|
|
|
||||
متاثرہ اضلاع کا حیتیاتی ماحول اور ان کی بحالی |
||||
|
||||
جنگلات کسی بھی ملک کے ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں جو جنگلی حیات اور نباتات کے لیے نہ صرف مسکن ہوتے ہیںبلکہ خوشگوار موسم،آب گیر علاقوں کے تحفظ اور آبی گذرگاہوں میں پانی کی روانی اور کھیت کھلیانوں کو سرسبزرکھ کر ہماری خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی اہم ترین کردار نبھاتے ہیں۔ آئی یو سی این کی رپورٹ'شمالی پاکستان میں زلزلہ۔۔۔ماحولیاتی خطرات اور ضروریات کا تجزیہ' میںشدیدمتاثرہ پانچ اضلاع (آزاد جموں و کشمیر کے مظفرآباد، باغ اور صوبہ سرحد کے ایبٹ آباد، بٹگرام اورمانسہرہ)کے جنگلات کا تعارف بھی پیش کیا گیا ہے اور زلزلے کے بعد بحالیِ نوکی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔ آزاد کشمیر کے جنگلات:مجموعی طور پر آزاد جموں و کشمیر کے شدید متاثر دونوں اضلاع (مظفرآباد اور باغ) کا50فیصد سے زائد رقبہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔ اس میںمظفرآباد کا59فیصد اور باغ کا53فیصد حصہ شامل ہے۔ مظفرآباد میں پائے جانے والی درختوں کی غالب اقسام دیودار، بلیو پائن، سفیدا، پاپلر، اخروٹ، اوک، چیڑھ، فراش،میپل اور بنفشہ کی ہے۔ باغ میں درختوں کی اقسام تقریباً مظفرآباد والی ہی ہیں، تاہم یہاں بڑنگی، رین، کہو اور پھلائی بھی پائے جاتے ہیں۔ چیڑھ اور بلیو پائین سب سے نمایاںہیں۔ جنگلات حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہ عمارتی لکڑی کے حصول کا اہم ذریعہ ہیں ، جسے نہ صرف مقامی تعمیرات میں استعمال کیا جاتا ہے بلکہ اسے ملک کے مختلف علاقوں میں بھی بھیجا جاتا ہے، تاہم آزاد جموں و کشمیر کے جنگلات کا رقبہ تیزی سے گھٹتاجارہا ہے۔ فوڈ اینڈایگریکلچر آرگنائزیشن کے1997ء کے جائزے کے مطابق ان جنگلات کاصرف20فیصد رقبہ ہی باقی بچاہے، جبکہ2003ء کے اقوامِ متحدہ کے تخمینے کے مطابق یہ رقبہ مزید گھٹ کر صرف12فیصد ہی رہ گیاہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں گیارہ 'محفوظ علاقے' موجود ہیں، جن کا انتظام آزاد جموں و کشمیر کے محکمئہ جنگلات کی ذمہ داری ہے۔زلزلے کے سبب مظفرآباد کے قریب واقع مچیارہ نیشنل پارک شدید متاثرہواہے۔ مجموعی طور پر یہاں واقع محفوظ علاقوں میںسات گیم ریزرو اور چار نیشنل پارک ہیں، جن کے نام مچیارہ، تولی پیر، پیر لسوڑا اور گموٹ نیشنل پارک ہیں۔ صوبہ سرحد کے جنگلات: صوبہ سرحد کے شدید متاثرہ اضلاع ایبٹ آباد، بٹگرام اور مانسہرہ کے جنگلات کا بڑا حصہ زیریں الپائنی جنگلات ( جن کی ابتدائی اقسام میں پائن، دیودار، فر ، بلیو پائن، سفیدا، فراش اور spruceشامل ہیں) پر مشتمل ہے۔ ضلع ایبٹ آباد میں جنگلات کا رقبہ تقریباً39,395 ہیکٹرہے، جس کا28فیصد حصہ' محفوظ جنگل 'پر مشتمل ہے، اور بقایا حصے کا زیادہ تر رقبہ 'گزارہ جنگل' ہے۔ بٹگرام میں70,850ہیکٹر رقبہ زیرِ جنگل ہے، جس کا کوئی بھی حصہ حکومت کی جانب سے مخصوص یامحفوظ قرار نہیں دیا گیا ہے ، یوں یہاں پر زیادہ تر رقبہ 'گذارہ جنگل ' ہے۔ بٹگرام کے جنگلات کا رقبہ شاملاتی زمین ہے، جبکہ کُل 70,850ہیکٹر میں سے10,121ہیکٹر قبائلی علاقوں میں واقع ہے۔ ضلع مانسہرہ، ملک بھر میں جنگل کی دولت سے مالا مال علاقوں میں سے ایک ہے، جس کا109,931ہیکٹر رقبہ زیرِ جنگل ہے، اس میں سے34,146 ہیکٹر' محفوظ 'اور61,198ہیکٹر 'گزارہ جنگل' پر مشتمل ہے۔ اس میں سے11,798شاملات جبکہ2,739ہیکٹر محفوظ علاقے 'کالا ڈھاکہ' کاحصہ ہے۔ یہاں پر درختوں کی اقسام میں دیودار، بلیو پائن، چیڑھ، پلودر، اخروٹ، چیری، پاپلراور کائی بھی شامل ہیں۔ ماہرین نے اپنی رپورٹ میں مشاہدے کی بنیاد پر کہا ہے کہ صوبہ سرحد میں جنگلات کے تیزی سے غائب ہونے کا سبب جنگلات کے حقِ ملکیت میں مقامی لوگوں کی عدم شرکت ہے۔ یہاںگزارہ جنگل کی مثال دی جاسکتی ہے کہ جو پورے گاؤں کی ملکیت تصور کیا جاتا ہے ، جنہیںاس سے پائیدار استفادے کی اجازت ہوتی ہے، تاہم نہایت بااثر صارفین کے جنگلات پر گروہی قبضے اور بے دریغ استحصال کے باعث درخت تیزی سے کم ہورہے ہیں۔اس غیر دانشمندانہ استعمال میں مقامی کمیونٹیز بھی شریک ہوچکی ہیں، جبکہ مقامی محکمئہ جنگلات مختص کوٹے سے زائد درختوں کی کٹائی کی روک تھام میں ناکام نظر آتا ہے۔ صوبہ سرحد میں53مقامات کو محفوظ علاقے قرار دیا گیا ہے، جن کی بڑی تعداد(39) گیم ریزرو پر مشتمل ہے۔ بقایا14محفوظ علاقوں میں تین نیشنل پارک، تین وائلڈ لائف سینکچریز، تین وائلڈ لائف پارک، تین علاقوں کی درجہ بندی نہیں کی گئی، جبکہ دو پناہ گاہیں ہیں، جن کے انتظام کی ذمہ دارصوبائی حکومت ہے۔ زلزلے سے جزوی طور پر متاثرہ محفوظ علاقوں میں ایوبیہ نیشنل پارک بھی شامل ہے۔ جنگلات کی پائیدار انتظام کاری: زلزلے کے بعد تعمیرِ نو اور ایندھن کے لیے لکڑی کی بہت زیادہ طلب نے پہلے سے تباہ حال جنگلات پر مزید دباؤ بڑھادیا ہے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'اب ہم زلزلے کو ایک موقع سمجھتے ہوئے نئی قانون سازی اور پہلے سے موجود قوانین میں ضروری ترامیم کر کے مقامی کمیونٹیز کو جنگلات سے طویل المعیاد پائیدار استفادے ،تحفظ اور ان کے پائیدار انتظام کا حق دے سکتے ہیں، تاہم ضروری ہے کہ جنگلات کی بحالی اور پائیدار انتظام کے لیے مقامی کمیونٹیز کو تعاون بھی فراہم کیا جائے۔' رپورٹ میںتجویز پیش کی گئی ہے کہ 'متاثرہ علاقوں میں ماحول کی بحالیِ نو کے لیے طویل المدتی اقدامات کا خاکہ تیار کیا جائے، جس میں ماحولیاتی نظام ، جنگلی حیات، حیاتیاتی تنوع بشمول جنگلات اور اس کے ساتھ ساتھ ذرائع معاش کے مختلف پہلوؤںکی بحالی کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے۔ ذرائع معاش، زراعت اور پہاڑی و نشیبی علاقوں میں تعمیرات کی پائیدار بنیادوں پر استواری کے لیے آبی وسائل اور آب گیر علاقوں کا انتظام مائیکرو(micro)اور میکرو(macro)سطح پر ماحولیاتی ترجیح ہواورچراگاہوں کا انتظام بھی ماحولیاتی بحالیِ نو کا حصہ ہونا چاہیے۔ رپورٹ میں ماہرین کی دی گئی تجاویزکے مطابق ان اقدامات کے ذریعے
جنگلات کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے:
|
||||
|
||||
|
|
||||