![]() |
|
||||
بلوچستان میں گلّہ بانی اہم معاشی شعبہ ہی۔قدرتی وسائل کےتحفظ کےلیے اس شعبےکو جدید خطوط پر استوار کرنےکےلیےپائیدار اقدامات کیےگئی۔ |
||||
|
تحریر : ایم اےشیخ |
||||
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہےکہ مہرگڑھ کی آٹھ ہزار سال قبل از مسیح پرانی تہذیب کی تاریخی آثار اس بات کےشاہد ہیں کہ بلوچستان میں کھیتی باڑی اور مویشی پالنےکا باقاعدہ آغاز اِس تہذیب سےہوا تھا۔
زراعت کےبعد گلّہ بانی دیہی علاقوں کےلوگوں کا سب سےاہم ذریعہ آمدن ہے۔ 2000 ءکی زرعی شماری کےمطابق صوبےمیں پالتو مویشیوں ( بھیڑ‘ بکریوں) کی تعداد ایک کروڑ 13 لاکھ 10 ہزار سےزائد ہی۔ اسی طرح گائے‘ بھینسوں اور اونٹوں کی مجموعی تعداد 12 لاکھ 13 ہزار6 سو سےزائد بیان کی گئی ہی۔زرعی شعبےسےوابستہ ماہرین کا خیال ہےکہ بلوچستان کے79 فیصد علاقےکو قدرتی چراہ گاہ قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن حقیقت میںجانوروں کی تعداد اور ان کی خوراک کی ضروریات کی نسبت موجود چراگاہوں کا رقبہ نسبتاً کم ہی۔ بعض ماہرینِ کا کہنا ہےکہ گلّہ بانی کےرجحان میں اضافےکےسبب اگرچراگاہوں کےموجودہ رقبےکوچھ تا سات گنا بڑھا دیا جائےتب وہ ان ڈیڑھ کروڑ جانوروں کی ضروریات کےلیےکافی ہوگا۔ حالات یہ ہیں کہ گلہّ بانی میں لگےبندھےروایتی طریقوں پر اضافہ ہوتا جارہا ہی۔چراگاہیں کم ہونےکےسبب یہ جانور جھاڑیوں سےبھرےمیدان اور علاقےصاف کررہےہیں ۔
یوںپہلےہی رقبےمیںکم قدرتی چراگاہیں مزید کم ہوتی جارہی ہیں ۔ نیزناکافی خوراک کےسبب مویشیوں میں بیماریوں اور اموات کی شرح بڑھ رہی ہے جبکہ ان کی نشوونما بھی متاثر ہوتی ہی۔ جس سےگلة بانوں کو معاشی نقصانات اٹھانا پڑتےہیں۔ روایتی طور پربلوچستان کےچرواہوں میں صدیوں سےچرائی کےلیےایک روایتی طریقہ ’پرگوڑھ‘ مروج تھا۔ جس کا مطلب یہ ہےکہ ایک ہی جگہ پر جانوروں کو نہ چرایا جائےبلکہ انہیں اِدھر اُدھر لےجایا جائےتاکہ کوئی جگہ جھاڑیوں اور پودوں سےیکسرمحروم نہ ہو جائی۔ روایتی طریقےمیں چراگاہوں کی بقا تھی، لیکن گلّہ بانوں نےاسےرفتہ رفتہ ترک کردیا گیا ہی۔ اب گلّہ بان قبائل یا خاندان کسی ایک سرسبز جگہ پرمقیم ہوجاتےہیں۔ چرائی کےقابل زمین مختلف خاندانوں میں تقسیم کردی جاتی ہےجو اپنےاپنےحصےمیںمویشی چراتےہیں۔ حد سےزیادہ پڑنےوالا یہ دباؤاس زمین کو نباتات، جھاڑیوں اور سبزےسےمحروم کردیتا ہی۔ اس طرح زمین کی پیداواری صلاحیت تیزی سےکم ہونےلگتی ہےاور قابلِ تجدید اس قدرتی وسیلےکو بھی بہ آسانی پنپنےکا موقع نہیں مل پاتا، جس سےزمینی فرسودگی کی شرح بڑھ جاتی ہی۔زراعت اور گلّہ بانی بلوچستان کےروایتی منظر نامےمیں اہم معاشی اہمیت کےحامل ہیں۔ تاہم موسمی خشک سالی، بارشوں کا کم تناسب، آبادی میں تیز رفتار اضافہ، زمین کی پیداواری صلاحیت اور قابلِ تجدید قدرتی وسائل پر استعداد سےزیادہ بوجھ و ہ مسائل ہیں جن سےگلّہ بانی کےشعبےکو سخت خطرہ لاحق ہی۔ اس سنگین ماحولیاتی انحطاط کی صورتحال کو مدنظر رکھتےہوئے’بلوچستان: پائیدار ترقی کی حکمت عملی‘ میں زرعی شعبی، گلّہ بانی و چراگاہوں کی جانب خصوصی توجہ دی گئی۔اس حوالےسےبقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، پاکستان نےاس سےوابستہ افراد کی آگہی اور استعداد میں اضافےکےلیےمتعدد تربیتوں کا اہتمام کیا جبکہ پانی کےبہتر استعمال کیلئےنئی جدید تکنیک کو بھی متعارف کروایا گیا۔ تاکہ زراعت کےساتھ ساتھ گلّہ بانی کےلیےبنیادی ضرورت ’خوراک‘ کی تکمیل ہوسکی۔ قلعہ سیف اﷲ میں چراگاہوں کا منصوبہ تکمیل کو پہنچا۔ اس کےعلاوہ صوبےکی آب وہوا کو مدنظر رکھتےہوئےایسی اقسام کی جھاڑیاں بھی متعارف کروائی گئیں جو خشک سالی کےطویل اثرات برداشت کرسکیں۔ نیز گلّہ بانوں کومویشی پروری کےجدید طریقوں سےبھی روشناس کروایا گیا،جن کےاثرات کمیونٹیز کی سطح پر محسوس بھی کیےجانےلگےہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہےکہ پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی پر عملدرآمد کو مزید وسعت دی جائےتاکہ زمین کی زرخیزی پر پڑنےوالےدباؤ جیسےمسئلےسےنمٹا جاسکےاور اس سےمنسلک معاشی سرگرمیوں کو تحفظ حاصل ہوسکی۔ |
||||
|
|
||||
| ایم اےشیخ صحافی ہیں۔ | ||||