دنیا بھر میں ساحلی باشندےسمندر کےآبی ماحولیاتی نظام سے معاشی استفادہ حاصل کرکےخوش حال زندگی بسر کررہےہیں، لیکن بلوچستان کےطویل ساحلی علاقوں کےوہ مکین جو برائہ راست ماہی گیری سےوابستہ نہیں ، معاشی پسماندگی کےباوجود اس سےزیادہ بہتر طور پر استفادہ نہیں کرپائےہیں۔ دو سال قبل جب آئی یو سی این نےرائل نیدر لینڈ ایمبیسی (آر این ای) کےمالی تعاون سےبلوچستان کےساحلی علاقوںمیں تیمر کی بحالی و شجر کاری کا منصوبہ شروع کیا تو پائیدار معاشی تبدیلیاں بھی لانےکا تہیہ کیا۔ جس کےتحت اکتوبر2006ءمیں جھینگا فارمنگ کا نمائشی منصوبہ شرو ع کیاگیا۔ اس مقصد کےلیےگوادر کےمغربی ساحلی کنارےپر واقع انکارا کھاڑی کےقریب دو تالاب قائم کیے، جبکہ ان کی مخالف سمت میں مزید دو تالاب قائم کیےگئی۔ اس طرح جب سمندری موجوں میں تیزی آتی تو دو تالاب سمندری پانی سےبھر لیےجاتےاور پھر حسبِ ضرورت یہ پانی بجلی سےچلنےوالےپمپ کےذریعےاُن دو تالابوں کو فراہم کردیا جاتاجہاں جھینگا فارمنگ کی جارہی ہی۔ ہفتےمیں دو بار تالابوں میں سمندر کا نیا پانی داخل کیا جاتا ہی۔ واضح رہےکہ یہ تیمر کےجنگلات کا علاقہ ہےاور تیمر کودنیا بھر میں جھینگےکی افزائشی نرسری کہا جاتا ہےاور فارمنگ کےلیے’جھینگا بیج‘ بھی انہی کھاڑیوں سےمل جاتا ہی۔
اس وقت ان تالابوں میں فارمنگ کےسادہ اصولوں کےتحت پروان چڑھنےوالےجھینگوں کی لمبائی14سینٹی میٹر سےبڑھ چکی ہی، جبکہ وزن دس گرام کےقریب ہی۔ فرائی کیےجانےکےبعد ان کی لمبائی 5تا6 سینٹی میٹر اور فی کس وزن چار گرام تک رہتا ہی۔ وزن اور سائز کےاعتبار سےیہ فارمی جھینگےخاصی معاشی افادیت رکھتےہیں۔ گوادر میں جھینگوں کی فی کلو قیمت پانچ سو روپےتک رہتی ہے۔ جب یہ کراچی تک پہنچتےہیں یا انہیں برآمد کیا جاتا ہےتو قیمت مزید بڑھ جاتی ہی۔
آزمائشی منصوبےمیں ایسےمقامی ماہی گیراور ساحلی باشندےشراکت دار تھےجن کی معاشی حالت ناگفتہ بہ تھی، لیکن اس کی کامیابی اور افادیت نےسمندری وسائل سےاستفادےکی ایک اور ’کم خرچ بالا نشیں‘ راہ انہیں سجھادی ہی۔ جھینگا فارمنگ کےنمائشی منصوبےکی کامیابی کےبعداس تجربےکو دُہرائےجانےسےمقامی لوگوں کےذرائع معاش میں پائیدار ترقی آنےکےروشن امکانات ہیں۔