Jareeda Banner

شمالی پاکستان میں بقائےماحول، پائیدار انتظام برائےقدرتی وسائل اور مربوط معاشی سرگرمیوں کےفروغ کی کہانی، جو ڈیڑھ عشروں پر پھیلی ہوئی ہے ۔
تحریر : انعام اﷲ خان 


شمالی پاکستان کےلیےبقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کا ’پروگرام سپورٹ فار ناردرن پاکستان‘ (پی ایس این پی) تعاون و ترقی کےسوئس ادارےSwiss Agency for Development & Cooperation (SDC) کےمالی اشتراک سے2004ءمیں شروع ہو کر اس سال اختتام پذیر ہورہا ہے۔ اس منصوبےنےہماری توجہ علاقائی سطح سےنہایت نچلی سطح تک مبذول کروائی ۔پھیلی ہوئی پسماندگی اور غربت نےاس احساس کو اُجاگر کیا کہ قدرتی وسائل کی بہتر نگہبانی سےمقامی باشندےذرائع معاش میں اضافہ اور غربت میں کمی لا کر اپنی سماجی و معاشی حالت کو زیادہ بہتر بناسکتےہیں۔

NOrthern Pakistan


ان مقاصد کےحصول کےلیے صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات کےمنتخب علاقوں میں مقامی باشندوں کےعلاوہ نجی شعبی، سول سوسائٹی، ترقیاتی اداروں اور شعبہ ترقیات میں تعاون کرنےوالی غیر سرکاری تنظیموں کےاشتراک سےایسےآٹھ نمائشی منصوبےmodel projects شروع کیےگئےجو مقامی سطح پر پائےجانےوالےقدرتی وسائل کےپائیدارانتظام کےذریعےمقامی باشندوں کی معاشی و سماجی حالت میں بہتری لاسکتےہیں اور ان نمائشی منصوبوں کےخطوط کو دُہرا کر وہ اپنےعلاقےمیں بڑےپیمانےپر غربت و پسماندگی کو بھی دور کرسکتےہیں۔ ان کا ایک اور مقصد یہ بھی رہا ہےکہ ان کےذریعےمقامی باشندوں کو اپنےمعاشی اہمیت کےحامل قدرتی وسائل کےبہتر انتظام میں نہ صرف مدد ملےبلکہ وہ ان وسائل سےحاصل شدہ مصنوعات کی معاشی قدر میں اضافہ کرکےاپنےلیےزیادہ منافع حاصل کرسکیں، تاکہ قدرتی وسائل پر اتنا زیادہ بوجھ نہ پڑےکہ ان وسائل کا مستقبل اور بقا خطرےسےدوچار ہوجاۓ۔
اس ضمن قدرتی وسائل اور اس کےانتظام سےمربوط چھ درج ذیل شعبےہیں۔
- جنگلات و غیر ٹمبر مصنوعات
- ماحول دوست کان کنی
- آبی وسائل اور حقوق
- دریا ؤںکےماحولیاتی نظام اور ذرائع معاش
- قدرتی اثاثوں کا استعمال
- کھمبیوں کی کاشت
ان چھ شعبوں کےحوالےسےپی ایس این پی میں آنےوالےصوبہ سرحد کےتین اضلاع چترال، ایبٹ آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت شمالی علاقہ جات میں نمائشی منصوبےشروع کیےگئی۔ذیل میں ہم ان نمائشی منصوبوں اور حاصل ہونےوالی کامیابیوں پر طائرانہ نظر ڈالیں گے۔

