Jareeda Banner
 

ءمیں ایک صحافی دوست کےتوسط سے’جریدہ‘ سےتعارف ہوا۔ راقم فری لانس صحافی ہےاور اس حوالےسےیہ رسالہ میرےلیےکافی مددگار ثابت ہوا ہے۔
عابد میر،کوئٹہ
٭٭٭
’جریدہ‘ کا ایک نئےعہد میں داخل ہونا آپ کی عظیم الشان کامیابی ہے۔ دعا ہےکہ روشنی کا یہ سفر جاری رہےاور یہ رجحان ساز مجلّہ عصری آگہی کو پروان چڑھانےمیں اپنا کردار ادا کرتا رہے۔
ڈاکٹر غلام شبیر رانا،جھنگ شہر
٭٭٭
ہماری ایک تنظم ہےجو مختلف موضوعات پر تحقیق کا کام سرانجام دیتی -ہے تحقیق کےموضوعات میں ماحولیات بھی شامل -ہے ’جریدہ‘ ہمارےلیےنہایت معاون ہےکیونکہ اس میں شامل مضامین تحقیق کےضمن میں مددگار ثابت ہوتےہیں۔
وجاہت حسین مہر، شکارپور سندھ
٭٭٭
جنوری تا مارچ2007ءکا شمارہ موصول ہوا۔ بقائےماحول اور فروغِ آگاہی کےضمن میں’جریدہ‘ کا کردار قابلِ ستائش -ہے یہ رسالہ گزشتہ آب و تاب سےجاری رہےگا، یہ جان کر بہت خوشی ہوئی۔
سمیع جمال، گلشنِ اقبال،کراچی
٭٭٭
راقم ’جریدہ‘ کا پرانا قاری ہےاور یہ کہنےمیں مجھےکوئی عار نہیں کہ تاریخ و ثقافت، پہاڑ و قدرتی وسائل مختصر یہ کہ کرئہ ارض کےمجموعی ماحول سےجو آج میرا لگاؤ ہےوہ اسی رسالےکی بدولت ہی قائم ہوا -ہے اس کی اشاعت نہ صرف بقائےماحول بلکہ اردو کی بھی بڑی خدمت -ہے
احمد پراچہ، مدیر مجلّہ ’نایاب‘ کوہاٹ
٭٭٭
’جریدہ‘ جنوری تا مارچ 2007ءنظر سےگذرا۔ اس سےقبل یہ رسالہ نہیں دیکھا تھا۔ اس میں شامل مواد ہر لحاظ سےتحقیقی اور معلومات کےلحاظ سےمستند پائی۔ اس طرح کےرسالےہمارےملک میں نہ ہونےکےبرابر ہیں۔
علی نواز کلہوڑو، خیرپور میرس ،سندھ
٭٭٭
’جریدہ‘ کےصفحات اگرچہ محدود مگر جامع ہیں۔ دلچسپ اور مستند معلومات کی فراہمی میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ اس طرح کےرسالےصرف ابلاغ ہی نہیں کرتےبلکہ سماجی خدمات کےحوالےسےبھی ان کا اہم کردار ہے-
حیران مومند، مہمند ایجنسی ،فاٹا صوبہ سرحد
٭٭٭
پاکستان میں صاف پینےکےپانی کا حصول ایک بہت بڑا مسئلہ ہےآلودہ اور ناقص پانی کا استعمال طرح طرح کی جان لیوا بیماریو ںکا سبب ہی۔ ہم اگر صاف ماحول اور صحتمند معاشرےکا قیام چاہتےہیں تو اس بنیادی مسئلےکو پائیدار بنیادوں پر سب سےپہلےحل کرنا ہوگا۔
محسن الدین صدیقی، مدن پورہ، فیصل آباد
٭٭٭
’جریدہ‘کا پہلی بار مطالعہ کیا۔ماحول اور پائیدار ترقی پر اتنےعمدہ مضامین پر مشتمل رسالہ پہلےہماری نظروں سےنہیں گذرا۔ امید ہےآگاہی کا یہ سفر یونہی جاری رہےگا۔
آصمد میمن،کراچی
٭٭٭
ضلع گھوٹکی میں متعدد کارخانےاور گیس فیلڈز واقع ہیں جن کےباعث قوی امکان ہےکہ شہر میں آلودگی کی مقدار بڑھی ہے- نیزیہاں ایک شکر کا کارخانہ بھی لگ رہا ہےجو اس سال کےاختتام تک کام شروع کردےگا۔ افسوسناک بات یہ ہےکہ اس کےقیام سےقبل انوائرنمنٹل امپیکٹ اسسمینٹ نہیں کیا گیا -ہے میرا خیال ہےکہ اگر ہم اس طرح کےواقعات کےخلاف آواز نہیں بُلند کریں گےتو بہتر ماحول کےلیےباتیں کرنےسےکوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
