Jareeda Banner
 

 

 
شہری آبادی میں اضافہ، دریائی دیوی کی معدومی،جنگلی قبائل کےحقوق اور بحیرہ مُردار کےخشک ہونےکےخطرےتک۔۔۔تازہ ترین عالمی حقائق!
 
انتخاب: ناصر علی پنہور ترجمہ: ذیشان حیدر  

 
>”ہر سال دنیا بھر میں60ملین افرا د شہروں یا اس کےگرد و نواح میں آباد ہورہےہیں۔ امکان ہےکہ 2008ءتک دنیا کی آدھی سےزائد آبادی چھوٹےشہروں اور قصبوں سےہجرت کرکےبڑےشہروں میں آباد ہوچکی ہوگی۔ یہ بات جنوری کےاوائل میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں جاری کردہ251صفحات پر مشتمل ورلڈ واچ انسٹیٹیوٹ کی سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ہی۔

رپورٹ کا کہنا ہےکہ” چھوٹےشہروں اور قصبوں سےبڑےشہروں کی جانب آبادی کی ہجرت کی رفتار میں تیز ترین اضافہ دیکھنےمیں آیا ہی، جس کےسبب دنیا کےبڑےشہروں میں انسانی صحت اور ماحول کےسنگین مسائل جنم لینےکا خدشہ ہی۔ “دنیا بھر میں تیزی سےبڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کی طرف لوگوں کی ہجرت کی شرح میں تیز ترین اضافہ اس تحقیقی رپورٹ کا بنیادی نکتہ ہی، جسےورلڈ واچ انسٹیٹیوٹ نےموضوع کےمختلف تحقیقی ماہرین کےاشتراک سےمرتب کی ہی۔ رپورٹ میں مزیدکہاگیا ہےکہ”اتنی تیزی سےشہری آبادی میںاضافےسےمتعدد سنگین مسائل جنم لیں گی۔ جن میں بڑھتی ہوئی غربت ، بیروزگار ی کی شرح میں تیز ترین اضافہ، کچی آبادیوں کا پھیلاؤ، نکاسیِ گنداب و فراہمی آب سمیت انسانی صحت اور صحتمند ماحول کو برقرار رکھنےجیسےدیگر اہم معاملات شامل ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہےکہ دنیا تیزی سےاُن مسائل کی جانب بڑھ رہی ہے، جن کا شہروں میں رہنےوالوںکو پہلےسےہی سامنا کرنا پڑرہاتھا، تاہم اب ان کی نوعیت سنگین تر ہونےکا خطرہ ہی۔ اس وقت دنیاکےتین ارب سےزائد باشندےکچی آبادیوں میں رہتےہیں۔ انہیں پینےکےصاف پانی کی فراہمی،نکاسِ گنداب اور صحت و صفائی جیسی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔ اس پرمستزاد یہ کہ اب ان کی شرح میں مزید اضافہ ہونےوالاہی۔ آج یہ سوال پوری دنیا کےسامنےایک بڑےچیلنج کےطور پر سامنےآرہا ہےکہ ان مسائل پر کس طرح قابو پایا جائےگا؟“ رپورٹ میں ماہرین نےاعداد و شمار کی بنیاد پر کہاہےکہ ” اگر صورتِ حال یہی رہی اور عالمی ترقیاتی ترجیحات پر نظرِ ثانی نہ کی گئی تو امکان ہے 2030ءتک دنیا کےپانچ سو ملین باشندے بڑےشہروںکےنواح میںقائم کچی آبادیوں کےمکین ہوںگی۔“

رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہےکہ پالیسی ساز صورتِ حال کو ’شہری غربت‘ کے طور پر لیںاور ایسی منصوبہ سازی کریںجن کےذریعےصحت کی نگہداشت، تعلیم اور شہری بنیادی ڈھانچےکو مزید بہتر بنانےکےمنصوبوں میں زیادہ سرمایہ کاری ممکن ہوسکی۔ اقوامِ متحدہ کےاداریUN-Habitate کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اینا تبائی جوکا نےرپورٹ کےپیش لفظ میں لکھا ہی:
” اس وقت دنیا کےبڑےبڑےشہر ماحولیاتی طور پر ناپائیدار ہیں اور اب وہ تیزی سےسماجی طور پر بھی غیر مستحکم ہوتےجارہےہیں۔ اب سوچنےکا نہیں بلکہ عمل کرنےکا وقت ہےاور ہمیں وقت ضائع کیےبغیر اس مسئلےکےحل کےلیےاقدامات کرنا ہوں گی۔“ یادرہےکہ اس وقت دنیا کی آبادی سات ارب سےزائد ہی، جس میں ہر سال تیزی سےاضافہ ہورہا ہ
ی۔