چترال میں’ شیشی کوہ ‘ایک طویل و عریض وادی ہےجس میں چلغوزہ کےقدرتی جنگلات آمدنی کا ایک بڑا وسیلہ ہیں، تاہم ماضی میں ان کی معاشی افادیت مقامی باشندوں کی نگاہوںسےاوجھل تھے۔ مقامی پسماندہ باشندوں کےاس قدرتی وسیلےسے بیرونی علاقوں کےلوگ استفادہ کررہےتھے، جو زیادہ سےزیادہ منافع کے لالچ میں وسائل کو بہت سنگین نقصان پہنچاچکےتھے۔ چنانچہ جب پی ایس این پی کا آغاز ہوا توایس ڈی سی آئی سی کی مالی اعانت سے چلغوزہ منصوبےپر کام کرنےوالی تنظیم Innovation for Poverty Reduction (IPRP) کےساتھ مل کر مزید بہتری لانےکےلیےکام شروع کیا۔ اس شراکت کو مزید مضبوط کرنےکےلیےصوبہ سرحد کےمحکمہ جنگلات کو بھی شامل کیا گیا، جبکہ مقامی باشندےاور ان کی تنظیمیں (سیڈو اور ینگ اسٹار) بھی اس شراکت داری میںشامل تھیں۔

منصوبےکا مقصد قدرتی وسائل کےپائیدار انتظام سے غربت میں کمی لانا اور مصنوعات کی قدر میں مزید اضافہ کرکےوسائل پر پڑنےوالےبوجھ کو کم کرنا تھا۔ ان کوششوں کےنتیجےمیں مقامی باشندےاب خود چلغوزہ اکھٹا کرتےہیں اور چلغوزہ pine-nuts cone کو تھوک بیوپاریوں کےہاتھوں فروخت کرنےکےبجائےخود چلغوزہ الگ کرتےہیں۔ یہ کام گھریلو خواتین انجام دیتی ہیں۔ اس کےبعد انہیں بھونا جاتا ہے۔ یوںخام چلوزےکی نسبت انہیں زیادہ آمدنی حاصل ہونےلگی ہے۔

پی ایس این پی کےتحت چلغوزہ اکھٹا کرنی،انہیں خول سےعلیحدہ کرنی، بھونےاور پیکنگ کےضمن پی ایس این پی کےتحت مقامی باشندوں کی استعداد سازی کی گئی۔ اس سلسلےمیں 62مردوں اور51خواتین پر مشتمل گروپ کو تربیت فراہم کی گئی ۔ انہیں مصنوعات کی قدر میںاضافے اور خول کو درخت سےالگ کرنےکی بھی تربیت دی گئی۔ آج یہاں یہ منصوبہ کامیاب ہوچکا ہے۔ شمالی علاقہ جات کےضلع دیامر کی وادیِ ہُڈر میں یہ منصوبہ آئی پی آرپی کی طرز پر شروع کیا گیا اور چترال کےتجربات کو یہاں دُہرایا گیا۔ اس ضمن میں یہاں پی ایس این پی نے ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ورلڈ کنزرویشن کونسل (ڈبلیو سی ایس) سےاشتراک کیا۔ پی ایس این پی کی رہنمائی کےسبب اس سال چلغوزہ کےموسم میں ہُڈر وادی کےباشندوں نےپانچ کروڑ روپےآمدنی حاصل کی اور چین جا کراپنی مصنوعات کوفروخت کیا۔

شمالی پاکستان۔۔۔سرذمینِ کوہسار

آسمان کو چھوتی ہوئی برف پوش چوٹیاں، بُلند و بالا پہاڑی سلسلےاور ان کےڈھلوانوںپر سر بُلنددرخت، ان سب کےدامن میں آباد وادیاں، جہاں رات سوجائےتو چشمےبول اٹھتےہیں اور صبح ہو تو چہار سو پھیلا سبزہ آنکھوں کو تراوٹ عطا کردیتا ہے۔
---مزید پڑھیے

پی ایس این پی: قدرتی وسائل کی بقا اور معاش۔۔۔منظر، پس منظر

شمالی پاکستان کےقدرتی وسائل کی اہمیت اور ان کےانحطاط سےپیدا شدہ معاشی مسائل سےنمٹنےاور بقائےماحول کےلیےصوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات کےلیےتیار کردہ حکمتِ عملیاں لائحہ عمل مہیاکرتی ہیں۔ --- مزيد پڑھيے

 



