Jareeda Banner

 
شمالی پاکستان میں سماجی روایات، معاش اور قدرتی وسائل کےباہمی امتزاج سے آنےوالی مثبت تبدیلیاں جو نئےعہد کی نقیب ہیں۔
تحریر و تصویر: مختار آزاد

شمالی پاکستان کا ایک وصف تو اس کےحسین نظارےٹہرےلیکن ان کی خدمات کا دائرہ اس سےبھی وسیع تر ہے۔ شمال کا حُسن اگرآنکھوں کو خیرہ کرڈالتا ہےتو اس کےقدرتی وسائل یہاں کےلوگوں کی اکثریت کو پیٹ بھرنےکےلیےمعاشی ذرائع اور رہنےکےلیےایسا سائبان مہیا کرتےہیں جہاں زندگی گذارنےکےلیےتمام سازگار عناصر موجود ہیں، لیکن کیا معاشی افادیت کےحامل ان قابلِ تجدید اور ناقابلِ تجدید قدرتی وسائل کی بقاکےلیےہم نےسازگار ماحول مہیا کیا ہے؟

یہ سوال ڈاکٹر مایور سےکیا۔ وہ شمالی علاقہ جات کےعلاقےچلاس کی وادی ہُڈر کےباشندےہیں جہاں معاش کےلیےسب سےبڑا انحصار اب چلغوزہ کےجنگلات ہیں۔ قدرتی وسائل کی اہمیت اور زندگی میں ان کی افادیت کو سمجھتےہیں۔ سوال سن کر یکلخت کہ اُٹھے’شاید ماضیِ قریب میںنہیں، مگر اب ایسا ہورہا ہی۔‘ یہ کہہ کر انہوں نےتفصیل بیان کی !

’شمالی علاقہ جات روایتوں کا علاقہ ہےاور یہاں نسل درنسل چلنےوالی روایات صرف انسانوں کی بقا تک ہی محدود نہیں بلکہ قدرتی وسائل اور جنگلات کا تحفظ بھی ان کا اہم حصہ ہے، جنہیں ہم روایتی اور غیر تحریری قوانین کہہ سکتےہیں۔ ان کی تفصیل کےلیےتو طویل وقت درکار ہوگا۔ مختصراً یہ جان لیں کہ ان کی پاسداری سب پر لازم ہے، لیکن تیز رفتار وقت نےان کی افادیت پر بھی ہلکا سا پردہ ڈالا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشی افادیت کےحامل ہمارےقدرتی وسائل پر ان کا بُرا اثر پڑا، مگر اب حالات نےروایت، معاش اور قدرتی وسائل کےمربوط تعلق کو ایک نئی صورت میں ہمارےسامنےپیش کیا ہے۔ اس نےہماری معاشی حالت کو ایک نئےراستےپر ڈال دیا ہے۔‘ اس کی تفصیل بیان کرتےہوئےوہ کہتےہیں!

