Jareeda Banner

 

موسمیاتی تبدیلیوں سےایک ارب افراد کی بےگھری کا خطرہ، یورپ میں ممالیہ کی صورتِ حال اورایورسٹ کی صفائی تک۔۔۔تازہ ترین عالمی حقائق!

 

انتخاب: ناصر پنہور ترجمہ: ذیشان حیدر

 

ایک اًرب باشندوں کی بے گھری کا خطرہ  

’2050ء تک دنیا بھر کےتقریباً ایک ارب افراد موسمیاتی تبدیلیوں کےکےباعث بےگھر ہوسکتےہیں، جس سےعالمی نوعیت کےسنگین مسائل جنم لینےکا خدشہ ہے۔‘ یہ پیشگوئی’ کرسچین ایڈ‘ نامی تنظیم نےمئی2007ءمیں جاری کردہ ایک رپورٹ میں کی ہے۔ برطانیہ سےتعلق رکھنےوالی اس تنظیم کا قیام دوسری جنگِ عظیم کےبعد خیراتی ادارےکےطور پر عمل میں آیا تھا، جس کا مقصد جنگ کی تباہ کاریوں کےسبب بےگھر ہوجانےوالےلوگوں کی آباد کاری کرنا تھا۔ ادارےکا یہ کام اب بھی جاری ہے، جس میں مہاجرین کی آباد کاری بھی شامل ہے۔

Human Tide: The Real Migration Crises نامی کرسچین ایڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے:

’دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کےزیرِ اثر ہجرت کےسنگین مسائل جنم لینےلگےہیں۔ اگلےچوالیس برسوں کےدوران یہ صورتِ حال سنگین رُخ اختیار کرسکتی ہے۔ جس کےباعث خدشہ ہےکہ دنیا بھر میں ایک ارب افراد بےگھر ہوسکتےہیں۔ رپورٹ میں مزیدکہا گیاہےکہ’ اس سنگین انسانی بحران کا شکار زیادہ تر غریب اور پسماندہ ملکوں کےباشندےہوسکتےہیں۔ اس صورتِ حال میں غریب اور پسماندہ ممالک کی حکومتوں کےلیےیہ تشویش کی بات ہے۔‘ اس پس منظر میں کرسچین ایڈ نےدنیا کےامیر ترین ممالک سےدرخواست کی ہےکہ وہ فضا میں مہلک گیسوں کی مقدار کی شمولیت کو کم سےکم کرنےکےلیےموثر اقدامات کریں۔ نیز ایک سو ارب امریکی ڈالر سالانہ کی مالیت سےایسا ایک فنڈ قائم کریں جس سےموسمیاتی تبدیلیوں کےاثرات مثلاً سطحِ سمندر میں بُلندی، قحط میں اضافہ اور سخت موسموں کےشکار (بالخصوص غریب اور پسماندہ )ممالک کو اِس نوعیت کے ماحولیاتی مسائل سےپائیدار طور پر نمٹنےکےاقدامات کےلیےمالی مدد مل سکے۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیتےہوئےکہا گیا ہےکہ وہ صورتِ حال کی سنگینی کو محسوس کریں اور اگر مستقبل میں اس بحران کےبدترین اثرات سےبچنا چاہتےہیں تو متفقہ طور پر ایسے ٹھوس اقدامات کریں جس سےبدلتےموسموں کےسنگین اثرات کو کم کرنےمیں مدد مل سکے۔ کرسچین ایڈ نےتجویز دی ہےکہ موسمیاتی تبدیلیوں کےزیرِ اثر ہجرت کی روک تھام اوراس سےنمٹنےکےلیےکیےجانےوالےتمام تر اقدامات اقوامِ متحدہ کےموجودہ نظام کےتحت کیےجائیں۔ کیوں کہ اقوامِ متحدہ اور اس کا شعبئہ مہاجرین اس طرح کےاقدامات سےنمٹنےکےتجربات اور صلاحیت رکھتا ہے۔

