![]() |
|
|||||
بلوچستان کی پائیدار ترقی اور ماحولیاتی آگاہی کےفروغ کےلیےرسمی، غیر رسمی اور جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال سُود مند ثابت ہوا ہی تحریر : ایم اےشیخ |
|||||
بقائےماحول، تحفظِ حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل کےدانشمندانہ استعمال سے پائیدار ترقی کا حصول اُس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ہی، جسےبقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این نےصوبائی حکومت اور دیگر شراکت داروں کےہمراہ مشاورتی عمل کےنتیجےمیں مرتب کیا تھا۔ حکمتِ عملی کےان مقاصدپر غور کیا جائےتو یہ ابلاغ سےپیوستہ نظر آتےہیں۔ اسی مقصد کےپیشِ نظر2002 ءمیں شروع ہونےوالےآی یو سی این کےبلوچستان پروگرام نےفروغِ ابلاغ کےلیےاپنی منظم کوششوں کا آغاز کیا ، تاہم بلوچستان میں ماحولیاتی مسائل کےبارےمیں ماحولیاتی آگاہی کا پھیلاؤ آسان کام نہیں تھا۔ صوبےمیں کم شرح خواندگی(جو 1998ء کی مردم شماری کےمطابق 24.87 فیصد تھی)، رابطہ سڑکوں کا ناکافی جال اور منتشر آبادی (یعنی فی مربع کلو میٹررقبےپر صرف 18.9 افراد کی رہائش ) جیسےمعروضی حالات کےعلاوہ لسّانی حوالےسےموجود وسیع تنوع بھی توجہ طلب تھا۔ بلوچستان کے54.76 فیصد افراد بلوچی اور براہوئی میں اظہار خیال کرتےہیں، 29.64 فیصد پشتو بولتےہیں جبکہ 15.6 فیصد دیگر چند اور زبانیں بولتےہیں ۔ ان حقائق کی روشنی میں ابلاغ کےکسی ایک ذریعےپر توجہ کےبر عکس ایسی حکمتِ عملی اپنانےکی ضرورت محسوس کی گئی جس کےتحت ابلاغ کےرسمی اور روایتی دونوں طرح کےذرائع کو استعمال کرکےحکمتِ عملی کےمقاصد کوحاصل کیا جاسکی۔ ابلاغ کےرسمی اور غیر رسمی ذرائع معاشرےکےہر طبقےپر اپنی اثر انگیزی کےحوالےسےجدا جدا اہمیت کےحامل ہیں ۔ اس سوچ کو مد نظر رکھتےہوئےسب سےپہلا کام جو پروگرام نےشروع کیا وہ ان ذرائع سےمنسلک افراد کی ماحولیاتی مسائل سےآشنائی کا عمل تھا۔ اس کےلیےپہلی توجہ رسمی ذرائع ابلاغ پر دی گئی۔ جس کےلیےیونیورسٹی کےشعبہ ابلا غیات ، پریس کلب، ریڈیو اور ٹی وی کےنمائندوں کو بلوچستان کےماحولیاتی مسائل کی سنگینی سےآشنا کرایا گیا اور اس حوالےسےان کی اپنی معلومات کو بھی جانچا گیا اور انہیں اپنےکام کےدوران ماحولیات کےشعبےکو مد نظر رکھنےکی افادیت سےبھی آگاہ کیا گیا۔ متعدد ورکشاپوں کا یہ اثرسامنےآیا کہ بلوچستان کےرسمی ذرائع ابلاغ (ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات) میں ماحول کےحوالےسےتحقیقاتی موادسامنےآنےلگا۔ جس کےبعد یہ محسوس کیا جانےلگا کہ راہ کی نشاندہی کےبعد اس پر چلنےکےفن سےبھی ان افرادکو مزید آگاہ کیا جانا چاہیی، تاکہ ماحولیات کےشعبےمیں ہونےوالےاس ابلاغی کام میں مزید نکھار پیدا ہوسکی۔ یوں ماحولیاتی صحافت کی عملی تربیت کےمرحلےکا آغاز ہوا۔ اس مقصد کےتحت کوئٹہ سےتعلق رکھنےوالےطباعتی اوربرقی ذرائع ابلاغ سےوابستہ افراد کی ماحولیاتی صحافت کےحوالےسےمختلف تربیتوں کاآغاز کیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ سامنےآیا کہ اخبارات ، ٹی وی اور ریڈیو پر بلوچستان کےماحول کےحوالےسےمندرجات نےنا صرف جگہ حاصل کرنا شروع کی بلکہ ان تربیتوںسےصحافیوں کی استعدادی صلاحیتیں مزید دوچند ہوئیں۔ اس حوالےسے یہی مثال کافی ہےکہ کوئٹہ سےشائع ہونےوالےروزنامہ ’زمانہ‘ نے’ڈیولپمنٹ رپورٹنگ ڈیسک‘ سےتحقیقی ماحولیاتی رپورٹنگ کا آغاز کیا اور ماحول کےحوالےسے مختلف موضوعات پرمتعدد خصوصی ضمیمےشائع کیی۔ یہ سلسلہ ہنوزجاری ہے۔ اسی طرح روزنامہ’ جنگ‘ کوئٹہ ایڈیشن نےبھی ماحولیاتی امور سےمتعلق وقتاً فوقتاً ضمیمےشائع کرنا شروع کیی۔ یوں دیگر اخبارات میں بھی خصوصی ماحولیاتی رپورٹوں کی اشاعت کاسلسلہ شروع ہوگیا۔ ریڈیو ،ٹی وی اور نجی چینلز پر بھی یہی تبدیلیاں دیکھنےمیں آئیں اورواقع کی خبرکےساتھ ساتھ ماحولیاتی پس منظر کو بھی بیان کیا اور دکھایا جانےلگا۔ ان سب کےپیچھےجو صحافی کام کررہےتھی، ان کی اکثریت بقائےماحول کی کوششوں میں ذرائع ابلاغ کےکردار کی اہمیت کےباعث آئی یو سی این کی تربیتی نشستوں میں شرکت کرچکی تھی اور اب ان کی استعداد سازی ابلاغ عامہ کےذریعےآگاہی کےفروغ اور حکمتِ عملی کےمقاصد کےحصول میں سرگرم تھی۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کےبعدآئی یو سی این بلوچستان پروگرام نےصوبےکےمختلف اضلاع سےتعلق رکھنےوالےطباعتی اور برقی ذرائع ابلاغ کےضلعی نامہ نگاروںکی تربیت کےسلسلےکا آغاز کیا۔ اس حوالےسےسب سےپہلےانہیں منظم کرنےکی ضرورت محسوس ہوئی اور اس کام کی تکمیل کےبعد ان صحافیوں کو کوئٹہ مدعو کرکےان کی استعداد میں اضافےکےلیےتربیت کا اہتمام کیا۔اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ضلعی نامہ نگار اپنےاپنےعلاقوں کےمسائل اور ترقیاتی امور کو بقائےماحول کی نگاہ سےدیکھنےلگےاور یوں دور دراز علاقوںکےماحولیاتی مسائل بھی ذرائع ابلاغ میں جگہ پانےلگی۔ بعد ازاں ان کی آزادانہ لیکن منظم کوششوں میں تسلسل کو جاری رکھنےکےلیے’ بلوچستان فورم آف انوائر نمنٹل جرنلسٹ‘ کےنام سےایک تنظیم کی داغ بیل ڈالی گئی۔ صحافیوں کو ماحول کےحوالےسےمواد کی دستیابی کےلیےپروگرام کی لائبریری کو ریسورس سینٹر کےطور پر متحرک کیا گیا۔ علاوہ ازیں بلوچستان بھر سےمنتخب ذرائع ابلاغ کےنمائندوںکو شمالی علاقہ جات سمیت ملک کےدیگر علاقوں کا مطالعاتی دورہ بھی کروایا گیا تاکہ وہ ماحول کےحوالےسےدیگر علاقوں میں سرگرم صحافیوں کےتجربات سےبھی استفادہ کریں۔ اس مطالعاتی دورےکےکامیابی کی ایک بڑی مثال یہ ہےکہ وفد میں شامل متعدد ارکان نےخود ’جریدہ‘ میں بلوچستان کےماحولیاتی مسائل پر تحقیقی رپورٹیں تحریر کرنےکا سلسلہ شروع کیا اور چھوٹےچھوٹےموضوعات کو اس طرح رقم کیا کہ وہ نہایت عمدہ کیس اسٹڈی کی شکل میں سامنےآئے ۔ رسمی ذرائع ابلاغ کےساتھ ساتھ بلوچستان پروگرام نےجدید ذرائع ابلاغ کےذریعےمنتقلیِ علم کو بھی ممکن بنانےکےلیےکارآمد کوششیں کی ہیں۔ اگرچہ بلوچستان میں بجلی کی سہولت دور دراز علاقوں میں زیادہ بہتر طور پر مہیا نہیں ہی، جبکہ صوبےکےاکثر اضلاع میں ٹیلی فون اور اس کےذریعےانٹرنیٹ سروس کی دستیابی بھی زیادہ بہتراورعام نہیں ، تاہم افادیت کےپیشِ نظر دارالحکومت کوئٹہ اور صوبےکےمختلف اضلاع کےعلاوہ دنیا بھر میں بلوچستان کےحوالےسےمعلومات تک رسائی کو یقینی بنانےکےلیےانٹرنیٹ کو بھی استعمال کرنےکا فیصلہ کیا گیا۔ اس حوالےسےبلوچستان پروگرام نےسب سےپہلےپائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کی دستاویز (انگریزی زبان میں) کےلیےویب سائٹ تیار کی۔ جس کےبعد ’بلوچستان ’ڈویلپمنٹ گیٹ وی‘ ویب سائٹ کا اجرا کیا گیا۔ ان اقدامات کےذریعےصحافیوں، محققین، طالب علموں اور دنیا بھر میں بلوچستان کےحوالےسےمعلومات حاصل کرنےکےخواہشمندوں کو مصدقہ اور جامع کےحصول کا آسان راستہ میسر آیا۔ اس کےبعد بلوچستان واٹر پروگرام کےتحت’واٹر انفو‘ کےنام سےویب سائٹ شروع کی گئی۔حال ہی میںضلعی پروگرام گوادر کےتحت ضلع کےبارےمیں ویب سائٹ شروع کی گئی۔ جس کا مقصد اس ضلع کےبارےمیں مصدقہ معلومات تک رسائی کو مزید بہتر اور آسان بنانا ہی۔
مختصراً یہ کہ اس پورےپروگرام کی ابلاغی حکمت عملی کا ہی اثر ہےکہ آج پورےصوبےبالخصوص کوئٹہ میں ماحول ،جس سےچند سال پہلےتک صرف نظر کیا جاتا تھا، آج اس کی بقاکےلیےکوششیں مسلسل جاری ہی۔
ایم اےشیخ کوئٹہ سےتعلق رکھنےوالےماحولیاتی صحافی ہیں۔ بلوچتان کےلیےپائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کی تیاری اور عمل درآمد کےمرحلےمیں بھی ان کی سرگرم شرکت رہی ہی۔ |
|||||
|
|||||