بلوچستان کو رقبےکی بنیاد پر جہاں پاکستان کا سب سےبڑا صوبہ ہونےکا اعزاز حاصل ہے، وہیں یہ اپنےسیاسی ، جغرافیائی، معاشرتی و سماجی پس منظر اور بیش بہا قدرتی وسائل کی وجہ سےبھی نہایت اہمیت کا حامل ہی۔ قدرت نےصوبےکوقابلِ قدر قدرتی وسائل سےنوازاہے، لیکن تعلیم وشعور کی کمی ،بنیادی سہولتوں کا فقدان ،غربت و سماجی پسماندگی، آب کی کمیابی ، دشوار گذار علاقےاورعمدہ نظم و نسق کی استعداد کےفقدان کےباعث نہ صرف ان قدرتی وسائل سےبھرپور استفادہ حاصل نہیں کیا جاسکا بلکہ غیر منضبط استفادےکی سرگرمیوں سےقدرتی وسائل کو مزید نقصان پہنچا ہی۔ قدرت کی ان بیش بہاعنایتوں کی تباہی کی ایک اور بڑی وجہ وسیع النظر ی اور پائیدار منصوبہ بندی کا فقدان بھی تھا۔ جس کےنتیجےمیں قدرتی وسائل کےتحفظ کےلیےکی جانےوالی منصوبہ بندی عارضی اور فوری مقاصد کےحصول تک محددو رہی بلکہ بعض اوقات تو ان کی افادیت اور ضرورت سےآگاہی نہ ہونےکی وجہ سےان کےبچائو کو سرےسے ہی نظر انداز کردیا گیا۔ جس کی وجہ سےقدرتی وسائل کو نقصان پہنچا اورغربت وافلاس میں بھی اضافہ ہوا ۔ اس کےنتیجےمین وہ خزانےجو خالقِ کائنات نےایک خاص ترتیب وتوازن سےانسانوں کی بھلائی کےلیےپیدا کیےہیں، عدم توازن کا شکار ہوگئے۔
کسی بھی خطےکی ترقی کےلیےضروری ہےکہ وہاں کے باشندےمقامی وسائل کا بخوبی ادراک اور پائیدار استعمال کی واضح پالیسی رکھتےہوں ۔ تاکہ انتظام سےمتعلق ایسےقوانین میں مناسب تبدیلی لاسکیں جن کی بنیاد پر وسائل کےتحفظ اور متوازن استفادےکو فروغ حاصل ہوسکی۔
بلوچستان کےوسائل کےتحفظ، پائیدار استفادےاور ترقی کےحصول کےلیے90ءکی دہائی میں تیار کی جانےوالی حکمتِ عملی کا مقصد بھی یہی تھا۔ اس میں وسائل کےتحفظ کےلیےسماج کےغیر سرکاری شعبےکی افادیت کو بھی تسلیم کیا گیا اور سفارش کی گئی تھی کہ حکمتِ عملی کےتمام شعبوں کےحوالےسےمتعلقہ سول وسائٹی تنظیموں اور ان کےارکان ، سرکاری محکموں اور فنی شخصیات پر مشتمل ’راؤنڈ ٹیبل‘ تشکیل دی جائیں، نیز ان کی استعداد میں اضافےکےلیےاقدامات کیےجائیں۔ ان سفارشات کا مقصد فیصلوں میں شراکت اور عمل درآمد کو شفاف بنانا تھا تاکہ سماجی ، معاشی، ترقیاتی اور ماحولیاتی منصوبوں پر عمل درآمد سے بہترین نتائج کا حصول ممکن ہوسکی۔ مذکورہ حکمتِ عملی کا مقصدپائیدار ترقی کےحصول اور بقائےماحول کی مربوط حکومتی کوششوں میںہاتھ بٹانا اور واضح منزل کی نشان دہی کرنا تھا تاکہ آنےوالی دہائیوں میں قدرتی وسائل کو سمجھداری سےاستعمال کرتےہوئےغربت کےخاتمےکا حصول ممکن بنایا جاسکے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دستاویز کی شکل میں حکومتی وسول سوسائٹی کےاداروں کو ثقافتی ،سماجی اور قدرتی وسائل و ماحولیاتی مسائل سےآگاہی اور ان کےحل سےمتعلق ایک مربوط اور منظم پالیسی فراہم ہوئی ہےاور عمل درآمد کےلیےواضح لائحہ عمل میسر آسکاہے۔ اس دستاویزکی تکمیل کےبعدسےسول سوسائٹی کےمابین مربوط روابط میں اضافہ ہوا ، راؤنڈ ٹیبل اور اسی طرح کےدیگر پلیٹ فارم کےذریعےمسائل پر سیر حاصل مباحثے کےمواقع میسر آئی،علم و اطلاعات کی منتقلی کا آغاز ہوا، بنیادی کوائف اکھٹےکرنےکےعمل میں تیزی آئی اورمسائل کو شراکتی انداز میں حل کرنےمیں مدد ملی ۔
