Jareeda Banner

صوبائی اور ضلعی سطح پرماحولیاتی منصوبوں کےلیے یہ فنڈ رقم فراہم کرتا ہےجس میں نگرانی اور انتخاب کا موثر نظام موجود ہے۔

تحریر : فریال حسین


 


تحفظِ ماحول کےقانون ’پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ مجریہ 1997‘ کی شق9کےتحت ہر صوبےکےلیےلازم ہےکہ وہ اپنی حدود میں صوبائی پائیدار ترقیاتی فنڈProvincial Sustainable Development Fund (PSDF) قائم کری۔ اس فنڈ کےقیام کا بنیادی مقصد ایسا ادارہ قائم کرنا ہےجوبقائےماحول سےوابستہ منصوبوں،آلودگی پر قابو پانے، نیز تحقیق و ترقی کےایسےمنصوبوں کےلیےدرکار مالی ضروریات میں معاونت کرنا ہے، جو تحفظِ ماحول کےوسیع تر تناظر میں پاکستان انوائرنمنٹل پرو ٹیکشن ایکٹ کےمقاصد کےحصول میں معاون ثابت ہوں۔اس پس منظر میں صوبہ سرحد میں نومبر2001ءکو ’صوبائی پائیدار ترقیاتی فنڈ‘ کا قیام عمل میں آیا۔

 
اس وقت چترال اور ایبٹ آباد ، دونوں اضلاع میں قائم پائیدار پائیدار ترقی فنڈ عملی بنیادوں پر کام کررہا ہے
 

صوبہ سرحد میں قائم اس بورڈ کے14ارکان ہیں، جس کےسربراہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہیں۔ تحفظِ ماحول کےصوبائی ادارے’انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی‘ کےڈائریکٹر جنرل بورڈکےسیکریٹری ہیں۔ بورڈ کےقیام کےبعد اس کےلیےدرکار مالی ضروریات کی مد میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کےتحت 50لاکھ روپےمختص کیےگئے۔ مزیدِ برآں آئی یو سی این-سرحد: پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کےسپورٹ پروگرام حصہ چہارم کےتحت ترقی اور تعاون کےسوئس ادارےSDC نےصوبائی فنڈ کےلیےمزید 50لاکھ روپےبطور امداد دیے۔

فنڈ کی رقوم کےاستعمال کےقواعد و ضوابط کےمطابق2006ءکےدوران 18لاکھ روپےان تین منصوبوں کےلیےمنظور کیےگئے، جنہیں فنی ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی نےجمع کرائےگئے23منصوبوں میں سےمنتخب کیا تھا۔ اسی طرح سالانہ ترقیاتی پروگرام میں فنڈ کےلیےمختص کی گئی بقایا رقم میں سےمزید دس لاکھ روپے2007ءکےمنصوبوں پر خرچ کیےجا ئیں گے۔

صوبائی پائیدار ترقیاتی فنڈ کا قیام پاکستان میں بقائےماحول کےحوالےسےکی جانےوالی کوششوں کو مزید موثر بنانا ہےجو ایک خوش آئند اقدام ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی قارئین کےلیےدلچسپی سےخالی نہیں ہوگا کہ اس فنڈ کےقیام کا خیال سرحد: پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کی تیاری کےبعد اس حوالےسےجاری امدادی پروگرام کےدوران سامنےآیا۔ جسے ایسےطریقئہ کار کےطور پر اختیار کیا گیا جس سےضلعی پائیدار ترقیاتی خاکوںIntegrated Development Vision کی تیاری کےبعد ان کےنفاذ کےلیےدرکار مالی وسائل حاصل کیےجاسکیں۔ صوبہ سرحد میں ضلع کی سطح پر تیار کردہ ترقیاتی خاکوں کی دستاویز میں بھی یہ خیال شامل ہی، جس کی دستاویز کی حتمی منظوری کےدوران بھی توثیق کردی گئی۔ جب ضلعی ترقیاتی خاکوں کےعملی نفاذ کا مرحلہ آیا تو اس اچھوتےخیال کےتحت درکار مالی وسائل کےحصول کےطریقئہ کار کو عملی طور پر اپنایا گیا۔ پائیدار ترقی اور بقائےماحول کےلیےدرکار مالی ضروریات پوری کرنےکےلیےاس فنڈ کےقیام کو نہ صرف پذیرائی ملی بلکہ آج قومی سطح پر اس کا نفاذ ہوچکا ہے۔

یہاں بتاتےچلیں کہ چترال اور ایبٹ آباد کےضلعی ترقیاتی خاکوں کےنفاذ کےدوران ان دونوں اضلاع نےخود کو2005ءکےدوران کمپنیز آرڈیننس ، 1984ءکےتحت غیر منافع بخش کمپنیوں کےطور پررجسٹرڈ کروایا اور اب مذکورہ قانون کےقواعد و ضوابط کےتحت فنڈ کااستعمال کیا جارہا ہے۔ یاد رہےکہ قواعد کےمطابق فنڈ کے استعمال کی نگرانی کرنےکےلیےآزاد بورڈ آف ڈائریکٹرز قائم ہے۔ جس میں حکومت اور سول سوسائٹی کےارکان کی بھی نمائندگی شامل ہے۔

اس وقت چترال اور ایبٹ آباد، دونوں اضلاع میں قائم پائیدار ترقیاتی فنڈ عملی بنیادوںکام کررہا ہے۔ دونوں اضلاع کی متعلقہ ضلعی حکومتوں اور ان میں قائم فنڈ کےلیے بنیادی رقم ( فی ضلع دس لاکھ روپی)سوئس ترقیات و تعاون کےادارےSDC نےبطور امداد دی ہے۔

ان دونوں اضلاع کی ضلعی حکومتوں نےپائیدار ترقیاتی خاکوں کی رو سےضلع میں بقائےماحول و پائیدار ترقی کےمنصوبوں کےلیےاس فنڈ سےاستفادےکےلیےاخبارات میں اشتہارات کےذریعےمقامی کمیونٹی تنظیموں (CBOs) اور کمیونٹی سٹیزن بورڈ(CCBs) سےدرخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستوں کےانتخاب کےلیےطریقئہ کار موجود ہےجس پر عملدرآمد کےلیےکمیٹی قائم ہے۔ یہ کمیٹی قواعد و ضوابط پر پورا اترنےوالےمنصوبوں کےلیےضلعی پائیدار ترقیاتی فنڈ سےبجٹ جاری کرےگی۔ نیز منصوبےپر کام کےآغاز سےہی ضلعی سطح پر قائم نگراں کمیٹیاں کام کا جائزہ لیں گی اور اختتام پر منصوبےکی افادیت و قدر کےتعین کےلیےاس کا تجزیہ بھی ہوگا۔ اس طرف توجہ دی جارہی ہےکہ وہ کون کون سےطریقےہیں جن کےتحت صوبائی اور ضلعی سطح پر ان فنڈز کےلیےمستقبل میں مالیات کی بنیاد پائیدار ہوسکے۔ پائیدار ترقی کا سفر اگر نچلی سطح سےشروع ہو تو اس کی جڑیں زیادہ گہری ہوتی ہیں اور فنڈ کےقیام کا مقصد بھی ہے۔

 


فریال حسین پی ایس این پی پروگرام سےبطور کوآرڈینیٹر برائے’مانیٹرنگ اینڈ ای ویلیوایشن‘ وابستہ ہیں۔