ماحول دوست کان کنی کا یہ نمائشی منصوبہ چترال میں شروع کیا گیا جس کا سبب ماربل اور گرینائٹ کی بڑےپیمانےپر موجودگی اور اس کی کان کنی تھا۔ اس کےعلاوہ بھی یہاں متعدد اقسام کی معدنی دولت پائی جاتی ہے، جس سےکان کنی کےذریعےاستفادہ کیا جاتا ہے۔ تاہم اس ضمن میں ماحول دوست طریقوں اور پائیدار استعمال کا فقدان تھا، لہٰذا پی ایس این پی منصوبےکےتحت آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کےاشتراک سےانہیں ماحول دوست بنانےکےلیےایسا نمائشی منصوبہ شروع کرنےکا فیصلہ کیا گیا جس کےتحت حقیقت پسندانہ رجحانات کو فروغ دےکر ماحول اور قدرتی وسائل پر اس کےمنفی اثرات ختم کیےجاسکیں۔

NOrthern Pakistan
نمائشی منصوبوں کا مقصد پائیدار استعمال برائےقدرتی وسائل کا فروغ ہے۔

اس حوالےسے پی ایس این پی نےاپنی شراکت دار تنظیم کےساتھ مل کر اس شعبےکی افرادی قوت کی استعداد میں بہتری اور اضافےکےلیےتربیتی نشستیں منعقد کیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اب کان کن محفوظ طریقےسےکان کنی کرتےہیں۔ مثال کےطور پر پہلےبارود کی بڑی مقدار کےاستعمال سےماربل نکالا جاتا تھا جس کےباعث بڑےبڑےخام ماربل پتھروں میں دراڑیں پڑ جاتیں اور وہ ضائع ہوجاتا تھا لیکن استعداد سازی کےبعد اب یہ کان کن بلاک کی شکل میں اس طرح ماربل کی کان کنی کرتےہیں کہ ان میں دراڑنہیں آتی اور بارود کا استعمال بھی پہلےکی نسبت نصف سےزیادہ کم ہوچکا ہے۔ نیز کان مالکان نےچترال میں ہی بڑےبڑےکارخانےقائم کرلیےہیں جہاں سےخام مال کےبجائےتیار ماربل مارکیٹ میں بھیجا جاتا ہے۔ اس سےانہیں زیادہ منافع حاصل ہوتا ہی۔ نیز کان کنی کےدوران حاصل شدہ پتھروں سےچپس دانہ تیار کیا جاتا ہےجس کا استعمال فرش کی تیاری میں ہوتا ہے، جبکہ پہلےاس کا فقدان تھا اور صرف خام مال ہی پشاور، مردان یا دوسرےبڑےشہروں کےکارخانوں میںبھیجا جاتا تھا، جہاں اگر پتھر پر دراڑ کا انکشاف ہوجائےتو ساری محنت، خرچہ اور قیمتی قدرتی وسیلہ بےقیمت ہوجاتا تھا۔کان کنی کےشعبےمیں یہ تبدیلی پی ایس این پی اور شراکت داروں کےتعاون سےعمل میں آئی جس کےمثبت نتائج سامنےہیں۔ ان کامیابیوں کےپیچھےاستعداد سازی کےعلاوہ آگہی، پالیسی کی جانب رجحان اور پائیدار استعمال کےطریقئہ کار کی جانب پی ایس این پی کی کوششوں کا بنیادی عمل دخل رہا ہے۔

آبی وسائل کا پائیدار انتظام اور مساویانہ حقِ استفادہ کا یہ منصوبہ پی ایس این پی اور سرحد رورل سپورٹ پروگرام کےاشتراک سےشمالی چترال کی وادی ملکھو کےعلاقےکرمت آباد میں شروع کیا گیا۔ یہاں پانی کی شدید قلت تھی اور تقسیمِ آب کا نظام روایتی طور پر ضرورت کےبجائے زمین کےرقبےپر مشتمل تھا۔ یعنی جتنی زیادہ زمین، اتنا ہی زیادہ حقِ استعمال۔ طےپایا کہ اگر علاقےمیں مساویانہ حقِ استعمال کے اصول پر تقسیمِ آب کا نظام استوار ہو تو اس سےکم زمین والےکاشت کار کو بھی حسبِ ضرورت پانی مل سکےگا۔ یوں وہ زیادہ آمدنی حاصل کرسکتا ہے۔

