|
|
|
||||||
|
صحرا زدگی وہ عمل ہے جو زمین کی بدانتظامی کے نتیجے میں پیداوار دینے والی زمینوں کو غیر پیداواری زمینوں میں تبدیل کردیتا ہے۔ یہ عمل ان خشک زمینوں پر وقوع پذیر ہوتا ہے، جو خشکی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ان علاقوں کی مٹی خاص طور پر کمزور اور بھربھری ہوتی ہے، نباتاتی نشو و نما کم گنجان یا چھدری ہوتی ہے اور آب و ہوا خاص طور پر ناقابلِ برداشت ہوتی ہے۔ ان علاقوں میں زمینی بگاڑ کو 'صحرا زدگی'Desertification کہا جاتا ہے، جس کا سبب یہ ہے کہ اس عمل سے پیداواری زمین واقعتا ریگستان میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ تنزلی کا شکار زمین دھبوں کی شکل میں ابھر آتی ہے جو کہ کسی جِلدی مرض کی طرح پھیل جاتے ہیں اور دوسرے وسیع و عریض ارضی رقبوں کے ساتھ مل کر ریگستان کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ مثلاً ریگستانِ صحارا کے جنوب میں واقع نیم بنجر علاقے ساحل میں 1950ء سے 1975ء کے درمیانی عرصے میں ریگستان ایک سو کلومیٹر تک آگے بڑھ چکا تھا۔ رپورٹ برائے انسانی ترقی 1998ء کے ''مطابق صحرا زدگی کا عمل دنیا کے کم و بیش110ممالک میں کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر بلواسطہ اثر انداز ہورہا ہے، جبکہ بلا واسطہ طور پر اربوں لوگ اس خطرے کی زد میں ہیں۔ یہ صورتِ حال محض ترقی پذیر یا پسماندہ ملکوں تک ہی محدود نہیں بلکہ لاطینی امریکا کی74فیصد سے زائد خشک زمینیں بھی معتدل سے سنگین حالت تک ریگستان بننے کے عمل سے گذررہی ہیں۔'' انسانی تناظر میں پیداواری زمین کے ریگستان میں تبدیل ہوجانے کے عمل کی قیمت بہت بھاری ہے۔ ان زمینوں پر برائہ راست انحصار کرنے والے کروڑوں لوگ جہاں بھوک، غربت ، معاشی بدحالی، خشک سالی اور قحط کاشکار ہوتے ہیں، وہیں ملکوں کی مجموعی معیشت اورزمین کی کوکھ سے اُگنے والے اناج کو بطورِ خوراک خریدنے والے تمام لوگوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یوںکم پیداوار اوراناج کی قلت برائہ راست عام لوگوں کی اقتصادی زندگی پر بوجھ ثابت ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے پروگرام برائے ماحول(یو این ای پی) نے90ء کی دہائی میں تخمینہ لگایا تھا کہ بیسویں صدی کے آخر تک دنیا کی قابلِ کاشت زمین کا ایک تہائی حصہ صحرا زدگی کا شکار ہوجائے گا،جس کاایک ملین ہیکٹر رقبہ ایشیا میں واقع ہے۔ جنوب اور جنوب ایشیائی علاقے کے82سے92فیصد رقبے کی صحرا زدگی کی بڑی وجوہات میںزمین کے معدنی وسائل کا بے تحاشہ استعمال، زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی شرح، زمین پر بڑھتا ہوا دباؤ اور خشک سالی شامل ہیں۔ یہ بھی اندازہ لگایا گیا تھا کہ صحرا زدگی کا پھیلاؤ ان ریگستانی رقبوں کو بھی وسیع کردے گا، جو اس وقت آسٹریلیا، مغربی ایشیا ( افغانستان، ایران، پاکستان) اور دیگر ایشیائی ممالک کے مجموعی طور پر2.6 ملین مربع کلو میٹر کے رقبے پر مشتمل ہے اور جہاں صحرا زدگی کا عمل بہت تیز ہے۔ نیز بنگلہ دیش بھی صحرا زدگی کے سخت خطرے میں ہے۔ چین بھی صحرا زدگی کا شکار ممالک میں شامل ہے، جس کاشمالی رقبہ صحرائی ہے۔ اس علاقے کا تقریباً 13فیصد حصہ ریگزاروں پر مشتمل ہے اور یہاں زررعی زمینیں اور چراگاہیں تیزی سے بنجر ہوکر ریتیلے ٹیلوں میں تبدیل ہورہی ہیں۔ یو این ای پی کے تخمینے کے مطابق چین میں ہر سال 1لاکھ،20 ہزارہیکٹر زرعی زمین اور چراگاہیںبنجر ہوکر ریتیلے ٹیلوں میں تبدیل ہورہی ہیں۔ بھارت کے شمال مغرب میں واقع خشک علاقوں کا لگ بھگ 12 فیصد رقبہ صحرازدگی کا شکار ہے ، جس میں شمال مغرب میں واقع پنجاب سے لے کر جنوب میں تامل ناڈو تک کے نیم بنجر علاقے بھی شامل ہیں۔ بھارت میں واقع صحرائے راجستھان انسانی آبادی میں اضافے اور صحرا زدگی کے پھیلاؤ کے درمیان ربط کی بہترین مثال ہیں۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے کے مطابق70ء کی دہائی کے تخمینوں کے مطابق اس صحرا کی لگ بھگ صرف20فیصد زمین قابل کاشت تھی، لیکن اس استعداد کے مقابلے میں استعمال دیکھیں تو1951ء میں یہاں کی 30فیصد جبکہ1971 ء تک60فیصد رقبے کو زیرِ کاشت لایا جاچکا تھا یا اسے بطورِ چراگاہ استعمال کیا جارہا تھا۔ اسی دوران یہاں ریتیلے ٹیلوں کی تعداد اور ان کی بلندی میںنمایاں اضافہ ہونے لگا، حتیٰ کہ ان کی اونچائی زمین سے پانچ میٹر تک بلند ہوگئی ۔ یہی نہیں،کنوؤں میں پانی کی سطح بھی تیزی سے نیچے کی طرف گرنے لگی۔ ریگستان کی قابلِ کاشت زمین کی پیداواری استعداد سے زیادہ ان پر دباؤ کا سبب آبادی اور مویشیوں کی تعداد میں اضافہ اور ان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنا تھا، لیکن اس کے نتیجے میں قابلِ کاشت زمین بھی رفتہ رفتہ صحرا میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ ریتیلے ٹیلوں اور ریگستانی علاقوں کے ساتھ ساتھ شجر کاری اور جھاڑیاں لگانے کا عمل زمین میں مزید بگاڑ کے عمل کو روک دیتا ہے۔ اس کی عمدہ مثال بھی راجستھان میں ہی ملتی ہے، جہاں ریتیلے ٹیلوں والے 60ہزار ہیکٹر پر مشتمل رقبے میں اکیشیا کے پودے لگا کر زمین کو مستحکم کردیا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں2ملین ہیکٹر پر مشتمل صحرائے تھل، جس کے نوے فیصد رقبے پر ریتیلے ٹیلے موجود ہیں، کی20ہزار ہیکٹر پر مشتمل ایسی زمین کو دوبارہ کارآمد بنالیا گیا جو صحرا میں تبدیل ہورہی تھی۔ حکومتِ پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے اشتراک سے انسانی بستیوں کے زیرِ استعمال دوبارہ قابل کاشت بنائی گئی یہ زمین اب اناج اگلتی ہے، تاہم صحرا زدگی کے بگولوںمیںجو کچھ کھوجائے اس کی واپس ناممکن تو نہیں البتہ بہت ہی مشکل کام ضرورہے۔ مختار آزاد
|
|||||
|
|
||||||