 
” چین کی نایاب دریائی ڈولفن معدوم ہوچکی ہی۔“آبی حیات کےعالمی ماہرین نےیہ بات دریائےیانگ ژی میں ساڑھےتین ہزار کلومیٹر طویل آبی گزرگاہ کےتفصیلی مشاہدےکےبعد جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہی ہی۔ ماہرین نےکا کہناہے ”یانگ ژی کےاس طویل سفر میں انہیںایک بھی ڈولفن نظر نہیں آئی اور نہ ہی جدید ترین آلات اس کی موجودگی کا ثبوت فراہم کرسکی، لہٰذا قوی امکان ہےکہ دنیا بھر میں اپنی نوع کی واحد اور صرف چین کےاس دریا میں پائی جانےوالی یہ ڈولفن اب معدوم ہوچکی ہی۔“
 
سفید جِلد اور تقریباًنابینا اس ممالیہ کو چینی زبان میں ’بائی جی‘ baiji کہا جاتا ہی، البتہ پیار سےلوگ اسے’یانگ ژی کی دیوی‘ کےنام سےبھی پکارتےہیں۔ کہا جاتا ہےکہ مذکورہ ممالیہ کی حیاتیاتی تاریخ20ملین سال سےزائد قدیم ہے۔ چین کےیانگ ژی دریا میں پائی جانےوالی اس آبی حیات کی تعداد کبھی ہزاروں میں تھی تاہم1980ءکی دہائی کےایک سروےکےنتیجےمیں معلوم ہوا کہ ان کی تعداد صرف چار سو رہ گئی ہی۔ 1990ءکی دہائی کےوسط میں کیےگئےسروےکےنتیجےمیں یہ تعداد گھٹ کر ایک سو سےبھی کم ہوگئی تھی۔1997 ءمیں کیےگئےسروےمیں صرف 13ڈولفن کی موجودگی ثابت ہوئی۔2004ءمیں ایک چینی مچھیرےنےمقامی محکمہ تحفظ آبی حیات کےاہلکاروں کو بتایا تھا کہ اس نےدریائےیانگ ژی میں ایک ڈولفن کو دیکھا ہی، تاہم بعد ازاں اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ۔ اب2007 ءکےاوائل میں تیس غیر ملکی ماہرینِ آبی حیات پر مشتمل ایک ٹیم نےاس بات کا اعلان کیا ہےکہ ڈولفن کی یہ نوع معدوم ہوچکی ہی۔
تحقیقی ٹیم میں شامل سوئس ماہر آگسٹ فِلگر نےکہا کہ ”ساڑھےتین ہزار کلومیٹر طویل دریائی سفر میں اس بات کا امکان ضرور ہوسکتا ہےکہ ہم ایک، دو ڈولفن کو دیکھنےسےچوک گئےہوں لیکن ہمیں کہیں بھی یہ ڈولفن نظر نہیں آئی۔ دو جہازوں میں ٹیم کےارکان سفر کررہےتھےاور نہایت حساس مائکرو فون کےذریعےہم پانی کےاندر بھی اس کی موجودگی کےشواہد تلاش کرتےرہےمگر ہمیں ناکامی ہوئی۔ اب کہا جاسکتا ہےکہ یہ آبی حیات معدوم ہوچکی ہی۔“

ماہرین کا کہنا ہےکہ ’یانگ ژی کی دیوی‘ کےمعدوم ہونےکی بنیادی وجوہات میںبڑی تعداد میں ماہی گیری، دریا پر ڈیموں کی تعمیر، ماحولیاتی آلودگیاں اور سب سےبڑھ کر دریا میں جہاز رانی ہی۔ یاد رہےکہ چین کےاس بڑےدریا کا شمار بحری جہازوں کی مصروف ترین دریائی راہ گزر می
ں ہوتا ہے۔<

 
 
بھارت کی پارلیمان نےملک کےجنگلات میں رہنےوالےقبائلیوں کو مقامی قدرتی وسائل سےاستفادےکا حق دینےکےلیےقانونی بِل منظور کرلیا ہی۔ جس کےبعد وہ قدرتی وسائل سےاستفادہ کرسکیں گی، تاہم انہیں جنگلی حیات کےشکار کی اجازت حاصل نہیں ہوگی۔ ایک اندازےکےمطابق اس قانون کی منظوری سےملک کےجنگلات میں رہنےوالےتقریباً70لاکھ قبائلیوں کو فائدہ پہنچےگا۔

قدرتی وسائل سےاستفادےکےلیےقبائلیوں کےحقوق کا بل پیش کرنےوالےرکنِ پارلیمان پی آر کنیریا کا کہنا ہی”ہم قبائلیوں کےساتھ ہونےوالی نا انصافی کےخلاف ہیں۔ اس بِل کا مقصد اُن لاکھوں غریب قبائلیوں کو فائدہ پہنچانا ہی، جو جنگلات میں رہتےہیں، تاہم جنگلی حیات کےشکار کا حق انہیں حاصل نہیں ہوگا۔ اس طرح ہم نےقبائلی باشندوں کےساتھ ساتھ جنگلی حیات کی بقاکو بھی مدِ نظر رکھ کر انہیں
تحفظ فراہم کیا ہی۔“

