Jareeda Banner
 
 

 

 
صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات میں عالمی طےشدہ اہداف کےنفاذ اور انہیں معاش و انسانی ترقی سےمنسلک کرنےکی داستان۔
 

تحریر: حمید حسن خان

 

شمالی پاکستان کا تناظر ہو یا پھر پورےملک کا، ایک بات طےہےکہ مربوط ترقی بقائےماحول سےمشروط ہےاور بقائےماحول کی کوششیں اس وقت تک پائیدار نتائج نہیں لاسکتیں جب تک پائیدار ذرائع معاش کو وجود نہ بخشا جائے۔ اس کےلیےغربت کا مکمل خاتمہ نہ سہی تاہم اس میں اتنی کمی لازم ہےکہ وسائل پر انحصار ان کی قدرتی استعداد کےمطابق ہوجائے۔ ان مقاصد کی حصول کےلیےموثر نگرانی کا عمل بھی لازم ہے۔پاکستان کےتناظر میں ماحول، انسانی ترقی، قدرتی وسائل اور غربت کا جائزلیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہےکہ بقائے ماحول کےلیےمندرجہ بالا عناصر میں باہم مضبوط ربط قائم کیےبغیر اہداف کا حصول ناممکن نہ سہی مشکل ضرور ہے۔ اس ربط کا فقدان مجموعی طور پر ہماری اقتصادی، سماجی، معاشی، قدرتی وسائل اور فطری ماحول کےانحطاط کی سب سےبڑی وجہ رہی ہے۔

پاکستان میں مربوط ماحولیاتی ترقی کا واضح تصور1992ءمیں حکومتِ پاکستان سےمنظور شدہ بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این پاکستان کی تیار کردہ ’پائیدار ترقی کی قومی حکمتِ عملی‘ سےملتا ہے، جس کےبعدسرحد اور بلوچستان کےلیےصوبائی سطح پر تیار کردہ حکمتِ عملیوں میں بھی ماحول اور ترقی کا یہ مربوط تصور نہایت وضاحت سےسامنےآیا۔ اس طرح مربوط ترقی اور بقائےماحول کےاس تصور کو نچلی سطح تک لےجانےکےلیےپذیرائی حاصل ہوئی۔

پاکستان نےوسیع ہوتی غربت پر قابو پانےکےلیے2000ءمیں ’عبوری حکمتِ عملی برائےغربت میں کمی‘ تیار کی ، جسےاگلےبرس Poverty Reduction Strategy Papers (PRSP-1) نامی دستاویز کی شکل میں پیش کیا گیا۔ جس کا مرکزی زاویہ نظر مربوط اور ہمہ جہتی ترقیاتی حکمتِ عملی کےتحت وسیع تر معنوں میں شرح نمو میں اضافےکےذریعے انسانی ترقی کی صورتِ حال اور نگرانی کےانتظام کو بہتر بنا کر غربت کی شرح میں کمی لانا تھا۔ وفاقی حکومت کےبعد صوبوں نےبھی انہی خطوط پر غربت میں کمی کی صوبائی حکمت عملیاں تیار کی۔

غربت میں کمی اور ہمہ جہتی ترقی کےلیے صوبہ سرحد کی حکمتِ عملی 2004ءمیں تیار کی گئی اور اسی برس اسےحتمی منظوری حاصل ہوگئی۔ جس کےنفاذ کی ذمہ داری صوبائی محکمہ منصوبہ بندی وترقیات کو سونپی گئی جس نےحکمتِ عملی کےعمیق جائزےکےبعد کہا کہ اس دستاویز میں کئی اہم ترقیاتی شعبے نظر اندازہوگئےہیں۔ بعد ازاں محکمےنےاس حوالےسےآئی یو سی این کے ’ سپورٹ پروگرام فار ناردرن پاکستان‘کی ٹیم کوبھی شریک کیا اور نشاندہی کی کہ دستاویز میں ماحولیاتی غربت اورصنفی غربت کےمابین موجود اہم تعلق کو مکمل طور پر نظرانداز ہوا ہے۔ اس تناظرمیں محکمے نےیہ خال پُر کرنےکا فیصلہ کیاتاکہ ماحولیاتی غربت اور صنفی غربت کےدرمیان موجود اہم تعلق بھی حکمتِ عملی کا حصہ بن سکے۔ اس حوالےسےکام کاآغاز وفاقی حکومت کی دستاویز برائےغربت میں کمی اور صوبہ سرحد کی معاشی صورتِ حال کی رپورٹ اور مجوزہ صوبائی اصلاحات پروگرام سے ہم آہنگ کرتےہوئےکیا گیا۔

