Jareeda Banner

 
صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات کےروایت پسند معاشرےمیں خواتین کی شمولیت سےقدرتی وسائل کےپائیدار انتظام کی کامیاب کوششیں۔
تحریر : ثمینہ خٹک

کیا ایک خاتون کےبغیر مکان گھر کہلاسکتا ہے۔ جواب یقیناً ہوگا نہیں۔ تو کیا پھر خواتین کی شمولیت کےبغیر سماجی ترقی کا عمل ممکن ہے۔ مجھےیقین ہےکہ اس کا جواب بھی نفی میں ہی ملےگا۔ ا س کا سبب یہ ہےکہ خواتین ہمارےمعاشرےکی کُل تعداد کا لگ بھگ نصف ہیں اور کسی بھی معاشرےکی نصف تعداد کی شمولیت کےبغیر سماجی ترقی کا عمل شروع تو کیا جاسکتا ہےلیکن اسےمکمل آغاز نہیں کہہ سکتے۔ یہی وجہ ہےکہ کوئی بھی معاشرہ جہاں صنفی مساوات یا توازن موجود نہیں، وہاں سماجی ترقی اب بھی ابتدائی شکل میں دیکھی جاسکتی ہے۔

صوبہ سرحد اور شمالی پاکستان بھی صنفی gender عدم توازن کا معاشرہ ہےاور یہاں خواتین قدیم رسم و رواج کی پابند ہیں۔ یہاں ایک مرد گھر کا سرابرہ ہوتا ہےاور اگر گھر میں کوئی بڑا مرد نہیں تو چھوٹی عمر کا بچہ بھی گھر کا سربراہ بن سکتا ہےاور گھر کی بڑی عمر کی عورت بھی اس’ ننھےسربراہ‘ کو جوابدہ ہوتی ہے۔ یہی سبب ہےکہ صنفی امتیاز کےسبب یہاں سماجی پسماندگی اور غربت کی سطح خاصی بلند ہے۔

اس پس منظر میں جب صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات میں پائیدار ترقی کےسفر کا آغاز ہوا تو سماجی ترقی کےعمل میں خواتین کی شمولیت کےبغیر اہداف کا حصول ناممکن نہیں تو تب بھی بہت مشکل ضرور تھا۔ کیوں کہ شمالی پاکستان کےاس روایت پسند سماج میں خواتین ایک طرف تو حجاب کی سخت پابند ہیں تو دوسری طرف کاشتکاری، غلّہ بانی، انتظامِ آب و قدرتی وسائل سےاستفادےمیں ان کا نہایت اہم کردار ہے۔ یہ وہ امور ہیں جن سےایک گھر کی خاتون برائہ راست وابستہ ہوتی ہےاور ان کی استعداد سازی، آگاہی میں اضافےاور قدرتی وسائل کےپائیدار انتظام میں شمولیت کےبغیرپائیدار ترقی کا عمل ادھورا بلکہ ناقص رہ جاتا ہے۔

تعلیمی پسماندگی، صحت کی درکار ضروری سہولتوں کی عدم فراہمی، مردوں کےمقابلےمیں بطور فرد کم اہمیت، سماجی ترقی اور معاشی خود انحصاری کےلیےمواقعوں کا فقدان وہ عناصر ہیں، جن سےیہ خواتین نبرد آزما ہیں اور چاہنےکےباوجود گھر کی غربت اور پسماندگی کے خاتمےمیں اپنا کردار ادا نہیں کرپاتی ہیں۔ اسی لیےاس سماج میں پسماندگی اور غربت وہ دو اہم عناصر ہیں جن کو دور کرنےکےلیےمتبادل ذرائع معاش کےبجائےقدرتی وسائل پر روز افزوں دباؤ شدید ترہوتا جارہا ہےاور اس استحصال میں خواتین کا بھی بڑا ہاتھ ہی، کیونکہ انہیں یہ آگاہی حاصل ہی نہیں کہ ان قدرتی وسائل کی اہمیت ان کی زندگیوں کےلیےکیا ہےاور نہ ہی اس بارےمیں انہیں کسی نےآگاہ کیا ہے۔ انہیں گھر چلانےکےلیےان وسائل کو استعمال کرنا ہےاور بس وہ ایسا کرتی چلی جاتی ہیں!

