Jareeda Banner

ان سطور میں ہم آپ کے لیے آئ یو سی اين کے قومی اور عالمی سطح پر زیرِعمل مختلف منصوبوں اور ماحول سے متعلق معلومات اور خبریں فراہم کرتے ہیں



 
ڈاکٹر محمد افضل
 

ضلع غذر(گلگت)کی وادی گوپس میں پی ایس این پی کا نمائشی منصوبہ model project شروع کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد تازہ پانی میں ٹراؤٹ مچھلی کی پائیدار ماہی گیری کےذریعےمقامی باشندوں کی غربت میں کمی لانا تھا۔
منصوبےکےتحت علاقےمیں ماحولیاتی سیاحت کےفروغ کےلیےبھی اقدامات کیےگئے۔ ان میں سےایک مچھلی کے شوقیہ شکاریوں کےمابین مچھلی پکڑنےکا مقابلہ منعقد کروانا تھا۔ پہلا مقابلہ ستمبر، 2006ءمیں منعقد کیا گیا۔گزشتہ سال مقابلےکےکامیاب انعقاد کےبعد چیف سیکریٹری شمالی علاقہ جات کی ہدایات پر اس سال یہ مقابلہ دوبارہ منعقد کیا گیا۔ اب اس مقابلےکی مضبوط بنیاد پڑ چکی ہےاور آئندہ آنےوالےسالوں میں بھی یہ مقابلہ جاررہےگا ۔

یہ مقابلہ شمالی علاقہ جات کی انتظامیہ، آئی یو سی این، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام اور مقامی باشندوں کی تنظیم کھلتی سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کےباہمی اشتراک سےمنعقد ہوا۔ اس مقابلےکوSpring Blossom Fishing Competition کا نام دیا گیا تھا۔مقابلےکےانعقاد کےبنیادی مقاصد درج ذیل ہیں۔
- آبی وسائل کےپائیدار استعمال کےبارےمیں شعور کا فروغ۔
-ماحول دوست تفریح اور ماحول دوست سیاحت کو فروغ دینا۔
-اس طرح کےاقدامات سےمقامی باشندوں کےلیےروزگار کےمواقع پیدا کرکےغربت میں کمی لانا اور بیروزگاری کا خاتمہ۔
-پائیدار ماہی گیری کےلیےمخصوص علاقےکی تشکیل۔
مقابلےکےمہمانِ خصوصی شمالی علاقہ جات کےمشیر برائےاطلاعات، خوراک، زراعت و گلّہ بانی کیپٹن (ریٹائرڈ) سکندر علی تھے۔ مقابلےمیں شریک مقامی باشندےنےآٹھ سو گرام کی ٹراؤٹ مچھلی پکڑ کر نقد انعام اور ٹرافی حاصل کی۔ مقابلےمیں ایک خاتون نےبھی شرکت کی جنہیں حوصلہ افزائی کا خصوصی انعام دیا گیا۔ مقابلےمیں دو ہزار سےزائد افراد نےشرکت کی جن میں بچےاور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل تھی۔ مقابلےمیں حصہ لینےوالوں میں سےاکثریت کا تعلق شمالی علاقہ جات کےمختلف علاقوں سےتھا۔

 

 

 
حمید حسن خان
FATA
 

وفاقی حکومت نے’پاکستان وژن 2030ء‘ پروگرام کےتحت وسط مدتی ترقیاتی خاکے2005-2010 ءمیں وفاق کےزیرِ انتظام علاقےفاٹا FATA کو ملک کےدیگر حصوں کی طرح ترقی دینےکا فیصلہ کیا۔
اس ضمن میں وفاقی حکومت نےفاٹاکےسول سیکریٹریٹ کو ہدایت کی کہ علاقےکی سماجی اور اقتصادی ترقی کےلیےایسے طویل المعیاد ترقیاتی منصوبوں بنائےجائیں، جن سے قبائلی علاقےکےباشندوں کےحقیقی مسائل نہ صرف حل ہوسکیں بلکہ ان کی پسماندگی کا خاتمہ کےساتھ اقتصادی حالات پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں، تاکہ مقامی سماجی حالات میں بہتری آسکے۔

اس تناظر میں سول سیکریٹریٹ، فاٹا نےآئی یو سی این ، سرحد پروگرام آفس سےدرخواست کی کہ فاٹا کےلیےطویل المعیاد ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی کےلیےانہیں تکنیکی تعاون فراہم کیا جائے۔ یاد رہےکہ آئی یو سی این، سرحد پروگرام گزشتہ14برسوں سےصوبہ سرحد میں بقائےماحول و پائیدار معاش کی حوالےسےمختلف منصوبوں میں شامل ہے۔