صوبائی حکومت نے حکمتِ عملی کو مزید بہتر بنانےکےعمل کی نگرانی کی غرض سےصوبائی چیف اکانومسٹ کی سربراہی میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی اور بالآخر ترامیم و اضافت شدہ حتمی ستاویز کو منظوری کےلیےصوبائی حکومت کو پیش کردیا گیا۔

MDGs
نئےہزاریےمیں اقوامِ متحدہ کےعالمی ترقیاتی اہداف کےمعاہدے Millenuium Development Goals (MDGs) پر دستخط کرنے والوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔ 2000ء اگلےپندرہ سالوں یعنی 2015ءتک کےلیےاقوام متحدہ کی رکن مملکتوں نےپائیدار انسانی ترقی کے آٹھ اہداف اپنائے۔ جس میں شراکت داری کےاصولوں پر استوار پائیدار انسان ترقی کا طریقہ کارفراہم کیا گیا تھا۔ ان آٹھ اہداف میں سےہر ایک ہدف پر ہونےوالی پیش رفت اور عمل درآمد کےجائزےکےلیےاقوام متحدہ کی جانب سے18مقاصداور 37اشاریےindicators فراہم کیےگئےتھے۔ ملکی حالات، ترجیحات اور اعداد و شمارکی دستیابی، نیز گنجائشِ کار جیسےعوامل کو مد نظر رکھتےہوئےپاکستان نےسالانہ بنیادوں پر اہداف پر کام کی رفتار کا جائزہ لینےکی غرض سےاقوامِ متحدہ کےطریقئہ کار اور اشاروں کی رہنمائی کو اپنایا۔ اس طرح پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو First Pakistan MDGs Report 2004 کے ساتھ ہی قومی سطح پر ان اہداف پر کی گئی پیشرفت کو باضابطہ طور پر ضبطِ تحریر میں لانےکا باقاعدہ آغاز ہوا۔ جو آگےچل کر صوبہ سرحد کےحوالےسےبھی اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔
پاکستان کےحوالےسےاقوامِ متحدہ کےمذکورہ ترقیاتی اہداف اور حکومتِ پاکستان کی دستاویز PRSP میں دیے گئےمقاصدکےسرحد میں حصول کےلیےسرحد حکومت نے’صوبائی اصلاحات پروگرام‘ تیار کیا ۔جنہیں مزید یقینی بنانےکےلیےحکومت ِسرحد نے2007ءمیں ایک اور پیشرفت ’کثیرالمقاصد مجموعی اشاریہ‘ Multiple Indicator Cluster Survey(MICS)تیار کرنےکی شکل میں کی۔ جس کےذریعےتعلیم، صحت، پینےکےپانی ، نکاسی آب، پائیدار ترقی کےاشاریوں کی تیاری اور صوبائی PRSPمیں بہتری کےلیےبنیادی خطوط فراہم کرنا تھا۔ محکمہ ترقیات و منصوبہ بندی کوPRSPکےنفاذ،غربت میں کمی اور معاشرتی ترقی کےاشاریوں کی صوبائی سطح پر جائزہ لینےکا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