Home less

علاوہ ازیں، اقوامِ متحدہ کےسیکریٹری جنرل بان کی مون نےتوانائی، تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کےموضوع پر حال ہی میں منعقدہ جنرل کونسل کےاجلاس میںبحث کا آغاز کرتےہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’موسمیاتی تبدیلیوں کےاثرات ان ممالک کےلیےخطرےکی گھنٹی کی حیثیت رکھتےہیں، جو اس وقت قلتِ آب و توانائی جیسےمسائل سےدوچار ہیں۔ یہ مسائل تنازعات کو جنم دینےکا سبب بھی بن کر مزید مشکلات پیدا کرسکتےہیں۔‘انہوں نےصورتِ حال سےنمٹنےکےلیےطویل المعیاد عالمی ردِ عمل کی ضرورت پر زور دیا۔

بان کی مون نےاپنےخطاب میں مزید کہا’ اقوامِ متحدہ کےجائزےاس جانب اشارہ کرچکےہیں اور اب یہ بات بالکل عیاں ہےکہ موسمیاتی تبدیلیوں کےاثرات واضح ہیں، جن کا بہ آسانی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی ہےکہ اس صورتِ حال کےجنم لینےمیں انسانی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ جن کےنتائج اب عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کی شکل میں سنگین نتائج لیےہمارےسامنےکھڑےہیں۔‘ مزیدِ برآں اقوامِ متحدہ کےماحولیاتی پروگرام کےسربراہ آخیم اسٹینر نےبحث میں حصہ لیتےہوئےکہا کہ’ دنیا کےدرجئہ حرارت میں اضافےسےہمالیہ کےگلیشیر پگھلنےشروع ہوجائیں گےجس سےایک جانب تو نہایت تیزی سےماحولیاتی ہجرت میں اضافہ ہوگا تو دوسری جانب قیمتی وسائل مثلاً زرعی زمین اور تازہ پانی پر قبضےکےلیےتنازعات بھی اٹھ کھڑےہوسکتےہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ’ موسمیاتی تبدیلیوں کو سلامتی کےنکتئہ نظر سےبھی دیکھنا چاہیے، کیونکہ اگلےدس تا بیس برسوں میں درجئہ حرارت میں تبدیلی سےتازہ پانی کی کمی اور زرعی زمینوں کی قلت کےسبب سلامتی کےلیےخطرہ بننےوالےمعاملات بھی سراٹھاسکتےہیں۔‘۔

 
   
یورپ: ممالیہ حیاتیاتی تنوع خطرات سے دوچار  

’یورپ کی ممالیہ حیاتیاتی تنوع کوسنگین خطرات لاحق ہیں اور ہر چھ اقسام میں سےایک کی بقا معدومی کےخطرےسےدوچار ہے۔ ‘ یہ بات یورپی کمیشن کی جانب سےبقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کو تفویض کیےگئےتجزیےکےنتائج میں سامنےآئی ہے۔ یورپ میں پائےجانےوالےممالیہ کی اقسام کےحوالےسےاپنی نوعیت کا یہ پہلا تحقیقی جائزہ ہے، جس کا مقصد یورپی یونین میں ممالیہ حیاتیاتی تنوع کی صورتِ حال کا تجزیہ کرنا تھا۔

ممالیہ حیاتیاتی تنوع کےاس جائزےمیں یہ بات بھی کہی گئی ہےکہ’ ممالیہ کی ایک تہائی سےزائد یعنی27فیصد اقسام کی آبادی میں کمی واقع ہوئی ہے،جبکہ مزید38فیصد کی آبادی میں اضافی یا کمی کےرجحان کا علم نہیں ہوسکا، البتہ 8 فیصد اقسام کی آبادی میں اضافہ پایا گیا ہے۔ مجموعی طور پریہ صورتِ حال خبردار کرتی ہےکہ یورپی یونین میں ممالیہ حیاتیاتی تنوع کی بقا کےلیےموثر اقدامات کیےجائیں۔‘