اس پس منظر میں آئی یو سی این، سرحد پروگرام آفس اور فاٹا سول سیکریٹریٹ نےاشتراک کےذریعےدیگر اداروں مثلاً یونائٹیڈ اسٹیٹ ایجنسی فار ڈویلپمنٹ، ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ یوکے، انٹرنیشنل میڈیکل کور اور صوبہ سرحد کےمیڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ ایجنسی کےساتھ مل کر فاٹا کی پائیدار ترقی کےلیےنو سالہ پروگرام مرتب کیا۔ جسے’فاٹا سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پلان‘ کا نام دیا گیا ہے۔ انگریزی میں اسےمختصراًSDP کہا جاتا ہے۔

اس منصوبےکےتحت مختلف شعبوں مثلاً قدرتی وسائل کا انتظام، صحت، تعلیم اور بالخصوص اس قبائلی علاقےکی اقتصادی پسماندگی دور کرنےجیسےاہم معاملات پر توجہ مرکوز کی گئی۔نیز اختراعی نوعیت کےنمائشی منصوبوں کےذریعےبہتری لانےپر خصوصی توجہ دی گئی ۔

گورنر صوبہ سرحد نےرسمی طور پرمنصوبےکی منظوری دےدی ہے۔ اس منصوبےپر لاگت کا تخمینہ120ارب روپےلگایا گیا ہی، جس میں سی60ارب روپےحکومتِ پاکستان جبکہ بقایا رقم ترقیاتی شعبےمیں مالی تعاون فراہم کرنےوالےادارے(ڈونر) فراہم کریں گے۔ نو سالہ منصوبےکےپہلےپانچ سال ’عملی ترقیاتی مرحلہ‘ ہے۔ آئندہ کےچار سال ان عملی ترقیاتی اقدامات کو باہم مربوط کرنا ہےتاکہ ان کی پائیداری کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس ضمن میں پاکستان ڈویلپمنٹ فورم 2007ءکےاجلاس کےموقع پرگورنر صوبہ سرحد نےفاٹا کےلیےاس ترقیاتی منصوبےکو امدادی اداروں کےنمائندوں کو بھی پیش کردیا ہےتاکہ ترقیاتی عمل کےلیےدرکار بقایا رقم کےحصول کےلیےاُن کی مدد حاصل کی جاسکے

 
 
 

 
ناصر پنہور

عالمی یومِ ماحول کےموقع پربقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این ، پاکستان کےدفتر میں ایک مذاکرہ منعقد ہوا۔ جس کا اہتمام آئی یو سی این ، پاکستان نیشنل کمیٹی نےکیا تھا۔ پگھلتےگلیشیر مجلسِ مذاکرہ کا موضوع تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتےہوئےآئی یو سی این عالمی کےنائب صدر جاوید جبار نےکہا ’صنعتی ترقی نےایک ایسےمعاشرےکو جنم دیا ہےجہاں وسائل کا استعمال حد سےزیادہ ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’ گرین ہاؤس گیسوں کےبڑھتےہوئےاخراج سےعالمی حدت میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ جی ایٹ ممالک کےحالیہ اجلاس میں عالمی حدت کےمسئلےکو پہلی مرتبہ نمایاں اہمیت دی گئی ہے۔ اب یہ مسئلہ صرف سائنسدانوں تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ اہم عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستان بھی ان تبدیلیوں سےنہیں بچ سکتا کیونکہ ہم سب ایک ہی زمین کےباسی ہیں۔‘

مذاکرےمیں حصہ لیتےہوئےآئی یو سی این پاکستان کےنمائندہ مملکت سہیل ملک نےکہا’عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی حدت کےموضوع پر اگرچہ تحقیق جاری ہےتاہم اس بات کی گنجائش موجود ہےکہ مزید عمیق مطالعےکیےجائیں اور ہر پہلو سےصورتِ حال کا تجزیہ کیا جائے۔ تاکہ حدت میں کمی کےلیےمربوط، پائیدار اور ٹھوس اقدامات کیےجاسکیں۔‘

آئی یو سی این پاکستان سےوابستہ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کی تجزیہ کار صفیہ شفیق کا کہنا تھا ’ عالمی حدت میں اضافےکےسبب پیدا شدہ تبدیلیاں واضح ہونا شروع ہوچکی ہیں۔ جن سے ساحلی علاقوں کےماحولیاتی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘ انہوں نےمزید کہا ’ موسمیاتی تبدیلیوں کےحوالےسےپاکستان اقوامِ متحدہ کےمعاہدے پر دستخط کرچکا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان نی2004ءمیں اپنی پہلی رپورٹ مرتب کی تھی جبکہ دوسری رپورٹ ابھی آناباقی ہے۔‘

