|
|
|
||||||
برڈ فلو نے مرغی کو دال سے بھی کم تر مقام دے ڈالا اور اس کی بےتوقیری نے دنیا بھر میں پولٹری صنعت کو بحران سے دوچار کردیا ہے |
||||||
تحرير: جارج صادق ترجمہ: محمد ذیشان حیدر |
||||||
|
مُرغی کے بھی کیا کہنے۔ مہمان کی تعظیم و تکریم جتلانا مقصود ہو تو اس کے سامنے مرغی کے گوشت سے تیار کردہ ڈشیں دسترخوان پر سجائی جاتی ہیں اور اگر کسی کو غیر اہم بتلانا ہو تو تب بھی یہی مرغی کام آتی ہے کہ'گھر کی مرغی دال برابر' لیکن گزشتہ مہینوں میں مرغی کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس نے اس بے چاری کو حقیقت میں ہی گھر کی دال سے بھی نہایت کمتر مقام دے ڈالا ہے۔ بے توقیری کا عالم یہ ہے کوڑیوں کے مول بک رہی ہے مگر بریانی اور قورمے میں مرغی کی ٹانگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اسے بھنبوڑنے والے بھی اس سے دور ہی دورہیں۔ سب کچھ کیا دھرا اس برڈفلو کا ہے کہ جس نے پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک سمیت کم و بیش پوری دنیا کے گوشت خوروں اور شکاریوں کو مرغی، بطخ، مرغابی سمیت رغبت سے کھائے جانے والے ان تمام پرندوں سے دور کردیا ہے کہ جو ابھی کچھ ہی مہینوں پہلے ان کے دہن کی لذت اور شکم کی خالی جگہ کو پُرکرنے کے لیے موزوں ترین سمجھے جاتے تھے۔
برڈ فلو کے خطرے سے دوچار دنیا کے دیگر ممالک کے برعکس چونکہ پاکستان میں بطخ اور دیگر پرندوں کے گوشت کے استعمال کا چلن عام نہیں ہے، اس لیے لے دے کر ایک مرغی ہی تھی سو'برڈ فلو' کے خطرے کا انسانی نزلہ اس بے چاری کے سرپر آن گرا۔ اب ایک طرف خود اس کی بھی جان کو لالے پڑے ہوئے ہیں تو دوسری طرف پولٹری کی صنعت میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی تقریباً ڈوب ہی چکی اور جو چھوٹے نجی مرغی خانے چلاتے تھے، ان کا تودیوالیہ ہی نکل چکا ہے۔ برڈ فلو کے خطرے کی آوازیں جہاں سنائی دے رہی ہیں، وہیں پولٹری فارم کے مالکان اور ان کی تنظیموں کے نمائندے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مرغیاں اس مہلک وائرس سے پاک ہیںلیکن طبی ماہرین کے بیانات، مریضوں کے اسپتال میں داخل ہونے کی اطلاعات اور اس حوالے سے ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں نے ایک ایسا ماحول بنیادیا ہے کہ جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ برڈ فلو سے مرغیاں پاک بھی ہوگئیں تب بھی گوشت خوروں میں طویل عرصے تک اس کی باز گشت سنائی دیتی رہے گی۔ پاکستان میں برڈ فلو کی موجودگی کی اطلاعات پہلی بار سنائی نہیں
دی ہیں۔ اس سے پہلے 2003ء کے آخرمیں ایچ نائین اور ایچ سیون کی موجودگی
کا پتا چلنے پر3.5ملین مرغیاں تلف کی گئی تھیں اور یہ مسئلہ2004ء کی پہلی
سہ ماہی تک موجود رہا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاملہ پسِ پشت چلا گیا
تھا اور لوگ ایک بار پھر بے خطر مرغی پر ٹوٹ پڑے تھے،تاہم لگ بھگ دو، ڈھائی
