Jareeda Banner

ان سطور میں ہم آپ کے لیے آئ یو سی اين کے قومی اور عالمی سطح پر زیرِعمل مختلف منصوبوں اور ماحول سے متعلق معلومات اور خبریں فراہم کرتے ہیں



 
شہزاد احمد
 

بلوچستان کےلیےپائیدار ترقی کی حکمتِ عملی پر عمل درآمد کےپانچ سالہ پروگرام کےکامیاب اختتام پر بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، بلوچستان پروگرام نےفروری کےاوائل میں کوئٹہ کی مقامی ہوٹل میں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ جس کا مقصد حاصل شدہ نتائج اورمستقبل کےبارےمیں شراکت داروں کی آرا جاننا تھا۔ ورکشاپ کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سےہوا، جس کےبعد آئی یو سی این، بلوچستان پروگرام کےسربراہ ڈاکٹر عبدالمجید نےپروگرام کےان اہداف کی تفصیل پیش کی، جن پر عملدرآمد کےموثر اور پائیدار نتائج حاصل ہوئی۔ انہوں نےآئی یو سی این کی جانب سےرائل نیدر لینڈ ایمبیسی (آراین ای) کےمالی اور بلوچستان حکومت کےفنی تعاون پر ان کاشکریہ ادا کیا۔

حکومتِ بلوچستان کےایڈیشنل سیکریٹری ترقیات و منصوبہ بندی سہیل قدیر صدیقی نےورکشاپ سےخطاب کرتےہوئےکہا ”پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی صوبائی سطح پر تمام محکموں کی ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ ہی۔ ہمیںشراکت داری کےاصولوں پر نچلی سطح سےترقیاتی منصوبوں کےنفاذ کی کوششیں کرنا ہوں گی۔“

مولانا انوارالدین حقانی، ضلع ناظم قلعہ سیف اللّلہ نے آئی یو سی این ضلعی پروگرام کےتحت قلعہ سیف اللّلہ میںآئی یو سی این کی دو سالہ خدمات کا ذکر کرتےہوئےکہا ”منتخب نمائندوں، ضلعی افسران کی استعداد سازی،چراگاہوں کا انتظام، شجرکاری اور سب سےبڑھ کر ضلعی ترقیاتی خاکہ تیار کرنا آئی یو سی این کےوہ کارنامےہیں جن کی بدولت ہمارےترقیاتی منصوبوں کےثمرات پائیدار ہوں گی۔آئی یو سی این ضلع میں اپنی دو سالہ مدت کےاختتام کےبعد فر ض سےسبکدوش ہوگئی اور اب منصوبوں کو آگےلےجانا ہماری ذمےداری ہےلیکن ہم محسوس کرتےہیں کہ آئی یو سی این پروگرام میں مزید توسیع کی ضرورت ہےتاکہ صاف پینےکےپانی کی فراہمی، ماحولیاتی صحت اور تحفظِ وسائل کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرسکیں۔“

