![]() |
|
||||||||
|
یہ بات بہت زیادہ پرانی نہیں ہے۔1980ءمیں پہلی مرتبہ دنیا کےباشعور لوگوں نےمحسوس کیا کہ ماحول اور قدرتی وسائل خطرات کی زد میں ہیں اور اگر صورتِ حال یونہی رہی برقرار رہی تو آنےوالی نسلوں کےلیےزندگی کےامکانات محدود ہوتےچلےجائیں گے۔ اسی احساس نےقدرتی وسائل کےتحفظ کےخیال کو جنم دیا اور پھر یہی خیال پائیدار ترقی کا ضامن بن گیا۔ اسی عالمی فکر کی بنا پر بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کی مدد سےپائیدار ترقی کی عالمی حکمتِ عملی ( ورلڈ کنزرویشن اسٹریٹجی) تیار کی گئی۔ اس حکمتِ عملی کی روشنی میں 1986ءمیں پاکستان کےاندر پائیدار ترقی کی قومی حکمتِ عملی پر کام شروع ہوا، جسی1992ءمیں وفاقی کابینہ نےمنظور کیا۔ اس دستاویز میں ترجیحی بنیادوں پر14شعبوں کا انتخاب کرتےہوئےاقدامات کی سفارش کی گئی تھی۔ ان شعبوں میں زمین کےتحفظ کےانتظام، آب پاشی کی بہتر کارکردگی جنگلات و شجر کاری، غلّہ بانی، حیاتیاتی تنوع کی بقا، قابلِ تجدید تونائی آلودگی کی روک تھام، آبادی و ماحولیاتی منصوبوں اور ثقافتی ورثےکےتحفظ سمیت ان تمام عناصر کا احاطہ کیا گیا تھا، جن کےاندررہتےہوئےہم زندگی بسر کرتےہیں۔
پاکستان کی قومی حکمتِ عملی کےکئی ترجیحی شعبےچونکہ صوبائی عمل داری میں بھی آتےہیں۔ اس لیےضروری تھا کہ اس کےنفاذ کےلیےصوبائی سطح پر بھی پائیدار ترقی کی حکمتِ عملیاں تیار کی جائیں۔ اس سلسلےمیں صوبہ سرحد نےپہل کی۔ یوں طویل مشاورتی اور تحقیقی عمل سےگذر کر تیار کی گئی ’سرحد: پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی‘ کو 1996ءمیں صوبہ سرحد کی کابینہ نےحتمی طور پر منظور کرلیا۔ صوبائی سط پر اس کی ترجیحات یوں تھیں: - نظم و نسق اور استعداد کاری میں بہتری۔ دلچسپ بات یہ ہےکہ اس دستاویز کی تیاری سےعوامی ترقیاتی شعبوں اور سول سوسائٹی کےدرمیان پہلی بار مشاورتی عمل کےنتیجےمیں ایسا پُل قائم ہوا، جس کےذریعےمتفقہ طور پر انتظامِ وسائل، بقائےماحول اور پائیدار ترقی کےحصول کےمتفقہ اہداف اور عملدرآمد کےطریقئہ کارسامنےآئی۔ یہ صرف ضلع چترال ہی نہیں بلکہ پاکستان میں بھی نچلی سطح پر اپنی نوع کا منفرد تجربہ تھا۔ ضلع، تحصیل اور دیہی سطح پر زندگی کےتمام شعبوں سےتعلق رکھنےوالےلوگوں کےمابین جاری طویل مشاورتی عمل کےنتیجےمیں مارچ2007ءمیں چترال کا ترقیاتی خاکہ تکمیل پذیر ہوا، جسےاسی برس ضلعی حکومت نےمنظور کرلیا ۔ بات یہیں پر نہیں رکی۔ چترال میں حاصل شدہ اسباق و تجربات کو سامنےرکھتےہوئےان کی بنیاد پر بعد ازاں ایبٹ آباد کا ترقیاتی خاکہ تشکیل دیا گیا۔ اس کےبعد مقامی حکومتوں کے قیام کےلیےجاری کردہ آرڈیننس کےتحت شمالی علاقہ جات کےترقیاتی پروگرام اورضلعی حکومت کےاشتراک سے ڈیرہ اسماعیل خان کی پائیدار ترقی کا خاکہ تشکیل دیا گیا۔ جسےضلعی حکومت نےنومبر2006ءمیں منظور کرلیا۔اس طرح ان ضلعی خاکوں کےتحت مذکورہ اضلاع میں واضح تصور اور عمل کی بنیادوں پر استوار ترقی کا عمل جاری و ساری ہے پاکستان میں قدرتی وسائل کےتحفظ کےلیےیہ کام اپنی نوعیت کا نہایت اہم اور منفرد قدم -ہے اس کےذریعےضلعی سطح پر ہی قدرتی وسائل کو پہنچنےوالےنقصانات کی روک تھام کی جاسکتی ہےبلکہ ان کی بقا کےساتھ ساتھ قدرتی وسائل کا یہ ورثہ آنےوالی نسلوں تک منتقل کرنےکاپائیدار انتظام بھی زیادہ بہتر اور مناسب انداز میں کیا جاسکتا ہی۔ مجموعی تناظر میں جائزہ لیں تو ہم اتفاق کریں گےکہ پائیدار ضلعی ترقی ملک گیر سطح پربھی اہم اثرات مرتب کرکےملکی ترقی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
اس فیصلےکا ایک اہم عنصر ضلعی سطح پر پائیدار ترقی کا لائحہ عمل طےکرنےاور دیرپا نتائج حاصل کرنےکےلیےمربوط ترقیاتی خاکوںکو بھی تشکیل دینا تھا تاکہ واضح لائحہ عمل کےتحت ضلعی حکومت، سرکاری اداروں اور عوامی ترقی کےکاموں میں باہمی ربط پیداہو اور یوں مربوط بنیادوں پر پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہوا جاسکے۔ مقامی حکومتوں کےقیام کا آرڈیننس مجریہ2001ءکی شق140کےتحت لازم ہےکہ ہر ضلع میں مقامی حکومت ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دے۔ جس کا سب سےبڑا مقصد ہر ضلع میں مربوط ترقیاتی خاکہ تشکیل دینا ہے۔اس ضمن میں اہم بات یہ ہےکہ مذکورہ آ رڈیننس کے اجرا اور ضلعی حکومتوں کےقیام کےبعد چترال، ایبٹ آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان کےضلعی ترقیاتی خاکےاس حکمنامےسےمربوط قرار پائےگئے۔
ذیل میں ان اسباق کےچیدہ چیدہ نکات کا ذکر کیا جارہا ہےجو ضلعی ترقیاتی خاکوں کی تشکیل کےدوران ہمیں حاصل ہوئے: - پائیدار ترقی میں حائل مسائل کا اِدراک، حاصل شدہ معلومات کےتجزیےاور ترجیحات کےتعین میں مشاورتی عمل نہایت اہم ثابت ہوا۔ یہ عمل کسی بھی لائحہ عمل یا دستاویز کو متفقہ، مربوط، پائیدار اور غیر جانب دارانہ بنانےکےلیےناگزیر ہے۔ - ضلعی ترقیاتی خاسکوں کی تیاری کےعمل میں سےسب سےبڑی کامیابی تو خود ان دستاویز کا تکمیل پانا ہے، جو تمام شراکت داروں میں یکساں طور پر قابلِ قبول ہےاور ان دستاویز کی مجموعی حیثیت غیر متنازعہ ہے۔ جس کی متفقہ توثیق متعلقہ ضلعی حکومتوں نےکی ہے۔ |
|||||||
|
||||||||
شجاع الرحمٰن آئی یو سی این |
||||||||