|
|
اقوامِ متحدہ نے 2006ء کو عالمی سطح پر 'صحرا اور صحرازدگی' کا سال قرار
ديا ہے- پاکستان بھی صحرازدگی سے دوچار ممالک ميں شامل ہے- تحرير، تحقيق وتصاوير: مختار آزاد |
||||||||||||
|
نور خان اور ان کے بزرگوں کا تعلق بلوچستان کے ساحلی علاقے مکران سے ہے۔ قیام پاکستان کے چند برسوں کے بعد لڑکپن کی عمر میں وہ اپنے بزرگوں کے ساتھ ہجرت کرکے کراچی کے قریب بلوچستان کی حدود میں بہنے والے حب دریا کے کنارے واقع دیہہ بند مُراد کے قریب اس لیے آکر آباد ہوئے تھے کہ مکران کے بنجر علاقے کی نسبت یہاں بہتا دریا، سرسبز و شاداب کھیت اور دلکش فطری ماحول تھا۔ زندہ رہنے کے لیے تمام وسائل موجودتھے اور ان کااستعمال بھی مناسب تھا، اس لیے سب خوشحال زندگی جیتے رہے، تاہم آج نورخان کا کہنا ہے کہ ''اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔''اس کی وجہ وہ یوں بیان کرتے ہیں:
دریا بھی موجود ہے اور میرا گاؤں بھی، لیکن اب نہ تو دریا میں پانی ہے اور نہ ہی اس کے کنارے واقع زمینیں سرسبز ہیں۔ کھیتیاں ریگستان میں بدلتی جارہی ہیں، بارشیں پہلے جیسی نہ رہیں، اس لیے دریا میںبھی پانی کم سے کم ہوتاچلا گےا اور آج کل تو ریت، بجری کے ٹھیکیدار دریا کی کوکھ کو اُجاڑ کر اپنے گھر بھر رہے ہیں، یوں جو پانی اس دریا میں آتا تھا اور ہم اس سے سیراب ہوتے تھے، اب کہیں دور بہت پہلے ہی زمین کی تہ میں اتر جاتا ہے اور اگر بارشیں بہت ہی موسلا دھار ہوں توتیز ریلے کی طرح بہتا ہوا گزر جاتا ہے۔ یہ پانی میرے کھیتوں کو نہیں ملتا اور ٹیوب ویل لگانے کے لیے میرے پاس مالی وسائل نہیں ۔ اگر لگا بھی لوں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ پانی بھی ہمیشہ رہے گا۔ میرے کچھ جاننے والوں نے ٹیوب ویل لگائے لیکن انہیں مسئلہ درپیش ہے کہ پانی کی سطح ہر چند ماہ بعد اور نیچے گر جاتی ہے اور انہیں مزید بورنگ کروانا پڑتی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جب بارش نہ ہو، زمین کو پانی نہ ملے، لیکن ہم مسلسل اس کا پانی نکالتے رہیںتو پھر زمینی پانی کی سطح نیچے ہی گرے گی۔ آپ ہی بتاؤایسے میں قرض ادھار لے کر کیسے ٹیوب ویل لگا سکتا ہوں۔ اب جبکہ میرے سرسبز کھیت بنجر ہوچکے ہیں اور بہتری کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آتی تو سوچتا ہوں کہ بھوک اور بدحالی سے بچنے کے لیے مجھے خاندان کو ساتھ لے کرکہیں اور ہجرت کرلینی چاہیے
|
|||||||||||
|
||||||||||||
|
|
||||||||||||
|
||||||||||||