ماربل ٹِیل بقا کو لاحق خطرات سے دوچار پرندہ ہے، جس نے اب سندھ کی آب گاہوں کو افزائشِ نسل کا مسکن بنا لیا ہے

 

تحرير وتصوير: حسین بخش بھاگت

 

'ماربل ٹِیل' ایک آبی پرندہ ہے جو پاکستان اور وسط ایشیائی ممالک سمیت چین، جاپان، بھارت اور روس میں بھی پایا جاتا ہے۔ مرغابی کی نسل سے تعلق رکھنے والے اس پرندے کی تعداد پوری دنیا میں اس وقت تیس تا پینتیس ہزار کے درمیان ہے اور اسے بقا کو لاحق خطرات سے دوچار آبی پرندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ہلکی زرد مائل رنگت والی ماربل ٹِیل کے پروں پر دائرے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کی چونچ اور پاؤںسیاہ جبکہ آنکھوں کا رنگ گہرا بھورا ہوتا ہے ۔ اس کی خاص پہچان تنی ہوئی گردن اور آنکھ کے نچلے اور پچھلے حصے پر پڑی ہوئی کالی دھاریاں ہوتی ہیں جو گردن کی طرف مڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ گروہ کی شکل میں رہنے والے اس پرندے کا مسکن گہرے اور نمکین پانی والی جھاڑی دار جھیلیں ہوتی ہیں۔

عام دنوں میںنر اور مادہ میںامتیاز کرنابہت ہی مشکل ہوتا ہے،لیکن ملاپ کے مخصوص ایام میںنر کے سر پر کلغی نکل آتی ہے، جس سے پہچان کی جاسکتی ہے۔ انڈے دینے سے کچھ دنوں قبل نر اور مادہ مل کر گھنی جھاڑیوں میںگھونسلہ بناتے ہیں۔انڈے دینے کا موسم اپریل سے مئی کے دوران ہوتا ہے، جن کی تعداد دس سے بارہ ہوتی ہے۔ مادہ انڈوں کو اکیلی سہتی ہے، جن سے بچوں کے نکلنے کا دورانیہ ایک ماہ سے لے کر پینتیس دن تک کا ہوتا ہے۔ بچوں کا دانہ دُنکا ماں کی ذمہ داری ہوتی ہے، البتہ نر اپنی مادہ اور بچوں کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ تقریباً دو ہفتوں کے دوران بچے تیرنا سیکھ جاتے ہیں اور اپنے والدین کے پیچھے پیچھے تیرتے رہتے ہیں، تاہم ایک ماہ کے دوران یہ تنہا تیرنے اور اپنی خوراک خود تلاش کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

ماربل ٹِیل آبی گھاس کے پتے، بیج ،ان کی نرم جڑوں کے علاوہ پانی میں پلنے والے کیڑے مکوڑے کھاتاہے۔یہ شرمیلا پرندہ ہے جو صبح وشام کے دوران جھاڑیوں میں دُبکا رہتا ہے اور صرف دوپہر کے وقت خوراک کی تلاش میں کھلے پانی اور جھیل کے کناروں کا رُخ کرتا ہے۔

پاکستان میں اس پرندے کی موجودگی کا ثبوت ایک صدی کے لگ بھگ پرانا ہے۔ معروف ماہرِ جنگلی حیات ٹی ۔جے رابرٹ اپنی کتاب The Birds of Pakistan کی جِلد اول میںرقم طراز ہیں:

'' ماربل ٹِیل1913ء اور1915ء میں بلوچستان کی سراندہ جبکہ1920ء اور1927 ء میں خوش دل خان جھیل پر دیکھا گیا۔1942ء میں زنگی ناوڑ جھیل پر بھی اس کی کثیر تعداد اور افزائشِ نسل ثابت ہوئی۔''

80ء کی دہائی تک ماربل ٹِیل کی افزائشِ نسل کا مسکن بلوچستان کی زنگی ناوڑ جھیل ہی تھی، تاہم جھیل کے خشک ہوجانے کے بعد خیال کیا جاتا رہا کہ افزائشی مسکن کی تباہی کے بعد اس نے کہیں اور کا رُخ کرلیا ہے، تاہم حال ہی میںمشاہدے میں آیا ہے کہ ماربل ٹِیل نے سندھ کے اضلاع خیرپور، نواب شاہ اور سانگھڑ کی جھیلوں کو اپنی افزائشِ نسل کا ٹھکانہ بنالیا ہے۔ راقم نے گزشتہ سال نارا گیم ریزرو کی آب گاہوں کے سروے کے دوران نواب شاہ کی دانگی واری جھیل پر جون، جولائی کے مہینوں میں 60بالغ جبکہ سو سے زائد بچوں کی موجودگی کا مشاہدہ کیا ہے۔ اسی علاقے کی دیگر ایک دو آب گاہوں پر بھی اس کے چند جوڑے نظر آئے۔

بقا کو درپیش خطرات سے دوچار ماربل ٹِیل کی سندھ کی آب گاہوں پر موجودگی افزائشِ نسل کے لیے سازگار ماحول کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہے۔ دوسری طرف سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن آرڈیننس مجریہ1972ء کے تحت بھی اسے تحفظ حاصل ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امرکی ہے کہ سندھ کی تمام آب گاہوں پر مارچ تا ستمبر باقاعدہ سروے کا انتظام کیا جائے اور اس کے افزائشی مسکنوں کو مزید تحفظ فراہم کرنے کے لیے بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این سمیت دیگر تنظیمیں سامنے آئیں اور محکمہ جنگلی حیات کے اشتراک سے موثر منصوبہ بنائیں، تاکہ ہماری آب گاہیں ماربل ٹِیل کی میزبانی سے ہمیشہ لطف اندوز ہوتی رہیں ۔

 


حسین بخش بھاگت محکمۂ جنگلی حیات، سندھ میں بطور ڈپٹی کنزرویٹر براۓ سکھر، لاڑکانہ رینج خدمات سرانجام دے رہے ہیں