تحریر: عبدالمناف قائم خانی         تصاوير: آئی یو سی این پاکستان

عبدالمناف قائم خانی وفاقی وزارتِ ماحولیات، اسلام آباد میں بطور ڈپٹی ِانسپکٹر جنرل فاریسٹ، خدمات انجام دے رہے ہیں -

 

کرئہ ارض کا بہت بڑا رقبہ ایسا بھی ہے کہ جہاں سالانہ اوسطاً بارش کی شرح پچاس ملی میٹر سے بھی کم ہے اور ہماری زمین کا پانچواں حصہ ایسے ہی خشک صحرائی علاقوں پر مشتمل ہے۔

صحرائ آبگاہیں منفرد ماحولیات کی حامل ہیں ان کا تحفظ وقت کی ضرورت ہے

پاکستان کے تین صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں صحرا پائے جاتے ہیں۔ ان ریگزاروں میںتھر بشمول نارا (سندھ)، چاغی (بلوچستان) اور روہی یا چولستان (پنجاب) شامل ہیں، جہاںسالانہ بارشوں کا تناسب بہت ہی کم ہے اوراکثر غیر یقینی ماحولیاتی حالات کے سبب آبی ماخذ خشک ہوجاتے ہیں، مویشیوں کے لیے چارہ کم پڑجاتا ہے اور انسانوں کے لیے خوراک کے ناکافی ذخائر زندگی کو بقا کے خطرات کے سامنے لاکھڑا کرتے ہیں۔ اگرچہ پہلی نظر میں اس بحرانی کیفیت کابنیادی محور آبی وسائل کی قلت ہی ہوتا ہے، لیکن دوسری جانب حیرت انگیز طور پر انہی صحرائی علاقوں کاکچھ حصہ قدرتی آب گاہوں کے ایک انوکھے فطری ماحولیاتی نظام کے زیرِ اثر ہے۔ یہ منفرد جھیلیں کرخت صحرائی ماحول کی سختیوں کو جھیلنے اور زیرِ زمین قابلِ استعمال آبی وسائل کی ترقی اور فروغ کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔

جب صحراؤں میں آب گاہوں کی موجودگی کی بات کریں تو یقیناً بہت سے لوگوں کو حیرت ہوگی۔ یہ حیرت کسی حد تک قابلِ فہم بھی ہے کہ ایک جانب تو بے کیف ریگزار اور دوسری طرف زندگی کی رعنائیوں سے بھرپور پانی سے لبریز آب گاہیں اور پھراس پر مستزاد یہ کہ ان کے مابین باہمی تعلق بھی موجود ہے۔ یہ اٹل حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کے ریگزاروں میں آب گاہوں کا ایسامنفرد نظام موجود ہے جہاں ہر لمحے حیات کی حرکت پذیری اپنی موجودگی کا پوری شدت کے ساتھ احساس دلاتی ہے۔

پاکستان میں پائی جانے والی صحرائی جھیلوں کا ماحولیاتی نظام ریگستانوں کے سخت گرم موسم کو کسی حد تک خوشگوار رکھنے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے تو دوسری جانب انسان، پالتو مویشی اور جنگلی حیاتیاتی تنوع بھی بقا کے لیے ان پر انحصار کرتے ہیں۔

سندھ کے صحرائے تھر کا شمار دنیا کے ساتویں بڑے ریگستان کے طور پر ہوتا ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ بھارت کی جغرافیائی حدود میں بھی شامل ہے۔ یہاں کی آب و ہوا گرمیوں میں سخت مضطرب کردینے والی اور موسمِ سرما میں قدرے خوشگوار ہوتی ہے۔ برسات محض ساون بھادوں کی رُت تک محدود ہے اور وہ بھی ناکافی۔ کبھی کبھی تو بارش بھی کئی سالوں تک روٹھی رہتی ہے اور پھر جو عذاب یہاں کی زندگیوں پر اترتا ہے وہ قحط سے لے کرموت تک پر محیط ہوتا ہے۔ سخت گرم اور غیر مرطوب موسمی حالات کے باعث یہاں زندگی بڑے دشوار سفر کا نام ہے، لیکن اس سے ہٹ کر دیکھیں تو یہ صحرا گوناگوں حیاتیاتی تنوع کی دولت سے مالا مال ہے۔ یہاں مور، تلور، تیتر، بھٹ تیتر، باز، ہرن، نیل گائے، جنگلی گدھا، لگڑ بھگا سمیت متعدد اقسام کے جنگلی جانور اور طرح طرح کی جڑی بوٹیاں اور پودے پائے جاتے ہیں۔ تھر کی صحرائی آب گاہوں میں پائے جانے والے مقامی اور موسمِ سرما میں ہجرت کرکے آنے والے موسمی پرندوں میں کونج، حواصل، مرغابیاں، قاز، ہنس، لَق لَق، چمچہ بزا سمیت متعدد نایاب اور اہم پرندوں کی انواع شامل ہیں۔

