![]() |
|
ان سطور میں ہم آپ کے لیے آئ یو سی اين کے قومی اور عالمی سطح پر زیرِعمل مختلف
منصوبوں اور ماحول سے متعلق معلومات اور خبریں فراہم کرتے ہیں |
||||||||
|
||||||||
ضلع غذر(گلگت)کی وادی گوپس میں پی ایس این پی کا نمائشی منصوبہ model project شروع کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد تازہ پانی میں ٹراؤٹ مچھلی کی پائیدار ماہی گیری کےذریعےمقامی باشندوں کی غربت میں کمی لانا تھا۔ یہ مقابلہ شمالی علاقہ جات کی انتظامیہ، آئی یو سی این، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام اور مقامی باشندوں کی تنظیم کھلتی سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کےباہمی اشتراک سےمنعقد ہوا۔ اس مقابلےکوSpring Blossom Fishing Competition کا نام دیا گیا تھا۔مقابلےکےانعقاد کےبنیادی مقاصد درج ذیل ہیں۔ |
||||||||
|
||||||||
|
||||||||
وفاقی حکومت نے’پاکستان وژن 2030ء‘ پروگرام کےتحت وسط مدتی ترقیاتی خاکے2005-2010 ءمیں وفاق کےزیرِ انتظام علاقےفاٹا FATA کو ملک کےدیگر حصوں کی طرح ترقی دینےکا فیصلہ کیا۔ اس تناظر میں سول سیکریٹریٹ، فاٹا نےآئی یو سی این ، سرحد پروگرام آفس سےدرخواست کی کہ فاٹا کےلیےطویل المعیاد ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی کےلیےانہیں تکنیکی تعاون فراہم کیا جائے۔ یاد رہےکہ آئی یو سی این، سرحد پروگرام گزشتہ14برسوں سےصوبہ سرحد میں بقائےماحول و پائیدار معاش کی حوالےسےمختلف منصوبوں میں شامل ہے۔ اس پس منظر میں آئی یو سی این، سرحد پروگرام آفس اور فاٹا سول سیکریٹریٹ نےاشتراک کےذریعےدیگر اداروں مثلاً یونائٹیڈ اسٹیٹ ایجنسی فار ڈویلپمنٹ، ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ یوکے، انٹرنیشنل میڈیکل کور اور صوبہ سرحد کےمیڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ ایجنسی کےساتھ مل کر فاٹا کی پائیدار ترقی کےلیےنو سالہ پروگرام مرتب کیا۔ جسے’فاٹا سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پلان‘ کا نام دیا گیا ہے۔ انگریزی میں اسےمختصراًSDP کہا جاتا ہے۔ اس منصوبےکےتحت مختلف شعبوں مثلاً قدرتی وسائل کا انتظام، صحت، تعلیم اور بالخصوص اس قبائلی علاقےکی اقتصادی پسماندگی دور کرنےجیسےاہم معاملات پر توجہ مرکوز کی گئی۔نیز اختراعی نوعیت کےنمائشی منصوبوں کےذریعےبہتری لانےپر خصوصی توجہ دی گئی ۔ گورنر صوبہ سرحد نےرسمی طور پرمنصوبےکی منظوری دےدی ہے۔ اس منصوبےپر لاگت کا تخمینہ120ارب روپےلگایا گیا ہی، جس میں سی60ارب روپےحکومتِ پاکستان جبکہ بقایا رقم ترقیاتی شعبےمیں مالی تعاون فراہم کرنےوالےادارے(ڈونر) فراہم کریں گے۔ نو سالہ منصوبےکےپہلےپانچ سال ’عملی ترقیاتی مرحلہ‘ ہے۔ آئندہ کےچار سال ان عملی ترقیاتی اقدامات کو باہم مربوط کرنا ہےتاکہ ان کی پائیداری کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس ضمن میں پاکستان ڈویلپمنٹ فورم 2007ءکےاجلاس کےموقع پرگورنر صوبہ سرحد نےفاٹا کےلیےاس ترقیاتی منصوبےکو امدادی اداروں کےنمائندوں کو بھی پیش کردیا ہےتاکہ ترقیاتی عمل کےلیےدرکار بقایا رقم کےحصول کےلیےاُن کی مدد حاصل کی جاسکے |
||||||||
|
||||||||
|
||||||||