال ان کےسامنےرکھا گیا کہ علاقےکی پائیدار ترقی کیلئےان کی تر جیحات کیا ہیں ؟ اس سوال کےجواب میں ستر سالہ بوڑھےشخص نےہاتھ اٹھا کر بولنےکی اجازت مانگی اور اجازت ملنےپر کہا اس ناخواندہ باشندے نے نہری پانی کو اپنی پہلی ترجیح بتاتےہوئےاس کی فراہمی کا مطابہ کیا۔ سوال کیا گیا دوسری ترجیح کیا ہے؟ ناخواندہ شہری نےکہا ” جنگلی جانوروں اورپرندوں کا تحفظ ، جنگلی جڑی بوٹیوں کاتحفظ۔‘ ‘ یہ حیرت انگیز رویہ تھا، لہٰذا اس سےاس بات کو دوسری ترجیح دینےکا سبب دریافت کیا گیا ؟ اس نےجواب دیا”باپ دادا نےجو زمین چھوڑی تھی اس میں مکانات بن گئے۔ آنےوالی نسلوں کےلئےنہروں کی ضرورت ہےکیونکہ ہمارےپاس پانی بھی ہے لیکن زمینیں بنجر اور بےکاشت ہیں۔ نہروں سےزیرِ کاشت رقبہ بڑھےگا اور ہماری بڑھتی ہوئی آبادی کو خوراک کےلیےکسی اور پر انحصار کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس لیےزیر کاشت رقبےمیں اضافہ ہماری پہلی ضرورت ہے۔“

‘ بوڑھےسےپھر پوچھا گیا ”لیکن جانور ، پرندےاورجڑی بوٹیاں کیو ں ضروری ہیں ؟“ اس نےٹہرےہوئےلہجےمیں جواب دیا !

” جانور وں اورپرندوں کی نسلیں ختم ہوتی جارہی ہیں۔ یہ ایک بار ختم ہوگئیں تو پھر جنم نہیں لیں گی۔ میں سولہ سال کا تھا، جب آج جہاں ہم موجود ہیں ‘ اس وادی میں تو بہت سےجانور اور پرندے عام نظر آتےتھی، لیکن آج ستر برس کی عمر میں وہ مجھےدکھائی نہیں دیتے۔ اسی طرح کئی ایسی جڑی بوٹیاں تھیں جو عام طور پر ملتی تھیں لیکن اب نظر نہیں آتیں ۔ اگر تمہارےبس میں ہو تو ان کو بچائو۔“ جب عوامی مشاورت کی دستاویز تیار ہو رہی تھی تو ایک پڑھےلکھےافسرنےسوال کیا” اس بوڑھےکو یہ باتیں کہا ں سےمعلوم ہوئیں ؟“ سوال دلچسپ تھا لیکن اس کےختم ہوتےہی ہمارےایک اور ساتھی نے جواب دیا!
” فطرت سی۔ فطرت سےبڑا استاد کوئی نہیں۔“

دوسری کہانی: ”یہ لوگ کیوں جمع ہو رہےہیں ؟“ بائیس سالہ چرواہےنےاپنےدوسرےساتھی چرواہےسےپوچھا ۔ ساتھی نےجواب دیا ”یہاں کوئی بڑا افسر آیا ہےاور لوگوں سےپوچھ رہا ہےکہ تم آنےوالےدور میںاپنےعلاقےمیں کس طرح کےترقیاتی کام دیکھنا چاہتےہو ؟“ پہلےچرواہےنےکہا ”ہمارےکہنےسےکیا ہوتا ہی۔“ دوسرےچرواہےنےجواب دیا۔ ”کہتےہیں کہ اگلا دورہمارا ہوگا اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں گے۔ ترقی ہماری مرضی سےہوگی ، ہماری ضروریات کےمطابق ہوگی اورہمار ےمشورےسےہوگی ۔“ پہلےچرواہےنےکہا میں اس جلسےمیں جانا چاہتا ہوں جہاں بڑا افسر یہ باتیں لوگوں سےپوچھ رہا ہی۔ ساتھی چرواہےنےجواب دیا ” ضرورجائو تمہارےآنےتک میں تمہارےریوڑ کی دیکھ بھال کرلوں گا“ ۔

عوامی مشاورت کاآغاز ہوا ۔ آنےوالوں نے لوگوں کےکےسامنےدو سوالات رکھے۔ پہلا سوال تھا ”تمہاری سب سےبڑی طاقت کیا ہے؟“ دوسرےسوال میں پوچھا گیا تھا ”تمہاری سب سےبڑی اور اہم ضرورتیں کیا ہے؟“

چرواہا بھی اس ہجوم میں موجود تھا لیکن اسےواپسی کی جلدی تھی۔ وہ اپنےریوڑ کےبارے میں فِکر مند تھا۔ اس لیےوہ تیزی سےکھڑا ہوا اور کہنےلگا
”ہماری سب سےبڑی طاقت ہمارےبھائی بہنوں کا ہُنر ہے۔ اور ہماری سب سےپہلی ضرورت ہماری قدیم ثقافت کا تحفظ ہے۔ جس سےہمیں اپنےباپ اور پھر ان کےباپ اور پھر اپنےتمام چلےجانےوالےبزرگوں کی یاد آتی ہی۔ اسی ثقافت کو دیکھ کر ہم سمجھتےہیں کہ ہمارےبزرگ کیسی زندگی گذارتےتھے۔ ہمیں ان کو بچانا ہےتاکہ آئندہ آنےوالےلوگ بھی ہمیں ہماری ثقافت کو دیکھ کر یاد رکھ سکیں۔“
مشاورتی عمل کےلیےآنےوالےافسر اور اس کےساتھیوں نےچرواہےکی بات سن کر کچھ دیر سوچا اور پھر ان میں سےسوال کرنےوالےافسر نےکہا!

”تم نےسڑک ، سکول اور ہسپتال کیو ں نہیں مانگا ؟“

چرواہےنےکہا ” سڑک ، سکول اور ہسپتال حکومت کےکام ہیں ۔ اپنی ثقافت کا تحفظ میرا کام ہےاور مجھےصرف اپنےکام کی بات کرنی ہے۔“ یہ کہہ کر اس نےچادر کاندھےپر ڈالی۔ پیشانی تک ہاتھ لےجا کر سلام کیا اور واپس چل دیا، اپنےریوڑ کی طرف!!

 

ڈاکٹرعنایت اﷲفیضی