ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ صحرا زدگی کا عمل اور صحراؤں کا پھیلتا ہوا
سلسلہ خاموش اور غیر محسوسانہ عمل ہے،جواس وقت دنیا بھر کے ماہرین اور سائنسدانوں
کے لیے سنگین ماحولیاتی مسئلہ ہے۔ صحرا زدگی، ارضی وسائل کے استعمال اور
قدرتی ماحول کے درمیان نہایت مضبوط تعلق موجود ہے اور انسانی سرگرمیاں جب
قدرتی ماحول میں خلل ڈالتی ہیں تو مختلف پہلوؤں سے اس کاتعلق صحرا زدگی
سے جا کر مل جاتا ہے۔ مثلاً جنگلات کی کٹائی جو زمین کورفتہ رفتہ ہوائی
اور آبی کٹاؤ کے خطرے کے قریب کردیتی ہے۔ زمین کی استعداد سے زیادہ فصلوں
کی کاشت، جو بتدریج اس کی پیداواری صلاحیتوں کو کم کرتے ہوئے بالآخر اسے
بنجر بناڈالتی ہے، یوں چُرمُراتی سطحِ زمین سالوں بعد ریگزار میں بدل جاتی
ہے۔ آب پاشی کے غلط طریقوں کے سبب زرعی زمین سیم اور پھر تھور کا شکار اس
لیے بنتی ہے کہ زیرِ زمین پانی کی سطح بڑھنے سے زمین پیداواری زراعت کے
لیے ناکارہ ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف یہ پانی زمین کی سطح پر پہنچ کرجوہڑکی
شکل اختیار کرنے لگتا ہے اور جب عملِ تبخیر سے پانی بھاپ بن کر اڑ جاتاہے
تو زمین پر نمکیات کی موٹی تہ ایک دن اسے دھول اڑاتے میدانوں میں بدل دیتی
ہے۔
فطری ماحول کے انحطاط اور قدرتی وسائل کے نا پائیدار استعمال کا صحرا زدگی سے مضبوط
باہمی تعلق ہے، جس کے عناصرِ تراکیبی میںبڑھتی ہوئی آبادی کے باعث معاش،
خوراک اور رہائش کی ضروریات میں بے پایاں اضافہ اور ان کو پورا کرنے کے
لیے موزوں، پائیدار اور توازن پر استوار طریقئہ کار کی عدم موجودگی شامل
ہیں۔ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے متوازن طریقہ کار کی عدم موجودگی میں
روایتی طریقوں سے حصول کی کوشش نے قدرتی ماحول کو اس حد سے زیادہ نقصان
پہنچایا ہے کہ جہاں قدرت خود قابلِ تجدید وسائل کی بحالی کا عمل سرانجام
دیتی ہے۔
پاکستان کا لگ بھگ80فیصد رقبہ بنجر اور نیم بنجر زمین پر مشتمل
ہے۔ کم بارشیں، خشک آب و ہوا اورگرم موسم کے سبب یہاںصحرا زدگی کو بڑھاوا
دینے والے تمام عوامل موجود ہیں ، جن کی شدت سنگین رُخ اختیار کرتی جارہی
ہے۔
ماحول کے لیے سرگرم غیر سرکاری تنظیم 'اسکوپ' کی جانب سے2000 ء میں کیے گئے ایک
سروے کے مطابق "پاکستان کا34فیصدزمینی رقبہ مجموعی طور پانی اور ہوا کے کٹاؤ ، زمینی نمکیات میں
اضافہ، سیم اور سیلاب سے متاثر ہوچکا ہے۔ ان میں آبی کٹاؤ سے 11.2 ملین
ہیکٹر (کل ارضی رقبے کا14فیصد)، ہوائی کٹاؤ سے 4.8ملین ہیکٹر (کل ارضی رقبے
کا6فیصد)، زمینی نمکیات بڑھنے سے6.2ملین ہیکٹر (کل ارضی رقبے کا8فیصد) ،
سیم ''سے3.2ملین ہیکٹر( کل ارضی رقبے کا4فیصد) اور سیلابوں کے سبب دو فیصد
رقبہ ناقابلِ کاشت یا بنجر ہوچکا ہے"۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میںجنگلات کا کم ہوتا ہوا رقبہ ، بتدریج
کم ہوتے ہوئے سطحِ زمین و زیرِ زمین آبی وسائل،سیم و تھور، فضائی و آبی
کٹاؤ، بارشوں کے سلسلے میں کمی اور آبادی کا بڑھتا ہوا دباؤ ماحولیات کے
وہ چھ شعبے جن میںرونما ہونے والا بتدریج انحطاط ملک میں نہ صرف صحرا زدگی
کے حوالے سے تشویش ناک ہے، بلکہ یہ حیاتیاتی تنوع کے مسکنوں کی تباہی و
جنگلی حیات کی معدومی کا سبب بھی بنا ہے۔
پاکستان میں 4.2ملین ہیکٹر رقبے پر جنگلات موجود ہیںجو کل ملکی
ارضی رقبے کا 4.8فیصد ہے۔ ان جنگلات میں سمندر کے کنارے موجود تِمر کے ساحلی
جنگلات سے لے کر ملک کے شمال میں واقع بُلند و بالا پہاڑوں اور آب گیر علاقوںمیںموجود
گھنے جنگلات تک شامل ہیں۔ ماحولیاتی و اقتصادی ضروریات کے حوالے سے دیکھا
جائے تو یہ رقبہ ویسے ہی تشویش ناک حد تک کم ہے، اوپر سے ایندھن، تعمیرات
اورفرنیچر سازی کے لیے لکڑی کی بڑھتی ہوئی طلب کے علاوہ بطور چراگاہ ان
کا ناپائیدار استعمال اور زراعت کے لیے پہاڑی ڈھلوانوں کا بے دریغ استعمال
ملک کے ماحولیاتی مسائل میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ مثال کے طور پر شمالی
پاکستان کے پہاڑی جنگلات کی تیزی سے کٹائی کے سبب ایک طرف تو پہاڑوں پر
سے نباتات ختم ہوئی تو دوسری طرف ان پر جمی مٹی کمزور پڑ تی گئی اور ہوائی
کٹاؤ سے یہ پہاڑ برہنہ ہونے لگے۔ گزشتہ برس 'اکتوبر زلزلے 'کے نتیجے میں
یہ بات سامنے آچکی ہے کہ چٹانی اور مٹی کے تودوں کے گرنے سے ہونے والی اموات
کی شرح سب سے زیادہ وہاں رہی، جہاں جنگلات کا صفایا ہوچکا تھا، تاہم جہاں
جنگلاتی رقبہ باقی ہے، وہاں یہ نقصان کم ہوا۔زلزلے کے سبب مٹی کے تودوں
کے گرنے کے نتیجے میں آبی گزرگاہوں میں اِس وقت ریت و کنکر کی آمیزش ایک سنگین مسئلہ ہے، تاہم حقیقت یہ ہے
کہ اس سے پہلے ہی جنگلات کی کٹائی کے سبب پہاڑوں پر سے مٹی کے کٹاؤ نے دریاؤں
میں ریت کی آمیزش کو کافی بڑھادیا تھا، جو ملک کے دو بڑے آبی ذخائر منگلا
اور تربیلا ڈیم کی گنجائش میں کمی کا سب بنے ہیں۔
|