نائب ضلع ناظم گوادر عبدالغفار ہوت نےاپنےخطاب میں کہا کہ ”ہمارےلیےآئی یو سی این کا سب سےبڑا کام ضلعی ترقیاتی خاکےکی تیاری ہی۔ گوادر ابھرتا ہوا بڑا شہر ہی، جس کی ترقی کےثمرات اگلےبرسوں میں پورےملک کو ہوں گی۔ اس ترقی کےساتھ ساتھ مسائل بھی جنم لیں گی، ایسےمیں ضلعی ترقیاتی خاکہ ہمیں وہ راستہ فراہم کرتا ہےجس پر چل کر ہم ایسا نظام وضع کرسکتےہیں جو مستقبل کےممکنہ سنگین نوعیت کےماحولیاتی مسائل کو جنم لینےسےپہلےہی ختم کرسکتا ہی۔“ انہوں نےمزید کہا ” گوادر میں تیمر کی شجر کاری سمندری طوفانوں سے شہر کی مستقل حفاظت کا بندوبست ہی۔ اس کےعلاوہ بھی اس کےدیگر فوائد بےشمار ہیں لیکن ہمارےپاس ابھی ایسی استعداد نہیں ہےکہ ہم اس منصوبےکو درست طریقےسےچلا سکیں۔ ہماری تجویز ہےکہ گوادر پروگرام میں مزید توسیع کی جائےتاکہ شجر کاری بلوغت تک پہنچ سکےاور اس کےساتھ ہمارےلوگوں کی بھی اچھےطریقےسےتربیت ہوجائےتاکہ وہ اس کام کو آگےسنبھال سکیں۔“ انہوں نےگوادر میں پینےکےصاف پانی کی فراہمی کےلیےشمسی توانائی کےذریعےسمندر ی پانی میٹھا کرنےکے منصوبےکےحوالےسےکہا ” گوادر میں پینےکےپانی کی قلت ہے۔ مستقبل میں یہ مسئلہ سنگین ہوسکتا ہی۔یہ منصوبہ اُس صورت حال پر قابو پانےکےلیےمشعلِ راہ ہی۔ “

جامعہ بلوچستان کےشعبہ انفارمیشن سائنس و ٹیکنالوجی کےسربراہ ڈاکٹر منصور احمد نے اظہارِ خیال کرتےہوئےکہا ”آئی یو سی این نےصوبےکےترقیاتی امور میں سائنسی بنیادوں پر تحقیق کو رواج دیا ہی۔ اس وقت آئی یو سی این بلوچستان پروگرام کےتحت پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کےمختلف منصوبوں پر ہمارےپانچ طلبا ایم فل کررہےہیں ۔ آئی یو سی این اور جامعہ بلوچستان کےمابین مفاہمت کی یادداشت طےپا گئی ہےجس کےتحت ہم آئی یو سی این کےمنصوبوں پر تحقیق کےلیےمزیدطلبا کو نامزد کرسکیں گی۔“

معروف عالمِ دین ڈاکٹر مولانا عبدالمتین نےکہا کہ ”آئی یو سی این نےابلاغ کےلیےعلما سےاشتراکِ عمل کیا ۔ یوں مختلف مکاتبِ فکر کےعلما کو مل بیٹھنےکا موقع ملا۔ ’ بلوچستان: پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی‘ کےتحت معاشرتی سطح پر یہ ایک بہت بڑی مثبت تبدیلی ہی۔“

صحافی شہزادہ ذوالفقار نےکہا ” بلوچستان: پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کےتحت ماحولیاتی صحافیوں کے فورم کی تشکیل اور ضلعی صحافیوں کی تربیت سےاُنہیں مقامی سطح پر مسائل کو بہتر انداز میں دیکھنےکا موقع ملا، جو اپنی نوعیت کا منفرد کام ہی۔“

ادارئہ نصابیات، بلوچستان کےمحمد اصغر درس نےشرکاءکو آگاہ کیا کہ ”آئی یو سی این کےاشتراک سےپرائمری سطح پر اساتذہ کےلیےماحولیاتی تعلیم کا تربیتی مینول تیار کیا گیا ہی۔ ضرورت اس بات کی ہےکہ مینول کےخطوط پر اساتذہ کی تربیت کےلیےآئی یو سی این ہمارےساتھ اپنےاشتراک کو توسیع دی۔“
آخر میں معروف ماہرِ ترقیات ڈاکٹر پرویز امیر نے اپنےخیالات کا اظہار کرتےہوئےکہا”وسائل کا باقاعدہ انتظام، واضح فیصلہ سازی اور منظم منصوبہ بندی وہ خطوط ہیں جن کےذریعےپائیدار ترقی کی منزل حاصل کی جاسکتی ہی۔ بلوچستان: پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی نےیہ رہنما خطوط فراہم کردیےہیں اور اس مختصر سی مدت میں حوصلہ افزا نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ پائیدار ترقی کی منزل دور نہیں۔“