برس گزرنے کے بعد ایک بار پھر یہ مسئلہ آن کھڑا ہوا ہے۔ فلو ایک وائرس ہے اورانسانوں کی طرح جانور اور پرندے بھی فلو میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ برڈ فلو ایک ایسا وائرس ہے کہ جس میں پرندے مبتلا ہوتے ہیں اور ان کے گوشت کے استعمال سے یہ وائرس انسانوں میں بھی منتقل ہوجاتا ہے۔ فلو وائرس کی تین اقسام 'اے' 'بی' اور 'سی ' ہیں۔ ان میں سے 'اے' اور بی' انسانی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ فلو کی مزید ذیلی اقسام ہیںجنہیں جانوروں اورپرندوں کے پروٹین کے لحاظ سے 'ایچ' اور 'این' کا نام دیا گیا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ جانوروں یا پرندوں کے پروٹین کی اوپری سطح پر موجود ہوتے ہیں۔ 'ایچ' وائرس کی مزید پندرہ مختلف اقسام ہیں جبکہ 'این' وائرس کی نو مختلف اقسام دریافت کی جاچکی ہیں۔ حالیہ برڈ فلو کی جو قسم ہے وہ 'ایچ فائیواور این ون'کہلاتی ہے، جو فلو کی قسم 'اے' کی ذیلی اقسام میں سے ہیں۔ اب تک یہی غالب گمان ہے کہ یہ وائرس متاثرہ پرندوں کے گوشت کے
استعمال سے انسانوں تک منتقل ہوتا ہے اور عام فلو کی طرح برڈ فلو انسانوں
سے انسانوں میں منتقل نہیں ہوتا ہے، تاہم متاثرہ پرندوں مثلاً مرغابی، بطخ
یا مرغیوں کے ساتھ زیادہ وقت بتانے والے اس وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں اور
اب تک جو واقعات سامنے آئے ہیں، ان میں مرغی خانوں کے ملازمین بھی شامل
ہیں جو متاثرہ پرندوں کی دیکھ بھال پر معمور تھے۔ پہلے ماہرینِ طب کا خیال تھا کہ یہ وائرس انسان کے نظامِ تنفس کو ہی متاثر کرتا ہے لیکن حالیہ طبی انکشافات سے پتا چلا ہے کہ اس وائرس سے نظامِ تنفس ہی نہیں بلکہ تمام اندرونی جسمانی اعضا ء متاثر ہوسکتے ہیں۔ صحت کے امور پر کڑی نظریں رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ برڈ
فلو کا وائرس صفر سے 22ڈگری کے درجئہ حرارت پر30دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔
ایچ فائیو این ون کے حوالے سے ماہرینِ صحت کا موقف ہے کہ اول تو یہ وائرس
سخت سردی میں ہوتا ہے، لہٰذا پاکستان میں وبائی مرض کی طرح اس کے عام ہونے
کا خطرہ نہیں، دوسرے یہ کہ ہمارے یہاں کھانا نہایت تیز آنچ پر اچھی طرح
پکایا جاتا ہے، لہٰذا مرغی کے گوشت کے استعمال سے اس کے لاحق ہونے کا زیادہ
خطرہ نہیں ہے۔ برڈ فلو کی تاریخ - تھائی لینڈ میں برڈ فلو سے متاثر پہلے شخص کو23جنوری،2004ء کو اسپتال لایا گیا۔
برڈ فلو کے حوالے سے عالمی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کے حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں تخمینہ لگایاہے کہ ''ایشیائی ممالک میں برڈ فلو کے حوالے سے معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ابتدائی تخمینہ297ارب امریکی ڈالر ہے۔'' پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں کہ جہاںبرڈ فلو وائرس کی موجودگی کی اطلاعات ہیں، یا اس کے مریض سامنے آچکے ہیں، وہاں خدشات اور خطرات کے بادل ابھی چھٹے نہیں ہیں اور لوگوں میں بدستور خوف موجود ہے۔خدشہ ہے کہ اگر یہی صورتِ حال رہی تو آئندہ مہینوں میں نہ صرف پولٹری کی صنعت بلکہ اس سے متعلقہ دیگر شعبوں کوپہنچنے والے نقصان میں مزیداضافہ ہوسکتا ہے بلکہ مرغی پر انسانوں کے کھوئے ہوئے اعتماد کی بحالی بھی شاید کم وقت میںممکن نہ ہوسکے۔
|
||||||
|
||||||
جارج
صادق آئی یو سی این سے بطور ایگزیکیٹیو سیکریٹری وابستہ ہیں |
||||||
|
|
||||||