یہ صحرائی جھیلیں پرندوں کی نقل مکانی کے عالمی راستے یعنی انڈس فلائی وے پر واقع ہیں ،اسی وجہ سے ہر سال سرد ممالک سے آنے والے مہمان موسمی پرندوں کا عبوری ٹھکانہ بھی بنتی ہیں۔ صحرائے تھر میں نارا کینال کے دونوں جانب کاٹھوڑ، جاگیر، مہرانو، ناگی پیر، کھارادو، خیرے واری، سنہری ، شنہالو، پٹکن واری، بیرواری، کھارو، لُون خان، اَکن واری، مانکی، کھیواری، چمب، موراکھی، واسو، چھچھ، پکھے واری، دودے واری، سانگراڑو، بَکار، چوٹیاری اور مُکھی جیسی اہم آب گاہوں کا وسیع جال بھی موجود ہے۔

صحرائے تھر کی معروف آب گاہوں میں رن آف کچھ اور دیہہ اکرو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہیں عالمی اہمیت کی حامل آب گاہیں گردانتے ہوئے 'رامسر سائیٹس' میں بھی شامل کیا گیا ہے، خصوصاً دیہہ اکرو کی دو درجن سے زائد چھوٹی بڑی جھیلوں پر مشتمل کمپلیکس کو اس وجہ سے بھی بڑی اہمیت حاصل ہے کہ یہاں انتہائی اہمیت کی حامل ماربل ٹِیل اور انڈین ڈارٹر سمیت کئی دوسرے آبی پرندوں اور مگرمچھ کی خاصی بڑی تعداد بھی پائی جاتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صحرائے تھر میں ایسی اہم جھیلوں کی تعداد کسی بھی لحاظ سے سو سے کم نہیں ہے۔ ان میں سے بہت سی آب گاہیں ماہی پروری کے حوالے سے بھی بڑی اہمیت رکھتی ہیں اور مقامی افراد کے لیے یہ خوراک اور معاش کی فراہمی کے ضمن میں نہایت مددگار کردار کی حامل ہیں۔

پاکستان میں صحرائی جھیلوںکا سب سے بڑا نظام سندھ میں صحرائے تھر کے شمال مشرقی حصے میں واقع نارا کینال سے متصل 'صحرائے نارا' میں واقع ہے۔ ان جھیلوں کی زیادہ تر تعداد سانگھڑ، نواب شاہ اور خیرپور اضلاع میں واقع ہے۔ شور زدہ پانی کے سبب ان آب گاہوں کی اکثریت کا شمار کھارے پانی والی آب گاہوں میں کیا جاتا ہے۔ اگرچہ صحرائے نارا کی زیادہ تر آب گاہوں کا پانی نمکین ہے، لیکن اس کے باوجود نارا کینال سے متصل یا اس کے نزدیک واقع آب گاہوں کا پانی نہر کے میٹھے پانی کے زیرِ زمین رساؤ کے سبب میٹھے پانی کی تاثیر رکھتا ہے۔

صحرائے نارا میں میٹھے اور کھارے پانی کی آب گاہیں مقامی ماحولیاتی نظام میں اہم کردار کی حامل ہیں، اسی لیے پانی کی دو مختلف تاثیر کے سبب حیاتیاتی تنوع کو یہاں پر افزائش کے لیے متنوع ماحول میسر آجاتا ہے۔ اس صحرائی علاقے میں آب گاہوں کے پھیلے ہوئے اس جال کے سبب ایک بڑے وسیع رقبے پر جنگلی حیات موجود ہے اور ان کا تنوع دیگر صحرائی علاقوں کی آب گاہوں کے مقابلے میں نسبتاً کافی زیادہ ہے۔ یہ جھیلیں ایک طرف مگرمچھ اور دیگر انواع و اقسام کے آبی پرندوں کی بہترین مسکن گردانی جاتی ہیں تو وہیں ان کے چہارا طراف موجود معتدل ماحول میں بہت سے چرند و پرند حُسنِ فطرت کی دولت بکھیرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔

چولستان یا روہی جنوبی پنجاب میں واقع ہے، تاہم صحرائی آب گاہوں اور ان پر انحصار کرنے والے حیاتیاتی تنوع کے ضمن میں اس کا دامن زیادہ کشادہ نہیں۔ چولستان کے صحرائی اور بنجرماحول میں سب سے بڑی آب گاہ 'لال سوہانرا نیشنل پارک' ہی ہے۔ اس کے سوا یہاں کوئی اور قابلِ ذکر صحرائی آب گاہ یا بڑی جھیل واقع نہیں ہے، البتہ لال سوہانرا نیشنل پارک صحرائی اور بنجر خطے کے دلکش ماحول اور ان میں موجود آب گاہ اور اس پر انحصار کرنے والی جنگلی حیات کے نظارے، حفاظت اور افزائش کی بہترین مثال اور ماحولیاتی سیاحت کا دلکش مقام ہے۔

