Jareeda Banner

 

 

 

تحریر و تصاویر: مختار آزاد

 

 

محمد ایوب بلوچ ناخواندہ ہیں اور بلوچستان کےساحلی شہر گوادر کےنواح میں واقع گاؤں’تاپ کوہ‘ کےباشندےہیں۔ساحلی علاقےکا مکین ہونےکےباوجود ان کا اس سےمعاشی طور پر کوئی رشتہ استوار نہیں تھا۔ گلّہ بانی اور تھوڑی سی آبائی زمین معاشی اثاثہ تھی۔ زمین بارانی تھی، بارش ہوتی تو کاشت کرلیتےاور مویشیوں کےلیےچارا بھی خوب مل جاتا، لیکن جب خشک سالی آتی تو پیٹ کےلیےروٹی اور مویشیوں کےلیےچارا، دونوں پر سوالیہ نشان مسائل میں اضافہ کردیتا تھا۔ بلوچستان اوراس کےساحلی علاقوں کا شمارخشک موسم اور بنجر علاقوں میں ہوتا ہی، لہٰذا ان حالات میں محمدایوب بلوچ اپنی بارانی زمین پرکاشت کو بھول کر اس فکر میں غلطاںتھےکہ کسی طرح چار پیسوں کی باقاعدہ آمد کا سلسلہ بنےتاکہ وہ موسموں کی پرواہ کیےبغیرگزارہ کرسکی۔ اس کی زندگی کا سفر اسی کشمکش میںجاری تھا۔موسموں کی بےرُخی کا شکار تنہامحمد ایوب بلوچ ہی نہیں بلکہ ان جیسےکئی دوسرےلوگوں کو بھی یہی مشکل درپیش تھی۔اُدھر کوئٹہ میں حکومتِ بلوچستان صوبےکی پائیدار ترقی کےلیےمرتب کردہ حکمتِ عملی کی منظوری دےچکی تھی ۔ جس کےبعد بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این طویل مشاورتی عمل کےنتیجےمیںتیار کردہ اس حکمتِ عملی پر عمل درآمد میں مدد دینےکےلیےبلوچستان پروگرام کا آغاز کرچکی تھی۔ بلوچستان کےساحلی علاقوں کےحوالےسے مذکورہ حکمتِ عملی کا کہنا تھا:

” بلوچستان کی770کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کےباعث ساحلی علاقےقدرتی وسائل سےمالا مال ہیں لیکن یہ مقامی آبادی کےلیےخوشحالی کا ذریعہ نہ بن سکی۔ صوبےکےدو ساحلی اضلاع گوادر اور لسبیلہ میں مقامی آبادی کی اکثریت خطِ افلاس سےبھی نیچےزندگی بسر کررہی ہی، یوں ان کا شمار ملک کےپسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہی، تاہم اس علاقےمیں ترقی اور خوشحالی کےاتنےامکانات ہیں کہ یہ نہ صرف صوبےبلکہ پاکستان کےلیےبھی معاشی شہ رگ بن سکتا ہی۔ ان ساحلی علاقو ں کی ایک اہم خصوصیت تیمرکےساحلی جنگلات ہیں ۔ یہ لکڑی اورمویشیوں کےلیےچارےکی فراہمی کی کا اہم ذریعہ ہیں ۔ “ حکمتِ عملی میں سفارش کی گئی تھی کہ ساحلی قدرتی وسائل کےتحفظ، پائیدار استعمال اورساحلی سیاحت کی ترقی کےلیےایسی مربوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہےجو ایک جانب قدرتی وسائل کو تحفظ فراہم کرےتو دوسری طرف اس سےبلواسطہ یا بلا واسطہ استفادہ کرنےوالےمقامی لوگوں کےلیےمعاشی افادیت کی حامل بھی ثابت ہو۔ عام نباتات اور پودوں کی افزائشی رفتار کےمقابلےمیں نسبتاً سست روتیمر کی دنیا بھر میں متعدد اقسام پائی جاتی ہیں، تاہم بلوچستان میںقدرتی طور پراس کی تین اقسام موجود ہیں ، جن میںAvicenna marina, Ceriops tagal, Rhizophora mucronataشامل ہیں۔ بقائےماحولکےنکتئہ نظر سےبھی تیمرکم مفید نہیں۔ماہرینِ ماحولیات کاکہناہےکہ تیمرکی موجودگی ساحلوں کو سمندری طوفان اور زمین کو ہوائی کٹاو wind-erosionاور زمین بُردگی land-erosion سےبچاتی ہی۔ اس کےعلاوہ سونامی کی صورت میں یہ نہ صرف منہ زور لہروں کا زور توڑ ڈالتےہیں بلکہ ساحلوں پر موجود ریت کےٹیلوں کو استحکام بخش کر سمندری موجوں کےآگےموجود بند کو مضبوط بناتےہیں۔ نتیجتاًیہ سب عناصر مل کرانسانی آبادیوں کو محفوظ تر بنا دیتےہیں۔تیمرکی اہمیت و افادیت دسمبر 2004ءمیں آنےوالےسونامی کےبعد اور واضح ہوچکی ہےاور اسےسونامی کی صورت میں ڈھال کےطور پر لیا جارہا ہی۔ یاد رہےکہ 1945ءمیں بلوچستان کا ساحلِ مکرا ن بھی سونامی کی مار سہہ چکا ہی۔