ورکشاپ کا دوسرا سیشن موضوعاتی بحث و مباحثےکا تھا۔ اس ضمن میں مختلف موضوعات کےتحت شرکا کو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ جس کےاختتام پر انہوں نےحکمتِ عملی کےحاصل شدہ نتائج کو سراہا اور مستقبل کےحوالےسےتجاویز پیش کیں۔

ورکشاپ کےاختتام پر آئی یو سی این، پاکستان کےپروگرام کوآرڈینیٹر حامد سرفراز نےمختصراً تجاویز پر اظہارِ خیال کیا اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں میزبانی کےفرائض محمد رفیع الحق اور عرفہ ظہیر نےسرانجام دیی۔
تقریب میں مختلف سرکاری شعبوں کےنمائندوں، شعبئہ ترقیات، سول سوسائٹی ارکان، غیر سرکاری تنظیموں، کمیونٹی رہنما، علما، مذہبی قائدین، ذرائع ابلاغ اور طلبا و طالبات سمیت زندگی کےمختلف شعبوں سےتعلق رکھنےوالےشراکت داروں کی بڑی تعداد نےشرکت کی۔

 

 

 
ناصر پنہور
 

>بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، پاکستان اور اقوامِ متحدہ کےادارہ برائےتعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) کےاشتراک سے دو روزہ کانفرنس ’تعلیم برائےپائیدار ترقی‘ کراچی میں منعقدہوئی۔مارچ کےتیسرےہفتےمیں ہونےوالی اس کانفرنس میں پاکستان اور بیرونِ ممالک سےماہرینِ تعلیم، سول سوسائٹی کےارکان، غیر سرکاری تنظیموں اور شعبہ ترقیات سےتعلق رکھنےوالےمندوبین کی بڑی تعداد نےشرکت کی۔ اس موقع پر آئی یو سی این اور یونیسکو کےاشتراک سےاردو زبان میںترجمہ و تدوین کردہ کتاب’ازسرِ نو سوچیی، انکار کیجئی، کم کیجئی۔۔۔ایک بدلتی ہوئی دنیا میں تعلیم برائےپائیدار ترقی‘ کی رونمائی بھی کی گئی، جس کا اصل متن انگریزی میں فیلڈ اسٹڈیز کونسل ، برطانیہ نےتیار کیا تھا۔ کتاب کی اشاعت کےلیےیونیسکو اور رائل نیدر لینڈ ایمبیسی نےمالی معاونت فراہم کی تھی۔
کانفرنس کا افتتاح سندھ کی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو نےکیا۔ مہمانِ خصوصی نےاپنےخطاب میں کہا ”پائیدار ترقی کےفروغ میں ماہرینِ تعلیم اہم کردار ادا کرسکتےہیں۔“ ان کا کہنا تھا”پائیدار ترقی کی راہ پر چلنا پاکستان سمیت دنیا کےتمام ترقی پذیر ممالک کےلیےناگزیر ہی۔ تعلیم برائےپائیدار ترقی کا تصور صرف رسمی تعلیم تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ تمام شعبہ ہائےزندگی کا احاطہ بھی کرتا ہی۔ “ انہوں نےمزید کہا”پائیدار ترقی کےاصولوں کو اپنا کر سماجی اور معاشی ترقی کےاہداف حاصل کیےجاسکتےہیں۔“