بلوچستان میں سماجی شعبےسےوابستہ متعدد ماہرین کا خیال ہےکہ پائیدار ترقی کی اس جامع حکمتِ عملی سےپہلےحکومتی ادارےاور سول سوسائٹی کی تنظیمیں ماحولیاتی مسائل حل کرنےکےسلسلےمیں واضح حکمت ِعملی اور وسیع النظری نہ ہونےکی وجہ سے عارضی حل کی تلاش اور ان پر عمل کیےجانےکی عادت کا شکار تھیں ۔ نیز ان کی کوششوںمیں ربط اور شراکت کا بھی فقدان تھا ۔ جس کےباعث انہیں موثر نتائج کےحصول میں دشواریوں کا سامنا تھا۔ تاہم مذکورہ حکمتِ عملی نےنہ صرف ان اداروں کےفہم میں اضافے، رویےمیں تبدیلی ، خود کو تحریک دینےکا شعور ، پائیدار منصوبہ بندی اور انتظام کو بہتر طور پر سر انجام دینےمیں اہم کردار ادا کیا، بلکہ صنف اورماحول کےدرمیان قائم ربط کی اہمیت کوبھی اُجاگر کرنےمیں مدد دی۔
آج’ بلوچستان: پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی‘ کی بدولت سول سوسائٹی کی چھوٹی بڑی تنظیمیں ایک واضح مقصد ومنزل کےحصول کےلیےبیسیوں منصوبوں پر نہایت مربوط انداز میں واضح لائحہ عمل کےساتھ کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ اسی مربوط پالیسی ہی کی وجہ سےسول سوسائٹی، صوبائی حکومت کی مختلف پالیسیوں کےجائزی، ضروری قوانین سازی ، عمدہ نظم ونسق ، بہترین فیصلہ سازی اور ماحول سےمتعلق حکومتی اداروں اور سماجی شعبوں کےمابین اچھےتعلقات کی استواری کےلیےبھی کوشاں ہیں۔ جبکہ اس حکمتِ عملی پر عمل درآمد کےدوران استعداد سازی کی متعدد تربیتی نشستوں کےنتیجےمیںسول سوسائٹی کی استعداد میں اضافہ ہوا ہی۔ صوبائی سطح پر سول سوسائٹی کےکئی ایسےادارےجو پہلےصرف ترقیات Development کےحوالےسےاپنی شناخت رکھتےتھے اب، اپنےمنصوبوں میں ماحولیاتی سرگرمیوں کو بھی جگہ دیتےہوئےنظر آتےہیں ۔اسی طرح صرف ماحول سےمتعلق کام کرنےوالی تنظیمیںبھی اب بقائےماحول کےساتھ ساتھ معاشی، سماجی واقتصادی مسائل کو حل کرنےمیں بھی کوشاں ہیں۔ کیوں کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہےکہ بقائےماحول،غربت میں کمی اور پائیدارسماجی و اقتصادی ترقی کےدرمیان گہرا ربط موجود ہےاور کسی ایک بھی عنصر کو نظر انداز کرکےموثر نتائج کا حصول ممکن نہیں ہوسکتا ہی۔
جہاں’ بلوچستان: پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی‘ سول سوسائٹی میں شعوروآگاہی ، رابطےاور وسائل کی انتظام کاری کی استعداد میں اضافےکا سبب بنی ہی، وہیں اس سےمتعلق بعض ابہام بھی موجود ہیں،جنہیں دور کرلیا جائےتوہم اس کےفوائد سےمزید بہتر اور موثرانداز میں مستفید ہوسکتےہیں ۔بیشتر سماجی اورحکومتی حلقوں میں اب بھی یہ حکمتِ عملی صوبےکی سرکاری پالیسی کی رہنما دستاویز کےبجائے بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کی دستاویز سمجھی جاتی ہی۔ اس غلط فہمی کےسبب بعض متعلقہ ادارےاس پر از خود عمل درآمد کےبجائےاسےآئی یو سی این کی ذمےداری محسوس کرتےہیں۔
ضرورت اس امرکی ہےکہ حکومتی شعبےہوں یا سماجی ، انہیںواضح انداز میںباور کروایاجائےکہ اس دستاویز کا ’حقِ ملکیت بنامِ سرکار اور عوام‘ ہے۔ رہی بات آئی یو سی این کی تو اس کا کردار پالیسی سازی میں مدد اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا تھا اور ہی۔اگر ہم مستقبل میں پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کا مزیدبہتر اور موثر نفاذ چاہتےہیں تو اس ابہام کودور کرنےکےلیےاقدامات کرنا ہوں گی۔ جس میں صرف آئی یو سی این ہی نہیں بلکہ حکومت محکموں اور سول سوسائٹی کی تنظیموںکو بھی بھرپور کوشش کرنا ہوگی۔