پاکستان میںموجودتیمرکےجنگلات کا شمار دنیا بھر میںاپنےحجم اور نوعیت کےاعتبار سےچودھویں نمبر کیا جاتا ہی، لیکن ان کا کم ہوتا ہوا رقبہ ماحولیاتی اداروں کےلیےتشویش کا سبب بن رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی دستاویز Coastal Environmental Management Plan کےمطابق ”1966 ءمیں پاکستان میں تیمر کےگھنےجنگلات کا رقبہ604,807 ہیکٹرپر مشتمل تھا۔ تاہم2003ءتک یہ کم ہو کر تقریباً86,000ہیکٹر رہ گیا ہے۔“ایسےمیںبلوچستان میںتیمرکی بحالی اور نئےجنگلات اُگانےکےلیےکی جانےوالی پیشرفت نہایت اہمیت کی حامل ہی۔

مارچ2005ءمیں آئی یو سی این نےرائل نیدر لینڈ ایمبیسی کےمالی تعاون سےتیمر کےجنگلات کی بحالی اور نئےجنگلات کےلیےشجر کاری منصوبےپر عمل درآمد شروع کردیا۔بلوچستان کےلیےتیار کردہ پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی اس کی بنیاد تھی ۔


طاہر قریشی تیمر کی شجر کاری و ساحلی جنگلات کی بحالی کےحوالےسےعالمی شہرت رکھتےہیں اور آئی یو سی این پاکستان کےشعبہ ’ساحلی ماحولیاتی نظام‘ کےسربراہ ہیں۔ ان کی نگرانی میں منصوبےکا آغاز سماجی، اقتصادی اور سائنسی خطوط پر ایک سروےسےہوا، جس کےفوراً بعد بحالی اور نئی شجرکاری شروع کردی گئی۔ آئی یو سی این کےاس منصوبےمیں بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، محکمئہ جنگلات بلوچستان، مقامی ماہی گیر و باشندےاہم شراکت دار تھی۔

نئی شجر کاری کےلیےمقامی طور پر دستیاب افرادی قوت کا معقول مشاہرےپر انتخاب کیا گیا۔ محمد ایوب بھی انہی میں شامل تھی۔ ان لوگوں کی اکثریت ناخواندہ تھی۔ محمد ایوب کہتےہیں”ہم نہیں جانتےتھےکہ تیمر کی افادیت کیا ہی۔ ہم صرف روزگار کےمتلاشی تھی۔ ہمیں یہ روزگار ملا اور بس۔۔۔اس سےآگےہمیں کچھ نہیں معلوم تھا۔“ مقامی ماحول میں پرورش پانےوالےیہ لوگ تیمر کی افادیت سےلاعلم تھی، لیکن قدرت کےاس وسیلےسےمتعلق علم اب ان تک منتقل ہونےوالا تھا۔