محمد اعظم چاچڑ، گھوٹکی سندھ
٭٭٭
’جریدہ‘ ایک دوست کےذریعےملا۔ میں حیران ہوں کہ پاکستان میں بقائےماحول اور پائیدار ترقی پر گزشتہ ڈیڑھ عشرےسےاتنا اچھا رسالہ شائع ہورہا -ہے
افتخار احمد قائم خانی،جھڈو (میرپور خاص)
٭٭٭
’جریدہ‘ کا نیا شمارہ موصول ہوا۔ بلوچستان اور پائیدار ترقی کےحوالےسےہمیں اتنی معلومات حاصل ہوئیں جو شاید بلوچستان جا کر بھی نہیں ملتیں۔
ملک عبدالرشید،کوٹ ادّو
٭٭٭
اگرچہ یہ بات درست ہےکہ ملک میں مختلف حوالوں سےگزشتہ عشروں سےلےکر اب تک کافی ترقی ہوئی ہےتاہم ماحولیات کےضمن میں گزشتہ دس بارہ برسوں میں جو عوامی آگاہی کو فروغ حاصل ہوا ہےاسےہم یقیناً پائیدار ترقی کی سمت اہم قدم کہہ سکتےہیں۔ کہنےکی بات یہ ہےکہ بقائےماحول اور پائیدار ترقی باہم مربوط ہیں اور یہ ایک دوسرےسےمتصادم بالکل نہیں ہیں۔ اس لیےجب ہم ترقیاتی منصوبےشروع کرتےہیں تو اگر تھوڑا بہت اس کےماحولیاتی اثرات کی جانب بھی توجہ کرلیں تو اس سےماحول کو پہنچنےوالےنقصانات کا قبل از وقت تدارک کیا جاسکتا ہے۔
محمد عظیم ،راولپنڈی
٭٭٭
پاکستان میں بقائےماحول کےحوالےسےآئی یو سی این کی کوششیں نہایت قابلِ قدر ہیں۔ یہ ہمارا قدرتی ماحول ہی ہےجو ہماری بقا کی ضمانت دیتا ہے۔ ماحول کا تحفظ اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیےکہ کیا ہم اپنا قومی فریضہ درست طریقےپر سرانجام دےرہےہیں۔ جواب ہاں میں ہو تو اسےمزید جامع بنانےکی کوشش کرنی چاہیےاور اگر بدقسمتی سےجواب نفی میں ہو تو پھر اپنےرویےکو تبدیل کریں ۔ رویوں میں تبدیلی اور سوچ میں مثبت پہلو ہی ترقی کےسفر کی پہلی سیڑھی ہے۔
خاور زمان،لاہور
٭٭٭
کراچی سمیت ملک کےاکثربڑےشہروں کا سب سےبڑا مسئلہ فضائی آلودگی کا ہے۔ میرےخیال میں یہ مسئلہ نہ صرف ہماری معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہےبلکہ اس سےشہریوں میں بھی مہلک امراض خاموشی سےجنم لےرہےہیں۔ اگرچہ ’جریدہ‘ میں اکثر و بیشتر اس حوالےسےمضامین شامل ہوتےرہےہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہےکہ جیسےآپ دیگر موضوعات پر خصوصی شمارےنکالتےہیں، فضائی آلودگی اور پاکستان پر اس کےاثرات کےبارےمیں بھی ایک جامع خاص نمبر شائع کریں۔
نفیس شجاعت ،کراچی
آپ کی تجویز گرانقدر ہے۔ یہ موضوع ہماری فہرست میں شامل ہےاور جتنا جلد ممکن ہوسکا اس حوالےسےخاص نمبر شائع کیا جائےگا۔ (مدیرِ جریدہ)
٭٭٭
’جریدہ‘ اس لحاظ سےمنفرد ہےکہ اس میں شائع شدہ معلومات مصدقہ ہوتی ہیں اور ان پر آنکھیں بند کرکےاس لیےبھی اعتبار کیا جاسکتا ہےکہ یہ بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کےتحت شائع ہوتا ہےجو کہ خود ایک تحقیقی ادارہ ہے۔ پاکستان میں بقائےماحول کےلیےآئی یو سی این کی کوششیں گرانقدر ہیں ۔
طفیل احمد