سابق سیکریٹری ماحولیات، حکومتِ سندھ شمس الحق میمن نےبحث میں حصہ لیتےہوئےکہا ’موسمیاتی تبدیلیوں کےاثرات کےحوالےسےیہ بات اہمیت کی حامل ہےکہ اب سندھ میں ایک عام کاشت کار بھی انہیں محسوس کررہا ہےاور موسموں میں تبدیلی کی وہ نشاندہی بھی کرتا ہے۔‘

مذاکرےسےڈاکٹر ریحانہ صدیقی، غلام رسول چنّہ، ڈاکٹر شوکت حیات سمیت متعدد شرکا نےخطاب کیا۔ مذاکرےمیں غلام رسول کیریو، محمد سلیم جلبانی، غزالہ آفتاب، شیخ رضوان، احمد سعید، ریحانہ بتول، شبینہ فراز، زہرہ رحمت علی اور دیگر نےبھی شرکت کی۔

 

 
رفیع الحق
Juhniper

بلوچستان کی سرسبز وادی زیارت کی تاریخی وجہ اس کےصنوبری جنگلات ہیں۔ یہاں موجود درختوں کی اوسط عمر سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں سال ہی۔ مشاہدہ میں آیا ہےکہ گزشتہ کئی دہائیوں سےیہ قدیم جنگلات اور ان کا ماحولیاتی نظام مختلف النوع مسائل کےسبب انحطاط پذیر ہیں۔ ان میں انسانی سرگرمیاں، نیز ماحول میں پیدا شدہ تبدیلیاں سرِ فہرست ہیں۔ ایسےمیں ضرورت محسوس کی گئی کہ پاکستان کےاس تاریخی ورثےاور اس کےماحولیاتی نظام کےتحفظ کےلیےاقدامات کیےجائیں۔ زیارت میں صنوبر کےجنگلات کےحوالےسےاقوامِ متحدہ کےترقیاتی پروگرام UNDP-GEFکےمالی تعاون سےآئی یو سی این نےوادیِ زیارت میںچار سالہ منصوبہ شروع کیا ہےجوMainstreaming Biodiversity into Juniper Ecosystem کےنام سےجانا جاتاہی۔ منصوبےکےآغاز کےموقع پر جون کےاوائل میں میںکوئٹہ میں ایک روزہ افتتاحی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، تاکہ منصوبےکےتمام شراکت داروں، سول سوسائٹی ، سرکاری محکموں اور عمائدینِ علاقہ کو نہ صرف منصوبےکےتمام پہلوؤں سےآگاہ کیا جاسکے۔ نیز اس حوالےسےان کی تجاویز و سفارشات حاصل کی جاسکیں۔

Juniper

تقریب کی صدارت صوبائی سیکریٹری جنگلات و جنگلی حیات محمود الحسن مندوخیل نےکی۔ اس موقع پر انہوں نےبقائےماحول اور تحفظِ قدرتی وسائل کےحوالےسےآئی یو سی این کی پاکستان ،بالخصوص بلوچستان میں کی گئی کاوشوں کو سراہا اور حکومتِ بلوچستان کی جانب سےہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر خطاب کرتےہوئےمحترمہ نکہت ستار، کنٹری گروپ ہیڈ آئی یو سی این نے صنوبر کی قومی اور بین الاقوامی اہمیت کو اجاگر کرتےہوئےکہا ’زیارت کی وادیِ صنوبر ہمیں اپنےبابائےقوم کی یاد دلاتی ہے۔ اس کا تحفظ ہم سب کا فرض ہے۔‘

اس موقع پریو این ڈی پی کےنمائندےعارف علاءالدین نےکہا ’اس قدرتی ورثےکا تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کا فرض ہے۔‘زیارت کےضلع ناظم دلاور خان کاکڑ نےاپنےخطاب میں منصوبےکا خیرمقدم کیا۔

تقریب کےاختتام پر آئی یو سی این پاکستان کےسربراہ سہیل ملک نےتمام شرکاءکا شکریہ ادا کیا۔تقریب میں عبدالقادر رفیق (یو این ڈی پی ) اور یونیسکو کےسیکریٹری جنرل، پاکستان ثاقب علیم، منظور احمد چیف کنزرویٹر فاریسٹ کےعلاوہ سول سوسائٹی کےارکان نےبھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