یورپی یونین کےماحولیاتی کمشنر اسٹیرز ڈیماس کا کہنا ہےکہ ’رپورٹ کےنتائج ان مسائل کی جانب اشارہ کرتےہیں جن کا ہمیں اس وقت سامنا ہے۔ اس وقت جو صورتِ حال درپیش ہےاس کو دیکھتےہوئی2010ءتک حیاتیاتی تنوع کی مزید بربادی کو روک دینےکےلیےٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے، جیسا کہ یورپی یونین اس ضمن میں پہلےہی وعدہ کرچکی ہے۔ ‘

آئی یو سی این کی ڈائریکٹر جنرل جولیا مارٹن لی فیور کا کہنا ہے’ یہ جائزہ اس بات کی عکاسی کرتا ہےکہ متعدد یورپی ممالک کی ممالیہ جنگلی حیات کی آبادی تیزی سےکم ہوتی جارہی ہے۔ہم سمجھتےہیں اس صورتِ حال کو تبدیل کرنےکےلیےہمارےپاس وسائل اور قوت موجود ہےاور ہم اس رجحان کو تبدیل کرکےحیاتیاتی تنوع کی بقا کو لاحق خطرات کا خاتمہ کرسکتےہیں۔‘

ممالیہ حیاتیاتی تنوع کےحوالےسےیورپی ممالک کو زرخیز سمجھا جاتا ہےاور یہاںممالیہ کی متعدد اقسام موجود ہیں۔تاہم اس حوالےسےاصل صورتِ حال European Mammals Assessment تجزیےمیں سامنےآئی ہے۔ جائزےکےنتائج کےمطابق ’یورپ کےکُل ممالیہ حیاتیاتی تنوع کا پندرہ فیصد بقا کو لاحق خطرےسےدوچار ہے۔ بحری ممالیہ کی تو صورتِ حال اور زیادہ خراب ہے، جن کی 22فیصد اقسام کو معدومی کےخطرےکا سامنا ہے۔‘

یورپی یونین کی ممالیہ حیاتیاتی تنوع کی بقا کو لاحق خطرات کےبنیادی اسباب انسانی سرگرمیوں کےسبب مسکنوں کی تباہی، رہائش، کاشت اور تجارتی استعمال کےلیےجنگلات کی کٹائی کرکےزمینوں کا حصول ، آبی آلودگی، غیر قانونی شکار اور آب گاہوں کی تباہی کو بتایا گیا ہے۔

 
   
ایورسٹ چوٹی‘ کی صفائ‘  

جاپان کےکوہ پیما لین نو گوچی دنیا کےسب سےبُلند پہاڑ کی چوٹی کی صفائی کےلیےپہل کرتےہوئےکئی ٹن کچرا نیچےلےآئےہیں۔ یہ کچرا اُن کوہ پیمابوتل کا پانی ماحول کی قیمت پرں کےسبب جمع ہوا جو یہاں تک پہنچےلیکن آتےہوئےاستعمال شدہ سامان وہیں چھوڑ آئے۔ایورسٹ کو سب سےپہلی1953ءمیں سر کیا گیا جس کےبعد بےشمار کوہ پیما یہاں تک پہنچےاور یہ کچرا انہی کی یادگار باقیات میں سےہے۔ لین نو گوچی کوہ پیمابوتل کا پانی ماحول کی قیمت پرں کا چھوڑا ہواجو سامان چوٹی سےنیچےلےکر آئےہیں وہ کئی عشروں سےایورسٹ کی چوٹی پر پڑا ہوا تھا۔لین نو گوچی پانچ مہمات میںایورسٹ سےنو ہزار کلوگرام کچرا لےکر آئےہیں۔ ’ایورسٹ صفائی مہم‘ میںلین نوگوچی اور ان کےساتھیوں پر مشتمل جاپانی ٹیم کی مدد نیپالی کوہ پیمابوتل کا پانی ماحول کی قیمت پرں نےکی تھی۔