مساویانہ آبی تقسیم کےلیےذخیرئہ آب کی ضرورت تھی تاکہ برسات ، سیلاب اور موسمِ گرما کےایام میںاضافی پانی کو ضائع ہونےسےبچا کر ذخیرہ کیا جاسکے۔ منصوبےکےتحت کمیونٹی کی مدد سےذخیرئہ آب تعمیر کیا گیا۔ اس کےبعد اس پانی کی مساویانہ تقسیم کےلیےحقِ استعمال کو تحریری شکل دی گئی تاکہ علاقائی سطح پر مستقبل میں کسی قسم کا کوئی تنازعہ پیدا نہ ہوسکے۔ اس نظام ِ آب پاشی کی دیکھ بھال اور مرمت کےلیےمقامی باشندوں نےفراہم کردہ استعداد سازی کی سہولتوں سےفائدہ اٹھا کر ایک فنڈ تشکیل دیا ہےجس میں ہر استعمال کنندہ ایک خاص رقم جمع کرواتا ہے۔ نیز اس عطیےمیں مرمت کےلیےجسمانی محنت بھی شامل کی جاسکتی ہے۔

مقامی خواتین کا کاشتکاری میں بھی اہم کردار ہے، لہٰذا اس امر کےپیشِ نظر مردوں کےعلاوہ خواتین کو بھی خصوصی طور پر یہ تربیت فراہم کی گئی کہ وہ کس طرح پائیدار استعمالِ آب کےاصولوں پر عمل پیرا ہوسکتی ہیں۔ آج اس علاقےمیں مساویانہ حقِ استعمالِ آب مضبوط بنیادوں پر استوار ہےجس میں مقامی باشندوں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔


اس حوالےسےدو نمائشی منصوبےشروع کیےگئے۔ ایک شمالی علاقہ جات کی وادی گوپس اور دوسرا ڈیرہ اسماعیل خان میں۔ (ڈیرہ اسماعیل خان کےمنصوبےکےبارےمیں عکسی کہانی صفحہ14پر ملاحظہ کریں)۔ دریاؤں کےماحولیاتی نظام کےتحفظ کو ان کےقدرتی وسائلِ معاش سے مربوط کرنےکا مقصد ان علاقوں میں پائیدار استعمالِ قدرتی وسائل کو فروغ دینا تھا۔

اس سلسلےمیں پی ایس این پی اور شراکت دار آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نےمقامی کمیونٹیز کےاشتراک سے شمالی علاقہ جات کےضلع غذر کی وادیِ گوپس میں کھلتی جھیل کا انتخاب کیا ۔ یہ جھیل ٹراؤٹ مچھلی کا بےپناہ خزینہ اپنےاندر پنہاں رکھتی ہے، جسےماحولیاتی سیاحت کےساتھ مربوط کیا گیا۔ استعداد سازی کی تربیتی نشستوں کےنتیجےمیں آج مقامی باشندےلائسنس حاصل کرکےمچھلی پکڑنےکی ڈور سےٹراؤٹ کا شکار کرتےہیں اور اس کےلیےرہنما خطوط کی تربیت کےسبب انہیں گلگت کی بڑی بڑی ہوٹلوں میں فروخت کرکےمنافع حاصل کررہےہیں۔ اس علاقےمیں خواتین کےاہم کردار کےسبب انہیں بھی تربیتی مراحل میں شامل رکھا گیا تھا۔ یوں وہ اس آسان طرزِ ماہی گیری اور لائسنس کی شکل میں حاصل شدہ اجازت نامےکےتحت نہ صرف قانونی طور پر پائیدار استفادہ کررہی ہیں بلکہ پی ایس این پی کےتحت اس جھیل کو سیاحتی مقام کا درجہ دلوانےکےلیے یہاں مچھلی پکڑنےکا مقابلہ کروایا گیا جو آج باقاعدہ سالانہ میلےکی شکل اختیار کرچکا ہےاور اس وجہ سےاس علاقےکی سیاحتی اہمیت بھی اُجاگر ہوئی۔