ان اقدامات کےبعدPSNP نےصوبائی محکمہ ترقیات ومنصوبہ بندی کےساتھ گفت وشنیدا ورمباحث کا آغاز کیاکہ غربت میں کمی اورسماجی ترقی کےاشاریوں کو کس طرح زیادہ موثر انداز میں باہم مربوط کرکےاہداف کی جانب پیشرفت کی جاسکتی ہے۔ کیوں کہ یہ دونوں نہ صرف ایک دوسرےسےقریبی تعلق رکھتےہیں بلکہ ناگزیر حد تک ایک دوسرےپر انحصار بھی کرتےہیں۔ جس کےنتیجےمیں یہ طےپایا کہ MDGs ، نیز اس حوالےسے مرتب کیےگئےاشاریے شمالی پاکستان میں غربت میں کمی اور معاشی ترقی کاراستہ ثابت ہوسکتےہیں۔ اس بات کی اہمیت کو سمجھ لینےکےبعد MDGs Provincial Status Report کی تیاری کا فیصلہ کیا گیااور صوبائی محکمہ شماریات کو اشاریوں کےلیےاعداد و شمار جمع کرنےکا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ محکمہ شماریات نےصوبےکےتمام 24اضلاع سےاعداد و شمار جمع کیے۔ جس کےبعد صوبائی سطح پرFirst MDGs Report 2005 تکمیل کو پہنچی۔ اس میں اہداف کےحصول کےلیے ضلعی سطح پر ہونےوالی کامیابیوں کو بھی شامل کیا گیا تھا ۔ صوبائی حکومت نےرپورٹ کی توثیق کر تےہوئےMDGsکی اہمیت اور اس کےذریعےحاصل ہونےوالی کامیابیوں کی اہمیت کو سمجھتےہوئےتمام متعلقہ محکموں کو ہدایت بھی کی کہ وہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کا میزانیہ تیار کرتےوقت ان اہداف کو پیش نظر رکھیں ۔ اس سطح پر ایک صوبائی ٹاسک فورس بھی قائم کی۔ جس کاکام مخصوص ترقیاتی سرگرمیوں کو نگاہ میں رکھنےاور صراحت کردہ امور کی مرکزی ترقیاتی دھارےمیں شمولیت کو یقینی بنانا تھا۔ اس ٹاسک فورس میں آئی یو سی این، سرحد پروگرام آفس کو بطورِ رکن شامل کیا گیا جو قبل ازیں اسٹئیرنگ کمیٹی اور MICS-II میں بھی بطورِ رکن شامل تھا۔

Zilli Satha
حکومت سرحدنے2000ءمیں اُس وقت کے اعلیٰ ترین ضلع افسر’ ڈپٹی کمشنر‘ کی سربراہی میں ضلعی سطح پر ’ادارہ برائےتحفظِ ماحول‘ کوسہولتوں کی فراہمی اورضروری مشاورت کےلیے ’ضلعی ماحولیاتی کمیٹی ‘ قائم کرنےکا حکم جاری کیا تھا۔ بعد ازاں جب مقامی حکومتوں کا نیا نظام نافذ ہوا توان کمیٹیوں کو اُن ضلعی رابطہ افسران کےماتحت کردیا گیا جو پہلےڈپٹی کمشنر کہلاتےتھے۔

آئین یو سی این سرحد پروگرام آفس نے پی ایس این پروگرام کےتحت ان کمیٹیوں کےحوالےسے پروگرام کےتحت آنےوالےاضلاع ایبٹ آباد، ڈیرہ اسماعیل خان اور چترال میں مقامی سطح پر ماحولیاتی نظام کےتحفظ میں درپیش مسائل اور حائل رکاوٹوں کو دور کرنےکےلیےعوامی مشاورتی عمل شروع کیا اور ان رابطوں اور مشاورت کےنتیجےمیں یہ تجویز سامنےآئی کہ نئی قانون سازی کی ضرورت ہےاور تحفظِ ماحولیات کےقانون مجریہ 1997ءمیں ترامیم کرتےہوئے یہ شعبہ مقامی حکومتوں کےسپرد کردیا جائےتو ضلعی سطح پر قائم کمیٹیوں کےذریعے یہ کام زیادہ احسن طریقےسےسرانجام پاسکتا ہے۔ ان سفارشات کو صوبائی محکمہ برائےتحفظِ ماحول تک پہنچایا گیا، جس نےآئی یو سی این کےاس کردار کو سراہتےہوئےاتفاق ظاہر کیا اور ضلعی ماحولیاتی کمیٹیوں کےنظر ثانی شدہ کردار اور فرائض کے حوالے سے کیس تیار کر کے اسے منظوری کے لیے صوبائی حکومت کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہاں یہ بات بھی دلچسپی سےخالی نہیں کہ ایبٹ آباداور چترال کی ضلعی حکومتوں نےقدرتی وسائل کےانتظام اور خدمات سےمتعلق کئی شعبوں کی نشاندہی کی اور مقامی حکومتوں کےقیام کےحکمنامےمجریہ 2001ءکی متعلقہ شقوں کےتحت ماحولیاتی تحفظ کےلیےنئی قانون سازی میں تکنیکی مدد کی فراہمی کےلیےآئی یو سی این سےرابطہ کیا ۔ اس حوالےسےترامیمی مسودہ قانون تیار کیا گیا ۔ بعد ازاں دونوں ضلعی کونسلوں نےانہیں منظور کیا اور اب وہ متعلقہ ضلعی حکومتوں میں رائج ہیں۔

