|
|
|
||||
عالمی ورثہ قرار پانے والی ماضی کی اس شاندار تہذیب کے آثار موسمی حالات اور انسانی غلطیوں کے سبب ایک بار پھر مٹی میں ملتے جارہے ہیں |
||||
تحرير: مختار آزاد / ڈاکٹر ایم بی کلہوڑو تصاوير: جمشيد مسعود |
||||
زمین رازوں کی امین ہے لیکن انسان بھی ٹہرارازوں کا نقیب ۔ ہمیشہ مٹی کی چادر اوڑھ کر سوجانے والے رازوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتارہتا ہے۔ موئن جو دڑو بھی ایسا ہی ایک سربستہ راز ہے کہ جسے کھوجنے والوں نے زمین کا سینہ چیر کر بازیاب تو کرلیا لیکن راز ابھی تک پوری طرح کھل نہیں سکا ۔ تحقیق کا تقاضہ ہے کہ جو کچھ دریافت ہوا ہے ،اس کی مکمل عقدہ کشائی کے لیے مزید برسوں درکار ہیں ، مگر حالات اور کچھ انسانی غلطیوں کے سبب تہذیب انسانی کا یہ مشترکہ راز ایک بار پھر مٹی میں ملتا جارہا ہے۔ خطرہ ہے کہ حالات یونہی رہے تو کسے خبر کہ پانچ ہزار سال تک مٹی کی تہوں میں محفوظ رہنے اور گذشتہ صدی کے اوائل میں دریافت ہونے والا تہذیب کا یہ خزانہ اس صدی کے آخر تک آنے والی نسلوں کے ملاحظے کے لیے باقی بھی رہے گا یا نہیں؟ 'موئن جو دڑو'سندھی زبان کے تین لفظوں کا مرکب ہے۔ ارد و میں اس کے معنیٰ 'مُردوں کا ٹیلہ' ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارئہ برائے تعلیم ، سائنس و ثقافت (یونیسکو) نے اسے برسوں پہلے عالمی اہمیت کے حامل ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ عالمی تہذیبی ورثے کے حامل اس مقام کے تحفظ کے لیے نہ صرف اقوامِ متحدہ کے متعلقہ ذیلی ادارے بلکہ دنیا بھر کے ماہرین بشریات،ثقافت و تہذیب کی انفرادی کوششیں بھی اپنی اپنی جگہ پر مسلسل جاری ہیں۔ ![]() موئن جو دڑو پانچ ہزار سال قبل اس خطے میں مہذب شہری معاشرے کی موجودگی کا پتا دیتا ہے۔ آج مُردہ کہلانے والا یہ شہر اور اُس کے شہری، سول انجینئرنگ، رسم الخط و تحریر، سماجی زندگی میں حفظِ مراتب کے تحت رہائشی علاقوں اورایک سے زائد منزل رکھنے والے گھروں کی تعمیر، حفظانِ صحت کے اصولوں سے آگاہی کے سبب گنداب ٹھکانے لگانے کے لیے ڈھکی ہوئی نالیوں،دریائے سندھ کے کنارے ہونے کے باوجود رہائشی بستیوں کی آبی ضروریات پورا کرنے کے لیے کنوؤں کی شکل میںزیرِ زمین پانی کے استعمال، انتظامی امور چلانے اور ان پر بحث و مباحثے کے لیے اسمبلی ہال ، درست ناپ تول کے لیے میزان اور دستاویزات کی سرکاری تصدیق کے لیے مہروں کی تیاری، کپاس کی کاشت اور اس سے کپڑے کی بُنائی کے علاوہ دوسرے علاقوں تک اس کی تجارت سمیت تقریباً اُن تمام اصولوں اور آداب سے آگاہ تھے کہ آج کی زندگی میں جو مہذب ملک یا ترقی یافتہ معاشرہ کہلائے جانے کے لیے لازمی سمجھے جاتے ہیں۔ یہی نہیں ،عبادت اور مذہبی رہنما بھی ان کی زندگی کا حصہ تھے ۔ ایک طرف 'شاہی پروہت ' کے نام سے معروف مجسمے کی موجودگی موئن جو دڑو کے باشندوں کی سماجی زندگی میں مذہب کی موجودگی بیان کرتا ہے تو دوسری طرف کانسی سے تیار کیا گیا رقاصہ کا مجسمہ فنونِ لطیفہ سے ان کے لگاؤ کا پتا دیتا ہے۔ موئن جو دڑو کے بارے میں یہ بھی خیال کیاجاتا ہے کہ آثارِ قدیمہ کے ضمن میں یہ دنیا کا وہ موضوع ہے کہ جس کے منظرِ عام پر آنے سے لے کر اب تک کے تقریباً نو عشروں میں متعلقہ محققین نے اس پر بہت زیادہ لکھا ہے۔