’ہماری کمیونٹی قدیم روایتوں کی امین ہےجس میں درخت کو بےسبب کاٹنا بھی منع ہےلیکن کوئی ذریعہ معاش نہ ہو پھر آپ کیا کریں گی۔ بس اس بات کا اطلاق وسیع تر معنوں میں کرلیں تو اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ قدرتی وسائل کےانحطاط کی شرح کیا ہوگی۔ ہمارےیہاں جنگلات کمیونٹی کی ملکیت ہیں۔ یہ ہمارا اجتماعی ملکیتی ورثہ ہے۔ اس سےپائیدار استفادہ کیسےکیا جائےکہ جو ہماری صدیوں پرانی روایتوں کےامین ہونےکا عکاس ہو اور مقامی باشندوں کی معاشی حالت بھی بہتر بنائی جاسکی۔ جب تک اس ربط کا ہمیں علم نہیں تھا، اس وقت تک وسائل خطرےمیں تھی، مگر آج یہ ربط ہمیں معلوم ہوچکا ہے۔یہی وجہ ہےکہ ہماری وادی جس کی آبادی بمشکل چند ہزار نفوس پر مشتمل ہے، اس نےاس سال چلغوزےکی فروخت سےپانچ کروڑ روپےکی آمدنی حاصل کی ہی۔ یہ صرف اس وقت ممکن ہوا جب آئی یو سی این نےپی ایس این پی کےتحت ہمیں رہنمائی دی۔ پروگرام کےشراکت داروں نےہماری مدد کی اور آج یہ حالت ہےکہ پہلےجو لوگ چلغوزہ جنگلات کو اہمیت نہیں دیتےتھی، اب ،خود وسیع جنگلات کی حفاظت باقا عدہ چوکیداری نظام کےتحت کررہےہیں۔ یہ سب اُس وقت ہی ممکن ہوسکا جب ہمیں قدرتی وسائل، معاش اور ان کےپائیدار استعمال کےحوالےسےآگہی ملی، طریقئہ کار ملا اور سائنسی بنیادوں نیز منڈی کی تجارت کا علم حاصل ہوا۔ تبھی آج ہم اس قابل ہیں کہ اپنا چلغوزہ چین لےجا کر فروخت کررہےہیں۔‘ آگےچل کر وہ کہتےہیں ’اب ہم اس بات کی ضرورت محسوس کررہےہیں کہ آئی یو سی این ہمارا ساتھ نہ چھوڑی۔ پروگرام کی مدت اختتام پذیر ہونےوالی ہےلیکن ہم سمجھتےہیں کہ اگر اس اشتراک کا دورانیہ چند سالوں تک اور بڑھ جائےتو ہم مزید بہتر خطوط پر نہ صرف خود کو منظم کرسکتےہیں بلکہ جو راہ ہمیں پی ایس این پی سےملی ہی، اس پر سفر کرتےہوئےپائیدار ترقی، معاش اور قدرتی وسائل کےانتظام کو مزید بہتر کرسکتےہیں۔‘

مغفرت شاہ صوبہ سرحد کےضلع چترال کےناظم ہیں۔ روایتی معاشرےمیں تعلیم یافتہ قیادت ہیں اسی لیےقدرتی وسائل کےانتظام ، شراکتِ علم اور استعداد سازی کی اہمیت سےآگاہ ہیں۔ وہ کہتےہیں!

’کئی برس پہلےجب آئی یو سی این سرحد پروگرام کےتحت مشاورتی عمل کےذریعےچترال کا ترقیاتی خاکہ ترتیب دیا جارہا تھا، اُس وقت میں بھی اس عمل کا حصہ تھا۔ دورِ طالب علمی تھا، اس لیےزاویہ نظر زیادہ وسعت نہیں رکھتا تھا۔ اُس وقت میرا ایک سوال یہ بھی تھا کہ ضلعی ترقیاتی خاکہ ترقی میں ہماری کیا مدد کرسکتا ہی۔ اُس وقت کےجواب سےتو میری تشفی نہیں ہوئی لیکن جب میں چترال کی ضلعی حکومت کا ناظم بنا تو اس دستاویز نےترقیاتی منصوبہ سازی، فنڈز کےحصول اور قدرتی وسائل کو مدِ نظر رکھتےہوئےعوامی مسائل کے حل میں میری اتنی مدد کی کہ جو میں بتا نہیں سکتا۔ بات دلچسپ یہ ہےکہ دستاویز مختلف سیاسی نظریات کےحامل لوگوں میں بھی غیر متنازعہ ہی۔ سچ یہ ہےکہ ترقی کا راستہ مشاورت سےچُنا جائےتو غیر متنازعہ ہی رہتا ہی۔ اس لیےجب اس خاکےکی تیاری کےبعد آئی یو سی این نےاپنےشراکت داروں کےہمراہ چترال میں پی ایس این پی کا آغاز کیا تو ہمیں یقین تھا کہ اب ایک نئی داستان رقم ہوگی اور یقیناً جو کام ہمیں کرنےہیں ان کا کچھ بوجھ یہ اپنے کاندھوں پراس طرح اٹھائیں گےکہ ایک عام آدمی کو برائہ راست اس کا فائدہ پہنچےگا، اور ایسا ہوا بھی۔ انتظامِ آب، چلغوزہ جنگلات کےتحفظ اور معاشی استفادےکےپروگراموں کی معاونت یقیناً ہمارےقدرتی وسائل کی بقا کو ایک نیا راستہ عطا کرگئی ہی۔ ہماری تو درخواست ہےکہ آئی یو سی این سرحد پروگرام چترال میں اپنا پروگرام جاری رکھےاور موجودہ منصوبے( پی ایس این پی) کی مدت میں اضافہ کرےکیونکہ ابھی اس بات کی اشد ضرورت ہےکہ ہمارے قدرتی وسائل آئندہ آنےوالی نسلوں تک پہنچانےکا فریضہ کس طرح زیادہ بہترانداز میں انجام پائی۔‘

