|
|
عالمی درجۂ حرارت میں سو سالوں کے دوران دوسری مرتبہ بُلند اضافہ، جزائر بحرالکاہل میں تحفظ کی مہم سمیت متعدد تازہ ترین عالم حقائق |
||||
انتخاب: ناصر علی پنہور |
||||
|
|
||||
جاپان کے موسمیاتی ادارے 'جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی' نے خبردار کیا ہے کہ ''کرئہ ارض کے درجئہ حرارت میں لگ بھگ ایک سو سال کے دوران دوسری بار سب سے زیادہ اضافے کی یہ شرح بڑھتے ہوئے عالمی درجئہ حرارت کی تصدیق کرتی ہے ، جس کا سبب مہلک گیسوں کا اخراج ہے۔'' جاپانی موسمیاتی ادارے کے جاری کردہ بیان کے مطابق''2005ء کے دوران دنیا بھر کے درجئہ حرارت میں0.3 ڈگری کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ1971ء سے لے کر2000ء تک کے دوران ریکارڈ کیے جانے والے اوسط درجئہ حرارت میں سب سے زیادہ ہے۔2005ء کے دوران ریکارڈ کیے درجئہ حرارت میں اضافے کی یہ شرح1891ء کے بعد، جب سے ایجنسی نے درجئہ حرارت کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا ہے، دوسری بار سب سے زیادہ بلندشرح پر پہنچی۔ اس سے پہلے1998ء میں ایسا ہوا تھاجب گزشتہ ریکارڈ کیے گئے سالانہ درجئہ حرارت کی اوسط شرح کے درمیان 0.66 ڈگری کا فرق دیکھنے میں آیا۔'' بیان میںماہرین نے کہا کہ''قطع نظر اس کے کہ گزشتہ لگ بھگ ایک سو برس کے دوران پچھلے آٹھ سالوں میں دو سری مرتبہ دنیا کے درجئہ حرارت میںاضافے کو سب سے بلند درجے پر ریکارڈ کیا گیا، تاہم حقیقتِ حال یہ ہے کہ80ء کی دہائی سے اوسط درجئہ حرارت میں زیادہ تیزی سے متواتر اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے۔ ''بیان میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اضافے کا سبب فضا میں خطرناک گیسوں مثلاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں زیادتی ہے۔'' یاد رہے کہ جاپان کو مہلک گیسوں کے اخراج میں کمی کے عالمی معاہدے 'کیوٹو پروٹوکول' کا گھربھی کہا جاتا ہے، جس کا نفاذ فروری2005ء میں ہوا ہے۔ دریں اثنا ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹارکٹیکا کے برف زاروں پر چلنے والی ہوائیں گرم ہوتی جارہی ہے اور گزشتہ تیس برس کے دوران جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے دیگر خطوں کے برعکس یہاں چلنے والی ہواؤں میں گرمی کی شدت آچکی ہے۔ موسمیاتی غبارے کے ذریعے تیس برس کے دوران جمع کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی یہ رپورٹ برٹش انٹارکیٹک سروے نے جاری کی، جو سائنسی رسالے 'جرنل سائنس' میں شائع ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ '' انٹارکٹیکادرجئہ
حرارت میں یہ اضافہ0.9سے1.3ہائیٹ فی دہائی کی اوسط سے رہا ہے، جبکہ اس کے
برعکس اس دورانیے میں دنیا کے درجئہ حرارت میں اضافے کی شرح 0.2ڈگری فارن
ہائیٹ فی دہائی رہی ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے '' مذکورہ بالا علاقے کے درجئہ
حرارت میںاضافے کی وجوہات کے بارے میں فی الوقت کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن
گمان غالب یہی ہے کہ اس کا سبب کرئہ ارض کے گرد تنی ہوئی اس چادر کو مہلک
گیسوں سے پہنچنے والے نقصانات ہی ہیں، جو سورج کی خطرناک شعاؤں کو زمین
تک برائہ راست پہنچنے سے روکتی ہیں۔'' |
||||
|
|
||||
|
|
||||
بحر
الکاہل کے جزائر پر موجود حیاتیاتی تنوع ، سمندری اور زمینی ماحولیاتی نظام
کے تحفظ کی خاطر ایک بڑی مہم شروع کی گئی ہے۔ اس سال کے اوائلی مہینوں میں
شروع کی جانے والی اس مہم میں سمندر کے ایک تہائی پانیوں اور مکرونیسیا
کے زمینی علاقے کے پانچویں حصے کو بچانے کا عزم کیا گیا ہے۔ مہم کا اعلان
دنیامیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے انعقاد
سے قبل کیا گیا تھا۔
