کرئہ ارض کے کُل دستیاب خشک علاقے کا صرف تیس فیصد حصہ قابلِ رہائش ہے۔ معیار اور مقدار ، دونوں پہلوؤں کے اعتبار سے خشک اور زرخیز زمین کے وسائل محدود ہیں۔ اس کے برعکس آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ برائہ راست ان چیزوں پر منحصر ہے، جو وہ اُگا سکتے، اکھٹا کرسکتے یا پکڑ سکتے ہیں۔ یہ بات زمینی بگاڑ اور وسائل میں تیزی سے کمی کو ایک ایسا سنگین ماحولیاتی مسئلہ بنادیتی ہے، جس کا سامنا آج کل کرئہ ارض کے باسیوں کو ہے۔ یہ مسئلہ اس لیے بھی زیادہ سنگین نوعیت کاہے کہ تنزلی کے اس عمل کو دوبارہ اصل حالت میں لانا دیگر ماحولیاتی مسائل مثلاً آبی آلودگی، جنگلات کی کٹائی وغیرہ کی نسبت بہت ہی زیادہ مشکل ہے۔

وسائل پر اختیار کے ساتھ حفاظت کا رجحان بھی اپنایا جاۓ

زرعی زمین کی بیرونی پرت پر موجود مٹی بہت اچھی اور زرخیز ہوتی ہے۔ یہ نباتات اور فصلوں کی نشو و نما کے لیے مناسب ہوتی ہے۔ جنگلات کا خاتمہ، چرائی کے عمل میں زیادتی، زائد کاشتکاری اور اس کے غلط طریقے، کان کنی، عمارات کی تعمیر، ذرائع نقل و حمل اور رسل و رسائل کا سلسلہ، آب پاشی کے ناقص منصوبے یا زمینی تہ کی زرخیزی ختم کردیتے ہیں یوں زمین کٹاؤerosionکا شکار ہوکر ضائع ہوجاتی ہے۔ کٹاؤ کے ذریعے مٹی کا آہستہ آہستہ خاتمہ کچھ حد تک قدرتی عمل ہے، تاہم انسانی سرگرمیوں نے اس کی رفتار میں تشویش ناک حد تک اضافہ کردیا ہے، جبکہ اس کی فطری بحالی کا عمل قدرے سست ہے۔

زرعی زمینوں کے بنجر پن میں تبدیل ہونے کے اسباب میں ماحولیاتی طور پر حساس زمینوں کا بندوبست اور کاشت کے روایتی طریقوں کو ترک کرکے ایسے طریقے اختیار کرنا جو فوری طور پر تو فائدہ مند لگتے ہیں، لیکن دور درس اثرات کے تناظر میںیہ صحرا زدگی کے عمل کو تیز تر کرنے کا سبب بنتے ہیں، جیسا کہ ایک سال میں زمین پر ایک سے زائد فصلوں کی کاشت وغیرہ شامل ہیں۔ بڑے زرعی رقبوں پر صرف ایک طرح کی فصلیں بار بار اُگانا کمزور زمین کو مزید بگاڑ دیتا ہے۔ علاوہ ازیں خراب آب پاشی کے طریقے بھی زمین کو خراب کرتے ہیں۔بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ایندھن اور تعمیری مقاصد کے لیے لکڑی کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں نباتات پہلے ہی بہت کم ہوتے ہیں، پودوں کو جلدی جلدی کاٹ دیا جاتا ہے، جس سے زمین کا نباتاتی غلاف کمزور پڑجاتا ہے، جو بتدریج وسیع پیمانے پر مٹی کے کٹاؤ اور بنجر پن کا سبب بنتے ہیں۔ معاشی کفالت اور خوشحالی کی تلاش میںمویشیوں کی تعداد میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں بہت زیادہ چرائی بھی صحرا زدگی اور ریگستانوں کے پھیلاؤ کا ایک بڑا سبب ہے۔

زمینوں کا بنجر پن یامٹی کا بگاڑ انسانوں پر تین طرح سے اثر انداز ہوتا ہے۔
- زرعی زمین کی دستیابی اور پیداواری صلاحیت کو بتدریج کم کرتا ہے ۔
- مویشیوں کے لیے چراگاہوں اور چارے میں کمی لاتا ہے۔

آخرِ کارمٹی کا یہ بگاڑ ، زمین پر انحصار کرنے والے لوگوں کو ایسے پناہ گزینوں میںبدل دیتاہے جو نئی اور زرخیز زمین کی تلاش میں سرگرداں ہوجاتے ہیں۔

مختار آزاد