Jareeda Banner

 

شمالی پاکستان کےقدرتی وسائل کی اہمیت اور ان کےانحطاط سےپیدا شدہ معاشی مسائل سےنمٹنےاور بقائےماحول کےلیےصوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات کےلیےتیار کردہ حکمتِ عملیاں لائحہ عمل مہیاکرتی ہیں۔

1995ءمیں تیار کی گئی سرحد حکمتِ عملی کا پہلا مرحلہ اس کی تشریح تھی، تاکہ تمام شراکت داروں کو اس کے مقاصد کا واضح فہم و اِدرا ک حاصل ہوجائی۔ اس کےبعد ’ابھی عشق کےامتحاں اور بھی ہیں‘ کی مثِل اس کےمزید تین مراحل تھی۔ جن کا تعلق حکمتِ عملی کی سفارشات پر عملدرآمد کرانا تھا۔

اس سلسلےکادوسرا مرحلہ حکمتِ عملی تک تمام شراکت داروں کی رسائی کو مزید یقینی بنانا تھا۔ جس کےذریعے (بشمول سرکاری محکموں، سول سوسائٹی اور نجی شعبی) کی فکر میں گہرائی پیدا کرنا اور پائیدار ترقی کےلیے ان کی استعداد کوبڑھانا تھا تاکہ حکمتِ عملی کی سفارشات کی روشنی میں پائیدار ترقی کےسفر پر پیشرفت کی جا سکے۔

منصوبےکا تیسرا مرحلہ جولائی98ءتاجون2001 ءکےدورانیےپر محیط تھا۔ جس کا مطمئع نظرشراکت داروںمیں تحریک پیدا کرکےپائیدار ترقی کی سرگرمیوں کوبڑھاوا دینا تھا۔ چوتھا مرحلہ جولائی2001ءسےجون2004ءتک رہا۔
یہاں ایک دلچسپ بات ہوئی۔ جب ہم صوبہ سرحد میں اپنےپروگرام کےتیسرےاور چوتھےمرحلےمیں تھےکہ بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این نےSwiss Agency for Development & Cooperation (SDC) کی مالی معاونت سے شمالی پاکستان میں ایک ایسےمنصوبےکا آغاز کیا جو نومبر99ءسےجون2001ءتک روبہ عمل رہا۔ جسےہم PSNPفیز ون کہتےہیں۔ یہ مرحلہ ہمیں شمالی علاقہ جات کی پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کی تیاری کی جانب لےگیا جو SDC اور NORADکی مشترکہ مالی معاونت سےسرانجام پایا۔ اس مرحلےمیں پاکستان ماحولیاتی پروگرام کی بھی قابلِ قدر شرکت رہی۔ جس کےنتیجےمیں2003ءمیں شمالی علاقہ جات کی پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی تکمیل کو پہنچی۔
آئی یو سی این ،پاکستان گزشتہ چودہ برسوں سےشمالی پاکستان میں بقائےماحول اور تحفظِ قدرتی وسائل و معاش کےلیےسرگرم ہے، تاہم2004ءآئی یو سی این کی سرگرمیوں میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس برس سرحد پائیدار ترقی کی حکمتِ عملیSPCS ، پروگرام سپورٹ فار ناردرن پاکستان-1 PSNP، اور’ شمالی علاقہ جات: پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی‘ کےتحت شروع کیےگئےمنصوبےتکمیل کو پہنچی، لیکن اس کےساتھ ہی سوئس ترقیات و تعاون کےادارےSDC کی مالی معاونت سی2003-2007 ءپر مشتمل شمالی پاکستان کےترقیاتی پروگرام کا ایک اور مرحلہ شروع ہوا جو آئی یو سی این سرحد آفس کےپروگراموں کا ہی تسلسل تھا۔ اس نسبت سےاسےPSNP-V کا نام دیا گیا۔ پروگرام کا مقصد شراکت داری کےاصولوں پر ضلعی اورنہایت نچلی سطح پر موجود اداروں تک رسائی ، نیزمعاش اور غربت میں کمی کےساتھ مربوط کرکےپائیدار انتظامِ قدرتی وسائل کو فروغ دینا تھا۔ تاکہ مقامی باشندوں کی معاشی حالت بہتر بنا کر قدرتی وسائل پردباؤ میں کمی لائی جاسکے۔ جس سےپائیدار بقائےماحول کےرجحان کو فروغ حاصل ہوسکے۔

شمالی علاقہ جات کےعلاوہ صوبہ سرحد کے اضلاع ایبٹ آباد، چترال اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پی ایس این پی کےپہلےمرحلےمیںسپورٹ پروگرام موجود رہا تھا اسی لیےپی ایس این پی فیز فائیو کےدوران اس تسلسل کو جاری رکھا گیا۔ بتاتےچلیں کہ یہ علاقےاگر ایک طرف قدرتی وسائل سےمالا مال ہیں تو دوسری جانب مقامی باشندوں کا ان پر معاشی انحصار بھی بہت زیادہ ہےجس کےسبب قدرتی وسائل انحطاط کا شکار ہیں ۔ پروگرام کا مقصد یہ تھا کہ ان علاقوں میں تین سطح پر کام کیا جائےجو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

- اختراعی نمائشی منصوبوں کےذریعےقدرتی وسائل کےانتظام کو بہتر بنایا جائےجو نہ صرف معاشی افادیت کےحامل ہوں بلکہ انہیں دوسرےعلاقوں میں دُہرایا بھی جاسکے۔
- استعداد سازی کی جائی
- پالیسی سطح پر کام کیا جائی۔

پی ایس این پی فیز فائیو پرعملدرآمد میں بھی شراکت داری کا اصول نہایت اہم ہے، لہٰذا اس منصوبےکے نفاذ میں آغا خان رورل سپورٹ پروگرامAKRSP، سرحد رورل سپورٹ پروگرام، سنگی،SERVE، ورلڈ وائڈ فند فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان، اورورلڈ کنزرویشن کونسل کی شراکت بھی حاصل رہی، جبکہ صوبہ سرحد کےمتعلقہ محکموں اور شمالی علاقہ جات کی انتظامیہ کا بھی تعاون شامل حال رہا۔

شمالی پاکستان (صوبہ سرحد و شمالی علاقہ جات) میں پائیدار ترقی، بقائےماحول اور تحفظِ قدرتی وسائلِ معاش کےلیے’پروگرام سپورٹ فار ناردرن پاکستان فیزفائیو‘کےتحت جو کوششیں کی گئی ہیں، وہ بقائےماحول و تحفظِ قدرتی وسائل کےلیےآئی یو سی این کی اُن کوششوں کاایک سلسلہ ہےجس کا مقصد ایک ایسا بہتر معاشرہ تشکیل دینا ہےجو قدرتی وسائل کےمربوط انتظام اور پائیدار استعمال کےتحت اگر ایک طرف استفادہ کرےتو دوسری جانب ان کےتحفظ کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہو۔

اشتراک عمل اور مشاورت پائیدار ترقی کی سمت سفر کا آغاز ہی۔