|
|
|
ان سطور میں ہم آپ کے لیے آئ یو سی اين کے قومی اور عالمی سطح پر زیرِعمل مختلف
منصوبوں اور ماحول سے متعلق معلومات اور خبریں فراہم کرتے ہیں |
|||||
|
|
|||||
بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کے مرکزی صدر جناب ولی موسیٰ نے اس سال24تا26جنوری پاکستان کا سہ روزہ دورہ کیا۔ ان کا یہ دورہ گزشتہ سال اکتوبر میں ملک میں آنے والے زلزلے کے تناظر میںتھا۔ دورے کے دوران انہوں نے پاکستان کے قائم مقام صدر، وفاقی وزیرِ ماحولیات اور آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم سے ملاقات کے علاوہ مختلف اعلیٰ سرکاری حکام، آئی یو سی این کی نیشنل کمیٹی کے ارکان، مختلف ماحولیاتی معاملات کے ماہرین و منصوبہ سازاور دورے کے آخری روز اسلام آباد میںذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔ولی موسیٰ نے اعلیٰ سرکاری شخصیات سے ملاقاتوں میں تعمیرِ نو کے دوران ماحول اور قدرتی وسائل کی بحالی کے لیے آئی یو سی این کے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ ولی موسیٰ کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے۔ وہ اپنے ملک کی آزادی کی
تحریک اور آئین کی تشکیل میں نہایت سرگرم رہنے کے علاوہ اہم ترین عہدوں اور
وزارتوں پر بھی فائز رہے۔ انہوں نے2002ء میں اقوامِ متحدہ کی کانفرنس برائے
پائیدار ترقی کی جوہانسبرگ میں اور2003ء میںڈربن میں آئی یو سی این کی پانچویں
ورلڈ پارکس کانگریس کے انعقاد سے خود کو عالمی طور پر پہچانے جانے والے ماحولیاتی
رہنما کے طور پر بھی متعارف کروایا۔ ولی موسیٰ کو 2005ء میں اگلے چار برسوں
کے بعد ازاں انہوںنے وفد کے ہمراہ پاکستان کے وفاقی وزیرِ ماحولیات طاہر اقبال سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ولی موسیٰ نے یقین دہانی کروائی کہ ایشیائی ممالک کے وزرائے ماحولیات کی کانفرنس پاکستان میں منعقد کروانے کے لیے آئی یو سی این اپنی ہر ممکن کوشش کرے گی۔اس کانفرنس کا مقصد خطے کے اہم ماحولیاتی مسائل کا تعین کرنا اور رکن ممالک میں غربت کے خاتمے اور معاشی ترقی کے لیے اقدامات کرنا ہے۔ اس موقع پر ولی موسیٰ نے کہاکہ ''زلزلے کے تناظر میں یہ کانفرنس قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے کے اقدامات کے لیے تعاون کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگی''۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ''اقوامِ متحدہ کے پروگرام برائے ماحول نے اس ضمن میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے21ملین ڈالر کا تخمینہ لگایا ہے۔'' حکومتِ پاکستان کے نمائندوںنے تعمیرِ نو میں تعاون کی پیشکش کا مثبت جواب دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ دورے کے دوسرے روز ولی موسیٰ آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد گئے، جہاں انہوں نے وزیرِ اعظم سردار سکندر حیات سے ملاقات کی اور زلزلے بعد پیش آنے والی صورتِ حال اور مستقبل کی ضروریات کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ملبہ ٹھکانے لگانے کے لیے ماحول دوست طریقے اختیار کیے جائیں، جس کے لیے آئی یو سی این اپنا بھرپور فنی تعاون فراہم کرے گی۔ قبل ازیںآزاد جموں و کشمیر کے وزیر برائے ماحولیات و زراعت اور
وزیر اعظم کے مشیر نے ولی موسیٰ کو بریفنگ دی۔ حکومتِ آزاد جموں و کشمیر
نے ولی موسیٰ کو دعوت دی کہ آئی یو سی این یہاں اپنا دفتر قائم کرے اور تعمیرِ
نومیں ماحولیاتی بحالی کے لیے ان کی مدد کرے، جس پر انہوں نے ہر ممکن مدد
کا یقین دلایا۔انہوںنے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا اور متاثرین سے ہمدردی
کا اظہار کیا۔ دورے کے آخری روز ولی موسیٰ نے اسلام آباد میں آئی یو سی این،
پاکستان کی نیشنل کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی، جس میں مملکت کے نمائندوں
سمیت 24 ارکان اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ارکان موجود تھے۔ اس موقع
پر انہوں نے نیشنل کمیٹی کے کردار کو سراہا۔
|
|||||
|
|
|||||
|
|
|||||
|
