Jareeda Banner
 

اگرچہ جدید سائنسی تحقیق ، نِت نئی ٹیکنالوجی اور بھاری بھرکم مشینوں نےہماری زندگی کو اتنا سہل بنادیا ہے کہ ہم یہ سمجھنےلگےہیں کہ ایک آسان اور متوازن زندگی کا راز انہی میں پنہاں ہے۔ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ چلیےذرادنیا کےاُس کارخانےکا نام بتائیےجس میں پانی تیار کرکےکرئہ ارض کےباسیوں کی پیاس بجھائی جاسکتی ہو؟ وہ کون سی لیبارٹری ہےجس کےتیار کردہ درخت ہمیں لذیذ پھل اور اُن کا گھنا پن ہمیں دھوپ کی تمازت سےبچا کر سایہ دےسکتا ہو؟ اگرچہ سائنسی تحقیق کےسبب ہم مصنوعی بارش برسانےپر قدرت رکھتےہیں،لیکن کیاایسا کوئی ادارہ ہےجو بارانی علاقوں میں پیدا ہونےوالی فصلوں کا خود اتنا حساب رکھےکہ جب اُن کی ضرورت ہو تو آسمان سےپانی برسادے؟ سوال ختم نہیں ہوئے، مثال کےلیےصرف چند باتیں ہی کافی ہیں۔ اس بات سےصرفِ نظر نہیں کرسکتےکہ ہمارا ماحول ہماری پُرکیف زندگی کا محور ہے۔قدرتی وسائل اور اُن کا حُسن صرف دل کو ہی نہیں لُبھاتا بلکہ فکرِ معاش میں غلطاں ہم انسانوں کی مدد بھی کرتا ہے-

قدرتی وسائل اور معاش کا آپس میں گہرا ربط ہے۔ صرف پاکستانی منظر نامےمیں ہی دیکھیں تو قدرتی وسائل ہماری زندگی کا لازمی جزو اور معیشت کا اہم عنصر ہیں جیسا کہ دریائےسندھ، جو شمال کی بُلند وادیوں سےگذر کر ملک کےمیدانی علاقوں کو سیراب کرتا ہوا بحیرئہ عرب تک جا پہنچتا ہے۔ یہ دریا پاکستان کی معاشی شہ رگ ہےاور ہمارےلیےقدرتی وسائل سےاستفادےکی بےمِثل نظیر بھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہےکہ قدرتی وسائل کو کسی خاص ماحولیاتی نظام سےوابستہ تو کیا جاسکتا ہےلیکن اس کےثمرات ماحولیاتی نظام کی سرحد سےماورا اور ان سےاستفادہ بیش بہاہوتا ہے۔

صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات جنہیں ملک کےشمال میں ہونےکی وجہ سےبالعموم شمالی پاکستان کہا جاتا ہے، اپنےحیاتیاتی تنوع،ماحول و ماحولیاتی نظام اور قدرتی وسائل کی بنا پر نہ صرف معاشی اہمیت رکھتےہیں بلکہ ان سےاستفادےکی معاشی قدر نکالی جائےتو اس کا دائرہ وسعت پا کر پاکستان بھر پر محیط ہوسکتا ہے، لیکن اس کےباوجود قابلِ تجدید اور ناقابلِ تجدید، دونوں طرح کےقدرتی وسائل ہماری ناسمجھی کی بنا پر محدود ہوتےجارہےہیں۔ استطاعت سےزیادہ بوجھ، غربت و آبادی میں بےتحاشہ اضافہ سمیت درجنوں ایسےاسباب ہیں جو اُن کی بقا کےلیےسودمند نہیں۔ تو کیا ہم آنکھیں موند کر بیٹھےرہیں اور بےبسی سےماحول کی بربادی اور تباہی کا یہ منظر دیکھتےرہیں یا پھر جوانمردی سےاٹھیں اور حالات کا رُخ بدل کر وہ راہ تعمیر کردیں جس پر دوسرےلوگ بھی آگےبڑھیں ، اپنےقدرتی وسائل اور اس سےمنسلک معاش کا تحفظ کرکےپائیدار بقائےماحول اور متوازن معاشی استفادےکو اپنائیں۔ ہم اتفاق کریں گےکہ دوسری بات ہی ہمارا فیصلہ ہے۔ بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این پاکستان نےبھی اسی نکتےپر عمل کیا اور قابلِ قدر نتائج حاصل کیے۔

اگرچہProgramme Support for Northern Pakistan- Phase IV اس وقت شمالی پاکستان کا وہ منصوبہ ہے، جو Swiss Agency for Development & Cooperation (SDC)کی مالی معاونت سےشروع ہو کر اب کا میابی سےاختتام پذیر ہورہاہے۔ یہ اُس سفر کا ایک اور سنگِ میل ہےجو صوبہ سرحد کی پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کی تیاری سےبھی پہلےآئی یو سی این پاکستان اور اس کےشراکت داروں نے’آئی یو سی این سرحد پروگرام آفس، پشاور‘ سےشروع کیا تھا۔

شمالی پاکستان میں بقائےماحول کےلیےآئی یو سی این اور اس کےساتھیوں کا سفر ابھی جاری ہے۔ اس بار ’جریدہ‘ کا یہ خاص شمارہ اُنہی کامیاب کوششوں کو سامنےلےکر آرہا ہےجو اس ضمن میں صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات میں کی گئ ہیں