خالد حسین Innovation For Poverty Reduction Project (IPRP) کےکو آرڈینیٹر ہیں اور چترال کےعلاقےشیشی کوہ میں چلغوزہ جنگلات، غربت میں کمی اور قدرتی وسائل کےپائیدار استعمال کےمنصوبےمیں پی ایس این پی کےشراکت دار بھی ، آپ کہتےہیں!

’پی ایس این پی کےتحت آئی یو سی این کی اس منصوبےمیں شرکت ہمارےلیےانتظامِ علم کےحوالےسےبہت اہمیت کی حامل رہی ہی۔ اگرچہ ہمارا منصوبہ کامیاب رہاہےلیکن ہم سمجھتےہیں کہ انتظامِ علم کی جو صلاحیت آئی یو سی این کو حاصل ہے، اس سےمزید استفادےکےلیے منصوبےکا دورانیہ بڑھایا جائےتاکہ مزید بہتر انداز میں علم ہم تک منتقل ہوسکے، ہماری استعداد سازی میں مزید اضافہ ہوسکے۔ جس سےہم مستقلِ قریب میں دوسرےعلاقوں میں ایسی کامیاب مثالیں دُہراسکیں جہاں قدرتی وسائل بےپناہ دباوؤےباعث خطرات سےدوچار ہیں۔‘

شراکت کی بات چلی ہےتو سنتےچلیں کہ شمالی علاقہ جات کےضلع غذر کی وادیِ گوپس میں واقع کھلتی جھیل بھی پی ایس این پی کا نمائشی منصوبہ ہے، جہاآکا نیلگوں پانی ٹراؤٹ مچھلی کا مسکن ہے۔ اگرچہ یہ علاقہ روایت پسند ہےلیکن آئی یو سی این کےاستعداد سازی کےمراحل نےیہاں کی خواتین کو بھی جھیل کی معاشی افادیت سےروشناس کروادیا ہے۔ مقامی خاتون نوراں بی بی کا کہنا ہے’پہلےتو مجھےاس جھیل سےفائدےکا علم ہی نہیں تھا لیکن جب آئی یو سی این نےکھلتی ٹراؤٹ منصوبہ شروع کیا تب مجھ پر اس کی افادیت کھلی ۔ آج معاشی کفالت میں یہ جھیل میری شریک ہے۔ مجھےاس جھیل سےاتنی ٹراؤٹ مل جاتی ہی، جسےگلگت کی بڑی بڑی ہوٹلوں میں فروخت کرکےاچھی خاصی آمدنی حاصل ہوجاتی ہے۔ میری تو قسمت ہی بدل گئی۔ اب میری غربت کچھ کم ہوئی ہے۔‘

