اقوامِ متحدہ نے 2006ء کو عالمی سطح پر 'صحرا اور صحرازدگی' کا سال قرار ديا ہے- پاکستان بھی صحرازدگی سے دوچار ممالک ميں شامل ہے-

تحرير، تحقيق وتصاوير: مختار آزاد


 

نور محمد خان کا بھی عجیب قصہ ہے۔ ان کی زندگی کا آغاز بھی ہجرت سے ہوا اور اب جبکہ وہ ستر برس کی زندگی گزار چکے ہیں، ایک بار پھر خاندان کی بقائے حیات کے لیے ہجرت کا سوال ان کے سامنے آ کر کھڑا ہوگیا ہے۔

نور خان اور ان کے بزرگوں کا تعلق بلوچستان کے ساحلی علاقے مکران سے ہے۔ قیام پاکستان کے چند برسوں کے بعد لڑکپن کی عمر میں وہ اپنے بزرگوں کے ساتھ ہجرت کرکے کراچی کے قریب بلوچستان کی حدود میں بہنے والے حب دریا کے کنارے واقع دیہہ بند مُراد کے قریب اس لیے آکر آباد ہوئے تھے کہ مکران کے بنجر علاقے کی نسبت یہاں بہتا دریا، سرسبز و شاداب کھیت اور دلکش فطری ماحول تھا۔ زندہ رہنے کے لیے تمام وسائل موجودتھے اور ان کااستعمال بھی مناسب تھا، اس لیے سب خوشحال زندگی جیتے رہے، تاہم آج نورخان کا کہنا ہے کہ ''اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔''اس کی وجہ وہ یوں بیان کرتے ہیں:

صحرازدگی کيا ہے؟

صحرا زدگی وہ عمل ہے جو زمین کی بدانتظامی کے نتیجے میں پیداوار دینے والی زمینوں کو غیر پیداواری زمینوں میں تبدیل کردیتا ہے۔ یہ عمل ان خشک زمینوں پر وقوع پذیر ہوتا ہے، جو خشکی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر پھیلی ہوئی ہیں۔  --- مزيد پڑھيے۔

 

صحرازدگی کا مسۂلہ اور عالمی اقدامات ۔۔۔ تاريخی پس منظر

صحرازدگی کے انسداد کے لیے عالمی سطح پراولین کوششیں 50ء کی دہائی میں اس وقت شروع ہوئیں، جب1951ء میں اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت(یونیسکو) نے 'بنجر زمینوں کی سائنسی تحقیق' Scientific Research on arid Land کے نام سے ایک بڑا منصوبہ شروع کیا۔ --- مزيد پڑھيے

 

زمينی بگاڑ ۔۔ کيا، کيوں اور کيسے؟

کرئہ ارض کے کُل دستیاب خشک علاقے کا صرف تیس فیصد حصہ قابلِ رہائش ہے۔ معیار اور مقدار ، دونوں پہلوؤں کے اعتبار سے خشک اور زرخیز زمین کے وسائل محدود ہیں۔ اس کے برعکس آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ برائہ راست ان چیزوں پر منحصر ہے، جو وہ اُگا سکتے، اکھٹا کرسکتے یا پکڑ سکتے ہیں-- مزيد پڑھيے

دریا بھی موجود ہے اور میرا گاؤں بھی، لیکن اب نہ تو دریا میں پانی ہے اور نہ ہی اس کے کنارے واقع زمینیں سرسبز ہیں۔ کھیتیاں ریگستان میں بدلتی جارہی ہیں، بارشیں پہلے جیسی نہ رہیں، اس لیے دریا میںبھی پانی کم سے کم ہوتاچلا گےا اور آج کل تو ریت، بجری کے ٹھیکیدار دریا کی کوکھ کو اُجاڑ کر اپنے گھر بھر رہے ہیں، یوں جو پانی اس دریا میں آتا تھا اور ہم اس سے سیراب ہوتے تھے، اب کہیں دور بہت پہلے ہی زمین کی تہ میں اتر جاتا ہے اور اگر بارشیں بہت ہی موسلا دھار ہوں توتیز ریلے کی طرح بہتا ہوا گزر جاتا ہے۔ یہ پانی میرے کھیتوں کو نہیں ملتا اور ٹیوب ویل لگانے کے لیے میرے پاس مالی وسائل نہیں ۔ اگر لگا بھی لوں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ پانی بھی ہمیشہ رہے گا۔ میرے کچھ جاننے والوں نے ٹیوب ویل لگائے لیکن انہیں مسئلہ درپیش ہے کہ پانی کی سطح ہر چند ماہ بعد اور نیچے گر جاتی ہے اور انہیں مزید بورنگ کروانا پڑتی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جب بارش نہ ہو، زمین کو پانی نہ ملے، لیکن ہم مسلسل اس کا پانی نکالتے رہیںتو پھر زمینی پانی کی سطح نیچے ہی گرے گی۔ آپ ہی بتاؤایسے میں قرض ادھار لے کر کیسے ٹیوب ویل لگا سکتا ہوں۔ اب جبکہ میرے سرسبز کھیت بنجر ہوچکے ہیں اور بہتری کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آتی تو سوچتا ہوں کہ بھوک اور بدحالی سے بچنے کے لیے مجھے خاندان کو ساتھ لے کرکہیں اور ہجرت کرلینی چاہیے


نور خان کی تشویش اپنی جگہ لیکن اس بیچارے کو نہیں معلوم کہ وہ تنہا نہیں بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں نور خان جن کی زندگیوں کا انحصار زمین کی پیداواری قوت کی مرہونِ منت رہی ہے، اسی طرح کی صورتِ حال کا شکار ہیں۔ عالمی سطح پر مرتب کردہ تخمینوں کے مطابق اس وقت دنیا بھر میںنو سو ملین سے زائدافراد صحرا زدگی اور زرعی زمینوں کے بنجر پن کے متاثرین میں شامل ہیں۔ اس میں بھی سب سے زیادہ متاثرہ خطہ افریقہ اور ایشیا کا ہے، جس کی لاکھوں ایکڑ زرعی زمینیں جو پہلے کبھی سرسبز وشاداب ہوتی تھی اور جن کی کوکھ اناج اگلتی تھیں، آج غیر پیداواری ہوچکی ہیں اور ان پر' بنجر پن' کا لیبل چسپاں ہوچکا ہے۔اب ایسے میںبند مراد کا باسی نور محمد تنہا کیا کرے، دنیا میں تو کروڑوں نور محمد ایسے ہیں کہ جن کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے اور خود یہ سوال اقوامِ متحدہ سمیت دنیا بھر کی مملکتوں کے سامنے کھڑا ٹھوس جواب کا متقاضی ہے۔ اب یہ نور محمد کریں تو کیا کریں اور جائیں توکہاں جائیں؟