آئی یو سی این کمیشن برائےتعلیم و ابلاغ سےوابستہ فرٹز ہیسلنک نےاپنےخطاب میں کہا ”اس وقت ضرورت اس بات کی ہےکہ حکومت، تجارت، سول سوسائٹی ، تعلیم اور ابلاغ کےشعبوں میں فوری تبدیلی لائی جائےتاکہ وسائل کےپائیدار استعمال کےذریعےدیرپا ترقی کو فروغ حاصل ہوسکی۔“ اس موقع پر انہوں تعلیم برائےپائیدار ترقی کےپیچھےپوشیدہ اصولوں کا تذکرہ کیا اور اس حوالےسےدنیا کتےمختلف ممالک میں پیش آنےوالےاپنےذاتی تجربات سےشرکا کو آگاہ کیا۔

تقریب سےمختصرا خطاب کرتےہوئےآئی یو سی این کےنمائندہ مملکت برائےپاکستان سہیل ملک نےان اقدامات کا احاطہ کیا جو پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تعلیم کےفروغ کےلیے آئی یو سی این نےسرانجام دی ہیں۔ انہوں نےشرکا کا شکریہ ادا کیا اور کہا ” اس وقت پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تعلیم کےاصولوں کو اپنا کر سماجی شعبےمیںاہم اور مثبت تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔“

تقریب سےامتیاز علوی، ثاقب حنیف اور زہرہ رحمت علی نےبھی خطاب کیا۔ تقریب میںمیزبانی کےفرائض رابعیہ شیخ نےسرانجا م دیی۔

 
 
 

 
جان خاصخیلی

غیر سرکاری تنظیم شرکت گاہ نےمنچھر بچاو اتحاد کی شراکت اور پانوس ساوتھ ایشیا کےتعاون سےجنوری کےوسط میں منچھر جھیل کےکنارےپر عوامی اسمبلی کا انعقاد کیا۔ جس کا مقصد جھیل کی آبی آلودگی کےمسئلےکو اُجاگر کرنا اور اس کی بحالی کی جانب توجہ دلانا تھا۔عوامی اسمبلی کی کارروائی دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلےحصےمیں حیدرآباد (سندھ) سےتعلق رکھنےوالےمُرک (مسکراہٹ) ٹھیٹر گروپ کی جانب سےاسٹیج ڈرامہ پیش کیا گیا۔ جس میں جھیل کی تباہی سےمقامی ماہی گیروں، زراعت ، خواتین کی زندگیوں اور صدیوں پرانی ثقافت پر پڑنےوالےاثرات کو پیش کیا گیا۔ دوسرا حصہ بحث و مباحثہ کےلیےمخصوص تھا، جس میں غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کےنمائندوں، مقامی منتخب نمائندی، ماہرینِ زراعت و آب اور صحافیوں سمیت کمیونٹی ارکان نےبھی سرگرم حصہ لیا۔ شرکا نےاس بات پر اتفاق کیا کہ دریائےسندھ کےبائیں کنارےپر نکاسی آب کے بڑےمنصوبے’رائٹ بینک آوٹ فال ڈرین‘ (آر بی او ڈی) کی فزیبلٹی رپورٹ میں خامیاں تھیں، جنہیں دور نہیں کیا گیا اور یوں منچھر جھیل میں زہریلےگنداب کی نکاسی سےصاف تازہ پانی کی یہ جھیل تباہی سےہمکنار ہوگئی۔ جھیل میں آبی آلودگی کاا ثر زیرِ زمین پانی کےذخائر پر بھی ہوا اور اب وہ بھی ناقابلِ استعمال ہوتےجارہےہیں۔ بحث میں حصہ لیتےہوئےبقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، پاکستان کےناصر علی پنہور نےتجویز پیش کی کہ اس مسئلےسےنمٹنےاور بحالی کےلیے’منچھر ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ قائم کی جائی۔ جھیل کا ازسرِ نو سروےکروایا جائی۔ گاج ندی پر ڈیم تعمیر نہ کیا جائی۔نیز متاثرین کےلیےخصوصی امدادی پیکج کا اعلان کیا جائی۔ اس کےعلاوہ مقامی ماہی گیروں کو تمام اقسام کےٹیکسوں سےمتشنیٰ قرار دیا جائی۔ نیزجھیل کوسیاحتی مرکز بنانےکےاقدامات کیےجائیں۔ مذاکرےسےصادقہ صلاح الدین، پروفیسر اعجاز قریشی، نصیر میمن، محسن ببّر، نذیر میمن، امجد نذیر، مخدوم ضمیر اور دیگر نےبھی خطاب کیا۔