اس تناظر میں جب گزشتہ ایک دہائی سےزیادہ صوبہ سرحد میں کام کرنےکا تجربہ لےکر آئی یو سی این، سرحد پروگرام آفس نےشمالی پاکستان میں ترقی و تعاون کےنئےمنصوبےپی ایس این پی کےہمراہ میدانِ عمل میں قدم رکھا تو ابتدائی سطح پر ہی اس منصوبےمیں خواتین کی شمولیت کی ضرورت کا احساس موجود تھا ۔ نیز صوبہ سرحد و شمالی علاقہ جات کےروایتی مرد معاشرےمیں خواتین کےساتھ کام کرنےکےسلسلےمیں حائل رکاوٹوں کا اِدراک بھی حاصل تھا۔
اس پس منظر میں پی ایس این پی نےصورتِ حال کو تبدیل کرنےکا فیصلہ کیا تاکہ ان خواتین کو قدرتی وسائل کی اہمیت، پائیدار استفادہ اور غربت میں کمی کرنےکےخطوط پر تربیت فراہم کرکےپائیدار ترقی کی سمت زیادہ موثر طور پر پیشرفت کی جاسکے۔ پی ایس این پی نےاس ترقیاتی منصوبےکےتناظر میں اپنی شراکت دار تنظیموں کو قائل کیا کہ شمالی پاکستان میں قدرتی وسائل کےبہتر اور پائیدار انتظام کےذریعےغربت میں کمی کا منصوبہ اس وقت تک کامیاب سےہمکنار نہیں ہوسکتا جب تک خواتین کی اس میں شمولیت نہ ہو اور وہ ان وسائل کی اہمیت سےآگاہی نہیں کرلیتی، تب تک غربت میں کمی اور قدرتی وسائل کےپائید ار استعمال کی کوششیں ادھوری رہیں گی۔ اس کےبرعکس خواتین کی شمولیت سےصورتِ حال تبدیل ہوسکتی ہےجس نہ صرف ایک گھر کی معاشی حالت بہتر ہوسکتی ہےبلکہ ایک گھریلو خاتون گھر کی چاردیواری میں رہتےہوئے قدرتی وسائل کےانتظام میں جو کردار ادا کرسکتی ہے، اس کےفوائد میں نہ صرف گھر کےمرد بھی برابر کےحصےدار ہوں گےبلکہ زیادہ وسیع تناظر میں دیکھیں تو اس سےایک کمیونٹی اور پوراسماجی نظام فیض یاب ہوسکتا ہے۔

اگر چہ صنفی امتیاز کےخاتمے، ترقیاتی عمل میں خواتین کی شمولیت اور معاشرتی مساوات کےذریعےتحفظِ قدرتی وسائل کی کوششوں میں پی ایس این پی کو روایت پسند معاشرےکےتناظر میں حاصل شدہ کامیابیوں پر اطمینان کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کےساتھ ساتھ ایک حقیقت یہ بھی ہےکہ انہیں متحد کرنےمیں اب بھی رکاوٹیں حائل ہیں۔ تاہم وقت کےساتھ ساتھ حالات میں مثبت تبدیلیاں اب بہت دور کی بات نہیں لگتیں لیکن اس کےلیےضروری ہےکہ ترقیاتی عمل میں شمولیت ، بقائےماحول کی کوششوں میں ان کی شرکت کےلیےآگاہی کےفروغ کی کوششیں بنا رکاوٹ جاری رہنا چاہئیں۔