لین نو گوچی کا کہنا ہی”میں ٹوکیو اور سئیول میں ایورسٹ کی چوٹی سےلائی ہوئی بعض اشیا کی نمائش کروں گا تاکہ دنیا کی مقبول ترین چوٹی کو صاف رکھنےکےلیےعوامی شعور میں اضافہ کیا جاسکے۔‘ گزشتہ دہائیوں کےدوران نیپالی حکومت نےچوٹی کو صاف رکھنےکےلیےمتعدد کوششیں کی ہیں۔ ایورسٹ پر جانےوالےکوہ پیمابوتل کا پانی ماحول کی قیمت پرں سےایک مخصوص رقم بھی لی جاتی ہےجو اُس وقت اُنہیں واپس ملتی ہےجب وہ واپسی پر اپنےساتھ لےجایا گیا سارا سامان نیچےلےکر آتےہیں۔


 
   
بوتل کا پانی ماحول کی قیمت پر  

’بوتلوں میں سربمہر پانی دنیا میں تیزی سےفروغ پانےوالا مشروب ہےلیکن اس کی دستیابی کی قیمت ماحول کو بھی ادا کرنا پڑرہی ہی۔ معدنی پانی یا منرل واٹر کےرجحان کےفروغ سےتازہ پانی کےقدرتی ماخذ اور چشموں پر دبابوتل کا پانی ماحول کی قیمت پر بڑھ رہا ہے۔ پلاسٹک سےتیار ہونےوالی یہ بوتلیں جو ایک بار پانی پی لیےجانےکےبعد ناکارہ ہوجاتی ہیں، انہیں تلف کیا جائےتو بھی اس کےلیےبڑی تعداد میں زمین درکار ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ بہ آسانی ری سائیکل کی جاسکتی ہیں تاہم اب اس رجحان میں واضح کمی ہوئی ہے۔‘ یہ بات واشنگٹن میں قائم ورلڈ واچ انسٹیٹیوٹ نےاپنےایک تحقیقی مطالعےمیں کہی ہے۔جائزےکےمصنف لی لِنگ کا کہنا ہے’ بوتل کا پانی واقعی مہنگا ہے۔ اگر ماحولیات و معیشت کے تناظر میں دیکھیں تو پانی کی ایک بوتل پر قدرتی وسائل کی جو لاگت آتی ہےوہ اس سےکہیں زیادہ ہے، جتنی کہ نقدی کی شکل میں ہم ایک بوتل کی قیمت ادا کرتےہیں۔‘
رپورٹ کا کہنا ہےکہ ترقی یافتہ ممالک میں قیمت کی مدِ نظرمتعدد معیار موجود ہیں، حتیٰ کہ پینےکےسادہ پانی کو بھی بوتلوں میں بند کرکےفروخت کیا جارہا ہے(ترقی پذیر ممالک میں بھی ایسا ہی ہورہا ہے) اور ا س کےلیےقدرتی چشموں کو چُنا جاتا ہے۔ یوں تجارتی مقاصد کےلیےقدرتی ذرائع آب کی استعداد سےزیادہ اُن پرپڑنےوالا دبابوتل کا پانی ماحول کی قیمت پر ان عام لوگوں کو استفادےسےمحروم کردینےکےمترادف ہے، جو اُس پر انحصار کرتےہیں۔‘رپورٹ کا کہنا ہے’1997ءسی2005ءکےدوران دنیا بھر میں بوتل کا پانی استعمال کرنےوالےصارفین کی تعداد میں دو گُنا اضافہ ہوچکا ہے، جس میں کمی کا امکان نظر نہیں آتا۔‘

 

 

ناصر علی پنہور آئی یو سی این، سندھ پروگرام آفس سےبطورِکو آرڈینیٹر وابستہ ہیں۔

محمد ذیشان حیدرفری لانس صحافی ہیں۔