بات صرف پاکستان یا ترقی پذیر ممالک تک ہی محدود نہیں، زمین کے بنجر پن میں اضافہ اور اس کے تیزی سے ریگستانوں میں تبدیل ہونے کا خاموش سلسلہ دنیا کے بہت سارے ممالک کے لیے تشویش ناک مسئلہ بن چکا ہے۔ ترقی یافتہ ملک امریکا کے شمالی حصے سے لے کر برِاعظم ایشیا اور افریقہ کے ترقی پذیر ممالک تک یہ پھیلاؤ جاری ہے، البتہ تشویشناک امر یہ ہے کہ ایشیا اور افریقہ کے برِ اعظموں میں یہ تبدیلی اور مسئلے کی سنگینی شدت کے ساتھ سامنے آئی ہے۔

زمین کی قوت، اس کی زرخیزی اور اُن کی مرہونِ منت پیداوار کرئہ ارض کے اربوں باشندوں کی غذائی ضروریات کوپورا کرنے کے ضمن میں اہم کردار کی حامل ہیں، لیکن زمین کے بنجر پن میں اضافہ اور رفتہ رفتہ اس کا خاموشی سے ریگستانوں میں تبدیل ہونے کا عمل مستقبل میں اربوں لوگوں کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے پر بھی سوالیہ نشان لگارہا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت بھی ایشیا اور افریقہ میں کروڑوں باشندے خوراک کی کمی کا شکار ہیں ۔ ذرا سوچیے کہ اگر زمین کی صحرا زدگی کا عمل اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو زمین پر انسان کے لیے کیسے کیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ دنیا کے کروڑوں باشندے تو وہ ہیں کہ جو برائہ راست صحرا زدگی کا شکار ہو چکے ہیں اور اس کے سبب ماحولیاتی ہجرت پر مجبور ہوئے یا اس کاسوچ رہے ہیں۔ اس صورتِ حال کا شکار لوگوں کی ایک بہت بڑی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ صحرا زدگی کا پھیلتا ہوا عمل ہجرت کے لیے ان کے پاس موجود مواقعوں کو بھی محدود کرتا جارہا ہے۔

زمین کے تیزی سے ریگزاروں میں تبدیل ہونے کا عمل انتظامی سطح پر صرف حکومتوں کا ہی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک بہت بڑا اجتماعی ماحولیاتی مسئلہ بھی ہے کہ جس کہ جڑیںمعیشت، سماجیات، صحت، حیات اور مجموعی طور پر بقائے ماحول کے ہر شعبے کا احاطہ کرتی ہیں۔

کرئہ ارض کے باسیوں کو درپیش یہ مسئلہ صرف ایک دن میں سامنے نہیں آیا، بلکہ گزشتہ کئی عشروں کے دوران بتدریج یہ اس مقام تک پہنچا ہے ۔ اب حالات نے اتناسنگین رُخ اختیار کرلیا کہ اقوامِ متحدہ نے صحرازدگی پر قابو پانے کے لیے مملکتوںاور عالمی سطح پر جاری اقدامات و منصوبوں میں تیزی لانے اور عوامی آگہی کے فروغ کے لیے2006ء کو 'صحرا اور صحرا زدگی' کے نام معنون کیا ہے۔

ہمارے لیے بھی یہ بہترین موقع ہے کہ پاکستان اور عالمی تناظر میں اس مسئلے کے بارے میں قارئین 'جریدہ' کی معلومات میں اضافہ کریں اور انہیں اس حوالے سے اپنے ملک سمیت دنیا کو درپیش صورتِ حال اور اب تک کیے گئے اقدامات کے بارے میں مفصل و مصدقہ معلومات فراہم کریں۔ اس مرتبہ 'جریدہ ' کی سرورق کی کہانی اسی ماحولیاتی مسئلے اور اس کے مختلف پہلوؤں کے گرد گھومتی ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ موضوع کی مناسبت سے سرورق کی کہانی آپ کے لیے معلومات کی فراہمی کا سبب بنے گی۔

اس کے ساتھ ہی ایک اطلاع، وہ یہ کہ بقائے ماحول کا پرچم تھام کر پاکستان میں عوامی شعور کی بیداری کی کوششوں میں 'جریدہ ' نے اپنی عمر کا ایک اور سال طے کرلیا۔ اور یہ شمارہ'جریدہ'کی عمر کے چودہویں برس کا پہلا شمارہ ہے۔

مختار آزاد