بلوچستان کی سطح ُپر دیکھیں تو قیامِ پاکستان کےبعد یہ پہلی اور اب تک کی واحد دستاویز ہےجس نےصوبےمیں ہر سطح پر پائیدار ترقی، بقائےماحول اور تحفظِ قدرتی وسائل کو مربوط انداز میں پیش کیا اور ہر سطح پر عمل درآمد کےلیےواضح رہنما خطوط پرمشتمل لائحہ عمل بھی وضع کیاہی۔ اگرچہ ان خطوط پر آئی یو سی این نےعالمی امدادی اداروں اور حکومتی و سماجی شعبےکےشراکت داروں کی ہمراہی میں مختصر مدت کےدوران متعدد قابلِ تقلید آزمائشی منصوبوں پر عمل کرکےدستاویز کےرہنما خطوط کے’با آسانی قابلِ عمل ‘ہونےکا ثبوت بھی فراہم کیا ہی، تاہم عمومی سطح پر ان منصوبوںکو دُہرائےجانےاور رہنما خطوط پر عمل درآمد کیےجانےکےمابین تسلسل کا فقدان بھی نظر آتا ہی۔ دستاویز کی منظوری کےبعد آئی یو سی این نےاسےمتعارف کروانےکےلیےاہم کوششیں کیں۔ منصوبےکےتحت ان کوششوں کا دورانیہ خاص مدت تک محدود تھا، تاہم اُس کےبعد دیگر شراکت دار(بمع سرکار کی)یہ تسلسل جاری نہیں رکھ سکی، جس سےکہ طویل المدت تناظر میںوہ ماحول بنائےرکھنےمیں کافی مددملتی جو اسیز پر عمل کا تقاضا ہی۔
مثال کےطور پر سماج کےمتعدد شراکت داروں کےمابین مربوط روابط کےلیے’راؤنڈ ٹیبل ‘ کا سلسلہ ہی۔ آئی یو سی این کا یہ طریقہ پائیدار ترقی کےلیےسماجی شعبے کےتمام شراکت داروں کےمابین مربوط رابطےکا موثر طریقہ تھا، تاہم بعض حلقوں کا خیال رہا ہےکہ اس کا انعقاد آئی یو سی این کی ہی ذمےداری تھی۔ شاید یہی سبب تھا کہ آئی یو سی این کےعلاوہ دیگر شراکت داروں کی جانب سےاس دستاویز پر عمل کےحوالے سےراؤنڈ ٹیبل کےانعقاد کا طریقہ تسلسل سےدُہرایا نہ جاسکا۔ اسی لیےکبھی کبھی یہ محسوس ہوا کہ اس سلسلےپر جمود طاری ہورہا ہی۔ خود آئی یوسی این نےکئی بار اس جمود کو توڑا، تاہم راقم السطور کی نظر میں اب سماجی شعبےکی ذمہ داری بنتی ہےکہ وہ حکومتی اداروں کو یہ باور کرائیں کہ پائیدار ترقی کےرہنما خطوط پر عمل میں شراکت داروں کا یہ باہمی ربط نہایت اہم ہی۔ اس لیےنہ صرف حکومتی سطح پر ا س کا انعقاد ہو بلکہ خود سماجی شعبہ بھی سامنےآئےاور آئی یو سی این راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کےذریعےانعقاد کی حاصل کردہ استعداد کو دُہرائی، کیونکہ دستاویز کا مقصد بھی یہی ہے۔ یہ طریقہ کار دستاویز پر عمل کا موثر ذریعہ ہےجسےتسلسل سےجاری رہنا چاہیی۔ یہ اس لیےبھی ضروری ہےکہ حکمتِ عملی کےثمرات کو ضلع کی سطح پر منتقل کرنےکےضمن میںگوادر اور قلعہ سیف اﷲ کےلیے پائیدار ترقیاتی خاکےتیار
کرلیےگئےہیں اور اس تناظر میں صوبےکےلگ بھگ دو درجن اضلاع تک یہ کامیاب تجربہ دُہرایاجانا اور پھر اس پر عمل کرنا ابھی باقی ہی۔ جس کےعمدہ نتائج تبھی برآمد ہوسکتےہیں جب عمل درآمد کےذمےدار شراکت داروں اور زندگی کےتمام شعبوں سےتعلق رکھنےوالوں کےمابین موثر اور باقاعدہ روابط استوار ہوں تاکہ اجتماعی طور پر منصوبوں کا حقِ ملکیت ثابت کرکےسب کو اپنی اپنی ذمےداریوں کا احسا س دلایا جاسکی۔
اس میںکوئی شک نہیں کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی کےلیےتیار کی گئی یہ دستاویز اور اس پر اب تک کیا گیا عمل قابلِ تقلید مثال ہی، تاہم اگر مذکورہ بالا چھوٹی چھوٹی کمزوریوں کو اچھےپیرائےمیں دور کرلیا جائےتوہم اس سےزیادہ بہتر انداز میںرہنمائی حاصل کر کےاپنی مشترکہ منزل کےحصول کی جانب زیادہ تیز رفتاری سےسفر کرسکتےہیں۔
|