' فاریسٹری سیکٹر ماسٹر پلان' کے مطابق ''شمالی پاکستان بشمول صوبہ سرحدمیں ہر سال جنگلات کی کٹائی کے نتیجے میں ہونے والے ہوائی اور آبی کٹاؤ کے سبب کم از کم 40ملین ٹن مٹی سندھ طاس کے بہاؤ میں شامل ہوجاتی ہے اور 11 ملین ہیکٹر زمین متاثر ہوتی ہے۔ ''خشک اور نیم بنجر ارضیاتی کیفیت اور دنیا میں تیزی سے پھےلتی ہوئی صحرا زدگی کے باعث جنگلات میں ہونے والی یہ کمی نہایت تشویش ناک امر ہے۔ اگرچہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ملکی جنگلات کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جاتے رہے ہیں ۔ حال ہی میں بلوچستان میں جونیپر کے جنگلات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے زیارت کے ان علاقوں میںقدرتی گیس فراہم کی گئی ہے کہ جہاں لوگ جونیپرکوبطور ایندھن استعمال کرتے تھے، یا سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقے جہاں تِمرکے جنگلات (جسے مچھلیوں، جھینگوں کی افزائشِ نسل کی نرسری کہا جاتا ہے، نیز انہیںساحلی علاقوں کا محافظ اور ماحول کو معتدل رکھنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے) کا بطورِ چراگاہ استعمال اور ایندھن کے لیے لکڑی کے حصول جیسی انسانی سرگرمیوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان قدرتی وسائل کی بحالی کے لیے حکومتِ پاکستان، بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این پاکستان اور ورلڈ وائڈ فند فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے اشتراک سے گزشتہ ڈیرھ عشرے سے کوششیں جاری ہیں ، جن کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں،لیکن ان قدرتی وسائل کو جو نقصان پہنچ چکا ہے ان کی بحالی دو چار سالوں کی نہیں آئندہ کی کئی دہائیوں کی بات ہے۔

ملکی معیشت میں زراعت ایک اہم شعبہ ہے ، لیکن سیم و تھور میں اضافے کے سبب جہاں قابلِ کاشت زمین ختم ہوئی ہے، وہیںملکی غذائی ضروریات کے حوالے سے طلب کے مقابلے میں کم پیداوار کا مسئلہ بھی ہمارے سامنے آچکاہے۔ پاکستان دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے کہ جہاں وسیع زمینی نظامِ آب پاشی موجود ہے، تاہم اسے بدقسمتی کہیے کہ ابھی تک فرسودہ خطوط پر استوارفراہمیِ آب کانظام، فصلوں کے لیے نا موزوںروایتی سیلابی طریقہ آب پاشی ( جس میں کھیت کو منڈیر تک پانی سے لبا لب بھر دیا جاتا ہے) وغیرہ کے سبب آج پنجاب، بالخصوص سندھ کے میدانی علاقوں میں سیم و تھور ایک سنگین مسئلے کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔

تخمینوں کے مطابق نہروں سے کھیتوں کے لیے جن گزرگاہوںمیں پانی چھوڑا جاتا ہے، ان میں 35سے50فیصد تک پانی زمین میں جذب ہوجاتا ہے اورسیلابی طریقہ آب پاشی کے نتیجے میں20فیصدپانی کھیتوںمیںجذب ہوجاتا ہے۔ بعض ماہرینِ آب کا موقف ہے کہ اس طرح زمین میں میٹھے پانی کا رساؤ زیرِ زمین پانی کی تجدید (ری چارج) میں مددگار ہوتا ہے، تاہم ملک کے 90ہزار سے زائد آبی گزرگاہوں سے ہونے والا یہ رساؤ ری چارج کے عمل میں مددگار کے بجائے زحمت کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ ملک میں ایسی زمینیں کہ جہاں سطح زمین سے پانچ تا دس میٹر نیچے پانی موجود ہے، اس کا رقبہ11ملین ہیکٹر سے زائد ہے ، جبکہ6.2ملین ہیکٹر مکمل طور پر سیم و تھور کا شکار بن چکی ہے۔