بھارت میں تحفظِ قدرتی وسائل اور جنگلی حیات کےلیےکام کرنےوالی متعدد تنظیموں نےاس بِل کےخلاف اپنےتحفظات کا اظہار کیا ہےاور ان کا خیال ہےکہ اس اجازت کےذریعےجنگلی حیات کےغیر قانونی شکار میں اضافہ ہوسکتا ہی۔ اس کےعلاوہ جنگلات کےوسائل سےبےتحاشہ استفادہ ہونےکےسبب جنگلات کو شدید نقصانات پہنچ سکتےہیں۔ نیز بِل میں یہ بھی تشنگی ہےکہ قدرتی وسائل اور کاشت کےلیےاراضی حاصل کرنےکےعمل کو کس طرح پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جائےگا، نیز اس سارےعمل کی نگرانی کس طرح ممکن ہوسکےگی؟

پارلیمان سےمنظور شدہ بِل کو قانون کا درجہ ملنےکےبعد جنگلوں میں آباد قبائیلیوں کو چھوٹےقطعاتِ اراضی پر کاشت کی اجازت حاصل ہوگی۔ اس کےساتھ ہی وہ لوگ شہد کی مکھی، موم، جڑی بوٹیوں اور دیگر قدرتی وسائل سےاستفادہ کرسکیں گی۔ بِل میں نیشنل پارک اور جنگلی حیات کےلیےمحفوظ قرار دیےگئےعلاقوں میں آباد قبائلیوں کو کسی دوسری جگہ آباد کیےجانےکی صورت میں معاوضہ ادا کرنےکی بھی گنجائش رکھی گئی ہی۔

دسمبر2006ءکےوسط میں پارلیمان سےمنظور کیا گیا یہ بِل حتمی منظوری کےلیےصدرِ جمہوریہ پی کےعبدالکلام کو بھجوادیا گیا ہی۔ جن کےدستخطوں کےبعد اسےقانونی ش
کل حاصل ہوجائےگی۔
 
 
 
بحیرئہ مُردارDead Sea کو خشک ہونےسےبچانےکےلیےماہرین نےبحیرئہ احمر Red Sea سےنہر نکال کر اس میں سمندری پانی چھوڑنےکا منصوبہ بنایا ہی۔شام، اُردن اور اسرائیل سےگزرنےوالی 180 کلومیٹر طویل اس نہر پرلاگت کا تخمینہ دو سےچار ارب امریکی ڈالر لگایا ہی۔ نہر کی تعمیر کا فیصلہ اس سال کےاوائل میں کیاگیا ہی۔

اس فیصلےکا پس منظر یہ ہےماہرینِ آب و ماحول نےاعدادد و شمار کےذریعےپتا چلایا تھا کہ بیسویں صدی کےدوران بحیرئہ مُردار کی آبی سطح میں82فٹ (25 میٹر) تک کی کمی واقع ہوئی ہے اورہر سال یہ سطحِ آب ساڑھے31 سے39 انچ تک کم ہورہی ہے۔ اگر اس میں سمندری پانی شامل نہ ہوا تویہ رفتہ رفتہ خشک ہوجائےگا۔ منصوبےکی تکمیل سےبحیرئہ احمر سےسالانہ317 سی386 ملین گیلن (لگ بھگ ڈیڑھ ارب کیوبک میٹر) پانی اس میں شامل کیا جاسکےگا۔

اگرچہ اسرائیل اس منصوبےکی افادیت کےاظہار میں پیش پیش ہےتاہم یہیںکی بِن گورین یونیورسٹی کےآبی تحقیق کےمرکز کےڈائریکٹر ایلن ادار کا کہنا ہی:
”اس منصوبےکےماحولیاتی اثرات نہایت سنگین ہیں اور اس پرعمل سےمستقبل میں سنگین قدرتی اور ماحولیاتی سانحات رونما ہوسکتےہیں۔بنیادی طور پر خطرےکا سبب وہ نہر ہےجو پانی پہنچانےکےلیےکھودی جائےگی۔ یہ نہر وادیِ اراوا سےگذرےگی جو زلزلےکی پٹی پر واقع ہی۔ اس نہر کی کھدائی سےزیرِ زمین تبدیلیاں ممکن ہیں جو نہ صرف زلزلےکا سبب بن سکتی ہیںبلکہ اگر کبھی کینال میں رساؤ ہوا تواس سےزیرِ زمین میٹھےپانی کےذخائر بھی شدید متاثر ہوں گی۔“

ایلن مزید کہتےہیں” اس بات کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ نہر سےممکنہ رساؤ کو سو فیصد روکنےکےکامیاب اقدامات ہوسکیں گی۔ لہٰذا اگر یہ خدشات درست ثابت ہوئےتو وادی اراوا میں آباد اسرائیلی اور اُردنی باشندےسب سےزیادہ متاثر ہوں گےکیونکہ ان کےلیےزیرِ زمین چٹانوں اور ریت میں پوشیدہ اس میٹھےپانی کےذخائر کےعلاوہ پینےکےپانی کا کوئ
ی اور ذریعہ نہیں ہی۔ “
   


ناصر علی پنہور آئی یو سی این، سندھ پروگرام آفس سےبطورِ کو آرڈینیٹر وابستہ ہیں۔

محمد ذیشان حیدرفری لانس صحافی ہیں۔