|
|
|
||||
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیرِنو کا مرحلہ شروع ہوچکا ہے- ماحولیاتی خطرات اور بحالی کے موضوع پر آئ یو سی این کی رپورٹ کا جائزہ |
||||
تحرير: ایم کمال |
||||
|
ایک قدیم چینی کہاوت ہے کہ 'بحران دو چیزیں اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔خطرہ اور موقع۔ عقلمند لوگ بحران کے لائے ہوئے موقع سے فائدہ اٹھا کر خطرات کو مات دے دیتے ہیں اور اپنی پیش بینی سے قبل از وقت اقدامات کرکے مستقبل کے خطرات کا بھی سدِ باب کرلیتے ہیں۔' گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستان میں آنے والے زلزلے کے فوراً بعد سب سے ضروری چیز متاثرین کی امداد تھی، تاہم بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این نے اس نازک مرحلے کو دُور رس اثرات کے تناظر میں دیکھااور فوری طور پر اس بات کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ زلزلے کے ماحول پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں ، نیز چند ماہ بعد جب ہنگامی امداد کا عبوری مرحلہ مکمل ہوجائے گا تو تعمیرِ نو کے مرحلے میں انسانوں کی سماجی و معاشی بحالی کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول کی بحالی کا عمل کس طرح طے پائے گا؟ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے آئی یو سی این کے ماہرین پر مشتمل تین فیلڈ مشن نومبر اور دسمبر،2005 ء کے دوران مختلف اوقات میں شدید متاثر ہونے والے علاقو ں یعنی صوبہ سرحد کے ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام اور آزاد جموں و کشمیر کے مظفر آباد اور باغ اضلاع میں بھیجے گئے، تاکہ ماحولیاتی اثرات اور ضروریات کا مزید تفصیل سے تجزیہ کیا جاسکے۔ فیلڈ مشن کے دوروں کے نتیجے میں ماہرین نے تفصیلی رپورٹ 'شمالی پاکستان میں زلزلہ۔۔۔ماحولیاتی خطرات اور ضروریات کا تجزیہ' کے نام سے مرتب کی ، جسے اس سال16جنوری کوجاری کردیا گیا۔انگریزی اور اردو زبان میں موجودیہ رپورٹ طویل المدتی اقدامات کے تناظر میں رہنمائی فراہم کرتی ہے کہ کس طرح متاثرہ علاقوں میں کمیونٹیز کی مدد اوران کی معاشی بحالی کے ذریعے ماحول کے بہتر انتظام کے لیے موجود مواقعوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ مشاہدات و تجزیوں پر مشتمل یہ رپورٹ متاثرہ علاقوں میں ماحول اور ذرائع معاش کے حوالے سے ضروریات کو بھی اُجاگر کرتی ہے اور پائیدار بحالیِ نو کے حوالے سے تجاویز بھی فراہم کرتی ہے، تاکہ تعمیرِ نو کے مرحلے اورمستقبل میں سانحات سے بچاؤ کے انتظامات میں حکومتِ پاکستان اور دیگرامدادی اداروں کومدد فراہم کی جائے۔ ( مذکورہ رپورٹ آئی یو سی این کی ویب سائٹwww.iucnp.org پر موجود ہے، جسے ڈاؤن لوڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔) رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ '' سرحد اور آزاد جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر ہونے والے جانی و مالی نقصان، بُری طرح تباہ ہوجانے والے سماجی و اقتصادی ڈھانچے کے علاوہ حیاتیاتی و طبعیاتی ماحول کو بھی غور طلب نقصان پہنچا ہے۔ اس میں 8اکتوبر کےبعد بدستور آنے والے بعد از زلزلہ جھٹکوں کے سبب ارضی ساخت میں عدم استحکام اور مٹی کے تودوں کے گرنے سے ہونے والی تباہی؛ دریائی گذرگاہوںمیں ریت و کنکر کی آمیزش؛آبی گزرگاہوں اور جنگلات کو پہنچنے والے نقصانات ،جو کہ بنیادی طور پر مٹی کے تودوں اور چٹانی ٹکڑوں کے گرنے سے ہوئے؛ قابلِ کاشت رقبہ، بالخصوص پہاڑی ڈھلوانوں پر واقع زرعی زمینوں، سڑکوں،پن چکیوں اور ماہی پروری کے تالابوں کی تباہی؛ اور آخر میں وہ ملبے کے بڑے ڈھیر شامل ہیں، جن کا محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جانا مستقبلِ قریب میں ایک بہت بڑا ماحولیاتی چیلنج ہے۔'' رپورٹ کا اختتامی حصہ ماحولیاتی تباہی کے تجزیے اور بحالی کے
لیے دی گئی تجاویز پر مشتمل ہے، جس میں منصوبہ بندی کی سطح پر شمولیت اور
زمین کے درست استعمال ؛اطلاعات اور معلومات کا پھیلاؤ ؛توانائی اور تعمیرات
کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حقیقت پسندانہ ماحول دوست راہوں کا تعین؛ ذرائع
معاش اور دیہی آبادی کے بنیادی ڈھانچوں کی بحالی؛ جنگلات کی پائیدار انتظام
کاری اور ماحولیاتی بحالی میں مربوط ہم آہنگی؛ تعمیرات کے لیے جدیدقوانین
کا نفاذ اور انہیں پہاڑی دیہاتوں تک وسعت دینا؛ تمام تعمیراتی شعبوں میں
پالیسی ، طریقئہ کار اور ماحولیاتی خطرات کے تدارک کے لیے انہیں ایک ہی
دھارے میں لانا اور مستقبل میںقدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے وسیع دائرئہ کار
کی تشکیل شامل ہے۔ وسیع پیمانے پر اس نوع کے 'فریم ورک' کی تشکیل ونفاذ
کے لیے آئی یو سی این کے ماہرین نے حکومت، سول سوسائٹی، نجی شعبہ اور تعلیمی
ماہرین کے مابین تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
اگرچہ یہ زلزلہ بہت ہی تباہ کن ثابت ہوا ہے،لیکن اس نے ایک موقع بھی فراہم کردیا ہے کہ جس سے فائدہ اٹھا کر سماجی، اقتصادی، ماحولیاتی، ثقافتی ، ادارتی انتظامات اور متاثرہ علاقوں تک خدمات کی بہتر فراہمی کے لیے تحقیق اورمنصوبہ بندی کے ذریعے ہم اپنی تعمیرِ نو کرسکتے ہیں۔ مذکوہ رپورٹ کا سب سے اہم حصہ تعمیرِ نو کے حوالے سے دی گئی
تجاویز کا ہے۔ اس حصے میں کہا گیا ہے کہ ''بحالیِ نو کے لیے خاکے ، حکمتِ
عملی یا منصوبہ بندی کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ذیل میں بیان کیے گئے
اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایسا طریقہ اختیار کیا جائے ، جس کے ذریعے
خطرات کے قریب موجود پسماندہ پہاڑی علاقوں کی کمیونٹیز کی معاشی بحالی،
بنیادی ڈھانچوں کی دوبارہ تعمیر اور ان کے سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی
اثاثہ جات کی تجدید ممکن ہوسکے۔ اگرچہ زلزلہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی قومی المیہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ موقع بھی مل گیا ہے کہ اب سماجی، اقتصادی، ماحولیاتی اورثقافتی عوامل کی تحقیق، منصوبہ بندی اور بہتر اداراتی انتظامات کے ساتھ متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نوکرسکیں۔
|
||||
ایم کمال فری لانس صحافی ہیں |
||||
|
|
||||