Jareeda Banner

 

آسمان کو چھوتی ہوئی برف پوش چوٹیاں، بُلند و بالا پہاڑی سلسلےاور ان کےڈھلوانوںپر سر بُلنددرخت، ان سب کےدامن میں آباد وادیاں، جہاں رات سوجائےتو چشمےبول اٹھتےہیں اور صبح ہو تو چہار سو پھیلا سبزہ آنکھوں کو تراوٹ عطا کردیتا ہے۔ صبح کی پہلی کرِن کےساتھ ہی دلکش خدوخال والےمحنتی جفاکش لوگ زندگی کی دوڑ میں شامل ہوجاتےہیں، یہ ہے۔۔۔شمالی

پاکستان۔۔۔۔صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات کو مختصراً شمالی پاکستان کہا جاتا ہے۔ پاکستان کےیہ وہ جغرافیائی خطّےہیں جہاں ماحول اپنی فطری شکل میں جنت نظیر سمجھا جاتا ہے۔
صوبہ سرحد جغرافیائی طور پر ایسا صوبہ ہےجس کی سرحدیں کئی ملکوں سےملتی ہیں۔ اسی لیےبرطانوی دور میں اسیNorth-West Frontier Province کا نام دیا گیا جو اردو اور دیگر پاکستانی زبانوں میں ’صوبہ سرحد‘ کہلایا۔ موجودہ صوبہ سرحد کو1901 ءمیں صوبےکا درجہ دیتےہوئےاس کی حد بندی کی گئی۔ مشرق میں اس کی سرحد پنجاب اور مغرب میں بلوچستان سے ملتی ہیں۔ جنوب کےعلاوہ شمال میں بھی اس کی سرحد افغانستان سےملتی ہےاور شمال میں ہی چین واقع ہےجس سےزمینی راستےکےذریعےرابطہ ہے۔ علاہ ازیں افغانستان میں واخان کی پٹّی صوبہ سرحد کو وسط ایشیا سےعلیحدہ کرتی ہے۔


صوبہ سرحد نہایت دلچسپ اور متنوع جغرافیائی خد و خال رکھتا ہے۔ اس کی جنوبی سرحد کی انتہائی سطح سمندر سےصرف250میٹر بُلند ہےتو اس کا انتہائی شمال قراقرم اور ہندوکش پہاڑی سلسلےکا حامل ہےجس کی سطحِ سمندر سےبُلندی ہزاروں میٹر ہے۔ اوسطاً ہندو کش اور قراقرم کی سطحِ سمندر سےتین ہزار میٹر بُلند ہیں، جبکہ چترال میں واقع تِرچ میر کی چوٹی کی بُلندی سطحِ سمندر سی7,708 میٹر ہے۔
صوبہ سرحد کو مجموعی طور پر مندرجہ ذیل تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
(1)وسطی میدانی علاقی: یہ علاقہ وادیِ پشاور پر مشتمل ہے، جس میں پشاور ، مردان اور مالا کنڈ ڈویژنوں کا جنوبی حصہ شامل ہے۔
(2) شمالی اور شمالی مشرقی پہاڑی علاقی: یہ علاقہ مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنوں کےپہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے۔
(3) جنوبی نیم بنجر میدان: یہ علاقہ کوہاٹ،بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کےاضلاع پر مشتمل ہے۔
صوبہ سرحد کا رقبہ ایک لاکھ مربع کلومیٹر سےکچھ زیادہ ہےجس کا تین تہائی حصہ صوبائی حکومت کی عملداری میں آتا ہےجبکہ بقایا حصہ وفاق کےزیرِ انتظام قبائلی علاقہ FATA کہلاتا ہے۔صوبائی حکومت کےماتحت علاقےمیں سات قبائلی ایجنسیاں واقع ہیں جبکہ 24 اضلاع اس کی عملداری میں آتےہیں۔

یہیں درئہ خیبر بھی واقع ہےجسےوسط ایشیا سےآنےوالوں کےلیےبرِ صغیر کا دروازہ کہا جاتا تھا۔ ہزاروں برس سےیہ راستہ افغانستان کےذریعےوسط ایشیا سےزمینی رابطےکا ذریعہ رہا ہے۔ یہی وہ راستہ ہےجس سےگذر کر سکندرِ اعظم، محمود غزنوی، تیمور لنگ، عظیم مغل شہنشاہ اور سلطنتِ مغلیہ کا بانی بابر، نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی برِ صغیر میں داخل ہوئی۔ چھ صدی قبلِ مسیح میں یہی وہ خطہ ہےجو بدھ مت کی عظیم گندھارا تہذیب کا مرکز رہا ہی۔ تاریخ کےاتار چڑھاؤ اور مختلف ثقافتی مزاجوں سےآشنائی ہی وہ سبب ہےکہ جس کی بدولت اس خطّےمیں متنوع ثقافتی اور روایتی منظر نامہ وجود میں آیا، جسےبُلند و بالا پہاڑوں کی فصیل نما قدرتی دیواروں نےدوسری ثقافتوں کےزیرِ اثر آنےسےبچائےرکھا۔ مواصلاتی رابطوں کی اسی رکاوٹ کا امتزاج ہےکہ شمالی پاکستان کےہر خطّےکی صدیوں پرانی اپنی ثقافتی و روایتی پہچان برقرارہےجو اب بھی قدامت کارنگ لیےہوئےہے۔