Azla
پاکستان تحفظ ماحول ایکٹ مجریہ1997ءکےتحت 2000ءمیں Environmental Impact Assessment Regulations کاوفاقی حکومت نےاجرا کیا ۔ جس کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کےماحول پر اثرات کےتجزیےکو یقینی بنانا تھا۔یہ قواعد صرف بڑےپیمانےکےمنصوبوں اور ترقیاتی ڈھانچوں کااحاطہ کرتےتھےاور فطری ماحول پر گہرےاثرات مرتب کرنےوالےچھوٹےدرجےکےترقیاتی منصوبوں جیسےدیہی اسکول، مراکز صحت، سی این جی اسٹیشن، شہروں میں سڑکوں کی تعمیر وترقی جیسے منصوبوں کےبارےمیں کوئی رہنمائی فراہم نہیں کی گئی تھی ۔ ادارہ تحفظِ ماحول برائےصوبہ سرحد نےچھوٹےدرجےکےترقیاتی منصوبوں کےماحول پر اثرات کے حوالےسےمناسب رہنمائی کی ضرورت کو محسوس کرتےہوئےآئی یو سی این سرحد پروگرام سےرابطہ کرکےتعاون کی درخواست کی اور اس کےنتیجےمیں بائیس مختلف ترقیاتی شعبوں کو چار بڑےحصوں یعنی صنعت، زراعت، جنگلات اور شہری ماحول میں تقسیم کرتےہوئےماحولیاتی اثرات کی تشخیص کےجائزےکےلیےرہنما خطوط تیار کیے۔

یہ رہنما خطوط اس امر کو پیش نظر رکھےہوئےتیار کیےگئےتھےکہ محض چند عمومی اور سادہ عناصر کےذریعے چھوٹےاور درمیانےدرجےکےترقیاتی منصوبوں کو ماحول دوست بنایا جاسکتا ہے۔ بعد ازاں ان رہنماخطوط کو رسمی منظوری اور قواعد کا حصہ بنانے، نیز ملکی سطح پراطلاق کےلیے ادارہ تحفظِ ماحول، پاکستان کو بھجودایا گیا۔
آئی یو سی این نے پی ایس این پی کےتحت اس بات کو بھی یقینی بنانےکےلیےاقدامات کیےکہ ضلعی سطح پر بھی ان رہنما خطوط کا اطلاق ممکن ہوسکے۔ اس مقصد کےلیے ایبٹ آباد، چترال اور ڈیرہ اسماعیل خان کےعلاوہ شمالی علاقہ جات میں شراکت دار تنظیموں اورمقامی سطح پر موجوداداروں کےلیےتربیتی پروگرام منعقد کیے تاکہ مرتب کیےگئےرہنما خطوط کو ترقیاتی سرگرمیوں میں بہ آسانی روبہ عمل لانےکا عمل معمول کا حصہ بن سکے


حمید حسن خان پی ایس این پی سےبطوربطور کوآرڈینیٹر گورنس وابستہ ہیں۔