پی ایس این پی کےتحت خواتین میں نہ صرف آگاہی کو فروغ دیا گیا بلکہ اس بات کی کوشش بھی کی گئی کہ انہیں احساس دلایا جائےکہ وہ اپنی استعداد سازی کرکےگھریلو معیشت میں نہایت اہم کردار ادا کرسکتی ہیں جس سےان کی غربت میں کمی آئےگی بلکہ ترقی ان کےگھر کا راستہ بھی دیکھ لےگی۔

اس حوالےسےکی گئی کوششوں میں اس بات کا بھرپور خیال رکھا گیا کہ آگاہی کی مہم متوازن ہو، نیز اس میں مقامی، قبائلی و سماجی روایات اور ثقافت کا بھی بھرپور خیال رکھا جائےتاکہ اس سےحاصل شدہ نتائج کو بنا امتیازِ جنس پذیرائی مل سکے
پی ایس این پی کی صنفی مساوات کی کوششوں میں جس چیز پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی وہ یہ تھی کہ انتظام برائےپائیدار قدرتی وسائل کےنمائشی منصوبوں میں ان کی شمولیت کویقینی بنایا جائی۔ جس سےغربت میں کمی واقع ہو، مقامی ماحولیاتی نظام میں بہتری آئےاور سب سےبڑھ کر یہ کہ خواتین میں قدرتی وسائل کےانتظام پر مبنی ایسےمنافع بخش پیداواری اقدامات کو فروغ دیا جاسکے، جس سےوہ آمدنی حاصل کرسکیں ، ان کی سماجی خوشحالی بڑھےاور اس کےنتیجےمیں قدرتی وسائل پر دباؤ کم پڑے۔ اس ضمن میں پی ایس این پی نےاپنےتمام نمائشی منصوبوں میں اس فِکر کو ملحوظ رکھا اور ہر نمائشی منصوبےمیں جہاں غربت میں کمی کےخاتمےکی کوشش کی ہےوہیں خواتین کی شمولیت کو بھی اس سےمربوط کیا گیا ہے-ہر نمائشی منصوبےمیں خواتین کےاہم کردار کےحوالےسےسرگرمیاں شامل رہی ہیں سوائےکھمبیوں کی کاشت و تجارت کےنمائشی منصوبےکے، جو کہ خالصتاً خواتین کےلیےتھا۔

یہاں یہ کہنا یہاں دلچسپی سےخالی نہیں ہوگا کہ آئی یو سی این کےعملےکو بھی ایسی دفتری تربیت دی جاتی ہےجو میدانِ عمل میں تنظیموں، مقامی باشندوں اور دیگر شعبوں سےتعلقات کےقیام اور خوش آئند اقدامات کےآغاز میں نہایت معاون ثابت ہوتی ہےاور اس کا ایک خاص اثر صنفی مساوات پر یقین کی صورت میں بھی ہوتا ہی۔ لہٰذا پی ایس این پی کےتحت جب نمائشی منصوبوں اور دیگر شعبوں میں کام کا آغاز ہوا تو شراکت داروں کو صنفی مساوات اور اس کی حساسیت کےبارےمیں تربیت فراہم کی گئی۔ ورکشاپ اور استعداد سازی کےضمن میں کی جانےوالی یہ کوششیں نہایت بارآور ثابت ہوئیں اور مجموعی تناظر میں دیکھیں تو اس سےروایتی ماحول میں خوش آئند تبدیلیاں آئیں۔ ان کوششوں کا دائرہ کار صرف آئی یو سی این کےعملےتک ہی محدود نہیں تھابلکہ شراکت دار تنظیموں، مقامی باشندوں اور سرکاری شعبےسےوابستہ افراد بلا امتیازِ جنس اس کےمخاطب تھے۔ اس کا ایک نمایاں پہلو یہ ہےکہ صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات میں جہاں پی ایس این پی کےتحت کام کیا جارہا تھا وہاں ’صنفی حساسیت‘ gender sensitizationکےموضوع پر منعقدہ تربیتی پروگرام کی ذمہ داری مقامی حکومتوں نےخوش دلی سےادا کی، بلکہ سرگرم شرکت کی اور صنفی مساوات کی ان کوششوں میں ہاتھ بٹانےپر انہیں فخر تھا۔