صوبہ سرحد کی آبادی اس وقت 20ملین کےقریب ہی،جس میں سالانہ ڈھائی فیصد کی شرح سےاضافہ ہورہا ہی۔ صوبےکی لگ بھگ پچاس فیصد آبادی پہاڑی علاقوں اور خشک و نیم بنجر علاقوں میں سکونت رکھتی ہی۔اکثریت مذہبی اعتبار سےمسلم اور پرانی ثقافت و روایات کےباشندوں پر مشتمل ہی۔لگ بھگ دو تہائی آبادی کی نسلی جڑیں افغانستان اور وسط ایشیا سےملتی ہیں۔ یہ لوگ پشتو زبان بولتےہیں اور ان کا طرزِ تحریر عرب رسم الخط سےمتاثر ہی۔ علاوہ ازیں دیگر ایک تہائی باشندےہندکو، کھوار کو مختلف لہجوں میں بولتےہیں جن پر سرائیکی اور کوہستانی لہجہ غالب ہے۔ لوگوں کی اکثریت پشتو اور دیگر مقامی بولیوں کےعلاوہ اردو بھی لکھنا، پڑھنا اور بولنا جانتی ہے۔ علاوہ ازیں، 80ءکی دہائی میں سوویت یونین کی افغانستان میں دراندازی کےباعث لاکھوں مہاجرین نےہجرت کرکےسرحد کو ہی اپنی پناہ گاہ بنایا اور اب دری، ازبک اور تاجک زبانیں بھی اس معاشرےمیں شامل ہوچکی ہیں، تاہم یہ لوگ بالعموم پشتو زبان کو ہی اظہار کا ذریعہ بناتےہیں۔

شمالی پاکستان کا یہ خطّہ دنیا کےان حصوں میں شامل کیا جاتا ہےجہاں اولین انسانی تہذیبوں نےجنم لیا۔ یہاں جنم لینےوالی تہذیب کو ’سندھ تہذیب‘کےنام سےجانا جاتا ہے۔ یہ سرزمین قدرتی وسائل کےلحاظ سےنہایت زرخیز رہی ہےاور اس میں انسان کےانحصار کےلیےدرکار تمام سازگار عناصر موجود رہےہیں، اسی لیےانسانی تہذیب بہ آسانی پروان چڑھی۔صوبہ سرحد اور اس کےقدرتی وسائل کی معاشی اہمیت گزشتہ صدیوں سےلےکر آج تک برقرار ہے، تاہم گزشتہ چند دہائیوں کےدوران انسانی آبادی میں اضافہ اور وسائل پر ضرورت سےزیادہ پڑنےوالےدباؤ نےمعاش، ماحول اور انسان تینوں پر منفی اثرات مرتب کیےہیں۔ اس تناظر میں صوبائی حکومت کی درخواست پر آئی یو سی این نے’صوبہ سرحد: پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی‘ کی تیاری کا آغاز کیا جو1992میں شروع ہو کر1995ءمیں تکمیل کو پہنچی۔ پاکستان میں صوبائی سطح پر تیار کی جانےوالی یہ پہلی حکمتِ عملی تھی۔ جس کا مقصد بقائےماحول و معاش اور پائیدار ترقی کےلیےلائحہ عمل مہیا کرنا تھا۔

NOrthern Pakistan
شمالی پاکستان قدرتی وسائل سےمالا مال ہی۔ ہمیں یہ وسائل آنےوالی نسلوں تک بھی منتقل کرنےہیں۔