نمائشی منصوبےکی کامیابی کا اندازہ اس بات سےلگایا جاسکتا ہےکہ شمالی علاقہ جات کی انتظامیہ نےان کامیاب اقدامات کو دیکھتےہوئےپی ایس این پی اور محکمہ ماہی پروری کےاشتراک سے کھلتی کےلیےمنصوبہ ’ٹراؤٹ فش فارمنگ برائےخواتین‘ تیار کیا۔ منصوبےکا PC1 تیار کیا جاچکا ہےجس میں لاگت کا تخمینہ25لاکھ ہی۔ نیز شمالی علاقہ جات میں ٹراؤٹ مچھلی کےشکار کا سیاحتی پہلو سےفروغ کےلیےبھی منصوبہ تیار کیا ،جس پر لاگت کا تخمینہ بیس لاکھ روپےہی۔ دونوں منصوبے 2007-8ءکےسالانہ ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہوچکےہیں۔

یہ نتائج اُسی وقت حاصل ہوئےجب پی ایس این پی نےاس حوالےسےپالیسی سازی، پائیدار استفادےکےلیےآگاہی اور استعداد سازی کا بنیادی عمل شروع کیا۔ اسی لیےآج یہ منصوبہ پائیدار ترقی کےسفر میں ایک مثال بن چکا ہے۔

یہ منصوبہ ضلع ایبٹ آباد کی یونین کونسل کےگاؤں نارہوتر گاؤں میں شروع کیا گیا، جس کا مقصد مقامی باشندوں میں قدرتی وسائل سےپائیدار اور مساویانہ استفادےکو فروغ دےان کی حالت بالخصوص خواتین اور پسماندہ طبقےکی غربت میں کمی لانا تھا۔ اس مقام کا انتخاب غیر سرکاری تنظیم سنگی نےکیاجو 2003ء سےیہاں کام کررہی ہےاور پی ایس این پی منصوبےکے نفاذ میں یہاں شراکت دارہے۔ یہاں نمائشی منصوبےکےحوالےسےدو شعبوں، زراعت اور جنگلات کا انتخاب کیا گیا جبکہ پالیسی ، حقِ ملکیت ا ور استفادےکےحقوق کو انقطاعی راہ cross-cutting پر رکھا گیا۔

قدرتی وسائل کی معاشی اور ماحولیاتی افادیت کو مقامی لوگوں پر اُجاگر کرکےاسےتسلیم کروالینا منصوبےکی سب سےبڑی کامیابی ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہےکہ آج یہاں قدرتی وسائل کےاستعمال میں پائیدار اصولوں کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔ اس سلسلےمیں مقامی باشندوں پر مشتمل تنظیمیں استعمال کےاثرات کا باقاعدہ جائزہ لیتی رہتی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کےمنفی اثرات کی بروقت روک تھام کی جاسکے۔ اس ضمن میں متعدد تربیتی ورکشاپ منعقد کرائی گئیں تاکہ جنگلات کےاستعمال میں حقِ ملکیت اور استفادےکو باضابطہ بنایا جاسکے۔

اس منصوبےمیں قدرتی وسائل کےحقِ ملکیت کو اُجاگر کرکےان کی بقا کےلیےکوششوں ، نیز شراکتی اصولوںکےتحت نگرانی کےشفاف نظام کو مقامی باشندوں نےنہ صرف سراہا بلکہ اسےاختیار کرچکےہیں ۔ اب ان پر یہ ثابت ہوچکا ہےکہ قدرتی وسائل سےپائیدار استفادہ غربت و افلاس میں کمی کےلیےمعاون ہے۔ اس لیےان کا صحتمند حالت میں برقرار رہنا اشد ضروری ہےاور یہی منصوبےکی کامیابی ہے۔منصوبےکی کامیابی میں نمایاں پہلو شراکت داری اور پائیدار ترقی کےحصول کا ہے، جو یہاں پی ایس این پی کےتحت ممکن ہوا۔