ان تربیتی پروگراموں کا ایک کامیاب پہلو یہ ہےکہ ان کےذریعےپی ایس این پی کےنمائشی منصوبوں میں پائیدار ترقی اور غربت میں کمی کےحوالےسے خواتین کا کردار نہ صرف زیادہ موثر انداز میں سامنےآیا بلکہ اس سےصنفی مساوات کی راہ میں حائل سماجی رویوں میں بھی تبدیلی محسوس کی گئی۔

’پی ایس این منصوبوں میں خواتین کی شمولیت کس طرح اور کیوں ممکن ہےاور وہ کس طرح سماجی ترقی کےعمل میں شراکت دار ہوسکتی ہیں ۔ نیز اس سےغربت میں کمی اور پائیدار قدرتی وسائل کا انتظام حقیقی معنوں میں کیسےکیا جاسکتا ہے۔‘ اس تصور کو واضح کرنےکےلیےمنصوبےمیں ایک گائیڈ لائن اورچیک لسٹ بھی ترتیب دی گئی۔ جس کا مقصد باضابطہ طریقےسےموثر کوششیں کرنا تھا۔ یہ رہنما خطوط وسیع تر منظر نامہ رکھتےہیں جنہیں کوئی بھی تنظیم استعمال کرکےاز خود صنفی مساوات و ترقی کے ضمن میں پیشرفت کرسکتی ہے۔ بتاتےچلیں کہ اس گائیڈ لائن اورچیک لسٹ کو تجاویز و نظر ثانی کےلیےآئی یو سی این گلوبل اسٹاف کو بھی بھیجا گیا، جنہوں نےاس کےمندرجات، طریقئہ کار، اسلوب اور افادیت کو بہت پسند کیا اور اسےپاکستان کےمجموعی اور بالخصوص شمالی پاکستان کےعین مطابق قرار دیا ۔ واضح رہےکہ اس کا نفاذ پی ایس ایس پی منصوبےپر کیا گیا۔ اب اس بات پر غور جاری ہےکہ اس کےپورےملک میں نفاذکےلیےاسےآئی یو سی این پالیسی کا حصہ بنایا لیا جائے۔ اس طرح وسیع تر تناظر میں جائزہ لیں تو پی ایس این پی منصوبےکا یہ حصہ ایک ایسا کام ہےجس کی افادیت ملک بھر میں یکساں ہے۔

پی ایس این پی منصوبےکےشعبہ ’ خواتین کو ترقی کےمرکزی دھارےمیں کس طرح شامل کیا جائی‘ کی ایک کامیابی یہ بھی ہے پی ایس این پی کےاس موضوع (بمع گائیڈ لائن و خطوط) کو افادیت کےپیشِ نظر صوبہ سرحد کے سرکاری افسران کی تربیت کا حصہ اور نصابی موضوع بنایا جاچکا ہے۔

علاوہ ازیں پی ایس این پی نےصنفی بنیادوں پر صوبہ سرحد میں کام کرنےوالی تنظیموں میں بہتر اشتراک کےلیےایک رابطہ گروپ بھی قائم کیا ہے، تاکہ اس طرح خواتین کی ترقی کےبہتر مواقع حاصل کیےجاسکیں۔ مزید برآں، ایک غیر رسمی رابطہ گروپ بھی قائم کیا گیا ہےجس کا مقصد تنظیموں کےمابین بہتر تعلقات کےقیام کےساتھ ساتھ باہمی رابطوں اور مشوروں کو زیادہ تقویت حاصل ہوسکے۔

اگر ہمیں خوشحال گھر اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہیےتوپھر صنفی مساوات اور ترقی میں خاتون خانہ کی اہمیت کو ہم نظر انداز نہیں کرسکتے۔ ہماری کوششیں جاری ہیں تعاون سماج کا ہونا چاہیے۔

قدرتی وسائل کےتحفظ اور پائیدار استعمال کےفروغ میں خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