قراقرم، ہندوکش اور ہمالیہ جیسےبڑےسلسلوں کےدامن میں آباد شمالی علاقہ جات کو کبھی ’بامِ دنیا‘ کےنام سےبھی جانا جاتا تھا۔ یہ نام اسےاپنی دشوار گذار گھاٹیوں کی بدولت ملا تھا جس کا سبب دنیا کےدیگر حصوں سےاس کا برائےنام ہی رابطہ تھا تاہم آج جدید مواصلاتی سہولتوں اور شاہرائہ قراقرم نےاس علاقےتک رسائی کو اتنا ہی سہل بنادیا ہےجتنا کہ کوئی اور علاقہ۔ 72ہزار،4سو،96مربع کلومیٹر پر مشتمل یہ خطّہ بےپناہ قدرتی وسائل اور حُسنِ فطرت سےمالا مال ہے۔
سرسبز جنگلات، گنگناتےچشمی، کھلی وادیاں، نیلگوں دریا اور برف سےڈھکی پہاڑی چوٹیاں اور گلیشیر اس کا اعزاز ہیں ، سرخ و سپید رنگت والےمحنتی و جفاکش لوگ حسنِ فطرت کےاس ورثےکےوارث ہیں۔ دریائےسندھ پاکستان کی آبی شہ رگ ہےجوان ہی وادیوں میں پگھلنےوالی برف کےپانیوں کی بدولت پورےپاکستان کو سیراب کرتا ہے۔ پاکستان کی بقا اور خوشحالی کےلیےشمالی علاقےکلیدی اہمیت کےحامل ہیں۔ 1998ءکی مردم شماری کےمطابق شمالی علاقہ جات کی کُل آبادی8لاکھ، 70ہزار نفوس پر مشتمل ہی۔ یہاں کےباشندےثقافت اور تاریخ کےقیمتی ورثےکےامین ہیں اور آج بھی قدیم روایات و ثقافت کو سینےسےلگائےبیٹھےہیں۔ قدرت کی بےپناہ فیاضی کےباوجود یہ علاقہ مختلف مسائل کی آماجگاہ رہا ہی۔ فطرت کےمسحور کن حُسن کےاندر یہاں کےلوگوں کی غُربت اور مشکل زندگی پوشیدہ ہےجو یہاں مناظرِ فطرت سےلطف اندوز ہونےکےلیے آنےوالےسیاحوں کو شاید ہی نظر آتی ہو، لیکن یہ لوگ اپنی لگی بندھی زندگی کےدھارےمیں بہتےچلےآرہےہیں۔

شمالی علاقہ جات کا قدرتی حُسن ، یہاں کےلوگ اور ان کےمسائل بیرونی دنیا کی نظروں سےبڑی حد تک اوجھل رہےلیکن مواصلاتی رابطوں کی بدولت صورتِ حال میں تیزی سےتبدیلی آئی ہی۔ قیامِ پاکستان کےوقت یہاں ایک چھوٹا سا ہوائی اڈہ تھا، چند ایک پُل اور کُل ملا کر نو کچی سڑکیں تھیں جن پر گھوڑوں کےذریعےسفر ممکن ہوتا تھا۔ حالات نےپلٹا اُس وقت کھایا جب1978ءمیں شاہرائہ قراقرم کا افتتاح ہوا۔ سڑک کیا بنی فاصلےسمٹنےلگی، مواصلات کا جال پھیلنےلگا۔ آج شمالی علاقہ جات میں سیکڑوں میل طویل پختہ سڑکیں، ساڑھےتین سو سےزیادہ پُل اور دو ہوائی اڈے(گلگت اور اسکردو میں) موجود ہیں۔ یوں باقی دنیا سےرابطوں کےنتیجےمیں شمالی علاقہ جات کی سست روزندگی میں بھی تیزی سےتبدیلیاں آنےلگیں۔

شمال کا وہ معاشرہ جو صدیوں سےلگی بندھی ڈگر پر چل رہا تھا، جدید دنیا کےشانہ بشانہ چلنےکےلیےزقند بھرنےلگا۔ تبدیلی کےلیےاس پرانےمعاشرےپر دباؤ بڑھنےلگا لیکن جہاں سماجی تبدیلی ناگزیر ہوتی ہی، وہاں اس کی ہر صورت مفید بھی نہیں ہوتی۔ تیز رفتار سماجی تبدیلیوں سےبہت سےمسائل بھی جنم لیتےہیں۔ یہی مسائل شمالی علاقہ جات کو بھی درپیش ہیں۔ وہ جنگلات جو ازلی و ابدی خاموشی کے سکون میں لپٹےہوئےتھی، کاٹےجانےلگےاور یوں ان کا رقبہ گھٹتا ہی جارہا ہی۔ پودوں اور جانوروں پر مشتمل متنوع جنگلی حیات و نباتات کےوجود کی بقا کو خطرات لاحق ہیں، جدید دنیا کا ساتھ نبھانےوالےقدیم روایتوںاور ثقافتی ورثےسےمنہ موڑ رہےہیں۔ بڑھتی آبادی اور ماحول کو پہنچنےوالےنقصانات کےسبب غذائی خود کفالت میں کمی آئی ہےاور غربت کی شرح بڑھ گئی ہی، جس کا سب سےبُرا اثر عورتوں اور بچوں پر پڑا۔ چنانچہ اس بدلتی ہوئی صورتِ حال کا سامنا کرنےاور بقائےماحول و معاش کےلیےپائیدار ترقی کا جامع منصوبہ تیار کرنا لازمی ہوگیا تھا۔اس تناظر میں2003ءمیں ’شمالی علاقہ جات: پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی‘ تکمیل کو پہنچی۔

تحریر و تحقیق: مخار آزاد