تحفظ ماحول اور بقائے حیات کا پرچم تھامے اس مہم کا آغاز صرف بیس ہزار کے لگ بھگ نفوس پر مشتمل بحرالکاہل کے چھوٹے سے جزائری ملک 'پلاؤ' کے صدر نے کیا ہے۔ ان کا عزم ہے کہ اس بڑی مہم کے ذریعے2020ء تک میکرونیسیا کے علاقے میں تیس فیصد سمندری حیات اور بیس فیصد زمینی رقبے کے ماحولیاتی نظام کو تحفظ فراہم کرکے اسے دوبارہ فطری شکل میں واپس لایا جائے گا۔ مہم کے لیے اب تک اٹھارہ ملین ڈالر مختص کیے جاچکے ہیں۔ ماہرینِ ماحول کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت پُرتگال کے کُل رقبے سے دو گنا علاقہ محفوظ کیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں ان آٹھ جزائر میں انسانی سرگرمیوں کی روک تھام کی جائے گی، جہاں مونگے کی چٹانیں پائی جاتی ہیں۔مجموعی طور پران جزائر کو 'جزائرِ فینکس' کہا جاتا ہے۔ جزائر پر موجود حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اور منصوبے کے تحت بحرالکاہل کے جزیرے کیرے باتی پر ایک بہت بڑا' سمندری پارک' بھی بنایا جارہا ہے، تاکہ وہاں موجود مونگے کی چٹانوں کو بچایا جاسکے۔ بحرالکاہل کے جزائر پر دنیا بھر کے جانوروں اور پرندوں کی نسلیں
غیر متناسب تعداد میں پائی جاتی ہیں، کیونکہ لاکھوں برس تک ان جزائر کے
دریافت نہ ہونے سے وہاں ارتقا کے علیحدہ طریقے پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور
پر سفید چھاتی والا 'کاگو' پرندوں کی نسل کا واحد رکن ہے اور یہ صرف نیو
سیلیڈونیا کے جزیرے پر پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے
پودوں کی سولہ فیصد اقسام ان جزیروں پر پیدا ہوئی ہیں اور ان جزائر کے پانیوں
میں کرئہ ارض پر موجود سمندری حیات کی نصف سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ماہرین
کا کہنا ہے کہ باقی دنیا سے الگ تھلگ رہنے کے سبب ان جزائر پر موجود جنگلی
حیات کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ کسی بھی چھوٹے سے علاقے میں ہونے والی ماحولیاتی
تبدیلی کے نتیجے میں ان جانوروں، پرندوں اور سمندری حیات کی ایک پوری قسم
تباہ ہوسکتی ہے۔ اب تک دنیا بھر میں جانوروں اور پرندوں کی نسلوںکی معدومی
کے واقعات میںآدھے بحرالکاہل کے انہی جزائر پر رونما ہوئے ہیں، جن میں جزائرِ
ماریشس سے 'ڈوڈو' نامی پرندے کی نسل کا خاتمہ بھی شامل ہے۔بحرالکاہل کے
ان جزائر کو درپیش خطرات میں جنگلات کی کٹائی، ناپائیدار بنیادوں پر ماہی
گیری اور ان انسانی سرگرمیوں کے سبب مونگے کی چٹانوں کو پہنچنے والا ناقابلِ تلافی نقصان شامل ہے۔ |
||||
|
|
||||
|
|
||||
|
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں بڑھنے والی فضائی آلودگی کی روک تھام اور نگرانی کے لیے تین نئے اور جدیدخود کار آلات نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آلات کی تنصیب سے دارالحکومت کی مکمل طور پر فضائی آلودگی کی نگرانی ممکن ہوجائے گی، جس کے بعد اس آلودگی کو انسانی صحت کے لیے ضرر رساں حد سے کم رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ مانٹیرنگ آلات کی تنصیب کا فیصلہ آلودگی کے خاتمے کے لیے مرکزی سطح پر قائم بورڈنے کیا ہے۔ بورڈ کے مطابق یہ فیصلہ نئی دہلی میں گاڑیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ صرف چند برس قبل نئی دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے دارالحکومت میں چلنے والی تمام پبلک ٹرانسپورٹ کو سی این جی گیس پر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے نتیجے میں شہر میں ٹرانسپورٹروں نے زبردست احتجاج کیا، تاہم بالآخر انہیں حکومت کے اقدامات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہی پڑا، مگر چند برس کے اندر دوبارہ فضائی آلودگی کے مسئلے نے سر اٹھالیا ہے، جس کے باعث اب جدید آلات سے فضا میں موجود آلودگی اور اس کی مقدار کو جانچنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ قبل ازیں بورڈ نئی دہلی کے صرف چند مخصوص علاقوں میں فضائی آلودگی پر نظریں رکھے ہوئے تھا، جس میں مشرقی دہلی، شمالی دہلی اور دوارکاشامل ہیں، تاہم اب پورے دارالحکومت کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کی مانیٹرنگ کا یہ جدید نظام اگلے چھ مہینوں میں کام کرنا شروع کردے گا۔ نئی دہلی دنیا کے ان چند بڑے بڑے شہروں میں شامل ہے کہ جس کی
آبادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ملک بھر کے دور دراز حصوں سے لوگ روزگار
کی تلاش میں یہاں آتے ہیں، جس کے سبب کچی آبادیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور
رسل و رسائل کی ضروریات میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جس کے سبب آلودگی
بالخصوص فضائی آلودگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
|
||||
|
||||
|
|
||||
|
||||
ناصر علی پنہور آئی یو سی این، سندھ پروگرام آفس سے بطورِ کوآرڈینیٹر وابستہ
ہیں۔ |
||||
|
|
||||