سبز پہاڑ کے نام سے موسوم چلغوزہ اور زیتون کے جنگلات والے اس مقام پر تھوڑی سی توجہ دی جاۓ تو یہ دلکش سیاحتی مرکز بن سکتا ہے

 

تحرير: محمد نعمت بیٹنی

 

بلوچستان کو نیم بنجر خطّہ اور چٹیل پہاڑوں کی سرزمین کہا جاتا ہے، لیکن اس کی شمالی پٹی صوبے کے جنوبی علاقوں کی نسبت قدرے سرسبز ہے۔ کوئٹہ سے لگ بھگ سوا تین سوکلومیٹرشمال میںژوب شہر واقع ہے ۔ اس سے تقریباً تیس کلومیٹرکے فاصلے پر شمال مشر ق میں'شین غر 'کا پہاڑی جنگل واقع ہے۔شین غر پشتو زبان کا لفظ ہے۔ 'شین' کے معنیٰ 'سبز' اور' غر' پہاڑ کو کہتے ہیں۔پہاڑ سطحِ سمندر سے تقریباً ساڑھے نو ہزار فٹ بُلند اور تقریباً 50کلومیٹر کے احاطے کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔ یہ پہاڑچلغوزے اور زیتون کے جنگل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

دورِبرطانیہ کا تعمیر کردہ ڈاک بنگلہ جہاں اب چوکیدار رہتا ہے

شین غر کے دامن میں آباد قبائلی لوگ بھیڑ بکریاں چراتے ہیں اور ایندھن کے لیے یہاں سے لکڑیاں اکھٹی کر کے لے جاتے ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے جنگلات سے لکڑیاں کاٹنے پر پابندی ہے، لیکن درختوں کی کٹائی ہوتی رہتی ہے جس کا بنیادی سبب علاقے میں غربت ہے۔واضح رہے کہ برطانوی دورِ حکومت میں جنگل کے تحفظ کے لیے علاقے کے مکینوں کو ملازمتیں بھی دی گئی تھیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد اب بھی جنگل کے تحفظ کے لیے محکمہء جنگلات بلوچستان کے چھ اہلکار متعین ہیں تاہم مجموعی طور پرصورتِ حال بدستور انحطاط پذیرہے۔شین غر کی چوٹی پر برطانوی دور میںبنائے گئے ہیلی پیڈ، ڈاک بنگلے اور پانی کے ترسیل کا انتظام برباد ہوچکا ہے ۔ جنگل پر انسانی دباؤ بڑھنے کے سبب سے شین غر کی آغوش میں پرورش پانے والی جنگلی حیات کا مستقبل بھی خطرے سے دوچار ہے۔

شین غر کی چوٹی پر پکنک منانا ژوب کے باشندوںکا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ پُر پیچ پہاڑی راستوں کی بدولت شہر سے یہاں تک کا راستہ تقریباً چار گھنٹے میں طے ہوتاہے۔پہاڑ کے دامن میں چند ایک گاؤں آباد ہیں۔ پہاڑ کے دامن تک پہنچنے کے لیے گاڑی کی ضرورت تو پڑتی ہے، لیکن چوٹی تک جیپ کے بغیر پہنچنا نا ممکن ہے۔ اگر شین غر کے دامن سے چوٹی تک پیدل پہنچنا چاہیں تو اس میں تقریباً تین گھنٹے لگتے ہیں۔ شین غر کی سیاحت کے لیے جون ، جولائی ، اگست مناسب خیال کیے جاتے ہیں۔ موسمِ سرما میں یہاں ناقابلِ برداشت ٹھنڈ پڑتی ہے۔

پہاڑ کی چوٹی پر انگریزوں کے تعمیر کردہ پانچ بنگلے موجود ہیں۔ پہاڑی پتھروں اور لکڑی کی مدد سے یہ بنگلے لگ بھگ ایک صدی پہلے تعمیر کیے گئے تھے۔کہتے ہیں انگریز دورِ حکومت میں پُر پیچ پہاڑی راستوں پر گھوڑوں اور خچروں کے ذریعے سامانِ تعمیرات پہنچایا گیا اور ڈاک بنگلے بنائے گئے تھے۔ پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے کے لیے انگریزوں نے سڑک تعمیر کی تھی، لیکن آج یہ صرف برائے نام ہی رہ گئی ہے۔

پہاڑ کی چوٹی سے آبادی کوسوں میل دور ہے، لیکن یہاں موسموں سے بے نیاز ایک شخص 'مرجائے آقا' اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ ورثے میں ملی ہوئی ملازمت کے سہارے زندگی کے دن پورے کررہا ہے۔ مر جائے آقا کا کہنا ہے کہ ''میں بہت چھوٹاتھا،لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انگریز پولیٹکل ایجنٹ اور اس کے اہلِ خانہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے یہاں آ کر گرمیوں کے چار ماہ گزار تے تھے۔ان کے لیے راشن اور دیگر ضروریاتِ زندگی گھوڑوں اور خچروں کے ذریعے یہاں پہنچایا جاتا۔اس دوران فورٹ سنڈیمن (برطانوی عہد میںژوب کا نام )کا دارالحکومت بھی یہیں منتقل ہوجاتا تھا۔'' مرجائے آقا کہتے ہیں '' ان کے والد کو ان بنگلوں کی دیکھ بھال کے لیے ملازم رکھاگیا تھا ۔ والد کے بعدیہ ملازمت مجھے ملی اور میرے بعد میرابیٹا یہ وراثت سنبھالے گا۔''مرجائے آقا کی بات اپنی جگہ لیکن عدم توجہی کے باعث روز بہ روزکھنڈر بنتے ہوئے یہ ڈاک بنگلے کیا اُس وقت تک سلامت بھی رہ سکیں گے جو اس کی وراثت اگلی نسل کو منتقل ہونے کی ٹھوس وجہ بن سکیں؟

شین غرکی چوٹی پرTele Digital Multi Access نصب ہے، جس سے اس کے دامن میں آباد تقریباً چھ گاؤں کو ٹیلی فون کی سہولت مہیاہوتی ہے۔ شین غرایک نہایت خوبصورت تفریح گاہ ہے۔ اگرمحکمہ سیاحت توجہ دے تو یہ مقام قدرتی مناظر کے دلدادہ سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرسکتا ہے۔فروغ سیاحت سے نہ صرف علاقے میں پھیلی ہوئی غربت کا بڑی حد تک خاتمہ ہوسکتا ہے، حکومت کو بھی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے بلکہ چلغوزے اور زیتون کے جنگل پر بڑھتا ہوا انسانی دباؤ بھی کم کرکے قدرتی ماحول کا تحفظ کیا جاسکتا ہے، تاہم ضروری امر یہ ہے کہ فروغِ دوست ماحول دوست پائیدار سیاحت کے اصولوں پر استوار ہو، تاکہ اس کے ثمرات بھی پائیدار رہیں۔


 

 

محمد نعمت بیٹنی ژوب سے تعلق رکھتے ہیں اور پیشے کے لحاظ سے استاد اور صحافی ہیں