بلوچستان کے صحرائے چاغی میں سب سے اہم صحرائی جھیل 'زنگی ناوڑ' ہے۔ نوشکی سے لگ بھگ تیس کلومیٹر کی مسافت پر واقع اس صحرائی جھیل کا شمار چند برس قبل تک ملک کی چند ممتاز اور جنگلی حیات کی افزائش و مسکن کے حوالے سے نہایت اہم جھیلوں میں کیا جاتا تھا، جہاں ماربل ٹِیل اور سفید آنکھ والی مرغابی سمیت ہزاروں مقامی اور موسمی پرندے بسیرا کیا کرتے تھے، تاہم گزشتہ چند برس کے دوران صوبے میں آنے والی خشک سالی نے اس جھیل پر بھی اپنا اثر دکھایا۔ پانی رفتہ رفتہ کم ہوتا گیا، جھیل خشک ہوتی چلی گئی اور پرندے رخصت ہونے لگے۔ آج بلوچستان کی یہ اہم صحرائی آب گاہ ماضی کا قصہ بن کر رہ گئی ہے۔ شاید یہاں رین بسیرا کرنے والے پرندے بھی ہماری طرح آج اسے صرف یاد ہی کرسکتے ہوں گے!

پاکستان کی ان صحرائی آب گاہوں، ان کے ماحولیاتی نظام اور اہمیت سے کسی کو انکار نہیں، تاہم لمحہ فکریہ یہ ہے کہ صرف چند ایک پر ہی موقوف نہیں، کم و بیش تمام کی تمام صحرائی آب گاہیں آج گوناگوں مسائل کا شکار ہیں اور ان کے اوپر اُمڈ کر آنے والے خطرات کے سیاہ بادل روز بہ روز گہرے ہوتے چلے جارہے ہیں۔ طویل خشک سالی، پالتو اور معاشی اہمیت کے حامل مویشیوں کی حد سے بڑھتی ہوئی تعداد، آبادی کا بڑھتا ہوا دباؤ اور غیر منظم ترقیاتی سرگرمیوں کے سبب یہ آب گاہیں آج اپنی بقا کی جنگ میں مصروف ہیں۔ گوکہ ان صحرائی آب گاہوںکی ایک قابلِ قدر تعداد اپنا دیرپا وجود رکھتی ہیں، لیکن بہت سے آب گاہوں کا زیادہ تر انحصار مون سون کی بارشوں پر رہتا ہے اور گزشتہ چند برسوں سے خشک سالی کا بڑھتا ہوا رجحان ایسی آب گاہوں کے لیے موت ثابت ہورہا ہے۔ یہ صورتِ حال ایک سنجیدہ ماحولیاتی مسئلہ ہے، جس کے صحراؤں پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

صحرائی آب گاہوں کو خشک سالی کے علاوہ جن دیگر مسائل کا سامنا ہے، اُن میں ریت کے بڑے بڑے طوفان، بتدریج بڑھتا ہوا درجئہ حرارت اور سب سے بڑھ کر ان کی طرف روا رکھی جانے والی ہماری انتظامی غفلت بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے پسماندہ صحرائی علاقوںمیں واقع یہ آب گاہیں عظیم عطیہِ خداوندی سے کم نہیں جو کہ ہر اعتبار سے مقامی لوگوں کے شب و روز کے ساتھی اور دلفریب نظاروں کے سبب ماحولیاتی سیاحت اور فطری نظاروں کے دلدادوں کے لیے اپنے اندر پُر کشش ترغیبات رکھتی ہیں، تاہم ہر سطح پر مناسب آگہی کے فقدان اور ان جھیلوں کی اہمیت سے مکمل طور پر واقفیت نہ ہونے کے سبب تاحال یہ ہماری بھرپور توجہ حاصل نہیں کرسکی ہیں اور نہ ہی ہم نے انہیں اس قابل گردانا ہے۔
2006ء کو اقوامِ متحدہ کی جانب سے 'صحرا اور صحرا زدگی ' کے نام معنون کیے جانے سے ہمارے ہاتھ یہ بھی موقع آیا ہے کہ ہم ان صحرائی جھیلوں کے اہم ماحولیاتی کردار اور مثبت اثرات سے نہ صرف رائے عامہ کو بیدار کریں بلکہ اس اہم قدرتی ورثے کے تحفظ اور اس پر انحصار کرنے والی حیات کی بقا کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ صحرائی آب گاہوں کو درپیش مسائل اورموجودہ دگر گوں انتظامی صورتِ حال کے پیشِ نظر ہمیں ان پر خصوصی توجہ دینے اور مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ جہاں یہ ایک قومی فریضہ ہے، وہیں عالمی ذمہ داری بھی۔