منچھر جھیل ایشیا میں سائبیریا کی جھیل بیکال کےبعد میٹھےپانی کی سب سےبڑی جھیل تھی، جس پر ہزاروں ماہی گیروں کا انحصار تھا جبکہ اس کےپانی سےہزاروں ایکڑ زرعی زمینیں سیراب ہوتی تھیں۔ تاہم لگ بھگ گزشتہ دو دہائیوں کےدوران گندےپانی کی نکاسی نےاس کےشفاف پانی کو ناقابلِ استعمال بنادیا۔ یوں اس پر انحصار کرنےوالےہزاروں ماہی گیر ا ور کاشتکار متاثر ہوئی۔


 

 
عبدالرحیم

دنیا بھر میں ساحلی باشندےسمندر کےآبی ماحولیاتی نظام سے معاشی استفادہ حاصل کرکےخوش حال زندگی بسر کررہےہیں، لیکن بلوچستان کےطویل ساحلی علاقوں کےوہ مکین جو برائہ راست ماہی گیری سےوابستہ نہیں ، معاشی پسماندگی کےباوجود اس سےزیادہ بہتر طور پر استفادہ نہیں کرپائےہیں۔ دو سال قبل جب آئی یو سی این نےرائل نیدر لینڈ ایمبیسی (آر این ای) کےمالی تعاون سےبلوچستان کےساحلی علاقوںمیں تیمر کی بحالی و شجر کاری کا منصوبہ شروع کیا تو پائیدار معاشی تبدیلیاں بھی لانےکا تہیہ کیا۔ جس کےتحت اکتوبر2006ءمیں جھینگا فارمنگ کا نمائشی منصوبہ شرو ع کیاگیا۔ اس مقصد کےلیےگوادر کےمغربی ساحلی کنارےپر واقع انکارا کھاڑی کےقریب دو تالاب قائم کیے، جبکہ ان کی مخالف سمت میں مزید دو تالاب قائم کیےگئی۔ اس طرح جب سمندری موجوں میں تیزی آتی تو دو تالاب سمندری پانی سےبھر لیےجاتےاور پھر حسبِ ضرورت یہ پانی بجلی سےچلنےوالےپمپ کےذریعےاُن دو تالابوں کو فراہم کردیا جاتاجہاں جھینگا فارمنگ کی جارہی ہی۔ ہفتےمیں دو بار تالابوں میں سمندر کا نیا پانی داخل کیا جاتا ہی۔ واضح رہےکہ یہ تیمر کےجنگلات کا علاقہ ہےاور تیمر کودنیا بھر میں جھینگےکی افزائشی نرسری کہا جاتا ہےاور فارمنگ کےلیے’جھینگا بیج‘ بھی انہی کھاڑیوں سےمل جاتا ہی۔


اس وقت ان تالابوں میں فارمنگ کےسادہ اصولوں کےتحت پروان چڑھنےوالےجھینگوں کی لمبائی14سینٹی میٹر سےبڑھ چکی ہی، جبکہ وزن دس گرام کےقریب ہی۔ فرائی کیےجانےکےبعد ان کی لمبائی 5تا6 سینٹی میٹر اور فی کس وزن چار گرام تک رہتا ہی۔ وزن اور سائز کےاعتبار سےیہ فارمی جھینگےخاصی معاشی افادیت رکھتےہیں۔ گوادر میں جھینگوں کی فی کلو قیمت پانچ سو روپےتک رہتی ہے۔ جب یہ کراچی تک پہنچتےہیں یا انہیں برآمد کیا جاتا ہےتو قیمت مزید بڑھ جاتی ہی۔
آزمائشی منصوبےمیں ایسےمقامی ماہی گیراور ساحلی باشندےشراکت دار تھےجن کی معاشی حالت ناگفتہ بہ تھی، لیکن اس کی کامیابی اور افادیت نےسمندری وسائل سےاستفادےکی ایک اور ’کم خرچ بالا نشیں‘ راہ انہیں سجھادی ہی۔ جھینگا فارمنگ کےنمائشی منصوبےکی کامیابی کےبعداس تجربےکو دُہرائےجانےسےمقامی لوگوں کےذرائع معاش میں پائیدار ترقی آنےکےروشن امکانات ہیں۔