نوراں بی بی تنہا نہیں، اب یہ جھیل اِن جیسےکئی اور لوگوں کےلیےبھی معاشی اہمیت کی حامل ہےجو پہلےاس کی معاشی افادیت کو نہیں جانتےتھی۔ اس منصوبےکی کامیابی کےنتیجےمیں اب مقامی باشندےمحکمہ ماہی پروری سےلائسنس حاصل کرکےروزانہ ڈور کی مدد سےمچھلی پکڑ کر فروخت کرنےکےمجاز ہیں۔ کھلتی جھیل کو پی ایس این منصوبےکےتحت ماحولیاتی سیاحت کےایک ایسےمقام کی حیثیت مل گئی ہی، جس نےخاص طور پر مچھلی کےشکاریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی ہے۔ آئی یو سی این کی جانب سےیہاں ماحولیاتی سیاحت کےفروغ کےضمن میں شروع کیےگئےFish Angling Tournamentکےایک شریک مقابلہ کےمطابق ’ اب یہ علاقہ مشہور ہوچکا ہےاور علاقےمیں سیاحت سےمنسلک مختلف شعبوں کےفروغ کا سبب بن رہا ہے۔ ان سب کا معاشی فائدہ بالآخر مقامی باشندوں کو ہی ہوگا۔ روزگار کےمواقع ہوں گےتو قدرتی وسائل پر انحصار بھی کم ہوگا۔ ایسےمنصوبوں کی افادیت کےپیشِ نظر ضروری ہےکہ اس پروگرام کو مزید دوسرےعلاقوں تک بھی وسعت دی جائے۔‘
بات افادیت کی آئی ہےتو دریائےسندھ کےکنارےواقع صوبہ سرحد کےضلع ڈیرہ اسماعیل خان کےمحکمئہ ماہی پروری کےاسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد شفیع کی بات بھی سنتےچلیں۔ وہ کہتےہیں!

’صوبہ سرحد کا یہ ضلع اپنی جھیلوں اور مچھلیوں کی وجہ سےمشہور ہے۔ چھوٹی بڑی درجنوں جھیلیں یہاں واقع ہیں۔ آئی یوسی این سرحد پروگرام نےجب یہاں پر پی ایس این پی کےتحت منصوبےکا آغاز کیا اور تھت تھل جھیل کا نمائشی منصوبہ شروع کرنےسےقبل شراکت داروں سےوسیع تر مشاورت کا عمل شروع کیا تو اس سےکئی چیزوں کی افادیت واضح ہوئی۔ یہاں جھیلوں اور دریاؤں پر ٹھیکیداری نظام نافذ ہےجبکہ شراکت داروں کا نقطئہ نظر یہ تھا کہ ان سےمقامی باشندوں کو استفادےکا حق حاصل ہونا چاہیےتاکہ ان کی معاشی پسماندگی دور ہوسکے۔ یہ اچھی رائےتھی۔ اگر لوگوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہےتو اسےچارہ جوئی کرنےکا حق حاصل ہےاور اس کےلیےقانونی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اچھی بات یہ ہےکہ لوگوں کی استعداد سازی نےانہیں قوانین سازی اور اصلاحات کی افادیت سےروشناس کروادیا ہے، مگر یہ سب کچھ ابھی ابتدائی سطح پر ہےلیکن پروگرام جو کہ اختتامی مراحل میں ہے، اسےتوسیع دےدی جائےتو لوگوں میں قدرتی وسائل کےانتظام کےحوالےسےمزید استعداد پیدا کرکےزیادہ مناسب طریقےسےمعاشی تبدیلی کا رجحان لایا جاسکتا ہے۔‘

محمد نواز بھی ڈیرہ اسماعیل خان کےباشندےہیں۔ کہتےہیں ’ڈیرہ اسماعیل خان پسماندہ ضلع ہےلیکن یہاں جھیلوں اور دریا کی بدولت دولتِ ماہی کا خزانہ موجود ہے۔ اب ہم سمجھتےہیں اگر صوبائی قوانین میں تبدیلی لاکر ماہی گیری کا ٹھیکیداری نظام ختم کردیا جائےتو اس سےضلع کی یہ دولت ضلع کےہی لوگوں کی پسماندگی دور کرنےکا سبب بن سکتی ہے۔ جب وسیلہ ہمارا اپنا ہو اور اس کےاستعمال کا حق بھی ہمیں حاصل ہو تو کوئی بھی اپنا ذریعہ معاش غیردانشمندانہ طور پر استعمال نہیں کرےگا۔پی ایس این پی منصوبےکی استعداد سازی کی ورکشاپوں نےہمیں یہ راہ دکھا تو دی لیکن آگےتک جانےکےلیےہمیں ابھی آئی یو سی این کا مزید ساتھ چاہیے۔‘

پائیدار ترقی کےلیےہمیں وسائل کا پائیدار استعمال کرنا چاہیےورنہ آنےوالی نسلوں کو کیا ملےگا؟