|
|
|
|||||||
|
صحرا زدگی Desertification کی اصطلاح کو سب سے پہلے استعمال کرنے کا ثبوت فرنچ سائنسدان لاواؤڈین Lavaudenکی1927ء میں تحریر کردہ ایک دستاویز سے ملتا ہے، جس کے بعد مغربی ماہرِ نباتات و ماحولیاتی نظام اوبرےولے Aubreville کی1949ء میں شائع تصنیفClimate, Forest, et Desertification Del'Afrique Tropical میں اسے استعمال کیا گیا،جس میںمصنف کا کہنا تھا کہ'' پیداوری زمین کے بنجر پن اور پھرزمینی کٹاؤ کے باعث صحرا میں تبدیل ہوجانے میں انسانی سرگرمیوں کا اہم کردار ہے۔''
صحرازدگی کے انسداد کے لیے عالمی سطح پراولین کوششیں 50ء کی دہائی میں اس وقت شروع ہوئیں، جب1951ء میں اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت(یونیسکو) نے 'بنجر زمینوں کی سائنسی تحقیق' Scientific Research on arid Land کے نام سے ایک بڑا منصوبہ شروع کیا۔ منصوبے کے تحت ایک خبرنامہ جاری کیا گیا اور عالمی سطح پر کانفرنسیں اور سمپوزیم منعقد کروائے گئے تاکہ صحرا زدگی کے حوالے سے اداروں کی تشکیل اور تحقیق کے لیے فنڈز کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے۔ علاوہ ازیں موضوع کی مناسبت سے وسیع تناظر میںسائنسی تحقیق پر مبنی کتابوں کی سیریز بھی شائع کی گئی۔1962ء میں اس پراجیکٹ کویونیسکو کے قدرتی وسائل کے پروگرام میں ضم کردیا گیا، تاہم منصوبے کی سب سے بڑی افادیت یہ رہی کہ اس کے ذریعے عالمی سطح پر مسئلے کو اُجاگر کردیا گیا۔ بعد ازاں آنے والے چند برسوں کے اندر اندر ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ جس نے صحرا زدگی کی حساسیت اور معاملے کی نزاکت کو دنیا بھر کی مملکتوں کے سامنے سوالیہ نشان کی شکل میں لا کھڑا کیا۔ یہ سوال1969 ء سے1973ء کے دوران افریقہ کے ریگستانی علاقے ساحل میں آنے والا وہ بدترین قحط تھا کہ جس نے صحرائے صحارا کے چھ ممالک جن میں موریطانیہ، سنیگال، مالی، بالائی وولٹا، نائیجر اور چاڈ شامل تھے، کو بری طرح متاثر کیا۔ صحارا کے افریقی ممالک کے لیے قحط کوئی غیر معمولی صورتِ حال نہیں۔ اس سے قبل1911ء سے1914ء کے درمیان بھی اس خطے میں شدید قحط آچکا تھا، یہی نہیں اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی خشک سالی اور قحط کے دورانیے آتے رہے، البتہ1969ء سے 1975ء تک کا یہ قحط تمام ریکارڈ توڑ گیا۔ اس سے پہلے ان لوگوں کواتنے وسیع پےمانے پر اس طرح کے سنگین قحط کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ قحط سے لاکھوں انسان اور ان کے مویشی اجل کا شکار بنے اور جو زندہ تھے ،غذائی اور آبی قلت نے انہیںمُردوں سے بھی بدتر بنادیا تھا۔ یہ وہ وقت تھاجب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے صحرا زدگی اور اس کے انتہائی مضر اثرات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے 'عالمی کانفرنس برائے صحرا زدگی' بلانے کا اعلان کیا۔اگست/ ستمبر 1977ء کے دوران نیروبی کے شہر کینیا میں منعقدہ اس کانفرنس میں دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک کے مندوبین کے علاوہ بڑی تعداد میں حکوتی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔کانفرنس میںاس بات پر غور کیا گیا کہ کس طرح خشک ماحول اور بنجر و نیم بنجر ارضیاتی کیفیت کے حامل ممالک کو اس خطرے سے دور رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس ضمن میںزمینوں میں ہونے والے بگاڑ کی روک تھام کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا، جس کی مندوبین نے منظوری دی۔ 'لائحہ عمل برائے انسدادِ صحرا زدگی ' نامی اس منظور شدہ منصوبے کواقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کا حصہ بنایا گیا اور شریک ممالک سے کہا گیا کہ وہ اس حوالے سے اپنے اپنے ممالک کی صورتِ حال کا جائزہ لیں اورانسدادی اقدامات کریں۔ عالمی سطح پرصحرا زدگی کی روک تھام کے لیے سب سے تاریخی اور اہم سنگِ میل1994ء میں سامنے آیا، جب اقوامِ متحدہ نے صحرا زدگی کے سدِ باب کے لیے Convention to Combate Desertification (CCD) نامی معاہدہ پیش کیا، جس پر تمام رکن ممالک نے دستخط کیے اور اس کے تحت اقدامات کرنے کی یقین دہانی کروائی۔پاکستان نے 1997ء میں معاہدے کی تصدیق کی ۔ دنیا بھر میں صحرا زدگی کے خاتمے اور صحراؤں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقوامِ متحدہ نے2006ء کو 'عالمی سال برائے صحرا و صحرا زدگی 'قرار دیا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر اس حوالے سے کی جانے والی کوششوں میں تیزی لانا اور عالمی رائے عامہ کو بیدار کرنا ہے، تاکہ مملکتی اقدامات کے نتائج کو ثمر آوربنایا جاسکے۔ مختار آزاد
|
||||||
|
|||||||
|
|
|||||||