پائیدار ترقی کاحصول عوام بالخصوص وہ طبقےجو ترویجِ علم میں کوشاں ہی، کی استعداد سازی کےبغیر ناممکن ہی۔ بلوچستان میںاس حقیقت کا اِدراک اُسی وقت کرلیاگیا تھا جب پائیدار ترقی کی صوبائی حکمتِ عملی کی تیاری کا عمل شروع ہوا تھا۔
پائیدار ترقی کی صوبائی حکمتِ عملی کی تکمیل کےبعد اس کےنفاذ کےسلسلےمیں2002 ءمیں بقائےماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این نےبلوچستان پروگرام شروع کیا گیا۔ اس ضمن میںحکمتِ عملی کےاہم باب ’ماحولیاتی تعلیم‘ کی سفارشات پر عمل درآمد کےسلسلےمیںآئی یو سی این بلوچستان پروگرام نےمختلف تعلیمی اداروں کےاساتذہ وعملےکی استعدادسازی کا باقاعدہ آغاز کیا ۔ اس ضمن میں ادارہ نصابیات و توسیعِ تعلیمBureau of Curriculum اہم ہی۔ بلوچستان میں حکومتی سطح پر اساتذہ کی تربیت و نصاب کی تیاری کےحوالےسےاس ادارےکو کلیدی اہمیت حاصل ہی۔ بلوچستان پروگرام نےاس ادارےکےماہرینِ مضامین اور تربیت کاروں کی استعداد میں اضافےکےلیےمتعدد تربیتی پروگرام منعقد کیی۔ جن میں ماحولیاتی تعلیم وآگاہی کےعلاوہ اسکولوں، کالجوں کی سطح پر ماحولیاتی منصوبوں کی جانچ پڑتال کی بابت خصوصی پروگرام بھی شامل ہیں۔ صوبائی ادارہ برائےتعلیمِ اساتذہProvincial Institute of Teachers Education ادارہ نصابیات و توسیعِ تعلیم کا ایک ذیلی ادارہ ہےجو صوبےمیں اساتذہ کی تربیت کےحوالےسےسرگرم ہی۔ بلوچستان پروگرام کےتحت اس ادارےکےعملےاور ماہرین کی ماحولیاتی تعلیم کےحوالےسےاستعداد سازی کےلیےبھی متعدد تربیتی پروگرام منعقد کیےگئی۔ نیزصوبائی ٹیکسٹ بک بورڈ کےماہرین وعملےکو بھی پیشہ ورانہ استعداد سازی کےمواقع فراہم کیےگئی۔
 |
|
ان اہم اداروں کےماہرین کی تربیت و استعداد سازی کےعلاوہ آئی یو سی این بلوچستان پروگرام کےشعبئہ ماحولیاتی تعلیم نےادارہ نصابیات و توسیعِ تعلیم سےمنسلک مختلف ایلیمنٹری کالجوں کےاساتذہ کی تربیت کا بھی اہتمام کیا۔ انہی تربیتی پروگراموں کا اثر کہا جاسکتا ہےکہ ادارہ نصابیات و توسیعِ تعلیم، بلوچستان نے’پرائمری اسکول سرٹیفیکٹ‘ کےعنوان سےمنعقد ہ تربیتی پروگرام میں ماحولیات کےموضوع پر اساتذہ و طالب علموں کےلیےتدریسی مواد تیار کرنےکا فیصلہ کیا۔چنانچہ آئی یو سی این بلوچستان پروگرام کی فنی و مالی معاونت سےمذکورہ ادارےنے’ماحولیاتی تعلیم‘ کےعنوان سےپرائمری کےاساتذہ اور طلبا کےلیےتدریسی مواد تیار کیا۔یہ وہ اقدامات ہیں جن کی بدولت ماحولیاتی تعلیم کو اہم تعلیمی اداروں میں بتدریج کلیدی اہمیت حاصل ہوتی چلی گئی۔
استعداد سازی کےسلسلےکو بین الصوبائی سطح تک وسعت دی گئی تاکہ متعلقہ اداروںکےمختلف ماہرین ایک دوسرےکےتجربات سےآگاہی حاصل کرکےاپنی سوچ اور فِکر میں گہرائی پیدا کرسکیں۔اس حوالےسےبلوچستان کےرسمی اور غیر رسمی تعلیمی اداروں سےچیدہ چیدہ نمائندوں پر مشتمل ایک گروپ کو صوبہ سرحد میں آئی یو سی این سرحدپروگرام کےتوسط سےاہم تعلیمی نمائندوں کےہمراہ شمالی علاقہ جات کی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، گلگت لےجایا گیا۔ جہاں آئی یو سی این کےتحت شمالی علاقہ جات کی پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کی تیاری و نفاذ کےنتیجےمیں ماحولیاتی تعلیم کےشعبےمیں نمایا ںپیشرفت ہوئی ہی۔( واضح رہےکہ یہاں حکمتِ عملی کی تکمیل کےبعدماحولیاتی پہلوؤں اور پائیدار ترقی کو نصابی کُتب میں شامل کیا ہی۔) اس طرح بلوچستان کےماہرین کو ماحولیاتی تعلیم کےحوالےسےشمالی علاقہ جات میں پیش آنےوالےتجربات سےسیکھنےکا موقع ملا ۔ نیز بلوچستان کےماہرینِ تعلیم نےسرحد کے اساتذہ کےتربیتی مراکز کا بھی دورہ کیااورماحولیاتی تعلیم کےشعبےمیں کی گئی پیشرفت کےبارےمیں آگاہی حاصل کی۔ اس طرح مقامی ماہرینِ تعلیم کو زیادہ وسیع انداز میں ایک دورےسےسیکھنےکاموقع فراہم کیا گیا۔
رسمی تعلیم کےعلاوہ غیر رسمی تعلیم کےفروغ میں مصروف غیر سرکاری تنظیموںکی استعداد سازی پر بھی توجہ دی گئی۔ ان میںسوسائٹی واٹر اینڈ سنیٹیشن، سوسائٹی بلوچستان ایجوکیشن اینڈ انوائرنمنٹ جرنی، آئی ڈی ایس پی اور آر سی ڈی سی سمیت بلوچستان کی متعدد تنظیمیں شامل ہیں۔ اس شعبےکی استعداد سازی کا مقصد غیر سرکاری اداروں میں ماحولیات و پائیدار ترقی کےاصولوں کو باہم مربوط کر نا تھا۔نیزبلوچستان کےسرکاری اداروں مثلاً بلوچستان ادارہ برائےتحفظِ ماحول ،محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات، محکمئہ جنگلات اورنیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (نیپا)کےاشتراک سےسرکاری ملازمین کی استعداد سازی کےلیےبھی متعدد پروگرام منعقد کیےگئی۔ جس کا مقصد سرکاری محکموں کی منصوبہ بندوں میں ماحولیات و پائیدار ترقی کےرجحانات کی شمولیت اور ان کا فروغ تھا۔
ماحولیاتی تعلیم صرف درسی کُتب تک ہی محدود نہیں ہی۔ اسی فِکر کےپیشِ نظر استعداد سازی کےعمل کو ضلعی سطح تک منتقل کرنےکی بھی کوششیں کی گئیں۔اس ضمن میں گوادر میں ضلعی ناظمین و نائب ناظمین کی ماحولیاتی آگاہی و تعلیم کےحوالےسےتربیت کا اہتمام کیا گیا۔