 
ایم کمال
 

ءمیں حکومتِ بلوچستان کی جانب سےمنظور کردہ پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کا ایک اہم شعبہ ماحولیاتی تعلیم ہی۔ جس کا مقصد اساتذہ اور طالب علموں کو قدرتی وسائل اور ترقی کےمابین قائم رشتےسےآگاہ کرنا ہی۔ اس حوالےسےحکمتِ عملی کی سفارشات کا کہناتھا کہ استعداد میں اضافےکےلیےماحولیاتی تعلیم سےروشناسی اور تربیت، بلوچستان کی ضروریات سےہم آہنگ تعلیم، نیز نصاب اور اساتذہ کی تربیت میں ماحول کا موضوع شامل کیا جانا ناگزیر ہی۔ اسی مقصد کےپیشِ نظر2003ءمیں جب حکمتِ عملی کی مجموعی سفارشات پر عمل شروع ہوا تو اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ماحولیاتی تعلیم کےحوالےسےصوبےمیں پرائمری سطح کےاساتذہ و طلبہ کےلیےتدریسی مواد تیار کیا جائے۔ جس سےاساتذہ مستقل بنیادوں پر استفادہ کرتےہوئےتربیتی امور احسن طریقےسےسرانجام دےسکیں۔ اس پس منظرمیںبقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی نےادارہ نصابیات و توسیع تعلیم، بلوچستان کی شراکت سےیہ بیڑہ اٹھایا اور طویل شراکتی عمل کےنتیجےمیںنیشنل کریکولم، اسلام آباد کےرہنما خطوط کےمطابق ’ماحولیاتی تعلیم: تدریسی مواد برائےپی ٹی سی اساتذہ و طلبہ‘ کےعنوان سےایک ایسا تدریسی نصاب تیار کرلیا جو ماحولیاتی تعلیم کی ضروریات پر پورا اترتا ہی۔ 2006ءمیں اسےکتابی شکل میں شائع کردیا گیا ہی۔اس تدریسی مواد کی تیاری کےلیےآئی یو سی این نےمالی اور تکنیکی اعانت فراہم کی ۔
جاذبِ نظر خاکوں، بڑےدبیز کاغذ پر شائع شدہ 45 صفحات پر مشتمل تدریسی مواد کےمندرجات کےمصنف محمد اصغر ہیں جبکہ ادارت آئی یو سی این شعبہ ماحولیاتی تعلیم کی زہرہ رحمت علی اور ادارہ نصابیات و توسیعِ تعلیم، بلوچستان کےماہر تعلیم محمد اصغر نے، جبکہ نظر ثانی ڈاکٹر عبدالمجید سربراہ بلوچستان پروگرام اور صائمہ پرویز بیگ نےکی ہی۔یہ کتاب مندرجہ ذیل پتوں سےحاصل کی جاسکتی ہی:

آئی یو سی این، کنٹری آفس، 1 باتھ آئی لینڈ کراچی۔
آئی یو سی این بلوچستان پروگرام آفس، مارکر کاٹیج، زرغون روڈ، کوئٹہ۔
ادارہ نصابیات و توسیعِ تعلیم، کوئٹہ