پشاور کی یونین کونسلوں پگا اور کانیزہ بھی صوبہ سرحد کےدیگر علاقوں کی طرح روایت پسندباشندوں کا علاقہ ہےجہاں گھریلو معاشی کفالت مردوں کی ذمہ داری ہے۔ غربت اور پسماندگی سےان کا دامن جڑا ہوا ہےاور ان کی معاشی حالت اس بات کی متحمل نہیں ہےکہ وہ اسےبہتر بنانےکےلیےکوئی کاروبار کرسکیں۔ اس صورتِ حال کےپیشِ نظر محسوس کیا گیا کہ اگر ان گھروں کی خواتین کو ایسی راہ سجھادی جائےجس میں وہ روایات کی پاسداری کرتےہوئےاپنی صلاحیت سےآمدنی میں اضافہ کرسکیں تو یوں ان کی غربت میں کمی آسکتی ہے۔

اس ضمن میں آئی یو سی این، پی ایس این پی اور سرحد رورل سپورٹ پروگرام کےاشتراک سے ان دو یونین کونسلوں کی منتخب کمیونٹی کی خواتین میں’کھمبیو ںکی کاشت‘ کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ قدرتی وسائل کا انتظام ان خواتین کےلیےروایتی علم ہےتاہم سائنسی بنیادوں پر انتظامِ علم اور استعداد سازی کےباعث ان کی صلاحیت مزید نکھریں۔ 104خواتین کو پندرہ گروپوں میں تقسیم کرکےتربیتی مراحل طےکرائےگئے۔

منصوبےکےدوران کھمبیوں کی کاشت کار ان خواتین کو عوامی اور نجی شعبےسےبھی متعارف کروایا گیا تاکہ وہ اپنی مصنوعات کی قدر میں اضافےکےحوالےسےبھی مزید تکنیکی مدد حاصل کرسکیں ، نیز ان کی مارکیٹنگ بھی بہ آسانی کرسکیں۔ اس منصوبےکی کامیابی کا انحصار ان مردوں پر بھی ہےجنہوں نےاداروں پر اعتماد کیا اور اب وہ خوش ہیں کہ ان کی گھریلو خواتین روایات کی پاسداری کےساتھ ساتھ گھر کی معاشی حالت کو بہتر بنانےمیںشراکت دار بھی ہیں۔ ان خواتین کی دیکھا دیکھی دیگر گاؤں کی خواتین میں بھی کھمبیوں کی کاشت و تجارت کا رجحان پروان چڑھ چکا ہےاور منصوبےکےتحت جن خواتین کو تربیت فراہم کی گئی تھی، ان میں سےمنتخب خواتین نےاطراف کی 25ایسی خواتین کی تربیت کی جو اس کےذریعےگھریلو معاشی حالت کو بہتر بنانا چاہتی تھیں۔ یوں چراغ سےچراغ جلا اوراب یہ روشنی اطراف کےگاؤں دیہاتوں کو بھی منور کرتی جارہی ہے۔

قدرتی وسائل انسان کےاستفادےکےلیےہیں، لیکن بےلگام استعمال وسائل کو ختم کرسکتا ہی، مگرپائیدار استعمال کےذریعےآنےوالی نسلیں بھی ان سےمعاشی استفادہ حاصل کرتی رہتی ہیں ۔ یہی سوچ پی ایس این پی نےاپنےشراکت داروں میں منتقل کی اور اس پر مقامی باشندوں کا عمل شمالی پاکستان کےقدرتی وسائل کےانتظام میں عہدِ نو کی نئی داستان بیان کرتا ہے۔

 
  انعام اﷲخان پی ایس این پی سےبطور کنسلٹنٹ نیچرل ریسورس منیجمنٹ وابستہ ہیں۔