سیاحت کا شعبہ ہو یا معلوماتِ عامہ کا یا پھر ملکی تہذیبی تاریخ کا ارتقائی عمل سے رشتے کا ذکر ہو، 'مُردوں کا ٹیلہ' آج کی زندہ دنیا میں سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ کون لوگ تھے، کون سی زبان بولتے تھے، ان کا رسم الخط ان کی اپنی اختراع تھی یا وہ کسی اور رسم الخط سے متاثر تھا، اگر یہ رسم الخط کہیں اور بھی مروج تھا اور اس سے متاثر ہو کر یہ اپنا گیا تو وہ کون سی تہذیب تھی، یہاں کے منضبط شہری سماج کے ارتقائی عمل کا پس منظر کیا تھااور باضابطہ شہری معاشرے کی تشکیل تک وہ کیسے پہنچے، اوزان یہاں تجارت کی دلیل دیتے ہیں اور مہریں شہری حدود سے باہر تجارتی روابط کی مگر انہوں نے یہ تجارتی روابط کیسے اختیار کیے، شہری رہائشی انتظامات میں معاشی فرق سے امتیازی بستیوں کی موجودگی سرمایہ داری اور امیر و غریب میں امتیازی فرق کی موجودگی ظاہر کرتی ہے تو کیا معاشی حالت میں بیرونی تجارتی ذرائع سے حاصل شدہ آمدنی خوشحال طبقے کی بنیاد تھی، اگر نہیں تو کیا صرف زراعت کے بل بوتے پر جاگیردارانہ نظام موجود تھا، ان کا روحانی عقیدہ کیا تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اتنا خوشحال شہر تباہ ہوا اور پانچ ہزار سال تک اس پر گرد پڑی رہی اور تاریخ اس بارے میں کیوں کر خاموش رہی؟ غرضیکہ ہزاروں سوالات ہیں ، جن کے جواب تشنہ ہیں، یقیناًوہ وقت بھی ضرور آئے گا کہ جب سوالوں کی تشنگی کو سیر حاصل جوابات سے سیراب کردیا جائے گا، تاہم ایک کھلا سوال جو ہمارے سامنے موجود ہے، وہ ان رازوں کے امین اُن آثار کی بقا کا ہے، جو ہمارے سامنے موجود ہیں۔ انہیں صرف زمانے کے سرد و گرم سے ہی نہیں بلکہ ان لوگوں سے بھی خطرہ ہے کہ جو صرف یہاں تفریح کے لیے آتے ہیں، اُن لوگوں سے بھی کہ جن کی آنکھیں یہاں کے آثار کو حاصل کرکے نوادرات کے عالمی کالا بازار میں فروخت کرکے دولتمند بننے کی خواہش رکھتے ہیں، اور موقع ملنے پر انہوں نے ایسا کیا بھی اور قانون کی گرفت میں بھی نہ آئے، یا پھروہ ماہرین جو اس کی بقا میں تجربے سے سیکھنے کے لیے اسے تختہء مشق بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ![]() موئن جو دڑو کے بارے میں عمومی طور پر یہ غلط تاثر موجود ہے کہ اس کی دریافت کا سہرا1922ء میں برطانوی نوآبادیاتی دورکے ملازم اور ماہرِ آثارِ قدیمہ سر جان مارشل کے سرہے، تاہم موئن جو دڑو کنزرویشن سیل کے سابق ڈائریکٹر حاکم شاہ بخاری تحقیق سے کہتے ہیںکہ'' اس مقام پر سب سے پہلے ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ماہرِ آثار قدیمہ آر ۔کے بھنڈر آئے اور انہوں نے1911ء میں بدھ مت کے مقامِ مقدس کی حیثیت سے اس جگہ کی تاریخی حیثیت کی جانب سب کی توجہ مبذول کروائی، جس کے لگ بھگ ایک عشرے بعد سر جان مارشل یہاں آئے اور انہوں نے اس جگہ کھدائی شروع کروائی۔'' یہاں یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ آج بھی موئن جو دڑو میں ایک گیراج نما کمرے میں سر جان مارشل کی کارخستہ حالت میں کھڑی ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ اگر اسے میوزیم کے وسیع و عریض احاطے یااس بنگلے میں جو ان کے زیرِ استعمال رہا تھا، کے اندر عام لوگوں کے شوقِ نظارہ کے لیے محفوظ کردیا جائے۔ بات چل نکلی ہے تو میوزیم کا بھی ذکر ہوتا چلے۔ سرخ اینٹوں سے تیار کردہ اونچے ستونوں پر ایستادہ وسیع و عریض دالان نما عمارت کی اوپری منز ل عجائب گھر ہے، جس کے داخلی دروازے سے ایک زینہ اوپر کی سمت جاتا ہے اور جونہی زینے کا آخری قدم طے ہوتا ہے تو ایک دیوار گیر تصویر اس ماحول کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے جس میں اس شہر کے باسی زندگی بسر کرتے تھے۔ میوزیم کا معاملہ 'جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو' جیسا ہے۔ اگرچہ یہاں نوادرات تو ہیںلیکن ان نوادرات کے ساتھ بھی نوادرات کے چور ہاتھ دکھاچکے ہیں۔ 2002ء میں یہاں چوری کی ایک بہت بڑی واردات ہوئی، جس میں آثار سے ملنے والی چالیس مہروں کو چُرالیا گیا۔ ان میں 38مہریں مٹی جبکہ دو تانبے سے بنی ہوئی تھیں۔ مقدمہ درج ہوا،چوروں کی تلاش شروع ہوئی مگر نتیجہ بے نتیجہ نکلا۔ پولیس نے محکمہ آثارِ قدیمہ کو رپورٹ پیش کی کہ چور کا تعلق موئن جو دڑو کے قریب واقع 'باڈہ' گاؤں سے ہے، جو سعودیہ چلا گیا اور وہاں منشیات کے جرم میں گرفتار ہو کر جیل پہنچادیا گیا۔ یوں صرف چوری کا کیس داخلِ دفتر نہیں ہوا بلکہ وہ چالیس اہم ترین راز بھی داخلِ دفتر ہوگئے جومستقبل میں ان مہروں پر لکھی تحریر کو پڑھنے سے دنیا کو معلوم ہونے والے تھے۔ مہریں نہیں ، سمجھ لیجیے تاریخ چوری ہوئی اور چور کی طرح تاریخ بھی کھوگئی۔ کہتے ہیں کہ اب تک جو کچھ کھود کر منظرِ عام پر لایا جاسکا ہے، وہ اصل کا لگ بھگ صرف دس فیصد ہی ہے، لیکن اس دس فیصد کا تحفظ بھی شاید بھرپور طریقے سے نہیں کیا جاسکا ہے۔ انتظامی طور پر دیکھیں توموئن جو دڑو کی نو عشروں پر مشتمل بازیافت کی تاریخ اعلانات، اقدامات اور تجربات کی ایک مثلث ہے، جس کے درمیان کھڑے ہو کر کامیابی کا ڈنکا سب بجا سکتے ہیں ، لیکن ناکامی کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا، تاہم انہی حالات میں ایک بار پھر حکومت نے ان آثارِ قدیمہ کے تحفظ اور بچاؤ کے لیے نئے اقدامات اور ان کے لیے بڑی تعداد میں فنڈز کی فراہمی کااعلان کیا ہے۔فی الوقت دفتری اُمور میں الجھے اگلے ایک عشرے پر مشتمل اس منصوبے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے، کیونکہ بقولِ غالبؔ 'آہ کو چاہیے اِک عمر اثر ہونے تک'۔ ہاں ایک بات یقینی ہے کہ ڈھتے آثار کو بچانے کے لیے اگر سیاحوں کو یہ احساس دلادیا جائے کہ ان دیواروں پر نہ چڑھو، یہ گریں تو اس کا کوئی نعم البدل نہ ہوگا۔ ان اینٹوں کو نہ چھیڑو، ان کی موجودگی ہزاروں برس کی ریاضت کا اثر ہے اور یہ کہ ہمیں دیکھو اور سبق لو کہ تاریخ تعلیم کا دوسرا نام ہے ۔ آپ اتفاق کریں گے کہ تحفظ کے اس منصوبے پر کوئی خرچ نہیں آئے گا، البتہ ڈھتی دیواروں کے قریب پہنچنے والا خطرہ ضرور ختم ہوجائے گا۔ اسی کا نام' تحفظ' ہے جسے انگریزی میں ہم 'کنزرویشن' کہتے ہیں اور یہی وہ موثر عوامی آگاہی ہے، جسے ہم 'عوامی شراکت' کے نام سے جانتے ہیں!! |
||||
|
||||
|
|
||||