ملک میں درپیش زرعی پانی کی قلت پر قابو پانے پر کے لیے ان گزرگاہوں (کھالوں) کو پختہ کرنے کا کام سندھ اور پنجاب سمیت پورے ملک میںجاری ہے اور اس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، لیکن کاشتکار ابھی تک سیلابی طریقئہ کار کے رجحان کو تبدیل کرنے کے عمل سے دور نظر آتا ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات اور قلتِ آب کے مسائل پر قابو پانے کے لیے کاشتکار کی سوچ اور اس کے طریقئہ کار کو اس راستے پر ڈالنا ضروری ہے کہ جہاں کھیت کو پانی سے لبالب بھرنے کے بجائے وہ فصل کو اُس کی ضرورت کے مطابق پانی دے سکے۔ مثال کے طور آئی یو سی این کے 'پاکستان واٹر پروگرام' کے تحت متعدد ایسے کامیاب (مثلاً قطرہ، چھڑکاؤ وغیرہ ) طریقئہ کار پیش کیے گئے ہیں کہ جن کے ذریعے بلوچستان جیسے خشک علاقے میں بھی نہ صرف کامیابی سے فصلیں کاشت کی جاسکتی ہیں بلکہ سیم و تھور سے دوچار سندھ اور پنجاب کے میدانی علاقوں میںان کا استعمال نہ صرف پانی کی مقدار کو بچاسکتا ہے بلکہ فصل کو بھی اس کی ضرورت کے مطابق پانی فراہم کرتا ہے۔

ہوائی کٹاؤ بھی ملک کے میدانی اور نہایت خشک نیم بنجر اور صحرائی علاقوں کا سنگین مسئلہ ہے۔ ہوائی کٹاؤ کا مسئلہ اس وقت صحرائے تھل، چولستان، تھرپارکر اورمکران کے ساحلی علاقوں میں نہایت سنگین ہے، جس کی وجوہات میں مویشیوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ اوربے دریغ چرائی، نیز ایندھن کے لیے جھاڑیوں اور جھاڑی دار درختوں کا صفایا ہے۔ جس کے باعث زمین پر سے سبزے کی روئیدگی کم ہوئی اور زمینی غلاف پر نباتات و جھاڑیوں کی گرفت ختم ہونے سے ہوا کے کٹاؤ میں شدت آتی چلی گئی۔ اس وقت مذکورہ علاقوں میں ریت کے ٹیلوں کی بلندی نصف تا چار میٹر سے زائد تک ہے جو ہوا کے دباؤ سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔ ایک تخمینے کے مطابق اس وقت تین سے پانچ ملین ہیکٹر زمین ہوائی کٹاؤ کا شکار ہوچکی ہے، جبکہ مذکورہ علاقوں کی زرعی زمین کا28فیصد رقبہ بھی ریگزاربن چکاہے۔

ملک کے مزید68ملین ہیکٹر پر مشتمل وہ زمینی رقبہ بھی ہے کہ جو خشک، بنجر یا نیم بنجر ہے ، جہاںسالانہ بارش کی اوسط شرح300ملی میٹر سے بھی کم ہے، جس کے سبب خشک سالی اور قحط کا خطرہ ہروقت نہ صرف یہاںکے باسیوںکے سروں پر منڈلاتا رہتا ہے بلکہ اکثر و بیشتر انہیں اس سے دوچار بھی کردیتا ہے۔2001ء میں جاری کردہ Combatting Desertification in Pakistan نامی رپورٹ کے مطابق "جاری دہائی کے دوران سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں خشک سالی کے سبب رونما قحط نے2.2ملین لوگوںاور7.2ملین پالتو مویشیوں کو متاثر کیا ،جس کے سبب ان علاقوں کے مکینوںنے بڑے پیمانے پر ہجرت کی"۔