بحالی اور نئی شجر کاری کےمنصوبےکےتحت جیوانی، سونمیانی اورکلمت میں قدرتی طور پر پہلےسےموجود جنگلات کی بحالی اور بہتر انتظام کےلیےاقدامات کےساتھ ساتھ نئی شجر کاری کی گئی۔ ساتھ ہی ایسےمقامات کا انتخاب کیا گیا جہاں خالی ساحلوں پر شجرکاری کی جانی تھی۔ ان میں آنکارہ کھور کھاڑی پشکان،ہنگول نیشنل پارک ، اوڑ ماڑہ اور پسنی کےساحلی علاقےشامل تھی۔ طاہر قریشی بتاتےہیں

”دلدلی لیکن تیمر سےخالی ساحلوں علاقوں میں ان کی شجر کاری پاکستان کا ایک نیا اعزاز ہی۔ اس طرح کےعلاقوں میںتیمر کی شجر کاری دنیا کےصرف چند ممالک میں ہی کی گئی ہی۔“ طاہر قریشی مزیدکہتےہیں” اس منصوبےکےتحت 2007ءکےاوائل تک مجموعی طور پر صوبےکےساحلی علاقوں میںپندرہ سو ہیکٹر پر شجر کاری کی گئی۔گوادر مستقبلِ قریب میں ملک کا ایک اہم اور بڑا شہر بننےوالا ہی۔ اس شجر کاری کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہم نےگوادر کےساحل پر ریت کےبڑےبڑےٹیلوں کی فصیل کو تیمر کےنئےجنگلات اگا کر استحکام بخشا اور گوادر کو سمندری آفات یعنی سونامی اور طوفان کی صورت میں بڑی حد تک محفوظ بنادیا ہی۔“

شجر کاری کا یہ کام مقامی باشندوں نےانجام دیا اور اب وہ اس کام میں طاق ہوچکےہیں۔رسمی طور پر ناخواندہ محمد ایوب بلوچ کو بھی تیمر شجر کاری منصوبےمیں کام کرتےہوئےدو سال ہوچکےہیں۔ اب وہ تیمر کےبیجوں کےچناؤ سےلےکر ان کی اقسام کی پہچان تک کےتمام مراحل سےبخوبی آگاہ ہےبلکہ اس کی شجر کاری کا مبلغ بھی ہی۔


گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کےڈائریکٹر جنرل احمد بخش لہڑی کا کہنا ہےکہ”آئی یو سی این، بلوچستان پروگرام کےتحت کیےجانےوالےتیمر منصوبےکی افادیت سب پر عیاں ہی۔ ہم گوادر کےساحلی علاقےمیں آئی یو سی این منصوبےمیں شجر کاری کرنےوالےپندرہ افراد کو اتھارٹی میں ملازمت دےچکےہیں، جو اس کام مزید کو آگےبڑھائیں گی۔“

مارچ2005ءمیں آئی یو سی این اور اس کےشراکت داروں نےجس سفر کا آغاز کیا تھا، وہ فروری2007ءکو اختتام پذیر ہوچکا،لیکن بقائےماحول ، سماجی ترقی اور مقامی باشندوں کی استعداد سازی کاسفر بدستور جاری ہی۔ محمد ایوب بلوچ اور اس جیسےمتعدد لوگ اب اپنےاس ہنر میں ماہر ہوچکےہیں۔بقائےماحول کےلیےمنتقلی ِعلم کا سفر پائیدار روزگار کی طرف منتقل ہوچکا ہی۔ محمد ایوب بلوچ اور اس کےمتعدد ساتھیوں کو گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نےمستقبل میںتیمر کی شجر کاری اور موجود ہ جنگلات کی نگہبانی کےلیےملازم کرلیا ہے۔۔۔ اورتیمر کی ہمراہی میں زندگی کی نئی کروٹ کا مسکراتا ہوا سفر جاری ہی!!!


مختار آزاد ’جریدہ‘ کےمدیر ہیں۔