چلغوزہ موسمِ سرما کے دوران سب کا پسندیدہ خشک میوہ ہے۔ چلغوزہ پائن (Pinus geradiana) پاکستان کے شمال میں واقع بُلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں واقع چترال اور اس سے ملحقہ اضلاع میں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں، جس کی اندرونِ ملک بھی مانگ ہے اور اس کی بڑی مقداربرآمد بھی ہوتی ہے۔ وادیِ شیشی چترال کے جنوب میں واقع ہے، جس کی آبادی ساڑھے اٹھارہ ہزار نفوسپر مشتمل ہے، جو چترال کی کُل آبادی کا لگ بھگ پانچ فیصد ہے۔ یہاں سے حاصل ہونے والے چلغوزے کی مالیت پاکستانی منڈی کے مطابق چھ سے سات ملین روپے بنتی ہے، جس کا تقریباً 19فیصد ان مزدوروں کو حاصل ہوتاہے جو درخت سے وہ خول اتارنے ہیں جن میں چلغوزہ بند ہوتا ہے۔ یہ کام کم آمدنی والے مقامی لوگوں کے لیے اضافی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران چلغوزہ کی مانگ میں اضافے کے سبب پھل اتارنے کے دوران نا مناسب اور غیر دانشمندانہ طریقوں کے استعمال اور غیر تیار پھل کو اتارنے کا غلط رجحان زور پکڑ تا چلاگیا، حتیٰ کہ جلد بازی کے چکر میں درختوں کو ہی کاٹا جانے لگا ۔ اس سے خطرہ پیدا ہوا کہ نہ صرف چلغوزہ پائن کی تعداد بہت کم ہوجائے گی بلکہ آگے چل کر مقامی لوگوں کا ذریعہ آمدنی بھی ختم ہوجائے گا۔ ایک اور خطرناک صورتِ حال جنگلی حیات کے مسکنوں میں مداخلت اور ان کی تباہی کی شکل میں سامنے آئی،جس کے سبب جنگلی جانور آبادی کا رُخ کرنے لگے اور پالتو مویشی، کھڑی فصلیں اور پھل دار درخت ان کا نشانہ بننا شروع ہوگئے۔ انسانی ردِ عمل کے طور پر خود جنگلی حیات کی بقا کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا۔ حالات کے پیشِ نظر طے کیا گیا کہ چترال اور اس سے ملحقہ وہ علاقے،جہاں چلغوزہ کی پیداوار ہوتی ہے، اس نامناسب صورتِ حال کے تدارک اور پائیدار طریقہ استعمال کے رواج کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے سوئٹزرلینڈ کے ادارہ برائے ترقی و تعاون (سوئس ڈویلپمنٹ اینڈ کوآپریشن ایجنسی) کے مالی اشتراک سے آئی پی آر پی اور بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این نے ایک ایسا مثالی منصوبہ شروع کیا جو مقامی لوگوں کو پائیدار استعمال کے لیے آگاہی اور مہمیز بخشے اور یوں اس قیمتی قدرتی وسیلے اور مقامی لوگوں کے ذرائع معاش کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ اس مقصد کے لیے ' وادیِ شیشی' کا ہی انتخاب کیا گیا۔ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے آئی پی آرپی اور آئی یوسی این نے متعدد اقدامات تجویز کیے۔ ان میںتیارفصل پائیدار طریقے سے اتارنے اور خول سے پھل کو باہر نکالنے کے لیے مقامی لوگوں کی استعداد سازی، تاکہ غریب مزدوروں (بالخصوص خواتین) کی آمدنی میں مزید اضافہ ہوسکے ۔ علاوہ ازیں چترال کے مزید سات ایسے علاقے کہ جہاں چلغوزہ کوخطرات کا سامنا تھا، وہاںلوگوں میں آگاہی کے لیے آٹھ روزہ مہم بھی چلائی گئی۔ اس ضمن میں مساجد اور عوامی اجتماعات کے علاوہ اقلیتی گروہوں (مثلاً وادیِ کیلاش کے باشندوں ) کے ساتھ بھی مکالمہ کیا گیا، جس میں چلغوزہ کی معاشی و ثقافتی اہمیت،جنگلی حیات اور ان کے مسکنوں کی بقا اور مجموعی ماحول کے حوالے سے ان میں آگاہی پیدا کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگ ان مسائل کے حوالے سے باخبرتھے۔چنانچہ لوگوں نے چلغوزہ کے درختوں کی شجرکاری اور موجود درختوں کی حفاظت اور پائیدار طریقوں پرعمل کا وعدہ کیا۔پہلے روایتی و نامناسب طریقوں سے پھل اتارنے کے دوران حادثات عام تھے، لیکن جب درست طریقے سے پھل اتارنے کے طریقوں کی تربیت دی گئی تو عمل کے نتیجے میں اس سال ایسا کوئی افسوسناک واقعہ پیش نہیں آیا۔ دوسری جانب چلغوزہ کو خول سے علیحدہ کرکے مشین کے ذریعے اسے بھوننے کی تربیت سے مقامی باشندوںکی آمدنی بھی بڑھی۔ پہلے جو چلغوزہ یہ240روپے فی کلوگرام فروخت کرتے تھے، خول سے علیحدگی اور بھوننے کے بعد اس کی قیمت بڑھ کر425روپے فی کلوگرام ہوگئی۔یوں مذکورہ بالامنصوبے کے مثبت اثرات اُن کے سامنے، اُن کے اپنے فائدے کی شکل میں سامنے آئے۔ مقامی لوگوں میں اپنے اس ورثے کے تحفظ کا احساس بیدار ہوچکا ہے اور اب وہ اس قیمتی قدرتی وسیلے کے لیے خطرہ بننے والے عوامل پرکڑی نظریں رکھ رہے ہیں، لیکن ضرورت ہے کہ ان کوششوں کو ضروری قانون سازی کے ذریعے بھی تحفظ فراہم کیا جائے، تاکہ بیش بہا وسیلے کی حفاظت اور بڑھتی ہوئی غربت پر قابو پایا جاسکے۔
|
|||||
|
|||||
|
|||||
|
|||||
|
|
|||||
|
|
|||||
|
|||||
|
|||||
|
|
|||||